أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ اجۡعَلۡنِىۡ عَلٰى خَزَآئِنِ الۡاَرۡضِ‌ۚ اِنِّىۡ حَفِيۡظٌ عَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

(یوسف نے) کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کردیں۔ بیشک میں حفاظت کرنے والا علم والا ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (یوسف نے) کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کردیں بیشک میں حفاظت کرنے والا علم والا ہوں۔ (یوسف : ٥٥ )

طلب منصب کا عدم جواز اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے طلب منصب کی توجیہ

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ سے منصب طلب کیا ہوسکتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی شریعت میں منصب کو طلب کرنا جائز ہو لیکن ہماری شریعت میں منصب کو طلب کرنا جائز نہیں ہے۔

حضرت عبدالرحمن بن سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عبدالرحمن بن سمرہ ! امارت کا سوال نہ کرنا کیونکہ اگر تم کو سوال کی وجہ سے امارت دی گئی تو تم کو اس کے سپرد کردیا جائے گا اور اگر تم کو بغیر سوال کے امارت دی گئی تو اس میں تمہاری مدد کی جائے گی اور اگر تم کسی چیز کی قسم کھائو پھر تم یہ دیکھو اس کا خلاف بہتر ہے تو تم اپنی قسم کا کفارہ کردو اور اس بہتر کام کو کرلو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٦٢٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٥٢، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٩٢٩، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٥٢٩، سنن النسائی رقم الحدیث : ٥٣٨٤، لسنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٨٧٤٥، سنن ابودائود الطیالسی رقم الحدیث : ١٣٥١، مسند احمد ج ٥، ص ٦٢، ٦١، سنن الدارمی رقم الحدیث : ٢٣٥١، المنتقی لابن الجارود رقم الحدیث : ٩٩٨۔ ٩٢٩، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ١٥١٦، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٣٤٨، سنن کبریٰ للبیہقی ج ١٠، ص ٥٣، تہذیب الکمال ج ١٧، ص ١٦٠)

