أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ تَزۡرَعُوۡنَ سَبۡعَ سِنِيۡنَ دَاَبًا‌ۚ فَمَا حَصَدْتُّمۡ فَذَرُوۡهُ فِىۡ سُنۡۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّمَّا تَاۡكُلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

یوسف نے کہا تم حسب معمول سات سال تک کاشت کاری کرو گے پھر تم جو کھیت کاٹو تو تمام غلے کو ان کے خوشوں میں چھوڑ دینا ماسوا ان قلیل غلے کے جن کو تم کھائو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یوسف نے کہا تم حسب معمول سات سال تک کاشت کاری کرو گے، پھر تم جو کھیت کاٹو تو تمام غلے کو ان کے خوشوں میں چھوڑ دینا ماسوا اس قلیل غلے کے جن کو تم کھائو پھر اس کے بعد سات خشک سالی کے سخت سال آئیں گے وہ اس غلے کو کھاجائیں گے جو تم نے پہلے جمع کر کے رکھا تھا ماسوا تھوڑے سے غلے کے جن کو تم محفوظ رکھو گے پھر اس کے بعد ایک ایسا سال آئے گا جس میں لوگوں پر بارش ہوگی اور اس میں لوگ پھلوں کو نچوڑیں گے۔ (یوسف : ٤٩۔ ٤٧) 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مکارم اخلاق

ان آیات سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بلند ظرف اور مکارم اخلاق کا پتا چلتا ہے آپ نے ساقی کو تاکید سے کہا تھا کہ وہ بادشاہ کے سامنے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ذکر کرے، ساقی نے سات سال تک بادشاہ کے سامنے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ذکر نہیں کیا پھر وہ اپنی ضرورت سے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے خواب کی تعبیر پوچھنے گیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کو کوئی سرزنش یا ملامت نہیں کی بلکہ شرح صدر کے ساتھ اس کو خواب کی تعبیر بتادی۔ ساقی کے ذکر نہ کرنے کی وجہ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو مزید سات یا نو سال قید میں رہنا پڑا یہ ایک تقدیری امر تھا لیکن اس میں اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت تھی کہ اگر ساقی جاتے ہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی مظلومیت اور ان کے بلا قصور قید میں گرفتار ہونے کا ذکر کردیتا اور بادشاہ حضرت یوسف (علیہ السلام) پر رحم کھا کر ان کو قید سے رہائی دلا دیتا تو یہ بادشاہ کا حضرت یوسف (علیہ السلام) پر احسان ہوتا اور جب بادشاہ کو خود ان کی ضرورت پڑی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خواب کی تعبیر بتلا کر بادشاہ کی الجھن کو دور کیا تو اب بادشاہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا زیر احسان تھا گویا اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا تھا کہ ایک کافر کا اس کے نبی پر احسان ہو بلکہ وہ چاہتا تھا کہ وہ کافر بادشاہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا زیر احسان تھا گویا اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا تھا کہ ایک کافر کا اس کے نبی پر احسان ہو بلکہ وہ چاہتا تھا کہ وہ کافر بادشاہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زیراحسان رہے بلکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بعد میں آنے والے سات قحط کے سالوں سے نجات کا جو طریقہ بتایا یا اس سے تو مصر کی پوری قوم حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زیراحسان تھی۔ 

مستقبل کے لیے پس انداز کرنے اور قومی ضرورت کے لیے ذخیرہ اندوزی کرنے کا جواز

خواب کی تعبیر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) نے گایوں کو سالوں سے تعبیر کیا اور فربہ گایوں کو خوش حالی اور غلہ کی فراوانی کے سالوں سے تعبیر کیا اور دبلی گایوں کو خشک سالی اور قحط کے سالوں سے تعبیر کیا پھر ان کو معیشت کی اصلاح کا طریقہ بتایا کہ وہ خوش حالی اور غلہ کی فراوانی کے سالوں میں ضرورت سے زیادہ غلہ کو خرچ نہ کریں اور بےتحاشا خرچ کر کے ضائع نہ کریں بلکہ مستقبل میں آنے والے قحط کے سات سالوں کے لیے غلہ کو بچا کر رکھیں اور اس میں یہ دلیل ہے کہ مستقبل کے لیے مال کو پسد انداز کرنا مصلحت کے اعتبار سے ضروری ہے اور بناوٹی صوفیوں کا یہ کہنا باطل ہے کہ صبح کھالو تو شام کے لیے بچا کر نہ رکھا کرو جس نے صبح کھانے کو دیا ہے شام کو بھی وہی دے گا نیز اس میں یہ بھی دلیل ہے کہ قومی ضرورت کے وقت ذخیرہ اندوزی جائز ہے منع اس صورت میں ہے جب لوگ بھوکے مر رہے ہیں اور تاجر اپنا نفع بڑھانے کے لیے غلہ کو گوداموں میں چھپا کر رکھیں اور مارکیٹ میں فروخت کے لیے نہ لائیں۔ 

