أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوۡسُفَ فِى الۡاَرۡضِ‌ۚ يَتَبَوَّاُ مِنۡهَا حَيۡثُ يَشَآءُ‌ ؕ نُصِيۡبُ بِرَحۡمَتِنَا مَنۡ نَّشَآءُ‌ۚ وَلَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اس طرح ہم نے یوسف کو اس ملک میں اقتدار عطا کیا وہ اس ملک میں جہاں رہنا چاہتے تھے رہتے تھے، ہم جس کو چاہتے ہیں اپنی رحمت پہنچاتے ہیں اور ہم نیکی کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس طرح ہم نے یوسف کو اس ملک میں اقتدار عطا کیا وہ اس ملک میں جہاں رہنا چاہتے تھے رہتے تھے، ہم جس کو چاہتے ہیں اپنی رحمت پہنچاتے ہیں اور ہم نیکی کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے اور جو لوگ ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے ان کے لیے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے۔ (یوسف : ٥٧۔ ٥٦) 

ایام قحط میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا حسن انتظام

جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ سے یہ طلب کیا کہ وہ ان کو اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دے تو اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کا یہ قول نقل نہیں کیا کہ میں نے ایسا کردیا بلکہ اللہ سبحانہ نے یہ فرمایا : اور اس طرح ہم نے یوسف کو اس ملک میں اقتدار عطا کیا اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس پر دلالت کرتا ہے کہ باشداہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا مطالبہ پورا کردیا تھا۔ امام رازی نے یہاں پر یہ نکتہ آفرینی کی ہے کہ بادشاہ اسی وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کا مطالبہ پورا کرسکتا تھا جب اللہ تعالیٰ بادشاہ کے دل میں اس بات کا داعیہ اور باعثہ اور محرک پیدا کرتا نیز بادشاہ اس کام کا ظاہری سبب تھا اور اللہ تعالیٰ موثر حقیقی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ظاہری سبب ذکر کرنے کے بجائے موثر حقیقی کا ذکر فرمایا۔

علامہ عبدالرحمن بن علی الجوزی الحنبلی المتوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے مصر والوں کے مال، ان کے زیورات، ان کے مویشی، ان کے زمینوں اور ان کے غلاموں کے عوض ان کے ہاتھ غلہ فروخت کیا پھر ان کی اولاد اور پھر ان کی جانوں کے عوض ان کے ہاتھ ان کو غلہ فروخت کیا حتیٰ کہ تمام مصر والے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے غلام بن گئے پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ سے کہا تم نے دیکھا اللہ تعالیٰ نے مجھے پر کیسا کرم کیا۔ بادشاہ نے کہا : ہم بھی تمہارے تابع ہیں، پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اہل مصر کو آزاد کردیا اور میں نے ان کی املاک ان کو لوٹا دیں، حضرت یوسف (علیہ السلام) ان ایام میں کبھی سیر ہو کر نہیں کھاتے تھے اور فرماتے تھے : میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ میں کسی بھوکے کو بھول جائوں۔ (زاد المسیر ج ٤، ص ٢٤٦۔ ٢٤٥، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ١٤٠٧ ھ)

