وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِؕ-وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ(۶۱)

اور تم کسی کام میں ہو (ف۱۴۳) اور اس کی طرف سے کچھ قرآن پڑھو اور تم لوگ (ف۱۴۴) کوئی کام کرو ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں جب تم اس کو شروع کرتے ہو اور تمہارے رب سے ذرّہ بھر کوئی چیز غائب نہیں زمین میں نہ آسمان میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ اس سے بڑی کوئی چیز جو ایک روشن کتاب میں نہ ہو(ف۱۴۵)

(ف143)

اے حبیبِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔

(ف144)

اے مسلمانو !

(ف145)

کتابِ مبین سے لوحِ محفوظ مراد ہے ۔

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲)

سن لو بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم(ف۱۴۶)

(ف146)

ولی کی اصل ولاء سے ہے جو قرب و نصرت کے معنی میں ہے ۔ ولی اللہ وہ ہے جو فرائض سے قُرب الٰہی حاصل کرے او راطاعتِ الٰہی میں مشغول رہے اور اس کا دل نورِ جلالِ الہٰی کی معرِفت میں مستغرق ہو جب دیکھے دلائلِ قدرتِ الٰہی کو دیکھے اور جب سنے اللہ کی آیتیں ہی سنے اور جب بولے تو اپنے ربّ کی ثنا ہی کے ساتھ بولے اور جب حرکت کرے طاعتِ الہٰی میں حرکت کرے اور جب کوشش کرے اسی امر میں کوشش کرے جو ذریعۂ قُربِ الٰہی ہو ، اللہ کے ذکر سے نہ تھکے اور چشمِ دل سے خدا کے سوا غیر کو نہ دیکھے ، یہ صفت اولیاء کی ہے ، بندہ جب اس حال پر پہنچتا ہے تو اللہ اس کا ولی و ناصر اور معین و مددگار ہوتا ہے ۔ متکلِّمین کہتے ہیں ولی وہ ہے جو اعتقادِ صحیح مبنی بر دلیل رکھتا ہو اور اعمالِ صالحہ شریعت کے مطابق بجا لاتا ہو ۔ بعض عارفین نے فرمایا کہ ولایت نام ہے قُربِ الٰہی اور ہمیشہ اللہ کے ساتھ مشغول رہنے کا ۔ جب بندہ اس مقام پر پہنچتا ہے تو اس کو کسی چیز کا خوف نہیں رہتا اور نہ کسی شے کے فوت ہونے کا غم ہوتا ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ولی وہ ہے جس کو دیکھنے سے اللہ یاد آئے یہی طبری کی حدیث میں بھی ہے ۔ ابنِ زید نے کہا کہ ولی وہی ہے جس میں وہ صفت ہو جو اس آیت میں مذکور ہے۔ ” اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْایَتَّقُوْنَ ” یعنی ایمان و تقوٰی دونوں کا جامع ہو ۔ بعض عُلَماء نے فرمایا کہ ولی وہ ہیں جو خالص اللہ کے لئے مَحبت کریں ، اولیاء کی یہ صفَت احادیثِ کثیرہ میں وارِد ہوئی ہے ۔ بعض اکابر نے فرمایا ولی وہ ہیں جو طاعت سے قُربِ الٰہی کی طلب کرتے ہیں اور اللہ تعالٰی کرامت سے ان کی کار سازی فرماتا ہے یا وہ جن کی ہدایت کا برہان کے ساتھ اللہ کفیل ہو اور وہ اس کا حقِ بندگی ادا کرنے اور اس کی خَلق پر رحم کرنے کے لئے وقف ہو گئے ۔ یہ معانی اور عبارات اگرچہ جداگانہ ہیں لیکن ان میں اختلاف کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ ہر ایک عبارت میں ولی کی ایک ایک صفَت بیان کر دی گئی ہے جسے قُربِ الٰہی حاصل ہوتا ہے یہ تمام صفات اس میں ہوتے ہیں ۔ ولایت کے درجے اور مراتب میں ہر ایک بقدر اپنے درجے کے فضل و شرف رکھتا ہے ۔