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے ساتھ اشعریین کے دو آدمی تھے ایک میری دائیں جانب اور دوسرا میری بائیں جانب تھا۔ ان دونوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسی منصب کا سوال کیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت مسواک کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا : اے ابوموسیٰ ! تم کیا کہہ رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے انہوں نے مجھے اپنے دل کی بات پر مطلع نہیں کیا تھا اور مجھے یہ پتا نہیں چلا تھا کہ یہ کسی منصب کو طلب کریں گے حضرت ابو موسیٰ نے کہا : گویا کہ میں دیکھ رہا تھا کہ آپ کی مسواک آپ کے ہونٹ کے نیچے تھی اور وہ سکڑ چکی تھی، آپ نے فرمایا : جو شخص کسی منصب کا ارادہ کرے گا ہم اس کو ہرگز اس منصب پر مقرر نہیں کریں گے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧١٥٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٣٣، رقم الحدیث : الباب : ١٥، الرقم المسلسل : ٤٦٣٧، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٣٥٤، سنن النسائی رقم الحدیث : ٤، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٥٩٣٥) اور اگر بالفرض حضرت یوسف (علیہ السلام) کی شریعت میں بھی منصب کو طلب کرنا ممنوع ہو تو پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے عہدہ طلب کرنے کی توجیہ یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ عہدہ اس لیے طلب کیا تھا کہ ان کے علاوہ کوئی اور شخص اس منصب کا اہل نہیں تھا اور نہ کوئی اتنا نیک اور دیانت دار تھا جو مستحق لوگوں کو ان کے حقوق پہنچا سکے۔ اس لیے ان کے نزدیک اس عہدہ کی صلاحیت اور اہلیت کے لحاظ سے وہ اس عہدہ کے لیے متعین تھے اور ان پر اس عہدہ کا طلب کرنا فرض تھا اور آج کل بھی یہی حکم ہے اگر کسی شخص کو یہ معلوم ہو کہ قضا، امارت یا کسی اور عہدہ کے لیے اس کے علاوہ اور کسی شخص میں اس عہدہ کی اہلیت اور صلاحیت نہیں اور نہ کسی اور میں تقویٰ اور پرہیزگاری ہے تو اس پر واجب ہے کہ وہ اس عہدہ کا سوال کرے اور اس عہدہ کے حصول کے لیے جدوجہد کرے اور وہ عہدہ دینے والوں کو اپنی ان صفات کی خبر دے جن صفات کی وجہ سے وہ اس عہدہ کا اہل اور مستحق ہے جیسا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی صفات بتائیں اور فرمایا : میں بہت حفاظت کرنے والا اور بہت جاننے والا ہوں اور اگر اس کو یہ علم ہو کہ اس کے علاوہ اور بہت لوگ ہیں جو اس عہدہ کی صلاحیت اور اہلیت رکھتے ہیں تو پھر اس کے لیے اس عہدہ کو طلب کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبدالرحمن بن سمرہ (رض) سے فرمایا : تم امارت کا سوال نہ کرو کیونکہ جب اس کو علم ہو کہ اس منصب کی وجہ سے بہت آفتیں اور مصیبتیں آتی ہیں اور ان سے چھٹکارا پانا بہت مشکل ہوتا ہے اس کے باوجود وہ اس منصب کو طلب کرے اور اس پر حریص ہو تو یہ اس کی دلیل ہے کہ وہ اپنی ذات کی منفعت اور پانی اغراض کو پورا کرنے کے لیے اس عہدہ کو طلب کر رہا ہے اور جو شخص ایسا ہوگا وہ عنقریب اپنی نفسانی خواہشوں کا شکار ہو کر ہلاک ہوجائے گا اس لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اس منصب کو طلب کرے گا اس کو اس کے سپرد کردیا جائے گا اور جس شخص کو اس نصب پر آنے والی آفتوں اور مصیبتوں کا علم ہو اور اس کو یہ خدشہ ہو کہ وہ اس منصب کی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آن نہیں ہو سکے گا اور اس سے اس کے حقوق میں کو تاہیاں ہوں گی۔ اس وجہ سے وہ اس منصب کو قبول کرنے سے انکار کرے اور اس سے دور بھاگے پھر اس کو زبردستی اس منصب پر فائز کردیا جائے تو اس کے حق میں یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اس کو ان متوقع آفات اور مصائب اور خطرات سے نجات مل جائے گی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی لیے فرمایا : جس کو اس کی طلب کے بغیر منصب دے دیا گیا اس کی (غیب سے) مدد کی جائے گی۔ 

موجودہ طریق انتخاب کے جواز پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے طلب منصب سے استدلال اور اس کے جوابات

