أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ الَّذِىۡ نَجَا مِنۡهُمَا وَادَّكَرَ بَعۡدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَـبِّئُكُمۡ بِتَاۡوِيۡلِهٖ فَاَرۡسِلُوۡنِ ۞

ترجمہ:

ان دو قیدیوں میں سے جو نجات یافتہ تھا اس نے ایک مدت کے بعد یوسف کو یاد کیا اس نے کہا میں تم کو اس خواب کی تعبیر بتاسکتا ہوں مجھے (یوسف کے پاس) بھیج دو ۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان دو قیدیوں میں سے جو نجات یافتہ تھا اس نے ایک مدت کے بعد یوسف کو یاد کیا اس نے کہا میں تم کو اس خواب کی تعبیر بتاسکتا ہوں مجھے (یوسف کے پاس) بھیج دو ۔ (یوسف : ٤٥) 

مدت گزرنے کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ذکر کرنے کی توجیہ

بادشاہ نے جب درباریوں سے خواب کے متعلق پوچھا اور وہ اس کی تعبیر نہ بتاسکے اس وقت اس ساقی نے کہا کہ قید خانے میں ایک شخص بہت عالم فاضل ہے اور بہت نیک ہے اور بہت عبادت گزار ہے، میں نے اور باورچی نے جو خواب دیکھے تھے ہم نے اس سے ان خوابوں کی تعبیر پوچھی تھی اور اس کی بتائی ہوئی تعبیر بالکل صحیح اور درست واقع ہوئی اگر آپ بھی اپنے خواب کی صحیح تعبیر جاننا چاہتے ہیں تو مجھے اس کے پاس قیدخانے میں بھیج دیں میں اس سے صحیح تعبیر معلوم کر کے آپ کو بتادوں گا۔ (تفسیر کبیر ج ٦، ص ٤٦٤، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

بعض علماء نے اس آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے : اسے ایک مدت کے بعد یوسف یاد آیا یہ ترجمہ اس نظریہ پر مبنی ہے کہ شیطان نے ساقی کو بادشاہ کے سامنے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ذکر کرنا بھلا دیا تھا لیکن احادیث، آثار اور قرآن مجید کے ظاہر الفاظ کا تقاضا یہ ہے کہ شیطان نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے اس معاملہ میں التجا اور ذکر کرنا بھلا دیا تھا اور انہوں نے ساقی سے کہا کہ وہ بادشاہ کے سامنے ان کی مظلومیت کا ذکر کرے، اس پر مفصل بحث گزر چکی ہے اس لیے ہم نے اس آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ اس نے ایک مدت کے بعد یوسف کو یاد کیا۔ ابوصالح نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ ساقی نے اس وقت تک بادشاہ کے سامنے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ذکر نہیں کیا جب تک بادشاہ کو خواب کی تعبیر بتانے کے لیے کسی ماہر کی ضرورت نہیں پڑی، اس وقت اس نے بادشاہ کے سامنے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ذکر کیا کیونکہ اس کو ڈر تھا کہ اگر اس نے پہلے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ذکر کیا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بےقصور قید ہونے کا بتایا تو بادشاہ کے ذہن میں خود اس ساقی جرم پھر سے تازہ ہوجائے گا جس وجہ سے اس کو قید کیا گیا تھا اور اس کو خطرہ تھا کہ یہ امر اس کے لیے کسی مصیبت کا پیش خیمہ نہ بن جائے۔ (زاد المسیر ج ٤، ص ٢٣١، مطبوعہ المتکب الاسلامی بیروت ١٤٠٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 45