أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ لِلَّذِىۡ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنۡهُمَا اذۡكُرۡنِىۡ عِنۡدَ رَبِّكَ فَاَنۡسٰٮهُ الشَّيۡطٰنُ ذِكۡرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِى السِّجۡنِ بِضۡعَ سِنِيۡنَ  ۞

ترجمہ:

اور جس کے متعلق یوسف کا گمان تھا کہ وہ ان دونوں میں سے نجات پانے والا ہے اس سے انہوں نے کہا تم اپنے آقا کے سامنے میرا ذکر نا، پس شیطان نے ان کو اپنے رب سے ذکر کرنا بھلا دیا پس وہ قیدخانے میں (مزید) کئی سال ٹھہرے رہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جس کے متعلق یوسف کا گمان تھا کہ وہ ان دونوں میں سے نجات پانے والا ہے اس سے انہوں نے کہا تم اپنے آقا کے سامنے میرا ذکر کرنا، پس شیطان نے ان کو اپنے رب سے ذکر کرنا بھلا دیا پس وہ قیدخانہ میں (مزید) کئی سال ٹھہرے رہے۔ (یوسف : ٤٢) 

خواب کی تعبیر کے متعلق

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ظن کی توجیہ اس جگہ یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو وحی کے ذریعہ معلوم تھا کہ ساقی کی نجات ہوگی تو اللہ تالیٰ نے یہ کس طرح فرمایا کہ جس کے متعلق یوسف کو ظن تھا کہ اس کی نجات ہوگی اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید کی بکثرت آیات میں ظن بہ معنی یقین بھی مستعمل ہے جیسا کہ ان آیتوں میں ہے : الذین یظنون انھم ملقوا ربھم۔ (البقرہ : ٤٦) جو لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ انی ظننت انی ملق حسابیہ۔ (الحاقہ : ٢٠) مجھے یہ یقین تھا کہ میں اپنے حساب سے ضرور ملاقات کرنے والا ہوں۔ 

شیطان کے بھلانے کے متعلق دو تفسیریں

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ساقی سے کہا جس کے متعلق حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یقین تھا کہ وہ قید خانہ سے نکل کر بادشاہ کی خدمت میں پہنچنے والا ہے کہ تم اپنے آقا کے سامنے میرا ذکر کرنا، اس کا معنی یہ ہے کہ تم بادشاہ کو یہ بتانا کہ میں اپنے بھائیوں کی طرف سے پہلے ہی مظلوم تھا انہوں نے مجھے گھر سے نکال کر فروخت کردیا پھر مجھ پر اس واقعہ کی وجہ سے ظلم ہوا اور مجھ پر تہمت لگا کر مجھے قید کردیا گیا۔ اس کے بعد فرمایا : پس شیطان نے ان کو اپنے رب سے ذکر کرنا بھلا دیا۔ اس آیت کی دو تفسیریں ہیں۔ امام ابن اسحاق نے کہا : بادشاہ کے سامنے ذکر کرنا شیطان نے ساقی کو بھلا دیا۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٤٧٨٢)

لیکن اس پر یہ اعتراض ہے کہ قرآن مجید کے الفاظ اس تفسیر کی موافقت نہیں کرتے۔ اس صورت میں آیت یوں ہونا چاہیے تھی : فانسہ الشیاطن ذکرہ لربہ پس ساقی کو شیطان نے اس کے آقا سے یوسف کا ذکر کرنا بھلا دیا “ جبکہ آیت کے الفاظ اس طرح ہیں فانسہ الشیان ذکر ربہ ” پس یوسف کو شیطان نے اپنے ریس سے ذکر کرنا بھلا دیا۔ اس پر یہ اعتراض ہے کہ شیطان کے لیے وسوسہ ڈالنا تو ممکن ہے لیکن نسیان طاری کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ نسیان کا معنی ہے دل سے علم کو زائل کردینا اور اس پر شیطان کو قدرت نہیں ہے ورنہ وہ تمام بنوآدم کے دلوں سے اللہ تعالیٰ کی معرفت کو زائل کردیتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ شیطان انسان کے دل میں مختلف چیزوں کے وسوسے ڈالتا ہے اور کسی چیز کے وسوسے ڈال کر کسی اور چیز سے اس کا دھیان ہٹا دیتا ہے شیطان نے کئی چیزوں کی طرف حضرت یوسف (علیہ السلام) کو متوجہ کیا حتیٰ کہ ان میں الجھ کر حضرت یوسف (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے عرض اور التجا کرنا بھول گئے اور انہوں نے ساقی سے کہا : تم بادشاہ کے سامنے میرا ذکر کرنا کہ مجھے ظلماً قید کیا گیا ہے تاکہ میری رہائی کا سبب ہوجائے اس معنی کی تائد میں حسب ذیل روایات ہیں : 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بھلانے کے متعلق روایت

امام محمد جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو بات حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہی تھی اگر وہ نہ کہتے تو اتنی مدت تک قید میں نہ رہتے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٤٧٧٧)

حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ حضرت یوسف (علیہ السلام) پر رحم فرمائے اگر ان کی وہ بات نہ ہوتی تو وہ اتنی مدت تک قید میں نہ رہتے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٤٧٧٨، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١١٦٣٥)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر یوسف وہ بات نہ کہتے تو اتنی مدت تک قید میں نہ رہتے یعنی انہوں نے غیر اللہ سے رہائی کو طلب کیا تھا۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٤٧٧٩)

قتادہ کہتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر یوسف بادشاہ کے پاس شفاعت کو طلب نہ کرتے تو اتنی مدت تک قید میں نہ رہتے یعنی انہوں نے غیر اللہ سے رہائی کو طلب کیا تھا۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٤٧٧٩)

