أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ الۡمَلِكُ ائۡتُوۡنِىۡ بِهٖ‌ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوۡلُ قَالَ ارۡجِعۡ اِلٰى رَبِّكَ فَسۡـئَلۡهُ مَا بَالُ النِّسۡوَةِ الّٰتِىۡ قَطَّعۡنَ اَيۡدِيَهُنَّ‌ؕ اِنَّ رَبِّىۡ بِكَيۡدِهِنَّ عَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور بادشاہ نے کہا یوسف کو میرے پاس لے کر آئو، جب ان کے پاس قاصد آیا تو انہوں نے کہا اپنے آقا کے پاس واپس جائو اور اس سے پوچھو ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے، بیشک میرا رب ان کی سازش کو خوب جاننے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بادشاہ نے کہا یوسف کو میرے پاس لے کر آئو جب ان کے پاس قاصد آیا تو انہوں نے اپنے آقا کے پاس واپس جائو اور اس سے پوچھو ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹھ لیے تھے بیشک میرا رب ان کی سازش کو خوب جاننے والا ہے۔ (یوسف : ٥٠) 

علم دین کی وجہ سے روز قیامت علماء کی مغفرت

جب وہ ساقی حضرت یوسف (علیہ السلام) سے خواب کی تعبیر معلوم کر کے بادشاہ کے پاس گیا اور بادشاہ کو وہ تعبیر بتائی تو بادشاہ نے اس تعبیر کو بہت پسند کیا اور کہا کہ یوسف کو میرے پاس لے کر آئو اور یہ واقعہ علم کی فضیلت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے علم کو ان کی دنیاوی مصیبت سے نجات کا سبب بنادیا اور جب علم دنیاوی مصیبت سے نجات کا سبب ہے تو آخرت اور قیامت کے مصائب سے نجات کا سبب کیوں نہیں ہوگا۔

حضرت ثعلبہ بن الحکم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل جب بندوں پر اپنا فضل کرنے کے لیے اپنی کرسی پر بیٹھا ہوگا تو وہ علماء سے فرمائے گا میں نے اپنا علم اور اپنا حکم (نظام، قانون) تم کو صرف اس لیے عطا کیا تھا کہ میں تمہاری مغفرت کرنا چاہتا تھا اور میں بےنیاز ہوں۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٣٨١، حافظ الہیثمی نے کہا اس حدیث کے راویوں کی توثیق کی گئی ہے : مجمع الزوائد ج ١، ص ١٢٦، تاہم اس حدیث کا ایک راوی العلاء بن مسلمہ وضع فی الحدیث کے ساتھ متہم ہے اور البانی نے اس حدیث کا ذکر السلسلۃ الضعیفہ میں کیا ہے رقم : ٨٦٧، خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے لیکن فضائل میں ضعاف کا اعتبار کیا جاتا ہے اور اس حدیث کے شواہد بھی ہیں)

حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ قیامت کے دن علماء کو اٹھائے گا اور فرمائے گا : میں نے اپنا علم تم میں اس لیے نہیں رکھا تھا کہ تم کو عذاب دوں، جائو میں نے تم کو بخش دیا ہے۔ (المعجم الصغیر رقم الحدیث : ٥٩١، حافظ الہیثمی نے اس حدیث کو المعجم الکبیر کے حوالے سے ذکر کیا ہے اور کہا ہے اس کی سند بہت ضعیف ہے، مجمع الزوائد ج ١ ص ١٢٦)

حضرت واثلہ بن الاسقع (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ علماء کو جمع کر کے فرمائے گا : میں نے تمہارے دلوں میں حکمت اس لیے نہیں رکھی تھی کہ میں تمہیں عذاب دینا چاہتا ہوں جنت میں داخل ہو جائو۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال ج ٦، ص ٢٧٧، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤٧٧ ھ، کنزالعمال رقم الحدیث : ٢٨٨٩٤) 

ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تحسین کرنا

جب بادشاہ کا قاصد حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس ان کو بلانے کے لیے پہنچا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس وقت تک قیدخانے سے نکلنے سے انکار کردیا جب تک ان کی اس تہمت سے برأت نہ ثابت ہوجائے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اس عمل کی تعریف فرمائی ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : الکریم بن الکریم بن الکریم بن الکریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہیں آپ نے فرمایا : اگر میں قیدخانہ میں اتنی مدت رہتا جتنی مدت حضرت یوسف (علیہ السلام) رہے تھے، پھر مجھے قاصد بلانے آتا تو میں اس کے بلانے پر چلا جاتا پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : فلما جاءہ الرسول قال ارجع الی ربک فسئلہ ما بال النسوۃ التی قطعن ایدیھن۔ (یوسف : ٥٠) (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١١٦، المعجم الکبیر ج ٩، رقم الحدیث : ٣٧١)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر مجھے بلایا جاتا تو میں فوراً چلا جاتا اور اپنے بےقصور ہونے کی حجت کو تلاش نہ کرتا۔ (جامع البیان جز ١٢ ص ٣٠٧)

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے صبر اور ان کے کرم پر تعجب ہوتا ہے اللہ ان کی مغفرت فرمائے جب ان سے موٹی اور دبلی گایوں کے متعلق سوال کیا گیا، اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو ان کو بالکل جواب نہ دیتا اور یہ شرط رکھتا کہ پہلے وہ مجھے قید خانے سے نکالیں اور مجھے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے صبر اور ان کے کرم پر تعجب ہوتا ہے اور اللہ ان کی مغفرت فرمائے جب ان کے پاس قاصد آیا تو اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو میں دروازے سے نکلنے کی طرف جلدی کرتا لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ ارادہ کیا کہ ان کے بےقصور ہونے کی حجت ظاہر ہوجائے۔ (مسند احمد ج ٣، رقم الحدیث : ٨٣٣٧، طبع جدید دارالفکر، جامع البیان رقم الحدیث : ١٤٨٣٤) 

رہائی میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے توقف کرنے کی وجوہات

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس وقت تک قید خانے سے نکلنے سے توقف کیا جب تک کہ ان بےقصور ہونا واضح نہ ہوجائے اس میں حضرت یوسف (علیہ السلام) نے احتیاط اور دانش مندی کو جو ملحوظ رکھا اس کی حسب ذیل وجوہات ہیں :

(١) اگر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بلانے پر فوراً چلے جاتے تو باشداہ کے دل میں حضرت یوسف (علیہ السلام) پر لگائی ہوئی تہمت کا اثر باقی رہتا اور جب خود بادشاہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) پر لگائی ہوئی تہمت کی تفتیش اور تحقیق کی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بےقصور ہونا واضح ہوگیا تو اب کسی کیلیے یہ گنجائش نہ رہی کہ وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کردار پر انگلی اٹھاتا۔

(٢) جو شخص بارہ یا چودہ سال قیدخانہ میں رہا ہو پھر اس کو قیدخانہ سے نکلنے کا موقع ملے تو وہ رہائی کی طرف جھپٹ پڑتا ہے اور جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے قیدخانے سے نکلنے میں توقف کیا تو معلوم ہوگیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) انتہائی دانش مند، محتاط اور بہت صابر ہیں اور ایسے شخص کے متلعق یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ وہ ہر قسم کی تہمت سے بری ہوگا اور ایسے شخص کے متعلق یہ یقین کیا جاسکے گا کہ اس پر جو اتہام لگایا جائے گا وہ جھوٹا ہوگا۔

(٣) حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بادشاہ سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ ان کے بےقصور ہونے کو ان عورتوں سے معلوم کرے ان کے بہت زیادہ پارسا اور پاک دامن ہونے کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ اگر وہ ذرا بھی اس برائی میں ملوث ہوتے تو انہیں یہ خطرہ ہوتا کہ وہ عورتیں پہلے کی طرح پھر ان پر الزام لگا دیں گی۔

(٤) جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ساقی سے یہ کہا تھا کہ بادشاہ کے سامنے میرا ذکر کرنا تو اس کہنے ہی کی وجہ سے ان کو سات سال یا نو سال مزید قید میں رہنا پڑا اور جب بادشاہ نے ان کو بلایا تو انہوں نے اس کے بلانے کو کوئی اہمیت نہیں دی اور اس کے بلانے پر نہیں گئے بلکہ اپنے بےقصور ہونے اور اس تہمت سے بری ہونے کی کوشش کی اور ہوسکتا ہے اس سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی مراد یہ ہو کہ ان کے دل میں اب بادشاہ کے بلانے کی کوئی اہمیت نہیں اور یہ اس بات کی تلافی ہو کہ پہلے انہوں نے اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرنے کی بجائے ساقی کے توسل سے بادشاہ کے پاس پیش کرایا تھا۔ 