ہمارے زمانہ میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے جو انتخابات ہوت یہیں ان نشستوں کے حصول کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدوار ازخود کھڑے ہوتے ہیں اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اسلام میں منصب کو طلب کرنا جائز نہیں ہے تو پھر وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے طلب منصب سے استدلال کرتے ہیں اس کے حسب ذیل جوابات ہیں : یہ استدلال اس لیے صحیح نہیں ہے کہ یہ شریعت سابقہ ہے اور شریعت سابقہ کے جو احکام ہماری شریعت کے خلاف ہوں وہ ہم پر حجت نہیں ہوتے ہمارے لیے یہ حکم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بخدا ! ہم اس شخص کو عامل نہیں بنائیں گے جو اس کو طلب کرے گا اور نہ اس شخص کو عامل بنائیں گے جو اس کی حرص کرے گا جیسا کہ اس بحث کے شروع میں ہم نے احادیث بیان کردی ہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نبی تھے اور نبی کا تقویٰ قطعی اور یقینی ہوتا ہے نبی کو وحی کی تائید حاصل ہوتی ہے اور وہ اپنے افعال کے متعلق اللہ کی رضا سے مطلع رہتے ہیں جبکہ عام آدمی کا تقویٰ قطعی اور یقینی نہیں ہوتا اور غیرقطعی کو قطعی پر قیاس کرنا درست نہیں ہے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا عہدہ طلب کرنا اللہ تعالیٰ کی اجازت سے تھا جو ان کو وحی کے ذریعے سے حاصل ہوئی تھی اور عام آدمی کے حق میں یہ متصور نہیں۔ بعض لوگ یہ کہت یہیں کہ جب کوئی منصب کا اہل نہ ہو تو جو شخص اہل ہو اس کا محض خدمت کے لیے منصب کو طلب کرنا ضرورت کی بناء پر جائز ہے۔ ہمیں اس قاعدہ کی صحت سے انکار نہیں ہے لیکن جو چیز ضرورت کی بناء پر جائز کی گئی ہو اس کو صرف ضرورت کی حد تک محدود رکھنا صحیح ہے اس کو عام رواج اور معمول بنا لینا صحیح نہیں ہے۔ مثلاً جب کوئی حلال چیز کھانے کے لیے دستیاب نہ ہو تو ضرورت کی بناء پر شراب اور خنزیر کی حرمت ساقط ہوجاتی ہے لیکن اگر کوئی شخص ضرورت کے حوالے سے خنزیر اور شراب کو کھانے پینے کا عام معمول بنا لے تو یہ صحیح نہیں ہے۔ 

موجودہ طریقہ انتخاب کا غیراسلامی ہونا

پاکستان میں انتخاب کے موقع پر حلقہ انتخاب سے بکثرت امیدوار از خود کھڑے ہوتے ہیں اور زر کثیر خرچ کر کے اپنے لیے کنویسنگ کرتے ہیں اور مخالف امیدواروں کی کردار کشی کرتے ہیں اور اس سلسلے میں غیبت، فتراء اور تہمت کی تمام حدود کو پھلانگ جاتے ہیں اور یہ طریقہ اسلام میں بالکل ناجائز ہے اور ہر امیدوار کے متعلق یہ کہنا کہ یہ ضرورت کی بناء پر کھڑا ہوا ہے بدہتاً باطل ہے کیونکہ ہر حلقہ انتخاب سے بکثرت امیدوار کھڑے ہوتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے بارے میں یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ چونکہ اور کوئی اہل نہیں تھا اس لیے یہ سب امیدوار کھڑے ہوگئے ہیں۔ 

امیدوار کے لیے شرائط اہلیت نہ ہونے کے غلط نتائج درحقیقت پاکستان کے آئین میں طلب منصب کی اجازت دینا ہی غیر اسلامی دفعہ ہے جو امیدوار انتخاب کے لیے کھرے ہوتے ہیں انہیں امیدواروں میں سے صدر مملکت، وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور دیگر وزراء کا انتخاب ہوتا ہے اور یہی امیدوار اسمبلی میں جاکر کسی قانون کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں ملک کے سر برآوردہ علماء اور دانشوروں پر مشتمل اسلامی نظریاتی کونسل اتفاق رائے سے کسی قانون کے اسلام یا غیر اسلامی ہونے کا فیصلہ کرتی ہے لیکن وہ اس وقت تک نافذ نہیں ہوسکتا جب تک کہ قومی اسمبلی اس کو منظور نہ کرے اور قومی اسمبلی کے ممبروں کے لیے اسلامی علوم یا مروجہ علوم میں سے کسی علم کی کوئی شرط نہیں ہے نیکی اور تقویٰ کی، سیاسی تجربہ اور تدبر کی، حتیٰ کہ مرد ہونے کی بھی کوئی شرط نہیں ہے ہر فاسق و فاجر، جاہل اور ناتجربہ کار شخص خواہ مرد ہو یا عورت، انتخاب کے لیے کھڑا ہوسکتا ہے اور پیسہ اور اثر و رسوخ کے زر پر اسمبلی میں پہنچ کر صدر مملکت، وزیراعظم، وزیراعلیٰ یا کسی بھی محکمہ کا وزیر بن سکتا ہے اور وہ علم، تجربہ اور اچھے کردار کے بغیر بھی اسلامی نظریاتی کونسل کی پیش کردہ سفارشات کو مسترد کرسکتا ہے اور کسی بھی قانون کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ 