قتادہ کہتے ہیں کہ ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر یوسف بادشاہ کے پاس شفاعت کو طلب نہ کرتے تو اتنی مدت تک قید میں نہ رہتے لیکن ان پر اس لیے عتاب کیا گیا کہ انہوں بادشاہ کے پاس شفاعت کو طلب کیا تھا۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٤٧٨٠)

مجاہد اور ابوحذیفہ سے بھی اسی طرح کی روایات ہیں۔ (جامع البیان جز ١٢ ص ٢٩٣۔ ٢٩١، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١١٦٣٦) 

شیطان کے بھلائے کے متعلق اختلاف مفسرین

حافظ ابن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ کا مختار یہ ہے کہ شیطان نے ساقی کو بادشاہ کے سامنے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ذکر بھلا دیا تھا اور اس سلسلہ میں عکرمہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے جو حدیث روایت کی ہے اس کو انہوں نے ضعیف قرار دیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٥٣١، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٩ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ نے بھی یہ لکھا ہے کہ شیطان نے ساقی کو بادشاہ کے سامنے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ذکر کرنا بھلا دیا تھا۔ (روح المعانی جز ١٢ ص ٣٧٢، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٧ ھ)

علامہ ابو الحسن علی بن محمد الماوردی المتوفی ٤٥٠ ھ، علامہ ابو محمد بغوی شافعی متوفی ٥١٦ ھ، امام فخر الدین محمد بن عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ اور علامہ ابو عبداللہ القرطبی المالکی المتوفی ٦٦٨ ھ کا مختار یہ ہے کہ شیطان نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے دعا اور التجا کرنا بھلا دیا۔ 

نبی کو بھلانے کی توجیہ

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد المالکی القرطبی المتوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں : اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے نسیان کی خبر دی ہو اور ہمارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ ہم ان کی طرف نسیان کی نسبت کریں۔ قرآن مجید میں ہے : ولقد عھدنا الی ادم من قبل فنسی ولم نجد لہ عزما۔ (طہ : ١١٥) اور بیشک ہم نے اس سے پہلے آدم سے عہد لیا تھا تو وہ بھول گئے اور ہم نے ان (کی معصیت) کا کوئی قصد نہیں پایا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حضرت آدم بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھول گئی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٠٧٦، اس حدیث کی سند صحیح ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں محض بشر ہوں میں اس طرح بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٠١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٧٢) (الجامع لاحکام القرآن جز ٩ ص ١٧٢، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

علامہ نظام الدین الحسن بن محمد القمی النیشابوری المتوفی ٧٦٨ ھ لکھتے ہیں : شیطان کی طرف بھلا دینے کی نسبت مجاز ہے کیونکہ بھلانے کا معنی ہے دل سے علم کو زائل کردینا اور شیاطن کو اس پر بالکل قدرت نہیں ہے ورنہ وہ بنو آدم کے دلوں سے اللہ تعالیٰ کی معرفت کو زائل کردیتا اس نے صرف دل میں وسوسے ڈالے اور دل میں ایسے خیالات ڈالے اور ایسے کاموں کی طرف دل کو متوجہ کیا جو نسیان کا سبب بن گئے۔ (غرائب القرآن اور غائب الفرقان ج ٤ ص ٩٠، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٦ ھ)

علامہ شہاب الدین احمد بن محمد خفاجی متوفی ١٠٦٩ ھ لکھتے ہیں : شیطان کا بھلانا اس کے اغوا اور گمراہ کرنے کے قبیل سے نہیں تھا بلکہ بلند مرتبہ خواص کے ترک اولیٰ کے قبیل سے تھا۔ (عنایت القاضی ج ٥ ص ٣٠٩، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٦ ھ)

علامہ شہاب الدین احمد بن محمد خفاجی ١٠٦٩ ھ لکھتے ہیں : شیطان کا بھلانا اس کے اغوا اور گمراہ کرنے کے قبیل سے نہیں تھا بلکہ بلند مرتبہ خواص کے ترک اولیٰ کے قبیل سے تھا۔ (عنایت القاضی ج ٥ ص ٣٠٩، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٧ ھ) اس آیت میں چونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھولنے کی بحث آگئی ہے اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو نمازوں میں سہو ہوا اور آپ سے جو نمازیں قضا ہوئیں اور آپ کے سہو اور نسیان کے متعقل یہاں پر تفصیلی گفتگو کرلیں۔ 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نسیان کی تحقیق

امام مالک کہتے ہیں کہ ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک میں بھولتا ہوں یا بھلا دیا جاتا ہوں تاکہ میری سنت قائم کی جائے۔

حافظ ابو عمرو یوسف بن عبداللہ بن عبدالبر مالکی متوفی ٤٦٣ ھ لکھتے ہیں : آپ کی مراد یہ ہے کہ میں اپنی امت کے لیے اس چیز کو سنت قرار دوں کہ جب ان کو سہو ہوجائے تو وہ کس طرح عمل کریں تاکہ وہ میری اقتداء کریں اور میرے فعل کی اتباع کری۔ (الاستذ کا رج ٤٠٢، مطبوعہ موسستہ الرسالہ بیروت ١٤١٣ ھ) 

