🏝🏝🏝 آج کل ایک کنفیوژن یہ پھیلائی جارہی ہے کہ نماز تراویح اور اس کی رکعات کا احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں کوئی ثبوت ہی نہیں۔۔

🏝🏝نتیجہ یہ کہ کم علم رکھنے والے مسلمان بھائی بہنیں الجھن کا شکار ہوجاتے ہیں کہ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا بیس تراویح ہی پڑھتے رہے۔ ہمیشہ سے مکہ مکرمہ کی مسجد حرام اور مسجد نبوی شریف میں بھی بیس رکعات ہی پڑھی جاتی ہیں۔ ساڑھے چودہ صدیوں میں لاکھوں جید علماء، فقہاء بیس رکعات کی تلقین کرتے رہے۔۔ کیا جاوید احمد غامدی صاحب اور انجنیئر مرزا محمد علی صاحب جیسے جدت پسندوں پر کوئی نئی شریعت نازل ہوئی ہے کہ وہ برملا کہتے پھرتے ہیں کہ بیس رکعات تراویح کا احادیث میں کوئی ثبوت ہی نہیں۔ !!!!!!

🎄🎄🎄 لھذا باحوالہ ۔۔۔۔۔۔۔۔نماز تراویح اور اس کی رکعتیں احادیث مبارکہ کی روشنی میں عرض خدمت ہیں تاکہ کنفیوژن کا ازالہ اور جدت کے نام پر دین کا حلیہ بگاڑنے والوں کا رد ہو سکے۔۔۔

طالب دعا و دعا گو ۔۔ پروفیسر مسعود اختر ہزاروی لوٹن برطانیہ

===============

عن ابی ھریرۃ قال:قال رسول اللہ ﷺ:من قام شھررمضان ایمانا و احتسا با غفر لہ ما تقدم من ذنبہ و من قام لیلۃ القدر ایمانا و احتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ

(الصحیح البخاری،رقم الحدیث:۱۹۰۱،الصحیح المسلم،رقم الحدیث:۷۶۰)

تر جمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص رمضان کے مہینے میں ثواب کی نیت سے قیام کرے(یعنی نماز تراویح ادا کرے)تو اللہ تعالی اس کے گذشتہ تمام گناہوں کو معاف فر مادیتا ہے،یونہی جو شخص شب قدر میں ثواب کی نیت سے قیام کرے اللہ تعالی اس کے گذشتہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔

عن عائشۃ ام المومنین رضی اللہ عنھا :ان رسول اللہ ﷺ صلی ذات لیلۃ فی المسجد ،فصلی بصلاتہ ناس ،ثم صلی من القابلۃ فکثر الناس ،ثم اجتمعوا من اللیلۃ الثالثۃ او الرابعۃ ،فلم یخرج الیھم رسول اللہ ﷺ فلما اصبح قال:قد رأیت الذی صنعتم ،و لم یمنعنی من الخروج الیکم الا انی خشیت ان تفرض علیکم ،و ذالک فی رمضان۔(الصحیح البخاری،رقم الحدیث :۱۱۲۹)

تر جمہ:ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا سے مروی ہے کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں نماز پڑھی تو لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی پھر آپ ﷺ نے اگلی رات نماز پڑھی تو اور زیادہ لوگ جمع ہو گئے،پھر تیسری یا چوتھی رات بھی جمع ہو ئے لیکن رسول اللہ ﷺ ان کی طرف تشریف نہ لائے۔جب صبح ہو ئی تو فرمایا میں نے دیکھا جو تم نے کیا ،مگر میں صرف اس اندیشے سے تمہاری طرف نہیں آیا کہ کہیں تم پر یہ نماز (یعنی تراویح)فرض نہ کر دیا جائے۔

عن ابن عباس قال :ان النبی ﷺ کان یصلی فی رمضان عشرین رکعۃ سوی الوتر۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ،رقم الحدیث:۷۶۹۲،مسند عبد بن حمید ،رقم الحدیث:۶۵۳)

تر جمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے انہوں نے فرمایاکہ حضور نبی کریم ﷺ رمضان المبارک میں وتر کے علاوہ بیس رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے۔

عن السائب بن یزید قال :کانو ا یقومون علی عھد عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فی شھر رمضان بعشرین رکعۃ۔(السنن الکبری للبیھقی،رقم الحدیث :۴۳۹۳)

ترجمہ: حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے ،انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم رمضان کے مہینے میں بیس رکعت تراویح ُپڑھا کرتے تھے۔

عن یزید بن رومان،انہ قال:کان الناس یقومون فی زمان عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فی رمضان بثلاث وعشرین رکعۃ۔(موطا امام مالک،کتاب الصلوۃ فی رمضان ،باب التر غیب فی الصلوۃ فی رمضان،حدیث:۲۵۲،سنن الکبر ی للبیہقی،حدیث:۴۳۹۴)

ترجمہ:حضرت یزید بن رومان بیان کرتے ہیں کہ :حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگ (بشمول وتر)۲۳ رکعات پڑھتے تھے۔

عن ابی الخصیب،قال:کان یومنا سوید بن غفلۃ فی رمضان فیصلی خمس ترویحات عشرین رکعۃ۔(سنن الکبری للبیہقی،حدیث:۴۳۹۵)

تر جمہ: حضرت ابو خصیب نے بیان کیا کہ:حضرت سوید بن غفلہ رمضان میں ہماری امامت فرماتے تو پانچ ترویحہ یعنی بیس رکعات پڑھاتے۔