امام ابو محمد الحسین بم مسعود الفراء البغوی الشافعی المتوفی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں : جب حضرت یوسف (علیہ السلام) مطمئن ہو کر ملک کا انتظام چلانے لگے اور انہوں نے بڑے بڑے گودام بنوا کر ان میں غلہ جمع کرلیا حتیٰ کہ غلہ کی فراوانی کے سات سال گزر گئے اور قحط کے ایام شروع ہوگئے اور وہ ایسا زبردست قحط تھا کہ لوگوں نے اس سے پہلے ایسا قحط نہیں دیکھا تھا، حضرت یوسف (علیہ السلام) بادشاہ اور اس کے متعلقین کو ہر روز دوپہر کے وقت کھانا بھجواتے تھے، ایک دن آدھی رات کو بادشاہ نے آواز دی : اے یوسف ! بھوک لگ رہی ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا اب قحط کا وقت آپہنچا ہے۔ پس قحط کے پہلے سال میں لوگوں نے اپنے پاس جو طعام اور غلہ جمع کرکے رکھا تھا، وہ سب ختم ہوگیا۔ پھر مصر کے لوگ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے طعام خریدنے لگے۔ پہلے سال حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سے نقد مال لے کر غلہ فروخت کیا۔ حتیٰ کہ مصر میں کسی شخص کے پاس کوئی درہم اور دینار باقی نہیں رہا۔ اور تمام نقد مال یوسف کے قبضہ میں آچکا تھا۔ دوسرے سال اہل مصر نے اپنے تمام زیورات اور جواہر کے بدلہ میں حضرت یوسف سے غلہ خریدا۔ تیسرے سال انہوں نے اپنے تمام مویشیوں اور جانوروں کے بدلہ میں غلہ خریدا۔ چوتھے سال انہوں نے اپنے تمام غلاموں اور باندیوں کے بدلہ میں غلہ خریدا۔ حتیٰ کہ ان کے پاس کوئی باندی اور غلام نہیں رہا۔ پانچویں سال انہوں نے اپنی زمینوں، کھیتوں اور گھروں کے بدلہ میں غلہ خریدا اور چھٹے سال انہوں نے اپنی اولاد کے بدلہ میں غلہ خریدا۔ حتیٰ کہ انہوں نے اپنی تمام اولاد کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا غلام بنادیا اور ساتویں سال انہوں نے اپنی جانوں اور اپنی گردنوں کے بدلہ میں غلہ خریدا حتیٰ کہ مصر میں کوئی انسان باقی نہیں رہا مگر وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا غلام تھا اور کوئی چیز باقی نہیں بچی مگر وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ملکیت میں آچکی تھی۔ اور لوگ کہنے لگے کہ ہمارے علم میں حضرت یوسف سے پہلے کوئی بڑا اور جلیل بادشاہ نہیں تھا۔ پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ سے کہا : آپ نے دیکھا اللہ تعالیٰ نے مجھے کیا کچھ عطا فرمایا ہے ! اب آپ کی کیا رائے ہے ؟ بادشاہ نے کہا : میری وہی رائے ہے جو آپ کی رائے ہے۔ تمام معاملات آپ کے سپرد ہیں۔ میں تو محض آپ کے تابع ہوں۔ حضرت یوسف نے فرمایا : میں آپ کو اور اللہ تعالیٰ کو گواہ کرکے کہتا ہوں کہ میں نے تمام اہل مصر کو آزاد کردیا۔ اور ان کی تمام املاک ان کو واپس کردیں۔ روایت ہے کہ حضرت یوسف ان ایام میں سیر ہو کر کھانا نہیں کھاتے تھے۔ ان سے کہا گیا کہ آپ مصر کے تمام خزانوں کے مالک ہیں اس کے باوجود آپ بھوکے رہتے ہیں ! آپ نے فرمایا : مجھے یہ خدشہ ہے کہ اگر میں نے سیر ہو کر کھالیا تو میں بھوکوں کا حق بھول جائوں گا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ کے باورچی کو حکم دیا کہ وہ بادشاہ کا صبح کا کھانا اسے دوپہر کو دیا کرے اور اس سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا منشاء یہ تھا کہ بادشاہ بھی بھوک کا مزہ چکھے اور بھوکوں کو یاد رکھے۔ (معالم التنزیل ج ٢، ص ٣٦٤، الجامع لاحکام القرآن جز ٩، ص ١٩١، ١٩٠، روح المعانی جز ١٣، ص ٩۔ ٨)