سہو اور نسیان کا فرق

حافظ شہاب الدین احمد بن محمد خفا جی متوفی ١٠٦٩ ھ لکھتے ہیں : علامہ راغب اصفہانی نے کہا : غفلت کی وجہ سے کسی خطا کا سرزد ہوجانا سہو ہے اور اس کی دو قسمیں ہیں : ایک وہ سہو ہے جس میں انسان کی کوتاہی نہیں ہوتی جس میں غفلت کا سبب اس کا اختیاری فعل نہیں ہوتا دوسری وہ قسم ہے جس میں غفلت کا سبب اس کا اختیاری فعل ہوتا ہے مثلاً کوئی شخص نشہ آور چیز کھائے پھر بلا قصد کوئی برا کام یا گناہ کرے اور یہ سہو مذموم ہے۔ قرآن مجید میں ہے : الذین ھم عن صلاتھم ساھون۔ (الماعون : ٥) وہ لوگ جو اپنی نمازوں سے غفلت کرتے ہیں۔ یہاں سہو سے وہی سہو مرا د ہے جس میں غفلت کا سبب اختیاری ہو مثلاً کوئی شخص نماز کے وقت سے تھوڑی دیر پہلے سو جائے نماز کا وقت گزر جائے اور اس کی آنکھ نہ کھلے اور سہو کی پہلی قسم کی مثال وہ ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نمازوں میں اکثر واقع ہوا علامہ خفاجی کہتے ہیں کہ میں یہ کہتا ہوں کہ سہو اور نسیان میں فرق یہ ہے کہ جو چیز قوت حافظہ میں ہو اس سے معمولی غفلت ہو اور ادنیٰ تنبیہہ سے اس کا ذہن اس چیز کی طرف متوجہ ہوجائے تو یہ سہو ہے اور جو چیز حافظہ سے بالکلیہ زائل ہوجائے تو یہ نسیان ہے، اسی وجہ سے اطباء نسیان کو بیماری قرار دیتے ہیں نہ کہ سہو کو۔ (نسیم الریاض ج ٤ ص ١٦١، مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

افعال تبلیغیہ میں سہو اور نسیان کا جواز اور اقوال تبلیغیہ میں سہو اور نسیان کا عدم جواز

قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی متوفی ٥٤٤ ھ لکھتے ہیں : اکثر فقہاء اور متکلمین کا یہ مذہب ہے کہ افعال تبلیغیہ اور اعمال شرعیہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بلا قصد اور سہواً مخالفت کا واقع ہونا جائز ہے جیسا کہ نماز میں آپ کے سہو سے متعلق احادیث ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٠١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٧٢) اور اقوال تبلیغیہ میں آپ سے سہو کا واقع ہونا جائز نہیں ہے کیونکہ اقوال میں آپ کے صدق پر معجزہ قائم ہے اور اس میں مخالفت کا واقع ہونا معجزہ کے خلف ہے اور افعال میں سہو کا واقع ہونا معجزہ کے خلاف نہیں ہے اور نہ نبوت میں طعن اور اعتراض کا موجب ہے بلکہ یہ دل پر غفلت طاری ہونے اور فعل میں غلطی واقع ہونے کے قبیل سے ہے جو کہ بشری تقاضا ہے اس لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں صرف بشر ہوں (یعنی خدا نہیں ہوں) اور جس طرح تم بھولتے ہو اسی طرح میں بھی بھول جاتا ہوں پس جب میں بھول جائوں تو تم مجھے یاد دلایا کرو۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٧٢) بلکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حق میں سہو اور نسیان کا طاری ہونا علم کا فیضان کرنے اور شریعت کو مقرر کرنے کا سبب ہے جیسا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود فرمایا : میں اس لیے بھولتا ہوں یا بھلا دیا جاتا ہوں کہ میں کسی فعل کو سنت کروں بلکہ یہ بھی مروی ہے کہ میں بھولتا نہیں ہوں لیکن میں بھلا دیا جاتا ہوں۔ بلکہ سہو اور نسیان کی حالت، تبلیغ میں اضافہ ہے اور نعمت کو مکمل کرنا ہے اور نقص اور اعتراض سے بہت دور ہے کیونکہ جو علماء نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سہو کے قائل ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ رسولوں کو سہو اور غلطی برقرار نہیں رکھا جاتا بلکہ ان کو فوراً تنبیہہ کردی جاتی ہے اور وہ فی الفور صحیح حکم کو پہچان لیتے ہیں اور صوفیہ کی ایک جماعت کا یہ مسلک ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سہو، نسیان اور غفلت کا طاری ہونا بالکل جائز نہیں ہے اور جن احادیث میں نماز میں سہو واقع ہونے کا ذکر ہے ان کی انہوں نے اپنے طور پر تشریح کی ہے۔ (الشفاء ج ١ ص ١٣٢۔ ١٣١، مطبوعہ دار الفکر بیروت ١٤١٥ ھ) 

بھولنے اور بھلائے جانے کے دو محمل

علامہ ابو الولید سلیمان بن خلف باجی مالکی متوفی ٤٩٤ ھ لکھتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں بھولتا ہوں یا بھلا دیا جاتا ہوں تاکہ اس فعل کو میں سنت بنا دوں۔ اس حدیث میں دو احتمال ہیں : ایک یہ کہ میں بیداری میں بھولتا ہوں اور نیند میں بھلا دیا جاتا ہوں کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دل نہیں سوتا تھا اگرچہ نماز یا کسی اور کام کے وقت آپ کو نیند ہوتی تھی آپ نے بیداری میں بھولنے کی نسبت اپنی طرف کی کیونکہ اس وقت میں آپ لوگوں کے ساتھ معاملات میں مشغول ہوتے تھے اور نیند کی حالت میں آپ نے اپنے بھولنے کی نسبت اپنے غیر کی طرف کی کیونکہ اس حال میں آپ کی لوگوں کے سات مشغولیت نہیں ہوتی تھی اور اس میں دوسرا احتمال یہ ہے کہ میں اس طرح بھولتا ہوں جس طرح نسیان میں کسی چیز سے سہو اور ذہول ہوتا ہے اور اس سے توجہ ہٹ جاتی ہے یا کسی چیز کو یاد ہونے اور اس کی طرف متوجہ ہونے کے باوجود میں اس کو بھول جاتا ہوں پس آپ نے بھولنے کی ایک صورت کو اپنی طرف منسوب کیا اور دوسری صورت کو اپنے غیر کی طرف منسوب کیا کیونکہ ایک صورت میں کسی سبب سے بھولنا ہے اور دوسری صورت میں بغیر کسی سبب کے اضطراری طور پر بھولنا ہے۔ (المنتقی ج ١ ص ١٨٢، دارالکتاب العربی بیروت، تنویر الحوالک ص ١١٩، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٨ ھ) 