موجودہ طریق انتخاب کی اصلاح کی ایک صورت

میں نے اسلامی نظریاتی کونسل کے اجالس میں جب یہ اعتراض کیا کہ پاکستان کے آئین میں امیدوار کے لیے کوئی معیار مقرر نہیں کیا گیا تو اس وقت کے امور مذہبیہ کے وفاقی وزیر راجہ ظفر الحق نے آئین پاکستان سے امیدوار کے لیے حسب ذیل شرط پڑھ کر سنائی : آرٹیکل ٦٢ : کوئی شخص مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کارکن منتخب ہونے یا چنے جانے کا اہل نہیں ہوگا اگر۔۔۔۔ (ہ) وہ اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم نہ رکھتا ہو اور اسلام کے مقرر کردہ فرائض کا پابند نیز کبیرہ گناہوں سے مجتنب نہ ہو۔ (آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان ص ٨٦، مطبوعہ منصور بک ہائوس لاہور) اہل فہم پر مخفی نہیں ہے کہ وزیر موصوف کا یہ جواب صحیح نہیں ہے اس لیے کہ آئین پاکستان کی اس دفعہ میں اسلامی تعلیمات کے علم کی یہ شرط مبہم اور غیرواضح ہے اس میں اسلامی علوم کا کوئی معیار مقرر نہیں کیا گیا نہ کسی منضبط سند کی شرط لگائی گئی ہے جسے دیکھ کر یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ آیا اس کو اسلامی علوم پر دسترس ہے یا نہیں اور کسی دین یا دنیاوی سند کی شرط نہ ہونے کے نتیجہ میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کئی انگو تھے لگانے والے اسمبلی کے ممبر منتخب ہوجاتے ہیں اور کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا ہے کہ انگوٹھے چھاپ وزیرتعلیم بن جاتے ہیں۔ ہماری رائے میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے ممبر کے لیے یہ شرط ہونی چاہیے کہ وہ ایم۔ اے عربی یا ایم۔ اے اسلامیات ہو یا کسی مسلم اور دقیع دینی دارالعلوم کا فارغ التحصیل ہو اور چونکہ اسلام میں ازخود منصب کا طلب کرنا جائز نہیں ہے، اس کی اصلاح کے لیے یہ طریقہ مقرر کیا جائے کہ کوئی امیدوار ازخود کسی نشست کے لیے کھڑا نہ ہو بلکہ وہ جس سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہے وہ جماعت اس کو نامزد کرے اور وہ جماعت ہی اس کے الیکشن کی کمپین چلائے اور اس کی کنویسنگ کرے اور یہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کے اخراجات اس امیدوار سے وصول کرلیے جائیں بہرحال ہمیں اپنے طریق انتخاب کو اسلامی حدود میں رکھنے کیلیے اس کا کوئی نہ کوئی حل تلاش کرنا چاہیے۔ 

