أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰصَاحِبَىِ السِّجۡنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَيَسۡقِىۡ رَبَّهٗ خَمۡرًا‌ۚ وَاَمَّا الۡاٰخَرُ فَيُصۡلَبُ فَتَاۡكُلُ الطَّيۡرُ مِنۡ رَّاۡسِهٖ‌ؕ قُضِىَ الۡاَمۡرُ الَّذِىۡ فِيۡهِ تَسۡتَفۡتِيٰنِؕ ۞

ترجمہ:

اے قید کے دونوں ساتھیو ! تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور رہا دوسرا تو اس کو سولی دی جائے گی پھر پرندے اس کے سر سے (گوشت نوچ کر) کھائیں گے تم جس کے متعلق سوال کرتے تھے اس کا (اسی طرح) فیصلہ ہوچکا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا) اے میری قید کے دونوں ساتھیو ! تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور رہا دوسرا تو اس کو سولی دی جائے گی پھر پرندے اس کے سر سے (گوشت نوچ کر) کھائیں گے تم جس کے متعلق سوال کرتے تھے اس کا (اسی طرح) فیصلہ ہوچکا ہے۔ (یوسف : ٤١) 

ساقی اور نانبائی کے خواب کی تعبیر

جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کے سامنے معجزہ پیش کر کے اپنی رسالت کو ثابت کردیا اور ان کو توحید کا پیغام پہنچا کر بت پرستی سے منع کردیا تو پھر ان کے سوال کے جواب میں خواب کی تعبیر بیان کی۔

ابن السائب نے بیان کیا جب ساقی نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے اپنا خواب بیان کیا اور کہا میں نے خواب دیکھا کہ میں انگور کے تین خوشوں سے شراب نچوڑ رہا ہوں تو آپ نے فرمایا : تم نے بہت اچھا خواب دیکھا ہے، تین کو شوں سے مراد تین دن ہیں، تین دن گزرنے کے بعد بادشاہ تم کو بلوائے گا اور تم کو دوبارہ تمہارے منصب پر بحال کر دے گا اور نانبائی سے فرمایا : تم نے برا خواب دیکھا ہے تم نے خواب دیکھا ہے کہ تم روٹی کی تین زنجیریں اٹھائے ہوئے ہو تین زنجیروں سے مراد تین دن ہیں، تین دن گزرنے کے بعد بادشاہ تم کو بلائے گا اور تم کو قتل کر کے سولی پر چڑھا دے گا اور تمہارے سر سے گوشت نوچ کر پرندے کھائیں گے۔ ان دونوں نے کہا : ہم نے تو کوئی خواب نہیں دیکھا تھا

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : جس چیز کے متعلق تم نے سوال کیا ہے اس کا اسی طرح فیصلہ ہوچکا ہے۔ یعنی اس معاملہ سے فراغت ہوچکی ہے خواہ تم نے سچ بولا یا جھوٹ بولا ہو عنقریب اسی طرح واقع ہوگا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے تاویل کے واقع ہونے کو حتمی اور یقینی طور پر کیوں فرمایا جبکہ خواب کی تعبیر ظنی ہوتی ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آچکی تھی اور انہوں نے وحی کے ذریعہ جان کر یہ تعبیر بتائی تھی۔ (زاد المسیر ج ٤ ص ٥٩٧، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤٠٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 41