لیلتہ التعریس میں نما زفجر قضا ہونے کی تحقیق

حضرت ابوقتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم (خیبر سے واپسی کے موقع پر) ایک رات کو سفر کر رہے تھے بعض صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! اگر ہم رات کے آکری حصہ میں یہاں قیام کرلیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے یہ خطرہ ہے کہ تم سوتے رہو گے اور فجر کی نماز کے لیے نہیں اٹھ سکو گے۔ حضرت بلال (رض) نے کہا : میں آپ سب کو بیدار کردوں گا پس وہ سب لیٹ گئے اور حضرت بلال نے اپنی سواری سے ٹیک لگالی ان پر نیند کا غلبہ ہوا اور وہ سوگئے۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے تو سورج کی بھوں طلوع ہوچکی تھی آپ نے فرمایا : اے بلال ! تم نے جو کہا تھا اس کا کیا ہوا ؟ حضرت بلال نے کہا : آج سے پہلے مجھے کبھی اتنی نیند نہیں آئی تھی۔ آپ نے فرمایا : اللہ جب چاہتا ہے تمہاری روحوں کو قبض کرلیتا ہے اور جب جاہتا ہے تمہیں وہ روحیں لوٹا دیتا ہے آپ نے فرمایا : اے بلال ! تم لوگوں کے درمیان کھڑے ہو کر اذان دو پھر آپ نے وضو کیا اور جب سورج بلند ہو کر سفید ہوگیا تو آپ نے کھڑے ہو کر نماز پڑھائی۔ امام مسلم کی روایت میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نما زپڑھانے کے بعد فرمایا : جو شخص نماز کو بھول جائے تو اس کو جب یاد آجائے تو وہ نماز پڑھ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : مجھے یاد کرنے کے لیے نماز پڑھو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٨٠)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : اے عائشہ ! میری آنکھیں سوجاتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١١٤٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٨٠، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٣٥، سنن النسائی رقم الحدیث : ٦٢٣، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٦٩٧، موطا امام مالک رقم الحدیث : ٢٦، ٢٥)

علامہ نووی نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ آپ کا دل یاد الٰہی میں بیدار تھا لیکن فجر کے وقت کو دیکھنے کا تعلق آنکھوں سے ہے اور آنکھیں نیند میں تھیں، یعنی قلب جو معقولات اور انوار و تجلیات کا منبع اور مرکز ہے وہ بیدار تھا اور محسوسات اور مبصرات کے ادراک کا تعلق آنکھوں سے ہے وہ محو خواب تھیں

اور علامہ عینی اس کے جواب میں لکھتے ہیں کہ غالب احوال میں دل جاگتا رہتا تھا لیکن کبھی کبھی آپ پر عام انسانوں کی طرح ایسی نیند وارد ہوتی تھی جس میں دل بھی محو خواب ہوتا تھا اور یہ واقعہ ایسے ہی احولا میں سے ہے کیونکہ اس موقع پر آپ نے فرمایا تھا : اللہ نے ہمارے روحیں قبض کرلی تھیں اور ایک حدیث میں فرمایا : اگر اللہ چاہتا تو ہمیں بیدار کردیتا۔ (موطا امام مالک رقم الحدیث : ٢٦)

تیسرا جواب یہ ہے کہ دل جاگنے کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ کی آنکھیں سوتی تھیں تو نیند قلب پر مستغرق نہیں ہوتی تھی حتی ٰکہ وضو ٹوت جائے کیونکہ حضرت ابن عباس (رض) روایت کرتے ہیں کہ آپ سو جاتے تھے لوگ آپ کے خراٹے سنتے تھے اس کے بعد آپ حضرت بلال کی اذان سن پر بغیر وضو کے نماز پڑھانے چل جاتے تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١١٧، ٦٣٧٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٦٣)

چوتھا جواب یہ ہے کہ دل اس لیے جاگتا رہتا ہے کہ نیند میں بھی آپ پر وحی نازل ہوتی ہے اور انبیاء کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں لہٰذا دل کی بیداری کا معاملہ صرف وحی ربانی سے رابطہ ہے، فجر کے طلوع اور عدم طلوع سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس موقع پر جو نماز قضا ہوئی وہ ظاہر کے اعتبار سے ادا ہے کیونکہ آپ کا کوئی فعل اتباع وحی کے بغیر نہیں ہوتا اور اس موقع پر آپ کو اسی وقت میں فجر کی نماز پڑھنے کا حکم تھا تاکہ امت کے لیے آپ کی زندگی میں قضا نماز پڑھنے کا اسوہ اور نمونہ قائم ہو لطف کی بات یہ ہے کہ جب ہم ادا نماز پڑھتے ہیں تو عام طور پر ہمارا دل دنیا میں مشغول ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہوتا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جس حال میں نماز بظاہر قضا تھی اس وقت بھی آپ کا دل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر اور مستغرق تھا سو جن کی قضا کی یہ کیفیت ہے ان کی ادا کا کیا عالم ہوگا۔ 

