حدیث نمبر163

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن عوف سے فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے حتی کہ ایک باغ میں پہنچے تو بہت دراز سجدہ کیا ۱؎ حتی کہ مجھے خوف ہوا کہ اﷲ تعالٰی نے آپ کو وفات دے دی ہو فرماتے ہیں میں آکر دیکھنے لگا تو آ پ نے سر اٹھایا فرمایا کیا ہے تو میں نے یہ عرض کیا۲؎ تب فرمایا کہ جبریل علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا کہ میں آپ کو یہ خوشخبری نہ دوں کہ اﷲ آپ سے فرماتا ہے جو آپ پر درود بھیجے گا میں اس پر رحمت کروں گا اور جو آپ پر سلام کہے گا میں اس پر سلام بھیجوں گا۳؎ (احمد)

شرح

۱؎ سجدے سے مراد یا نفل کا سجدہ ہے یا علیحدہ مستقل سجدہ۔دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔

۲؎ یعنی اپنے دل کا خدشہ،خیال رہے کہ انبیائے کرام کے لیے ایسی حالت میں وفات پاجانا اور سجدہ میں ٹھہرا رہنا گر نہ جانا باعث تعجب نہیں سلیمان علیہ السلام کی وفات نماز کے قیام میں ہوئی اور ایک لاٹھی کے سہارے آپ چھ ماہ یا ایک سال کھڑے رہے لہذا ان صحابی کے اس خیال پر کوئی اعتراض نہیں۔

۳؎ غالب یہ ہے کہ رب کی رحمت بھیجنے سے مراد دس رحمتیں ہیں،اس کے سلام سے مراد دس سلام جیسا کہ پچھلی احادیث میں گزرا وہ احادیث اس کی شرح ہیں۔