کافر یا فاسق فاجر کی طرف سے عہدہ یا منصب قبول کرنے کی تحقیق

اس آیت سے بعض علماء نے یہ استدلال کیا ہے کہ کسی مسلمان عالم فاضل شخص کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کسی فاسق فاجر یا کسی کافر حکمران کے ماتحت کام کرے یا کسی منصب کی ذمہ داریاں بجا لائے البتہ اس میں یہ شرط ہے کہ اس کو یہ معلوم ہو کہ اس کے فرائض اور اس کی ذمہ داریوں میں کوئی ایسا کام شامل نہ ہو جو اس کے دین یا شریعت کے کسی حکم کے منافی ہو لیکن جب اس کے فرائض کی باگ دوڑ کافر یا فاسق کے ہاتھ میں ہو اور اس کے لیے لازم ہو کہ وہ ان کی خواہشات پر عمل کرے تو پھر اس کے لیے یہ عہدہ قبول کرنا جائز نہیں ہے بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ یہ صرف حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے جائز تھا اور ان کی خصوصیت تھی اور آج کل کے دور میں یہ جائز نہیں ہے لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے، صحیح یہ ہے کہ کافر یا فاسق کی ملازمت کرنا جائز ہے جب کہ ان کو یہ معلوم ہو کہ ان کو اپنے دین اور اپنی شریعت کے خلاف کوئی کام نہیں کرنا پڑے گا۔ علامہ ماوردی شافعی متوفی ٤٥٠ ھ نے کہا ہے کہ اگر منصب پر فائز کرنے والا ظالم ہو تو اس کی طرف سے منصب کو قبول کرنے کے متعلق دو قول ہیں :

(١) اس کو جس منصب پر فائز کیا گیا ہے وہ اس منصب کو قبول کرے اور اس منصب کے تقاضوں کے مطابق حق اور انصاف پر مبنی امور انجام دے کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو مصر کے فرعون (مصر کا کافر بادشاہ الولید بن الریان) کی طرف سے منصب سونپا گیا اور انہوں نے اس کو قبول فرمایا اور اعتبار منصب قبول کرنے والے کے افعال کا ہوتا ہے نہ کہ منصب دینے والے کے افعال کا۔

(٢) کافر یا فاسق کی طرف سے منصب قبول کرنا جائز نہیں ہے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرعون کا جو منصب قبول کیا تھا اس کے دو جواب ہیں : پہلا جواب یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ک کے زمانہ کا فرعون نیک اور عادل شخص تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے کا فرعون باغی اور سرکش تھا لہٰذا حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اپنے فرعون سے عہدہ قبول کرنا محل اعتراض نہیں ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی نظر اپنے دائرہ کار میں تھی انہوں نے اس طرف نظر نہیں کی کہ اس کو اس کام کی ذمہ داری کون سونپ رہا ہے۔ علامہ ماوردی نے کہا : زیادہ صحیح یہ ہے کہ کافر کی طرف سے منصب قبول کرنے کو مطلقاً جائز کہا جائے نہ مطلقاً ناجائز کہا جائے بلکہ اس کی تین قسمیں بیان کی جائیں :

(١) جن فرائض کی انجام دہی میں کسی شخص کے اجتہاد کا دخل نہیں ہے اور شریعت نے فرائض کی تعیین کی تصریح کردی ہے مثلاً زکوٰۃ اور صداقت کی وصول یابی کہ اموال ظاہرہ میں ہر چیز کا نصاب مقرر ہے کہ جب مال تجارت دو سو درہم (چھ سو بارہ اعشاریہ تین چھ گرام چاندی) کی مقدار یا اس سے زائد ہو تو اس میں سے اڑھائی فی صد زکوٰۃ وصول کی جائے گی یا چالیس سے ایک سو انیس جنگل کی گھاس چرنے والی بکریوں پر ایک بکری وصول کی جائے گی اور زرعی پیداوار سے اگر بارانی زمین ہو تو عشر وصول کیا جائے گا یعنی پیداوار کا دسواں حصہ، ورنہ نصف عشر وصول کیا جائے گا یعنی پیداوار کا بیسواں حصہ، سو ان فرائض کی انجام دہی کسی عامل کے اجتہاد پر موقوف نہیں ہے اس لیے کسی ظالم اور فاسق فاجر حکمران سے اس قسم کا عہدہ قبول کرنا جائز ہے۔

