حدیث نمبر172

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی اپنی نماز سے شیطان کا حصہ نہ بنائے یہ سمجھے کہ اس پر واجب ہے کہ ہمیشہ دائیں جانب ہی پھرا کرے ۱؎ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت دفعہ بائیں جانب پھرتے دیکھا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یعنی یہ اعتقاد رکھنا کہ نماز کے بعد امام پر داہنی جانب پھرکر بیٹھنا واجب ہے اور بائیں طرف پھرنا جائز ہی نہیں غلط عقیدہ ہے،ایسا سمجھنے والا اپنی عبادتوں میں شیطان کا حصہ رکھ ر ہا ہے کیونکہ غلط عقیدہ رکھ کر نماز پڑھنا نماز کے نقصان کا باعث ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ غیر ضروری چیز کو فرض سمجھنا یونہی مباح کو حرام جاننا فساد عقیدہ ہے۔اسی حدیث میں اشارۃً فرمایا کہ اگر کوئی امام ہمیشہ داہنی جانب پھرے لیکن اسے واجب نہ سمجھے تو کوئی مضائقہ نہیں جیسا کہ یَرَی سے معلوم ہوا،لہذا میلاد شریف یا گیارھویں مستحب جان کر ہمیشہ کرنا ناجائز نہیں، واجب سمجھنا اور ہے اور کسی کام کو ہمیشہ کرنا کچھ اور ہم ہمیشہ جمعہ کو غسل اور لباس تبدیل کرتے ہیں ہمیشہ رمضان میں دینی مدارس کی چھٹیاں کرتے ہیں مگر واجب نہیں جانتے، کوئی مضائقہ نہیں۔سرکار فرماتے ہیں کہ بہتر کام وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے۔

۲؎ یہ بہت اضافی نہیں بلکہ حقیقی ہے کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم اکثر داہنی جانب پھرتے تھے کم بائیں جانب جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے۔