جیل بھرو تحریک کا عدم جواز

ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو یہ فرماتا تھا کہ جتنی مدت حضرت یوسف (علیہ السلام) قید میں رہے ہیں اگر اتنی مدت میں قید میں رہتا تو بادشاہ کے بلانے پر چلا جاتا، اس کا ایک معنی تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تحسین ہے اور ان کے صبر اور ضبط کی تعریف ہے اور اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ مومن اور خصوصاً نبی کے لیے قید میں رہنا کوئی اچھی بات نہیں ہے کیونکہ آزاد فضا میں اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے، حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے اور تبلیغ کرنے کے جتنے مواقع ہوتے ہیں وہ قیدخانے میں میسر نہیں ہوتے اور آپ کا مطلب یہ تھا کہ اگر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی جگہ ہوتا تو قید خانے سے باہر آکر اپنے بےقصور ہونے کو واضح کرتا او اس ارشاد سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں یہ بتانا چاہتے تھے کہ ازخود بلا اور مصیبت میں گرفتار ہونا اور اپنے آپ کو قید کے لیے پیش کرنا جائز نہیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ آج کل بعض سیاسی لیڈر جو خود گرفتاریاں پیش کرتے ہیں اور جیل بھرو تحریک چلاتے ہیں یہ جائز نہیں ہے۔ 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا تہمت لگانے والیوں کی تعیین نہ کرنا

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : بادشاہ سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے، اس میں حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ تصریح نہیں کہ عزیز مصر کی بیوی سے پوچھو حالانکہ اس معاملہ میں سب زیادہ وہ پیش پیش تھی اور آپ کو قید کر اے میں اسی کا ہاتھ تھا یہ آپ کا خلق کریم تھا کہ آپ نے اس کا صراحتاً نام نہیں لیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اس قول سے پتا چلتا ہے کہ ان عورتوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) پر الزام لگایا اور آپ پر اس برے کام کی تہمت لگائی تھی لیکن آپ نے معین کرکے کسی عورت کا نام نہیں لیا اور خصوصیت کے ساتھ کسی عورت کی شکایت نہیں کی۔ 

مصر کی عورتوں کی سازش کی وجوہ

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : میرا رب ان کی سازش کو خوب جاننے والا ہو، ان کی سازش کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) ان عورتوں میں سے ہر ایک عورت حضرت یوسف (علیہ السلام) سے اپنی خواہش پوری کرنی چاہتی تھی اور جب وہ اپنے مقصد میں ناکام ہوگئی تو اس سے انتقاماً حضرت یوسف (علیہ السلام) پر برائی کی تہمت لگائی۔

(٢) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان میں سے ہر عورت یوسف (علیہ السلام) کو اس پر آمادہ اور تیار کرتی رہی ہو کہ وہ ان کی مالکہ یعنی عزیز مصر کی بیوی کی خواہش پوری کریں اور حضرت یوسف (علیہ السلام) اس کو نہیں مانتے تھے اولاً اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی تھی، ثانیا اس لیے کہ ہر شریف انسان اور نیک فطرت شخص اس قسم کی برائی اور بےحیائی سے دور رہتا ہے اور ثالثاً اس لیے کہ عزیز مصر کے حضرت یوسف (علیہ السلام) پر بہت دنیاوی احسان تھے اس نے آپ کی بہت اچھی طرح پرورش کی تھی، رابعاً اس لیے کہ عزیز مصر کی بیوی نے عزیز مصر سے یہ کہہ کر آپ کو اپنے پاس رکھا تھا کہ میں اس کو بیٹا بنائوں گی تو جس عورت کو کوئی شخص بچپن سے ماں کا قائم مقام سمجھتا رہا ہو وہ جو ان ہونے کے بعد اس کے متعلق ایسا کب سوچ سکتا ہے یہ تو عام آدمی سے بھی متصر نہیں ہے چہ جائیکہ اللہ کے نبی سے، ان وجوہات کی بناء پر حضرت یوسف (علیہ السلام) عزیز مصر کی بیوی کے متعلق ان عورتوں کی سفارش کو سختی کے ساتھ رد کرتے رہے۔

(٣) وہ سب عورتیں جب اپنے مقصد میں ناکام اور نامراد ہوگئیں تو ان سب عورتوں نے مل کر عزیز مصر کے سامنے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی کردار کشی کی آپ پر الزام لگایا اور بری تہمت لگائی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 50