(٢) جن فرائض کی انجام دہی میں اجتہاد کرنا پڑتا ہے جیسے اموال فے کے مصرف، ان میں ظالم کی طرف سے عہدہ قبول کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ وہ اس میں ناحق تصرف کرنے کے لیے کہے گا اور اموال فے غیر مستحق کو دینے کے لیے کہے گا۔

(٣) جو شخص اہل ہو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ ظالم کی طرف سے عہدہ قبول کرلے مثلاً ظالم کی طرف سے کسی کو قاضی بنای اجائے اور وہ یہ سمجھے کہ وہ مقدمات کا کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوگا تو اس کے لیے یہ عہدہ قبول کرنا جائز ہے۔ (النکت و العیون ج ٣، ص ٥١۔ ٥٠، الجامع لاحکام القرآن جز ٩، ص ١٨٨۔ ١٨٧، مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حفیظ اور علیم ہونے کے محامل

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : میں بہت حفاظت کرنے والا بہت علم والا ہوں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اس قول کے چار محمل ہیں : (١) ابن زید نے کہا : میرے پاس جو چیز امانت رکھی جائے، میں اس کی بہت حفاظت کرنے والا ہوں اور مجھ کو جو عہدہ دیا جائے میں اس کو بہت جاننے والا ہوں۔ (٢) ابن سراقہ نے کہا : میں لکھائی کی بہت حفاظت کرنے والا ہوں اور حساب کو بہت جاننے والا ہوں کیونکہ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے کاغذ پر لکھا۔ (٣) اشجع نے سفیان سے روایت کیا کہ وہ حساب کی بہت حفاظت کرنے والے تھے اور زبانوں کو بہت جاننے والے تھے۔ (٤) قتادہ نے کہا : تم نے جو منصب دیا ہے میں اس کی حفاظت کرنے والا ہوں۔ شیبہ الضبی نے کہا میں ایام قحط کی بھوک کو بہت جاننے والا ہوں۔ اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جو علم و فضل دیا ہو، اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اس علم و فضل کے ساتھ اپنے آپ کو موصوف کرے البتہ عام حالات میں اپنی صفات اور خوبیوں کا اظہار نہ کرنا اولیٰ ہے، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بوقت ضرورت اپنی ان صفات کا اظہار کیا تھا۔ (النکت و العیون ج ٣، ص ٥٢۔ ٥١، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

خودستائی کے ممنوع ہونے کے محامل اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی اپنی تعریف کا جواز

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس قول میں اپنی تعریف کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کرنے سے منع فرمایا ہے : فلا تزکو انفسکم ھو اعلم بمن اتقی۔ (النجم : ٣٢) سو تم اپنی تعریفیں نہ کرو، پرہیزگاروں کو وہ خوب جانتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ فخر اور تکبر کی وجہ سے اپنی تعریف کرنا منع ہے یا کسی ناجائز مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنی تعریف کرنا منع ہے یا جو اوصاف انسان میں نہ ہوں ان اوصاف کے ساتھ اپنی تعریف کرنا منع ہے لیکن کسی ضرورت کی بناء پر ان اوصاف کے ساتھ اپنی تعریف کرنا جائز ہے جو اوصاف انسان میں موجود ہوں اور بعض دفعہ یہ تعریف کرنا ضروری ہوتی ہے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں ایسا ہی تھا۔ اس تعریف کے ضروری ہونے کی حسب ذیل وجوہ ہیں۔

