حدیث نمبر168

روایت ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے جو اپنی نماز میں مانگا کروں ۱؎ فرمایا کہو الٰہی میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا۲؎ اور تیرے سوا گناہ کوئی نہیں بخش سکتا۳؎ تو اپنی طرف سے میری بخشش کر مجھ پر رحم کر تو بخشنے والا مہربان ہے۔(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یعنی نماز کے آخر میں التحیات و درودوں سے فارغ ہوکرکیونکہ اس کے علاوہ نماز میں اور کوئی وقت دعا کا نہیں۔ظاہر یہ ہے کہ نماز سے نفل نماز مراد ہے اگر فرائض میں بھی کبھی کبھی یہ دعائیں مانگے تو بہتر ہے۔

۲؎ صدیق اکبر سے یہ الفاظ کہلوانا یا آدم علیہ السلام کا کہنا”رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا”یا یونس علیہ السلام کا عرض کرنا”اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ”انتہائی درجہ کا انکسار نفس ہے۔یہاں ظلم کے وہ معنی کیے جائیں جو ان کی شان کے لائق ہوں،کافر کا ظلم کفر ہے،ہمارا ظلم گناہ،اولیاء اور انبیاء کا ظلم لغزشیں اور خطائیں۔جو شخص ان کلمات کو سن کر ان کی شان میں گستاخی کرے وہ بے دین ہے۔بعض صوفیاء کو فرماتے ہوئے سنا گیا کہ کبھی جھوٹ محبوبیت کا ذریعہ بن جاتا ہے اور سچ مردودیت کا سبب،شیطان نے سچ کہا تھا کہ خدایا تو نے مجھے گمراہ کیا،ھادی و مضلّ رب ہی ہے مگر اس سچ سے شیطان مارا گیا،وہ محبوب بندے جو گناہ کے قریب بھی نہ گئے ان کا یہ عرض کرنا کہ خدایا ہم بڑے گنہگار ہیں ہے جھوٹ مگر تقرب کا ذریعہ حضرت صدیق اکبر نے کبھی گناہ کا ارادہ بھی نہیں کیا۔

۳؎ خیال رہے کہ حقوق العباد بندہ بخشتا ہے مگر گناہ صرف رب ہی بخش سکتا ہے،جہاں انبیائے کرام فرمادیتے ہیں کہ جا تیرے سارے گناہ معاف۔وہ رب کی طرف سے کہتے ہیں زبان ان کی ہوتی ہے کلام رب کا لہذا اس حدیث پرکوئی اعتراض نہیں۔