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳)

وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِؕ-لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِؕ-ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ(۶۴)

انہیں خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں (ف۱۴۷) اور آخرت میں اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں (ف۱۴۸) یہی بڑی کامیابی ہے

(ف147)

اس خوش خبری سے یا تو وہ مراد ہے جو پرہیزگار ایمانداروں کو قرآنِ کریم میں جابجا دی گئی ہے یا بہترین خواب مراد ہے جو مومن دیکھتا ہے یا اس کے لئے دیکھا جاتا ہے جیسا کہ کثیر احادیث میں وارِد ہوا ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ ولی کا قلب اور اس کی روح دونوں ذکرِ الٰہی میں مستغرق رہتے ہیں تو وقتِ خواب اس کے دل میں سوائے ذکر و معرفتِ الٰہی کے اور کچھ نہیں ہوتا اس لئے ولی جب خواب دیکھتا ہے تو اس کی خواب حق اور اللہ تعالٰی کی طرف سے اس کے حق میں بشارت ہوتی ہے ۔ بعض مفسِّرین نے اس بِشارت سے دنیا کی نیک نامی بھی مراد لی ہے ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا اس شخص کے لئے کیا ارشاد فرماتے ہیں جو نیک عمل کرتا ہے اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں ، فرمایا یہ مومن کے لئے بِشارتِ عاجلہ ہے ۔ عُلَماء فرماتے ہیں کہ یہ بشارت عاجلہ رضائے الٰہی اور اللہ کے مَحبت فرمانے اور خَلق کے دل میں مَحبت ڈال دینے کی دلیل ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اس کو زمین میں مقبول کر دیا جاتا ہے ۔ قتادہ نے کہا کہ ملائکہ وقتِ موت اللہ تعالٰی کی طرف سے بِشارت دیتے ہیں ۔ عطا کا قول ہے کہ دنیا کی بِشارت تو وہ ہے جو ملائکہ وقتِ موت سناتے ہیں اور آخرت کی بِشارت وہ ہے جو مومن کو جان نکلنے کے بعد سنائی جاتی ہے کہ اس سے اللہ راضی ہے ۔

(ف148)

اس کے وعدے خلاف نہیں ہو سکتے جو اس نے اپنی کتاب میں اور اپنے رسولوں کی زبان سے اپنے اولیاء اور اپنے فرمانبردار بندوں سے فرمائے ۔

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْۘ-اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ-هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۶۵)

اور تم ان کی باتو ں کا غم نہ کرو (ف۱۴۹) بےشک عزت ساری اللہ کے لیے ہے (ف۱۵۰) وہی سنتا جانتا ہے

(ف149)

اس میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسکین فرمائی گئی کہ کُفّارِ نابکار جو آپ کی تکذیب کرتے ہیں او رآپ کے خلاف بُرے بُرے مشورے کرتے ہیں آپ اس کا کچھ غم نہ فرمائیں ۔

(ف150)

وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے ۔ اے سیدِ انبیاء وہ آپ کا ناصر و مددگار ہے اس نے آپ کو اور آپ کے صدقہ میں آپ کے فرمانبرداروں کو عزت دی جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا کہ اللہ کے لئے عزت ہے اور اس کے رسول کے لئے اور ایمانداروں کے لئے ۔

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِؕ-وَ مَا یَتَّبِـعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَؕ-اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ(۶۶)

سن لو بےشک اللہ ہی کے مِلک ہیں جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمینوں میں (ف۱۵۱) اور کاہے کے پیچھے جارہے ہیں (ف۱۵۲) وہ جو اللہ کے سوا شریک پکار رہے ہیں وہ تو پیچھے نہیں جاتے مگر گمان کے اور وہ تو نہیں مگر اٹکلیں دوڑاتے(اندازے کرتے) (ف۱۵۳)

