أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يُوۡسُفُ اَيُّهَا الصِّدِّيۡقُ اَ فۡتِنَا فِىۡ سَبۡعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ وَّسَبۡعِ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّاُخَرَ يٰبِسٰتٍ ۙ لَّعَلِّىۡۤ اَرۡجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

(اس نے یوسف کے پاس جاکر کہا) اے یوسف ! اے بہت سچ بولنے والے ! ہمیں اس خواب کی تعبیر بتائیے کہ سات فربہ گائیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سرسبز خوشے ہیں اور سات سوکھے ہوئے (خوشے ہیں) تاکہ میں لوگوں کے پاس یہ تعبیر لے کر جائوں شاید وہ آپ کا مرتبہ جان لیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اس نے یوسف کے پاس جاکر کہا) اے یوسف ! اے بہت سچ بولنے والے ! ہمیں اس خواب کی تعبیر بتائیے کہ سات فربہ گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سرسبز خوشے ہیں اور سات سوکھے ہوئے (خوشے ہیں) تاکہ میں لوگوں کے پاس یہ تعبیر لے کر جائوں شاید وہ آپ کا مرتبہ جان لیں۔ (یوسف : ٤٦) 

جس سے علم حاصل کیا جائے اس کی تعظیم اور تکریم لازم ہے

ساقی نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو صدیق کہا جس کا معنی ہے : بہت زیادہ سچ بولنے والے اور اس نے آپ کی یہ صفت اس لیے بیان کی کہ ا سنے آپ کو ہمیشہ سچ بولنے والا پایا اور اس لیے کہ آپ نے اس کو جو تعبیر بتائی تھی وہ صادق ہوئی اور اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ جو شخص کسی سے علم حاصل کرنا چاہے اس پر لازم ہے کہ وہ اس کی تعظیم کرے اور اس کو ایسے الفاظ سے مخاطب کرے جو احترام اور تکریم پر دلالت کرتے ہیں۔ ساقی نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی سامنے خواب میں وہی الفاظ ذکر کیے جو الفاظ بادشاہ نے ذکر کیے تھے اور یہ اس وجہ سے کیا کہ اگر خواب کے الفاظ میں تبدیلی کردی جائے تو یہ ہوسکتا ہے کہ اس کی تعبیر بھی بدل جائے، اس لیے ساقی نے احتیاط کی اور خواب کے بعینہٖ وہی الفاظ بیان کیے جو بادشاہ نے ذکر کیے تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 46