غزوہ خندق میں نمازیں قضا ہونے کی تحقیق

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ غزوہ خندق کے دن حضرت عمر بن الخطاب (رض) غروب آفتاب کے بعد آئے اور انہوں نے کفار قریش کو برا کہنا شروع کردیا، انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! سورج غروب ہوگیا اور میں عصر کی نماز نہیں پڑھ سکا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نے بھی عصر کی نماز نہیں پڑھی پھر ہم وادی بطحان میں کھڑے ہوئے آپ نے نماز کے لیے وضو کیا اور ہم نے بھی نماز کے لیے وضو کیا پھر آپ نے غروب آفتاب کے بعد پہلے عصر کی نماز پڑھی پھر اس کے بعد آپ نے مغرب کی نماز پڑھی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٩٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٣١، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٨٠، سنن النسائی رقم الحدیث : ١٣٦٥، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ٩٩٥، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٢٨٨٩، شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٩٦)

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں : موطا امام مالک میں سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ آپ سے اس دن ظہر اور عصر کی نماز قضا ہوگئی تھیں۔ (موطا امام مالک رقم الحدیث : ٤٤٣)

اور حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ آپ سے اس دن ظہر، عصر اور مغرب کی نمازیں قضا ہوگئی تھیں جو انہوں نے رات شروع ہوجانے کے بعد پڑھیں۔ (سنن نسائی رقم الحدیث : ٦٦٠)

اور سنن ترمذی اور سنن نسائی میں یہ روایت ہے کہ ان کی چار نمازیں قضا ہوگئی تھیں۔ قاضی ابوبکر ابن العربی نے کہا کہ ان کی صرف عصر کی نماز قضا ہوئی تھی جیسا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے اور بعض علماء نے ان روایات میں تطبیق دی ہے کہ خندق کی جنگ کئی دنوں تک ہوتی رہی ہے اور نمازوں کے قضا ہونے کے واقعات کئی دنوں کے ہیں، کسی دن صرف عصر کی نماز قضا ہوئی جیسا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے۔ (صحیح البخاری : ٥٩٦، مسلم : ٦٣١) اور کسی دن ظہر اور عصر کی دو نمازیں قضا ہوئیں جیسا کہ موطا میں ہے (موطا : ٤٤٣) اور کسی دن ظہر، عصر اور مغرب کی تین نمازیں قضا ہوئیں جیسا کہ سنن نسائی میں ہے۔ (نسائی : ٦٦٠) اس کو ہم عنقریب ذکر کریں گے اور کسی دن چار نمازیں قضا ہوئیں جیسا کہ درج ذیل روایت میں ہے : (فتح الباری ج ٢ ص ٧٠۔ ٦٩، مطبوعہ لاہور)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ مشرکین نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنگ خندق کے دن چار نمازیں پڑھنے سے مشغول رکھا، حتیٰ کہ رات کا جتنا حصہ اللہ تعالیٰ نے چاہا گزر گیا پھر آپ نے حضرت بلال کو اذان دینے کا حکم دیا تو انہوں نے اذان دی پھر اقامت کہی پھر آپ نے ظہر پڑھی پھر اقامت کہی تو آپ نے عصر پڑھی پھر اقامت کہی تو آپ نے مغرب پڑھی پھر اقامت کہی تو آپ نے عشاء پڑھی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٧٩، سنن النسائی رقم الحدیث : ٦٦٢، سنن ابودائود الطیالسی رقم الحدیث : ٣٣٣، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٢ ص ٧٠، مسند احمد ج ١ ص ٣٧٥، سنن کبریٰ للبیہقی ج ١ ص ٤٠٣، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٢٦٢٨، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ١٢٣٠) 

غزوہ خندق میں نماز قضا ہونے کا سبب

علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ خندق کے دن جو نمازوں کو موخر فرمایا تھا آیا یہ نسیاناً موخر فرمایا تھا یا عمداً ایک قول یہ ہے کہ آپ نے ان نمازوں کو نسیاناً موخر فرمایا تھا اور اس کی دلیل یہ حدیث ہے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ احزاب کے دن مغرب کی نماز پڑھی پھر نماز سے فارغ ہو کر فرمایا : کیا تم میں سے کسی کو علم ہے کہ میں نے عصر کی نماز پڑھی ہے ؟ صحابہ نے کہا نہیں یا رسول اللہ ! آپ نے عصر کی نماز نہیں پڑھی تب آپ نے موذن کو حکم دیا اس نے اقامت کہی تو آپ نے عصر کی نماز پڑھی اور مغرب کی نماز دہرائی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ آپ نے یہ نمازیں عمداً ترک کی تھیں لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین نے مسلمانوں کو لڑائی میں مسلسل مشغول رکھا اور انہوں نے مسلمانوں کو نماز پڑھنے کی مہلت نہیں دی۔ 

جہاد میں مشغول ہونے کی وجہ سے آیا اب نماز قضا کی جاسکتی ہے

اگر یہ سوال کیا جائے کہ آیا اب دشمن کے ساتھ لڑائی میں مشغول ہونے کی وجہ سے نماز کو موخر کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اب نماز کو اس وقت سے موخر کر کے پڑھنا جائز نہیں ہے، بلکہ اب صلوٰۃ خوف پڑھی جائے یعنی ایک جماعت دشمن کے سامنے کھڑی رہے اور دوسری جماعت نماز پڑھے اور غزوہ خندق میں اشتغال کی وجہ سے تاخیر کا عذر تھا کیونکہ اس وقت تک صلوٰۃ خوف نازل نہیں ہوئی تھی۔ (عمدۃ القاری ج ٥ ص ٩١، مطبوعہ ادارۃ الطباعتہ المنیریہ مصر، ١٣٤٨ ھ)