عن شتیر بن شکل وکان من اصحاب علی رضی اللہ عنہ انہ کان یومھم فی شھر رمضان بعشرین رکعۃ ویو تر بثلاث۔(مصنف ابن ابی شیبۃ ، حدیث:۷۶۸۰،سنن الکبری للبیہقی،حدیث:۴۳۹۵)

تر جمہ: حضرت شُتیر بن شکل سے روایت ہے اور وہ حضرت علی کرم اللہ وجھہ کے اصحاب میں سے تھے ،کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ رمضان میں بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھاتے تھے۔

عن ابی عبد الرحمن السلمی ،عن علی رضی اللہ عنہ قال:دعا القراء فی رمضان فأمر منھم رجلا یصلی بالناس عشرین رکعۃ ،قال:وکان علی رضی اللہ عنہ یوتر بھم ۔(سنن الکبری للبیہقی،حدیث:۴۳۹۶)

تر جمہ: حضرت عبد الرحمن بن سلمی سے مروی ہے کہ :حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رمضان المبارک میں قاریوں کو بلایا اور ان میں سے ایک شخص کو بیس رکعات تراویح پڑھانے کا حکم دیا اور خود حضرت علی رضی اللہ عنہ انہیں وتر پڑھاتے تھے۔

عن ابی الحسناء ،ان علی رضی اللہ عنہ أمر رجلا ان یصلی بالناس خمس تر ویحات عشرین رکعات۔(مصنف ابن ابی شیبۃ،حدیث:۷۶۸۱،سنن الکبری للبیہقی،حدیث:۴۳۹۷)

تر جمہ: حضرت ابو الحسناء بیان کرتے ہیں کہ :حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو رمضان میں پانچ ترویحوں میں بیس رکعات پڑھا نے کا حکم دیا۔

عن یحیی بن سعید :ان عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ أمر رجلا یصلی بھم عشرین رکعۃ۔(مصنف ابن ابی شیبۃ،حدیث:۷۶۸۲)

تر جمہ: حضرت یحیی بن سعید بیان کرتے ہیں کہ :حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ انہیں (یعنی مسلمانوں کو)بیس رکعات تراویح پڑھائے۔

عن نافع بن عمر قال: کان ابی ملیکۃ یصلی بنا فی رمضان عشرین رکعۃ۔(مصنف ابن ابی شیبۃ ،حدیث :۷۶۸۳)

تر جمہ: حضرت نافع بن عمر نے بیان کیا کہ: حضرت ابن ابی ملیکہ ہمیں رمضان میں بیس رکعات تراویح پڑ ھاتے تھے۔

عن عبد العزیز بن رفیع قال: کان أُبی بن کعب یصلی بالناس فی رمضان بالمدینۃ عشرین رکعۃ ویوتر بثلاث۔(مصنف ابن ابی شیبۃ، حدیث :۷۶۸۴)

ترجمہ: حضرت عبد العزیز بن رفیع نے بیان کیا کہ:حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں لوگوں کو رمضان المبارک میں بیس رکعات تراویح اور تین رکعات تراویح پڑھاتے تھے۔

عن الحارث ،انہ کان یؤم الناس فی رمضان باللیل بعشرین رکعۃ ویؤتر بثلاث،ویقنت قبل الرکوع۔(مصنف ابن ابی شیبۃ،حدیث: ۷۶۸۵)

تر جمہ: حضرت حارث سے مروی ہے کہ:وہ لوگوں کو رمضان المبارک کی راتوں میں بیس رکعات تراویح اور تین رکعات تراویح پڑ ھاتے تھے اور (وتر کی نماز میں)رکوع میں جانے سے پہلے قنوت پڑھتے تھے۔

عن ابی الختری ،انہ کان یصلی خمس ترویحات فی رمضان و یوتر بثلاث۔(مصنف ابن ابی شیبۃ،حدیث:۷۶۸۶)

ترجمہ: حضرت ابو الختری سے روایت ہے کہ:وہ رمضان المبارک میں پانچ ترویحات(یعنی بیس رکعات)اور تین رکعات وتر پڑھا کرتے تھے۔

قال الامام ابو عیسی الترمذی فی سننہ:و اکثر اھل العلم علی ماروی عن عمر ،وعلی رضی اللہ عنھما و غیرھما من اصحاب النبی ﷺ عشرین رکعۃ و ھو قول الثوری و ابن المبارک ،والشافعی ۔وقال الشافعی:وھکذا ادرکت ببلدنا بمکۃ یصلون عشرین رکعۃ ۔

(ترمذی،کتاب الصوم عن رسول اللہ ﷺ ، باب ماجاء فی قیام شھر رمضان،حدیث:۸۰۶)

ترجمہ: امام ترمذی نے فرمایا:اکثر اہل علم کا مذھب بیس رکعات تراویح ہے جو کہ حضرت علی اور حضرت عمر رضی اللہ عنھما اور حضور نبی کریم ﷺ کے دیگر اصحاب سے مروی ہے۔اور یہی کبار تابعین سفیان ثوری ،عبد اللہ بن مبارک اور امام شافعی رحمہ اللہ علیھم کا قول ہے۔امام شافعی نے فرمایا:میں نے اپنے شہر مکۃ المکرمہ میں لوگوں کو بیس رکعات تراویح پڑھتے پایا ۔