عزیز مصر کی بیوی سے حضرت یوسف کا نکاح

: امام ابو محمد الحسین بن مسعود البغوی المتوفی ٥١٦ ھ اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ میرے بھائی حضرت یوسف پر رحم فرمائے اگر وہ یہ نہ کہتے کہ مجھے ملک کے خزنوں پر مقرر کردو تو بادشاہ ان کو اسی وقت مقرر کردیتا۔ لیکن اس کہنے کی وجہ سے بادشاہ نے اس کام کو ایک سال موخر کردیا اور وہ ایک سال بادشاہ کے ساتھ اس کے گھر میں رہے۔ اور اسی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : ایک سال گزرنے کے بعد بادشاہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بلایا۔ ان کے سر پر تاج رکھا۔ ان کی میان میں تلوار لٹکائی اور ان کے لیے سونے کا تخت رکھا۔ جس پر یاقوت اور موتیوں سے کام کیا ہوا تھا۔ اور ان کو ریشمی حلے پہنائے (ایک قسم کے کپڑے کی دو چادروں کو حلہ کہتے ہیں۔ ایک چادر تہمند کے طور پر باندھی اور دوسرے چادر اوپر اوڑھی جائے) پھر بادشاہ نے کہا : آپ تاج پہن کر تخت پر رونق افروز ہوں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) تخت پر بیٹھ گئے اور دربار کے تمام سردار حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اطاعت گزار ہوگئے۔ بادشاہ گھر جا کر بیٹھ گیا اور مصر کے تمام معاملات حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سپرد کردیئے اور مصر کے سابق وزیر قطفیر (عزیز مصر) کو اس نے اس کے عہدے سے معزول کردیا، اور اس کے عہدہ پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو مقرر کردیا۔ امام ابن اسحاق نے بیان کیا کہ ابن زید نے کہا مصر کے بادشاہ کے بہت کثیر خزانے تھے۔ اس نے وہ تمام خزانے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سپرد کردیئے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے فرامین اور آپ کے تمام فیصلوں کو پورے ملک میں نافذالعمل قرار دیا۔ پھر انہی ایام میں قطفیر (عزیز مصر) مرگیا۔ پھر بادشاہ نے قطفیر کی بیوی راعیل (یا زلیخا) کا حضرت یوسف (علیہ السلام) سے نکاح کردیا۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) اس کے پاس خلوت میں گئے تو آپ نے اس سے فرمایا : کیا یہ اس سے بہتر نہیں جس کا تم مجھ سے پہلے ارادہ کرتی تھیں۔ اس نے کہا : اے بہت سچے انسان ! مجھے ملامت نہ کرو میں ایک حسین جوان عورت تھی، اور میرا شوہر عورت کی خواہش پوری کرنے پر قادر نہ تھا اور تم غیر معمولی حسن اور جمال کے مالک تھے۔ پس مجھ پر میرا نفس غالب آگیا اور مجھ پر میری شہوت قوی ہوگئی اور تمہارے ساتھ جو میری محبت تھی وہ میری عقل کو کنٹرول نہ کرسکی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کو کنواری پایا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اس سے دو بیٹے ہوئے : افراثیم بن یوسف اور میثا بن یوسف۔ حضرت یوسف نے مصر کے لوگوں میں عدل اور انصاف قائم کیا اور مصر کے تمام مرد اور عورتیں آپ سے محبت کرنے لگے۔ (معالم التنزل ج ٢، ص ٣٦٤۔ ٣٦٣، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٤ ھ) ۔

علامہ زمحشری متوفی ٥٣٨ ھ، امام ابن جوزی متوفی ٥٩٣ ھ، امام رازی المتوفی ٦٠٦ ھ، علامہ قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ، علامہ ابوالحیان اندلسی المتوفی ٧٥٤ ھ، حافظ ابن کثیر المتوفی ٧٧٤ ھ، علامہ آلوسی المتوفی ١٢٧٠ ھ، امام ابن جریر المتوفی ٣١٠ ھ اور امام ابن ابی حاتم المتوفی ٣٢٧ ھ نے بھی عزیز مصر کے مرنے کے بعد اس کی بیوی کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے نکاح کا ذکر کیا ہے۔ (الکشاف ج ٢، ص ٤٥٦، ٤٥٥، زادالمسیر ج ٤، ص ٢٤٤، تفسیر کبیر ج ٦، ص ٤٧٤، الجامع لاحکام القرآن، جز ٩، ص ١٨٦، البحر المحیط، ج ٦، ص ٢٩١، تفسیر ابن کثیر، ج ٢، ص ٥٣٤، روح المعانی جز ١٣، ص ٧، جامع البیان جز ١٣، ص ٩، تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٧، ص ٢١٦١، رقم الحدیث : ١١٧٢٣ ) ۔

علامہ ابوالحسین علی بن محمد ماوردی متوفی ٤٥٠ ھ نے بھی امام ابن جریر طبری کے حوالے سے یہ لکھا ہے کہ زلیخا سے حضرت یوسف کا نکاح ہوگیا تھا۔ پھر لکھا ہے کہ جن مورخین نے یہ گمان کیا ہے کہ وہ عورت زلیخا تھی انہوں نے لکھا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس سے نکاح نہیں کیا تھا اور جب زلیخا نے حضرت یوسف کو اقتدار کے زمانہ میں دیکھا تو اس نے کیا : اللہ کے لیے حمد ہے جس نے بادشاہوں کو معصیت کی وجہ سے غلام بنادیا اور غلاموں کو اطاعت کی وجہ سے بادشاہ بنادیا، تو حضرت یوسف نے اس کو اپنے گھر میں رکھ لیا اور اس کی کفالت کی حتیٰ کہ وہ مرگئی اور اس سے نکاح نہیں کیا۔ (النکت والعیون ج ٣، ص ٥٢، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) ۔