علامہ بدر الدین عینی نے جو کہا ہے کہ غزوہ خندق کے وقت تک صلوٰۃ خوف نازل نہیں ہوئی تھی اس کی دلیل یہ حدیث ہے : حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ مشرکین نے جنگ خندق کے دن ہمیں نمازوں سے مشغول رکھا۔ نماز ظہر سے غروب آفتاب تک، اس وقت نماز خوف کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے جس میں اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی : وکفی باللہ المومنین القتال۔ (الاحزاب : ٢٥) اور اللہ نے مومنین کو قتال سے کفایت فرما دی۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی اور آپ نے اس طرح ظہر کی نماز پڑھی جس طرح اپنے وقت میں ظہر پڑھتے تھے، پھر انہوں نے عصر کی اقامت کی اور آپ نے اس طرح عصر کی نماز پڑھی جس طرح اپنے وقت میں عصر پڑھتے تھے، پھر انہوں نے مغرب کی اذان دی تو آپ نے اس طرح مغرب کی نماز پڑھی جس طرح اپنے وقت میں مغرب پڑھتے تھے۔ (سنن النسائی رقم الحدیث : ٦٦٠، مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت ١٤١٢ ھ)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ خندق کے موقع پر چار نمازیں موخر کیں تھیں اس میں یہ حکمت بھی تھی کہ امت کو یہ مسئلہ بتایا جائے کہ جو شخص صاحب ترتیب ہو (یعنی جس شخص کی بلوغت کے بعد پانچ یا اس سے زائد نمازیں چھوٹی ہوئی نہ ہوں) وہ اس وقت تک ادا نماز نہیں پڑھے گا جب تک کہ اپنی قضا نماز نہ پڑھ لے جیسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے ظہر، عصر اور مغرب کی نمازیں پڑھیں، پھر عشاء کی نماز پڑھی۔ 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نمازوں میں سہو کی تحقیق

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو نمازوں میں سہو لاحق ہوا اس کے متعلق تین حدیثیں ہیں :

ایک حضرت ذوالیدین کی حدیث ہے کہ ظہر یا عصر کی نماز میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعت کے بعد سلام پھیر دیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٨٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٧٣، سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٠٠٨)

دوسری حدیث حضرت ابن بحینہ (رض) کی ہے کہ آپ نے ظہر کی نماز میں دو رکعت کے بعد قعدہ اولیٰ نہیں کیا اور کھڑے ہوگئے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٨٢٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٧٤، سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٠٣٤)

تیسری حدیث حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز میں پانچ رکعات پڑھا دیں۔ (صحیح مسلم کتاب المساجد رقم الحدیث : ٩٢، الرقم الغیر المکرر ٥٧٢، الرقم المسلسل : ١٢٦٠)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان تمام صورتوں میں سجدہ سہو کیا اگر آپ کو یہ سہو واقع نہ ہوتا تو آپ کی نمازیں تو ہوجاتیں لیکن جب ہماری نمازیں تو ہوجاتیں لیکن جب ہماری نمازوں میں سہو ہوتا تو ہماری نمازیں کس کے دامن میں پناہ لیتیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس طرح تم بھول جاتے ہو اسی طرح میں بھول جاتا ہوں یہ تشبیہ نفس نسیان میں ہے ورنہ نسیان کی کیفیت میں بہت فرق ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو نماز میں بھول گئے تھے اس کی تحقیق یہ ہے کہ نماز پڑھتے وقت آپ یاد الٰہی میں اس قدر مستغرق ہوئے کہا فعال نماز سے آپ کی توجہ ہٹ گئی اور چار رکعات کے بجائے پانچ رکعات نماز پڑھا دی جبکہ ہمارا بھولنا عموماً اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ہم دنیاوی معاملات میں مستغرق ہوجاتے ہیں اور افعال نماز کی طرف توجہ نہیں رہتی، خلاصہ یہ ہے کہ ہم دنیا کی محبت میں بھولتے ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کی محبت میں بھولتے ہیں ہمارا بھولنا نقص ہے اور آپ کا بھولنا کمال ہے۔ حضرت ابوبکر نے یونہی تو نہیں کہا تھا : بالیتنی کنت سھو محمد۔ کاش میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک سہو ہی ہوجاتا۔ (مکتوبات دفتر اول حصہ پنجم ص ١٦١) 