خواب کا پہلی تعبیر پر واقع ہونا ضروری نہیں

بادشاہ کے درباریوں نے بادشاہ کے خواب کو اضغاث احلام قرار دیا تھا لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ کے خواب کو بامعنی قرار دیا اور اس کی تعبیر بنائی، اس سے معلوم ہوا کہ جو دوسرا شخص خواب کی تعبیر بتائے خواب اس پر بھی واقع ہوجاتا ہے اور ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ درج ذیل حدیث ضعیف ہے : حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خواب کا ایک باطن ہوتا ہے پس خواب کی تعبیر کنایہ سے اس کے نام سے بیان کرو۔ خواب کی جو پہلی تعبیر بتائی جائے خواب اس پر واقع ہوتا ہے۔ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ اگر خواب میں مثلاً سالم نام کے شخص کو دیکھو تو اس کی تعبیر سلامتی بیان کرو اگر کوے کو دیکھے تو اس کی تعبیر فاسق ہے کیونکہ حدیث میں کوے کو فاسق فرمایا ہے اور اگر پسلی دیکھے تو اس کی تعبیر عورت ہے اور کنایہ سے مراد مثال ہے مثلاً کھجور کا درخت دیکھے تو اس کی تعبیر نیکی کرنے والا ہے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٩١٥، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٤١٣١، کنزالعمال رقم الحدیث : ٣٠٨٠٢) علامہ بوصیری نے کہا : اس حدیث کی سند میں یزید بن ابان رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے، حافظ ابن عسقلانی نے بھی اس حدیث کو یزید رقاشی کی وجہ سے ضعیف کہا ہے۔ (فتح الباری ج ١٢، ص ٤٣٢، طبع لاہور ١٤٠١ ھ) 

تمام مقاصد حیات کے لیے شریعت کا متکفل ہونا

ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) تمام لوگوں کے لیے رحمت ہوتے ہیں خواہ وہ مسلمان ہوں یا کافر، وہ عقائد کی اصلاح کرتے ہیں، مکام اخلاق کی ہدایت دیتے ہیں، تزکیہ نفوس کرتے ہیں اور معیشت اور اقتصادیات کی اصلاح کے لیے بھی رہنمائی کرتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بتایا کہ غلہ کی فراوانی کے سات سالوں میں وہ کس طرح آئندہ کے سات سالوں کے لیے غلہ کو محفوظ رکھیں اور اس سے معلوم ہوا کہ شریع تکا کام صرف دین کی حفاظت اور عبادت کا نظام قائم کرنا نہیں بلکہ شریعت جان کی حفاظت کا بھی نظام قائم کرتی ہے اسی لیے قصاص اور دیت کا نظام قائم کیا اور مال کی حفاظت کے لیے چوری اور ڈاکہ کی حدود مقرر کیں عقل کی حفاظت کے لیے شراب کی حد مقرر کی، نسب کی حفاظت کے لیے نکاح کا نظام قائم کیا اور زنا کی حد مقرر کی اور عزت کی حفاظت کے لیے حد قذف مقرر کی اور معیشت کی حفاظت اور اقتصادی حالت کو توازن پر رکھنے کے لیے زکوٰۃ اور عشر کا نظام قائم کیا اور احتکار کو ممنوع قرار دیا اور اس آیت میں قحط کے زمانہ میں غلہ کو برقرار رکھنے کے طریقہ کی رہنمائی کی غرض شریعت انسان کی اصلاح کے تمام پہلوئوں اور اس کے تمام مقاصد کی حفاظت کو محیط ہے اور اس پر عمل کرنے ہی میں دین اور دنیا کی فلاح ہے۔ 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا غیب کی خبریں دینا

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض اوقات کافر کا خواب بھی صحیح ہوتا ہے اور اس کی تعبیر بھی سچی ہوتی ہے تو پھر مومن کے خواب اور پھر نبی کے خواب کی صحت اور صداقت کا کیا عالم ہوگا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خواب کی تعبیر میں بتایا کہ ان پر سات سال غلہ کی فراوانی کے ہوں گے اور سات سال قحط کے ہوں گے پھر اس کے بعد ایک سال میں بہت بارش ہوگی اور زمین بہت پھل اگائے کی اور لوگ پھلوں سے رس نچوڑیں گے اور اس طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) نے آنے والے پندرہ سالوں کی پیشگی خبریں بیان کردیں اور یہ سب خبریں انہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحی سے بیان کیں اور یہ غیب کی خبریں تھیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 47