حافظ ابن کثیر نے زلیخا سے نکاح نہ کرنے کا تو نہیں لکھا لیکن نکاح کی روایت ذکر کرکے بعد لکھا ہے کہ فضیل بن عیاض نے کہا کہ ایک دن حضرت یوسف (علیہ السلام) کو راستہ میں عزیز مصر کی بیوی ملی اور اس نے یہ کہا : اللہ کی حمد ہے جس نے اطاعت کی وجہ سے غلاموں کو بادشاہ بنادیا اور معصیت کی وجہ سے بادشاہوں کو غلام بنادیا۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٢، ص ٥٣٤، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٩ ھ) ۔

علامہ قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ نے اس سلسلہ میں روایت بھی ذکر کی ہے : زلیخا بوڑھی ہوچکی تھی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے فراق میں رو رو کر نابینا ہوچکی تھی اور اپنے شوہر کے مرنے کے بعد بھیک مانگتی پھرتی تھی۔ حضرت یوسف نے اس سے نکاح کرلیا۔ حضرت یوسف نے نماز پڑھی اور اللہ سے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس کا شباب، اس کا حسن اور اس کی بینائی لوٹا دے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا شباب، اس کا حسن اور اس کی بینائی لوٹا دی۔ بلکہ وہ پہلے سے بھی زیادہ حسین ہوگئی اور اس دعا کا قبول کرنا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اکرام کی وجہ سے تھا۔ کیونکہ وہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے دور رہے تھے۔ پھر حضرت یوسف نے اس کو اس حال میں پایا کہ وہ کنوری تھی۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٩، ص ١٨٧، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ نے حکیم ترمذی کے حوالہ سے وہب بن منبہ کی نکاح کی روایت بیان کی ہے۔ اس کے بعد لکھا ہے کہ قصہ گو لوگوں کے درمیان یہ مشہور ہے کہ اس کا حسن اور شباب حضرت یوسف کی دعا اور ان کے اکرام کی وجہ سے لوٹ آیا تھا۔ لیکن اس قصہ کی کوئی اصل نہیں ہے اور حضرت یوسف کی اس کے ساتھ شادی کی جو خبر ہے وہ بھی محدثین کے نزدیک ثابت اور معتمد نہیں ہے۔ (روح المعانی، جز ١٣، ص ٧، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٧ ھ)

حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طہارت اور نزاہت پر دلائل :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور اس طرح ہم نے یوسف کو اس ملک میں اقتدار عطا کیا۔ وہ اس ملک میں جہاں رہنا چاہتے تھے رہتے تھے۔ یعنی جس طرح ہم نے یوسف پر یہ انعام کیا تھا کہ بادشاہ کے دل میں ان کی محبت ڈال دی تھی اور ان کو قید و بند کی مصیبت سے نجات عطا کی تھی۔ اسی طرح ہم نے ان پر یہ انعام کیا کہ ہم نے ان کو اس ملک میں اقتدار عطا فرمایا۔ وہ اس ملک میں بلا روک ٹوک جہاں جانا چاہتے تھے چلے جاتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر نعمت اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد فرمایا : ہم نیکی کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ شہادت ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نزدیک نیکی کرنے والوں میں سے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن روایات میں یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عزیز مصر کی بیوی کے ساتھ گناہ کے ابتدائی مراحل طے کرلیے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ یہ تمام روایات باطل اور کاذب ہیں۔ اس کے بعد فرمایا : اور جو لوگ ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے، ان کے لیے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے۔ اس آیت کا محمل یہ ہے کہ ہرچند کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) مومنین اور متقین میں سے ہیں۔ اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) گزرے ہوئے زمانے میں بھی متقی تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا تھا : ولقد ہمت بہ وھم بھا اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ اس عورت نے ان کے ساتھ گناہ کا ارادہ کیا اور انہوں نے بھی اس کے ساتھ گناہ کا ارادہ کیا۔ کیونکہ اگر یہ معنی ہوتا تو وہ اس زمانہ میں متقی نہ ہوتے۔ اس لیے لازماً اس کا یہی معنی ہے کہ اس عورت نے ان کے ساتھ گناہ کا ارادہ کیا اور انہوں نے اس سے بچنے کا ارادہ کیا۔ سو یہ آیت بھی حضرت یوسف کی نزاہت اور طہارت پر دلیل ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : انہ من عبادنا المخلصین۔ (یوسف : ٢٤) اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا کہ وہ مخلص ہیں۔ محسن ہیں اور متقی ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قوی شہادت ہے کہ کسی دور میں بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دامن کسی قسم کی بھی معصیت کی آلودگی میں ملوث نہیں رہا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 56