أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰلِكَ لِيَـعۡلَمَ اَنِّىۡ لَمۡ اَخُنۡهُ بِالۡغَيۡبِ وَاَنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِىۡ كَيۡدَ الۡخَـآئِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اس نے کہا میں نے یہ اس لیے کیا تاکہ وہ جان لے کہ میں نے اس کے پس پشت اس کی خیانت نہیں کی اور یہ بھی جان لے کہ بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کی سازش کو کامیاب ہونے نہیں دیتا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اس نے کہا میں نے یہ اس لیے کیا تاکہ وہ جان لے کہ میں نے اس کے پس پشت اس کی خیانت نہیں کی اور یہ بھی جان لے کہ بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیتا۔ (یوسف : ٥٢) 

پس پشت خیانت نہ کرنے کے دو محمل

اس آیت کے دو محمل ہیں : ایک یہ کہ یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قول ہے اور دوسرا یہ کہ یہ عزیز مصر کی بیوی قول ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) ، مجاہد، قتادہ اور ابو صالح نے یہ کہا ہے کہ یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قول ہے۔ (جامع البیان جز ١٢، ص ٣١١، تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٧، ص ٢١٥٧، النکت والعیون ج ٣، ص ٤٨، زادالمسیر ج ٤، ص ٢٣٨)

اگر اس کلام کا قائل حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قرار دیا جائے تو اس پر یہ اعتراض ہوگا کہ اس سے متصل پہلی آیت میں عزیز مصر کی بیوی کا کلام تھا کہ اب تو حق بات ظاہر ہو ہی گئی ہے میں خود اس کو اپنے نفس کی طرف راغب کرتی تھی اور پھر اس آیت میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کلام ہو تو یہ بےربط ہوگا اس کا جواب یہ ہے کہ اس کلام کے بےربط ہونے کی کیا وجہ ہے جب کہ یہ الگ الگ آیتیں ہیں اور قرآن مجید میں اس کی کئی نظائر ہیں : قال الملا من قوم فرعون ان ہذا لسحر علیم۔ (الاعراف : ١٠٩) فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا بیشک یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے۔ اور اس کے متصل بعد دوسری آیت میں فرعون کا کلام ہے : یرید ان یخرجکم من ارضکم فما ذا تامرون۔ (الاعراف : ١١٠) (فرعون نے کہا :) یہ تم کو تمہاری زمین سے نکال دینا چاہتا ہے سو اب تم کیا مشورہ دیتے ہو۔ بلکہ قرآن مجید میں اس کی بھی مثال ہے کہ ایک آیت میں دو قائلین کا کلام ہے : قالو یویلنا من بعثنا من مرقدنا ھذا ما وعد الرحمن وصدق المرسلون۔ (یٰسین : ٥٢) (کفار) کہیں گے ہائے ہماری ہلاکت ! ہماری خواب گاہ سے ہمیں کس نے اٹھا دیا (فرشتے کہیں گے) یہ وہ ہے جس کا رحمن نے وعدہ فرمایا تھا اور رسولوں نے سچ فرمایا۔

دوسرا محمل یہ ہے کہ یہ عزیز مصر کی بیوی کا قول ہے اور اب یہ قول، سابق قول سے متصل ہوگا کہ اس نے یہ کہا کہ میں نے یہ اعتراف اس لیے کیا ہے تاکہ یوسف یہ جان لے کہ میں نے اس کے پس پشت اس کے خلاف جھوٹ بول کر اور اس پر بہتان لگا کر خیانت نہیں کی۔ 

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے پس پشت کسی کی خیانت نہیں کی حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کس موقع پر یہ کلام فرمایا تھا ؟

اس کے متعلق دو قول ہیں :

(١) جب ساقی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس لوٹ کر قیدخانہ میں آیا تو اس وقت انہوں نے فرمایا : میں نے یہ تفتیش اس لیے کرائی ہے کہ اس کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کے پش پشت خیانت نہیں کی۔ یہ حضرت ابن عباس اور ابن جریج کا قول ہے۔