اولیٰ اور افضل یہ ہے کہ مصائب اور مشکلات میں صرف اللہ سے مدد طلب کی جائے

ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ اس آیت کے دو محمل ہیں : ایک یہ کہ شیطان نے ساقی کو بادشاہ کے سامنے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ذکر کرنا بھلا دیا اور دوسرا یہ کہ شیطان نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ کا ذکر کرنا بھلا دیا اور یہ اسناد مجازی ہے بھلانے والا تو اللہ تعالیٰ ہے لیکن شیطان اس کا سبب بنا اس نے آپ کا ذہن اپنی پریشانیوں اور دوسرے عوارض کی طرف متوجہ کردیا اور آپ اللہ تعالیٰ سے دعا اور التجا کرنا بھول گئے اور آپ نے ساقی سے کہا کہ تم بادشاہ کے سامنے میری مظلویت کا ذکر کرنا۔ امام فخر الدین رازی اور بعض دوسرے مفسرین نے اسی تقریر کو اختیار کیا ہے اور قرآن مجید کے ظاہر الفاظ اور احادیث اور آثار بھی اسی تقریر کے موید ہیں۔ امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : اجھا یہ تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنی مظلومیت میں مخلوق میں سے کسی شخص کی طرف رجوع نہ کرتے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے سامنے اپنی حاجت پیش نہ کرتے اور اپنے جد کریم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اقتداء کرتے کیونکہ جب ان کو منجنیق میں رکھ کر آگ میں ڈالنے لگے تو آپ کے پاس حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور کہا : کیا آپ کو کوئی حاجت ہے ؟ آپ نے کہا : تمہاری طرف کوئی حاجت نہیں ہے اور چونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی حاجت اس ساقی کے سامنے پیش کی اور اس سے کہا کہ تم بادشاہ سے میرا ذکر کرنا اور مخلوق سے مدد مانگنا ہرچند کہ ناجائز نہیں ہے لیکن یہ چیز حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پیغمبرانہ شان کے خلاف تھی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جس توحید کے وارث تھے اس کے مناسب نہ تھی اس لیے ان پر عتاب کیا گیا اور وہ مزید دو سال قید میں رکھے گئے۔ امام رازی فرماتے ہیں : میری عمر اب ستاون سال کی ہوگئی اور میری پوری زندگی کا یہ تجربہ ہے کہ انسان جب بھی اپنے کسی معاملہ کو غیر اللہ کے سپرد کرتا ہے اور اپنے کسی کام میں غیر اللہ پر اعتماد کرتا ہے تو وہ کسی آزمائش اور امتحان میں مبتلا ہوجاتا ہے اور کسی مصیبت اور بلا میں گرفتار ہوجاتا ہے اور انسان جب اللہ پر اعتماد کرتا ہے اور مخلوق میں سے کسی طرف رجوع نہیں کرتا تو اس کا مطلوب اور مقصود نہایت عمدہ طریقہ سے پورا ہوجاتا ہے اور اب میرے دل میں یہ بات جاگزیں ہوچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان کے سوا کسی اور پر اعتماد کرنا اور اپنی حاجات ور مہمات میں اللہ تعالیٰ کے غیر کی طرف رجوع کرنا کوئی اچھا کام نہیں ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٤٦٢۔ ٤٦١، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٥ ھ) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابن عباس (رض) سے فرمایا : جب تم سوال کرو تو اللہ سے سوال کرو اور جب تم مدد طلب کرو تو اللہ سے مدد طلب کرو۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٥١٦، مسند احمد ج ١ ص ٩٣، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٢٩٨٨، شعب الایمان رقم الحدیث : ١٧٤، المستدرک ج ٣ ص ٥٤١، حلیتہ الاولیاء ج ١ ص ٣١٤) 

غیراللہ سے استمداد کا جواز

علامہ محمود بم عمر زمحشری خوارزمی متوفی ٥٣٨ ھ لکھتے ہیں : اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے غیر اللہ سے جو مدد لی تھی اس پر کیوں عتاب کیا گیا جبکہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں غیر اللہ سے مدد لینا جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وتعاونوا علی البیر والتقوی۔ (المائدہ : ٢) نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس قول کی حکایت کی ہے : من انصاری الی اللہ۔ (آل عمران : ٥٢) اللہ کی طرف میرے کون مددگار ہیں ؟ اور اس سلسلہ میں حسب ذیل احادیث ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی آخرت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کر دے گا اور جو شخص کسی مسلمان کا پردہ رکھے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کا پردہ رکھے گا اور اللہ اس وقت تک اپنے بندہ کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٩٩، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٩٤٦، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٤٢٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٢٥، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٩ ص ٨٥، مسند احمد ج ٢ ص ٢٥٢، سن الدارمی رقم الحدیث : ٢٥١، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥٣٤، حلیتہ الاولیاء ج ٨ ص ١١٩، مسند الشہاب رقم الحدیث : ٤٥٨، شرح السنہ رقم الحدیث : ١٢٧)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اس پر ظلم کرے نہ اس کو ہلاکت میں ڈالے اور جو شخص اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد میں رہتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی سختی کو دور کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کی سختیوں میں سے کوئی سختی دور کردیتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کا پردہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا پردہ رکھے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٤٤٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٨٠، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٨٩٣، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٤٢٦، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٧٢٩١، مسند احمد ج ٢ ص ٩١، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٣١٣٧، السنن الکبریٰ للبیہقی ج ٦ ص ٩٤، شعب الایمان رقم الحدیث : ٧٦١٤، شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٥١٨)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ مدینہ آنے کے ابتداء ایام میں ایک رات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیند سے بیدار ہوئے تو آپ نے فرمایا : کاش میرے اصحاب میں سے کوئی نیک شخص آج رات میری حفاظت کرتا۔ پھر ہم نے ہتھیاروں کی آواز سنی، آپ نے فرمایا : یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا : میں سعد بن ابی وقاص ہوں اور آپ کی حفاظت کے لیے آیا ہوں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوگئے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٨٨٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٤١٠، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٧٥٦، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٢ ص ٨٨، مسند احمد ج ٦ ص ١٤٠، الادب المفرد رقم الحدیث : ٨٧٨، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١٦٢٢٥، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٤٨٥٦، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٩٨٦، المستدرک ج ٣ ص ٥٠١)

پھر علامہ زمخشری لکھتے ہیں کہ مخلوق میں سے کسی کام میں مدد حاصل کرنا ایسا ہی ہے جیسے مرض کے ازالہ کے لیے دوائوں کو تناول کرنا اور طاقت حاصل کرنے کے لیے کھانا پینا (یا مقویات کھانا) خواہ کافر سے مدد لی جائے کیونکہ وہ بادشاہ کافر تھا کیونکہ اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ ظلم سے بچنے کے لیے یادریا میں ڈوبے اور آگ میں جلنے سے بچنے کے لیے اور اسی طرح کی دوسری مصیبتوں میں کفار سے مدد لینا جائز ہے۔ 

