أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ الۡمَلِكُ اِنِّىۡۤ اَرٰى سَبۡعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ وَّسَبۡعَ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّاُخَرَ يٰبِسٰتٍ‌ؕ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ اَفۡتُوۡنِىۡ فِىۡ رُءۡيَاىَ اِنۡ كُنۡتُمۡ لِلرُّءۡيَا تَعۡبُرُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور بادشاہ نے کہا میں نے خواب میں دیکھا کہ سات فربہ گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور میں نے سات سرسبز خوشے دیکھے اور (سات) سوکھے ہوئے (خوشے دیکھے) اے میرے درباریو ! میرے اس خواب کی تعبیر بتائو اگر تم خواب کی تعبیر بتاسکتے ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بادشاہ نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ سات فربہ گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور میں نے سات سرسبز خوشے دیکھے اور (سات) سوکھے ہوئے (خوشے دیکھے) اے میرے درباریو ! میرے اس خواب کی تعبیر بتائو اگر تم خواب کی تعبیر بتاسکتے ہو۔ (یوسف : ٤٣) 

مصر کے بادشاہ کا خواب دیکھنا

جب اللہ تعالیٰ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اس کے اسباب مہیا فرما دیتا ہے جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رہائی اور کشادگی کے دن قریب آگئے تو مصر کے بادشاہ نے یہ خواب دیکھا۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) حضرت یوسف کے پاس آئے ان کو سلام کیا اور ان کو کشادگی کی بشارت دی اور کہا کہ اللہ عزوجل آپ کو قیدخانہ سے نکالنے والا ہے اور آپ کو اس زمین کا اقتدار عطا کرنے والا ہے اس زمین کے بادشاہ آپ کے تابع ہوجائیں گے اور سردار آپ کی اطاعت کریں گے اور اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے بھائیوں پر غلبہ عطا فرمائے گا اور اس کا سبب یہ ہوگا کہ بادشاہ ایسا خواب دیکھے گا اور اس کی ایسی ایسی تعبیر ہوگی پھر کچھ زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ بادشاہ نے وہ خواب دیکھا جس کے نتیجہ میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو رہائی مل گئی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو پہلا خواب دیکھا تھا وہ ان کے لیے سختی اور مصیبت کا سبب بن گیا تھا اور بادشاہ کا یہ خواب ان کے لیے کشادگی اور رحمت کا سبب بن گیا۔

مصر کے بادشاہ الریان بن الولید نے خواب دیکھا کہ دریا سے سات موٹی تازی گائیں نکلیں اور ان کے پیچھے سات دبلی گائیں نکلیں انہوں نے ان موٹی تازی گایوں کو کان سے پکڑا اور کھا گئیں اور اس نے سات سرسبز خوشے دیکھے اور سات سوکھے ہوئے خوشے دیکھے ان سوکھے ہوئے خوشوں نے ان سرسبز خوشوں کو کھالیا اور ان میں سے کچھ باقی نہیں بچا اور سوکھے ہوئے خوشے اسی طرح سوکھے رہے اسی طرح دبلی گایوں نے موٹی گایوں کو کھالیا تھا اور وہ اسی طرح دبلی کی دبلی رہیں۔ یہ خواب دیکھ کر بادشاہ گھبرا گیا اس نے لوگوں کو اہل علم کو، کاہنوں کو، نجومیوں کو، جادوگروں کو اور سرداروں کو بلایا اور ان کے سامنے یہ خواب بیان کر کے کہا : اگر تم خواب کی تعبیر بتاسکتے ہو تو مجھے اس خواب کی تعبیر بتائو۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٩، ص ٧٤، زاد المسیر ج ٤، ص ٢٢٩ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 43