(ف151)

سب اس کے مملوک ہیں اس کے تحتِ قدرت و اختیار اور مملوک ربّ نہیں ہوسکتا اس لئے اللہ کے سوا ہر ایک کی پرستِش باطل ہے ، یہ تو حید کی ایک عمدہ برہان ہے ۔

(ف152)

یعنی کس دلیل کا اِتّباع کرتے ہیں مراد یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ۔

(ف153)

اور بے دلیل مَحض گمانِ فاسد سے اپنے باطل معبودوں کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں اس کے بعد اللہ تعالٰی اپنی قدرت و نعمت کا اظہار فرماتا ہے ۔

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًاؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ(۶۷)

وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں چین پاؤ (ف۱۵۴) اور دن بنایا تمہاری آنکھیں کھولتا (ف۱۵۵) بےشک اس میں نشانیاں ہیں سننے والوں کے لیے (ف۱۵۶)

(ف154)

اور آرام کر کے دن کی تکان دور کرو ۔

(ف155)

روشن تاکہ تم اپنے حوائج و اسبابِ معاش کا سر انجام کر سکو ۔

(ف156)

جو سنیں اور سمجھیں کہ جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا وہی معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں اس کے بعد مشرکین کا ایک مقولہ ذکر فرماتا ہے ۔

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗؕ-هُوَ الْغَنِیُّؕ-لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَاؕ-اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۶۸)

بولے اللہ نے اپنے لیے اولاد بنائی (ف۱۵۷) پاکی اس کو وہی بے نیاز ہے اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۱۵۸) تمہارے پاس اس کی کوئی بھی سند نہیں کیا اللہ پر وہ بات بتاتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں

(ف157)

کُفّار کا یہ کلمہ نہایت قبیح اور انتہا درجہ کے جہل کا ہے ، اللہ تعالٰی اس کا رد فرماتا ہے ۔

(ف158)

یہاں مشرکین کے اس مقولہ کے تین رد فرمائے ۔ پہلا رد تو کلمۂ ” سُبْحٰنَہ،” میں ہے جس میں بتایا گیا کہ اس کی ذات وَلَد سے منَزّہ ہے کہ وہ واحدِ حقیقی ہے ۔ دوسرا رَد ” ھُوَالْغَنِیُّ” فرمانے میں ہے کہ وہ تمام خَلق سے بے نیاز ہے تو اولاد اس کے لئے کیسے ہو سکتی ہے ، اولاد تو یا کمزر چاہتا ہے جو اس سے قوت حاصل کرے یا فقیر چاہتا ہے جو اس سے مدد لے یا ذلیل چاہتا ہے جو اس کے ذریعہ سے عزّت حاصل کرے غرض جو چاہتا ہے وہ حاجت رکھتا ہے تو جو غنی ہو یا غیرِ محتاج ہو اس کے لئے وَلَد کس طرح ہو سکتا ہے نیز وَلَد والد کا ایک جُزو ہوتا ہے تو والد ہونا مرکّب ہونے کو مستلزم اور مرکّب ہونا ممکن ہونے کو اور ہر ممکن غیرکا محتاج ہے تو حادث ہوا لہذا محال ہوا کہ غنی قدیم کے وَلَد ہو ۔ تیسرا رد ”لَہ’ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ” میں ہے کہ تمام خَلق اس کی مملوک ہے اور مملوک ہونا بیٹا ہونے کے ساتھ نہیں جمع ہوتا لہذا ا ن میں سے کوئی اس کی اولاد نہیں ہوسکتا ۔

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ(۶۹)

تم فرماؤ وہ جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠(۷۰)

دنیا میں کچھ برت لین(فائدہ اٹھانا)ہے پھر انہیں ہماری طرف واپس آنا پھر ہم انہیں سخت عذاب چکھائیں گے بدلہ ان کے کفر کا