(١) حضرت یوسف (علیہ السلام) کو وحی کے ذریعہ علم تھا کہ چند سال کے بعد قحط پڑنے والا ہے سو اگر غلہ کی فراوانی کے سالوں میں حسن تدبیر اور دیانت داری سے غلہ کا ذخیرہ نہ کیا گیا تو لوگ بھوک سے مرجائیں گے اور آپ کو یہ بھی معلوم تھا کہ آپ کے علاوہ اس ملک میں اور کوئی شخص نہیں ہے جو دیانت دار بھی ہو اور حسن تدبیر کا مالک بھی اس لیے مصر کے لوگوں کو ہلاکت سے بچانے کے لیے ضروری تھا کہ اس ملک کے خزانوں پر آپ کو مقرر کیا جاتا اور اس ملک کے خزانوں پر آپ کا مقرر کیا جانا اس پر موقوف تھا کہ بادشاہ کو آپ کی صفات سے روشناس کرایا جاتا اور واجب کا مقدمہ واجب ہوتا ہے اس لیے آپ پر واجب تھا کہ آپ بادشاہ کو اپنی قابلیت اور صلاحیت سے روشناس کراتے اس لیے آپ نے فرمایا : مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کردیں میں بہت زیادہ حفاظت کرنے والا بہت زیادہ علم والا ہوں۔

(٢) اللہ عزوجل کی طرف سے مخلوق کی طرف رسول بنا کر مبعوث کیے گئے تھے اور رسول پر اپنی امت کی مصلحتوں کی رعایت بقدر امکان کرنا واجب ہے اور یہاں یہ رعایت اسی صورت میں ہوسکتی تھی کہ بادشاہ آپ کو یہ منصب سونپ دیتا اور بادشاہ اس وقت آپ کو یہ منصب سپرد کرتا جب وہ آپ کی اہلیت سے واقف ہوتا اور وہ اس وقت واقف ہوتا جب آپ بتاتے۔

(٣) مستحقین تک نفع پہنچانے کی کوشش کرنا اور ان سے ضرر کو دور کرنا جب انسان کے اختیار میں ہو تو پھر اس پر ایسا کرنا واجب ہوتا ہے۔ ان وجوہ کی بنا پر حضرت یوسف (علیہ السلام) پر واجب تھا کہ وہ اپنی ان صفات کا اظہار فرماتے۔ 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اپنی مدح فرمانا تواضع اور انکسار کے خلاف نہیں ہے

علامہ عبدالرحمن بن علی الجوزی حنبلی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں : اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی مدح کیسے فرمائی حالانکہ انبیاء (علیہم السلام) اور صالحین کا طریقہ تواضع و انکسار ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ جب اپنی مدح فخر اور تکبر سے خالی ہو اور اس سے مراد اس حق تک پہنچنا ہو جس کو اس نے قائم کرنا ہو اور عدل کو زندہ کرنا ہو اور ظلم کو مٹانا ہو تو پھر اپنی مدح کرنا جائز اور مستحسن ہے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب لوگوں کو اٹھایا جائے گا تو میں سب سے پہلے قبر سے نکلوں گا اور جب لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے تو میں کلام کروں گا اور جب لوگ مایوس ہوجائیں گے تو میں ان کو خوشخبری سنائوں گا حمد کا جھنڈا اس دن میرے ہاتھ میں ہوگا اور آدم کی اولاد میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا میں ہوں گا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٦١٠، سنن دارمی رقم الحدیث : الحدیث : ٤٩، دلائل النبوۃ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٥، ص ٤٨٤، شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٦٢٤) اور حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے کہا : میں ہر آیت کے متعلق جانتا ہوں کہ وہ رات میں نازل ہوئی ہے یا دن میں اور حضرت ابن مسعود (رض) نے کہا : اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ کوئی ایک شخص بھی مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کا علم رکھتا ہے اور اس تک پہنچنے کے لیے اونٹ پر بیٹھ کر سفر کرنا پڑتا ہے تو میں اس تک پہنچتا پس ان نفوس قدسیہ نے اپنی مدح میں جو کلمات طیبات فرمائے وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے قائم مقام ہیں اور قاضی ابویعلیٰ نے کہا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قصہ میں یہ دلیل ہے کہ اگر کسی صاحب فضیلت شخص کو لوگ جانتے نہ ہوں تو انہیں اپنا تعارف کرانے کے لیے اپنے فضائل کو بیان کرنا جائز ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 55