(٢) حضرت ابن کا دوسرا قول یہ ہے کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) بادشاہ کے دربار میں پیش ہوئے اس وقت انہوں نے فرمایا : میں نے یہ تفتیش اس لیے کرائی ہے۔۔۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو یہ فرمایا تھا : تاکہ اس کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کے پس پشت خیانت نہیں کی حضرت ابن عباس، حسن، مجاہد، قتادہ اور جمہور نے کہا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ عزیز مصر کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کے پس پشت اس کی خیانت نہیں کی اور ضحاک نے حضرت ابن عباس کا دوسرا قول روایت کیا ہے کہ بادشاہ کو معلوم ہوجائے کہ میں نے عزیز مصر کے پس پشت اس کی خیانت نہیں کی اور تیسرا قول یہ ہے کہ بادشاہ کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کے پس پشت اس کی خیانت نہیں کی اور بادشاہ کی خیانت کی توجیہ یہ ہے کہ بادشاہ کے وزیر کی خیانت کرنا بھی بادشاہ کی خیانت ہے۔ (اس کے علاوہ ایک اور قول بھی ہے لیکن وہ اتنا واضح نہیں ہے اس لیے ہم نے اس کو ترک کردیا۔ (زاد المسیر ج ٤، ص ٢٣٤، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ١٤٠٧ ھ) 

حضرت یوسف کی پاکیزگی پر دلائل

یہ آیتیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عصمت اور پاکیزگی پر حسب ذیل وجوہ سے دلالت کرتی ہیں :

(١) عزیز مصر کی بیوی نے اعتراف کیا کہ میں خود اس کو اپنے نفس کی طرف راغب کرتی تھی۔

(٢) اور مزید یہ کہا کہ بیشک وہ سچوں میں سے تھے۔ (یوسف : ٥١)

(٣) اس کا معننی یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اپنے اس قول میں سچے تھے : اس عورت نے خود مجھے اپنے نفس کی طرف راغب کیا تھا۔ (یوسف : ٢٦)

(٤) بیشک اللہ مجرموں کی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیتا۔ (یوسف : ٥٢) یعنی جو شخص خائن اور سازشی ہوتا ہے وہ ضرور رسوا ہوجاتا ہے سو اگر میں خائن اور سازشی ہوتا تو ضرور رسوا ہوجاتا اور جب کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسوا ہونے نہیں دیا اور مجھے اس الزام اور تہمت سے بری کرا دیا تو اس سے ظاہر ہوگیا کہ میں خیانت کرنے والا نہ تھا۔

(٥) اگر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے معاذ اللہ کوئی جرم کیا ہوتا تو آپ اس بات کی ہرگز جرات نہ کرتے کہ اپنے اوپر لگی ہوئی تہمت کی تفتیش اور تحقیق کرانے کے لیے بادشاہ کے پاس پیغام بھیجتے، ایسا اقدام وہی شخص کرسکتا ہے جس کو اپنی پاکیزگی اور پارسائی پر یقین واثق اور کامل اعتماد ہو۔

(٦) وہ عورتیں یوسف (علیہ السلام) کی پاکیزگی اور طہارت پر پہلے بھی یہ کہہ کر شہادت دے چکی تھیں سبحان اللہ یہ بشر نہیں ہیں یہ تو معزز فرشتے ہیں۔ (یوسف : ٣١) اور اب دوسری بار میں انہوں نے کہا : سبحان اللہ ! ہم نے اس میں کوئی برائی نہیں جانی۔ (یوسف : ٥١) اسی طرح عزیز مصر کی بیوی نے پہلی بار بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پاک دامنی یہ کہہ کر بیان کی : میں نے اس کو اپنی طرف راغب کیا تھا سو یہ بچ گیا۔ (یوسف : ٣٢) اور دوسری بار بھی اس نے اعتراف کیا کہ اب تو حق بات ظاہر ہو ہی گئی ہے میں خود اس کو اپنے نفس کی طرف راغب کرتی تھی۔ (یوسف : ٥١ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 52