نیک عورت گویا آدھا دین

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا من رزقہ اللہ امراٗۃ صالحۃ فقد اعانہ علیٰ شطر دینہ فلیتق اللہ فی شطر الثانی جسے اللہ نے نیک عورت عطا فرمائی تو دین کے آدھے حصہ پر مدد فرمائی تو دوسرے آدھے میں اللہ سے ڈرے (کنز العمال ج۱۶ ص ۱۱۶)

اس حدیث پاک میں نیک اور دیندار عورت کو اتنا زیادہ سراہا کہ نبی ﷺ نے دین کو دو حصوں میں تقسیم فرماکر ایک حصہ نیک عورت کو قرار دیا،اسکا ظاہری مطلب یہ ہو سکتا ہے حقوق اللہ اور حقوق العباد میں حقوق العباد والا آدھا حصہ نیک عورت کی وجہ سے پورا ہو سکتا ہے کہ وہ سبکا حق ادا کرے گی اور کروائے گی،کسی رشتہ دار کی طرف سے کوئی شکایت نہ آنے دے گی،رہ گیا حقوق اللہ والا حصہ تو وہ خود پابند ہے اور ہمیں بھی اسکی پابندی کرنی ہے، الحاصل ہمارا دین مکمل ہوگیا،کہ حقوق اللہ بھی ادا ہو رہے ہیں اور حقوق العباد بھی ادا ہو رے ہیں،آدھا اسنے پورا کیا اور دوسرا آدھا ہم نے پورا کیا،جب نیک عورت اتنی قابل قدر ہے کہ مرد کے دین کا آدھا حصہ وہ ہے تو ہر عورت کو ایسا بننے کی کوشش کرنی چاہیئے،اور ہر مرد کو اپنی رفیقہٗ حیات کے انتخاب میں اس بات کو مد نظر رکھنا چاہیئے