حدیث نمبر157

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر آپ کے ساتھ تھے ۱؎ جب میں بیٹھا تو اﷲ کی حمد سے ابتداء کی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پھر میں نے اپنے لیے دعا کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مانگ لے دیا جائے گا مانگ لے دیا جائے گا ۲؎ (ترمذی)

شرح

۱؎ یعنی یہ حضرات نماز سے فارغ ہو کر مسجد میں ہی تشریف فرما تھے میں نوافل وغیرہ پڑھ رہا تھا کیونکہ حضرت ابن مسعود علیحدہ فرض نہیں پڑھتے تھے جماعت سے پڑھتے تھے۔معلوم ہوا کہ نماز کے بعد مسجد میں کچھ ٹھہرنا سنت ہے۔

۲؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ نماز کے بعد دعا مانگنا سنت ہے۔دوسرے یہ کہ دعا میں ترتیب یہ چاہیے کہ پہلے حمد الٰہی کرے پھر درود شریف پڑھے پھر اپنے گناہوں کی معافی چاہے جیسا کہ بعض روایات میں ہے پھر دعا مانگے۔ شامی نے فرمایا کہ دوران دعا میں بار بار درود شریف پڑھتا رہے درودوں سے بھری ہوئی دعا ان شاءاﷲ رد نہیں ہوتی۔