مخلوق سے استمداد کی بنا پر حضرت یوسف (علیہ السلام) سے مواخذہ کی توجیہ

اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ مخلوق سے مدد لینا جائز ہے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اگر اس بادشاہ سے مدد طلب کی تھی تو ان پر عتاب کیوں کیا گیا اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح انبیاء (علیہم السلام) کو تمام مخلوق سے بلند مرتبہ عطا کیا ہے اسی طرح ان کے تمام احوال اور افعال کو بھی عام لوگوں کے احوال اور افعال سے بلند رکھا ہے اور نبی کے سوا کسی سے مدد طلب نہ کرے خصوصاً کسی کافر سے مدد طلب نہ کرے تاکہ کفار اس سے خوش نہ ہوں اور یہ نہ کہیں کہ اگر یہ نبی حق پر ہوتا اور واقعی اس کا رب واحد ہوتا تو یہ اسی سے مدد طلب کرتا اور ہم سے مدد طلب نہ کرتا۔ حسن بصری سے روایت ہے کہ جب وہ اس آیت کو پڑھتے تو بہت روتے اور یہ دعا کرتے کہ اے اللہ ! اگر ہم کسی مصیبت میں مبتلا ہوں تو ہم کو مخلوق کے سپرد نہ کرنا۔ (الکشاف ج ٢ ص ٤٤٢۔ ٤٤٥، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت ١٤١٧ ھ)

قاضی عبداللہ بن عمر بیضاوی متوفی ٦٨٥ ھ لکھتے ہیں : مصائب سے نجات حاصل کرنے کے لیے مخلوق سے استمداد اور استعانت کرنا ہرچند کہ لائق تحسین ہے لیکن انبیاء (علیہم السلام) کے شایان شان نہیں ہے۔ (انوار التنزیل مع عنایت القاضی ج ٥ ص ٣١٠، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٧ ھ)

علامہ شہاب الدین احمد بن محمد خفا جی متوفی ١٠٦٩ ھ اس کی شرح میں لکھتے ہیں : اس میں یہ اشارہ ہے کہ بادشاہ سے مدد طلب کرنے پر حضرت یوسف (علیہ السلام) پر کیوں عتاب کیا گیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وتعاونوا علی البرو التقوی (المائدہ : ٢) اور اس کی تائید میں احادیث بھی ہیں اس کا یہ جواب دیا کہ ہرچند کہ مخلوق سے استعانت قابل تعریف ہے لیکن خصوصاً انبیاء (علیہم السلام) کی شان کے لائق اس کو ترک کردینا ہے۔ (عنایت القاضی ج ٥ ص ٣١٠)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : ظلم کو دور کرنے کے لیے غیر اللہ سے مدد حاصل کرنا شریعت جائز ہے اور اس پر اعتراض نہیں ہے لیکن جو حضرات عبودیت کے سمندر میں غرق ہوتے ہیں جیسے حضرت یوسف (علیہ السلام) وہ اگر ایسا کریں تو ان پر عتاب ہوتا ہے اور جب اتنی سی بات پر حضرت یوسف (علیہ السلام) پر عتاب کیا گیا اور ان کی قید کی مدت میں سات سال اضافہ کردیا گیا کیونکہ ساقی کو سات سال بعد بادشاہ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ذکر کرنے کا خیال آیا تو اگر عزیز مصر کی بیوی کے ساتھ انہوں نے وہ کچھ کیا ہوتا جس کا بعض من گھڑت روایات میں ذکر ہے تو ان پر سخت گرفت ہوتی لیکن جب اس سلسلہ میں ان کے ساتھ کوئی تعرض نہیں کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ان روایات میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بلند کردار پر محض اتہام لگایا گیا ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٤٦٢، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

علامہ ابو الحیان محمد بن یوسف اندسلی متوفی ٧٥٤ ھ لکھتے ہیں : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ساقی سے کہا : بادشاہ سے میری مظلومیت کا ذکر کرنا یہ بتنا کہ مجھے ناحق امتحان میں ڈالا گیا ہے اور اسے میرا مرتبہ اور مقام بتانا اور مجھے جو اللہ تعالیٰ نے علم دیا ہے اس کا ذکر کرنا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بطور استعانت تنگی میں کشادگی کو طلب کرنے کے لیے کہا تھا اور ان کے نزدیک یہ ان کی قید سے رہائی کا سبب تھا جیسا کہ حضرت عیسیٰ نے کہا تھا : من انصاری الی اللہ۔ (البحر المحیط ج ٦ ص ٢٧٩، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٢ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مخلوق سے مدد طلب کرنے پر جو گرفت کی گئی اس پر یہ اشکال نہ کیا جائے کہ مصائب کو دور کرنے کے لیے بندوں سے جو مدد طلب کی جاتی ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ یہ حکم اشخاص کے اختلاف سے مختلف ہوجاتا ہے اور انبیاء (علیہم السلام) کی مناصب کے یہ لائق ہے کہ وہ مخلوق سے استعانت کو ترک کردیں اور عزیمت پر عمل کریں۔ (روح المعانی جز ١٢ ص ٣٧٣، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٧ ھ) 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قید کی مدت

امام ابو جعفر محمد بن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : قتادہ، وہب بن منبہ اور ابن جریج نے کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) سات سال قید خانے میں رہے۔ (جامع البیان جز ١٢ ص ٢٩٣، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

امام عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں : حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قید کی مدت میں تین قول ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے یہ کہا یہ مدت بارہ سال ہے

ضحاک نے کہا یہ مدت چودہ سال ہے

قتادہ نے کہا یہ مدت سات سال ہے۔ (زاد المسیر ج ٤ ص ٢٢٨، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) پر جو گرفت کی تھی اس کی وجہ سے جو قید میں اضافہ ہوا اس کی مدت سات سال یا نو سال تھی اور اس سے پہلے وہ پانچ سال قید میں رہے تھے اور قرآن مجید میں جو فرمایا ہے : پس وہ قید خانہ میں مزید چند سال رہے یہ اس عتاب کے نتیجہ میں قید کی مدت ہے نہ کہ کل قید کی مدت، اس لحاظ سے ان کی قید کی کل مدت بارہ سال یا نو سال ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٩ ص ٧٣، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 42