أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا تَاللّٰهِ لَـقَدۡ عَلِمۡتُمۡ مَّا جِئۡنَا لِـنُفۡسِدَ فِى الۡاَرۡضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِيۡنَ ۞

ترجمہ:

انہوں نے کہا اللہ کی قسم ! تم کو خوب معلوم ہے کہ ہم زمین میں فساد کرنے نہیں آئے اور نہ ہم چور ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہوں نے کہا اللہ کی قسم ! تم کو خوب معلوم ہے کہ ہم زمین میں فساد کرنے نہیں آئے اور نہ ہم چور ہیں کارندوں نے کہا اگر تم جھوٹے نکلے تو تمہاری کیا سزا ہونی چاہیے ؟ انہوں نے کہا جس کی بوری سے وہ برآمد ہو سو اس کی سزا یہ ہے کہ اسی کو رکھ لیا جائے ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں (یوسف : ٧٥۔ ٧٣)

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بھائیوں کے سامان کی تلاشی لینا :

جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یہ کہہ دیا کہ جس کی بوری سے وہ پیالہ نکل آئے، اس کو غلام بنا کر رکھ لیا جائے تو کارندوں نے کہا : اب تمہاری تلاشی لینی ضروری ہوگئی۔ اور تمہارے سامان کی تلاشی خود بادشاہ لے گا۔ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کے سامان کی تلاشی لینی شروع کردی اور پہلے بن یامین کے دوسرے بھائیوں کی تلاشی لی تاکہ ان پر تہمت نہ لگے۔ قتادہ سے مروی ہے کہ وہ جب بھی کسی بوری کو کھولتے تو استغفار کرتے۔ حتیٰ کہ جب آخر میں صرف ان کے بھائی کی بوری رہ گئی تو انہوں نے خیال کیا : میرا خیال ہے کہ اس نے کوئی چیز نہیں اٹھائی ہوگی۔ اس کی تلاشی نہ لی جائے۔ ان کے بھائیوں نے کہا : ہم اس وقت تک نہیں جائیں گے، جب تک کہ مکمل تلاشی نہ لے لی جائے۔ پھر جب بن یامین کی بوری کھولی، تو اس سے پیالہ نکل آیا۔ اور ان کے اپنے اقرار کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) بن یامین کو پکڑ کرلے گئے۔

بھائیوں سے چور کی سزا معلوم کرنے کی وجہ :

بادشاہ کا قانون یہ تھا کہ چور کو پکڑ کر مارا جائے اور اس سے تاوان وصول کیا جائے۔ اس قانون کے اعتبار سے حضرت یوسف (علیہ السلام) بن یامین کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے۔ اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی شریعت میں یہ قانون تھا کہ چور کو غلام بنا کر رکھ لیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس تدبیر کی طرف متوجہ کیا کہ وہ بھائیوں سے پوچھیں کہ جس کے سامان سے وہ پیالہ نکل آئے، اس کی کیا سزا ہوگی۔ اور جب انہوں نے یہ اقرار کرلیا کہ اس کو غلام بنا کر رکھ لیا جائے گا تو وہ اپنے اقرار کی بنا پر موخوذ ہوگئے۔

بھائی کو اپنے ساتھ رکھنے کے لیے اس پر چوری کے الزام کی تحقیق :

اس مقام پر بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ایک عظیم اور جلیل القدر نبی ہیں۔ اور انہوں نے ایک حیلہ کرکے اپنے بھائی کو اپنے پاس رکھ لیا اور اس حیلہ کے نتیجے میں ان کے بےقصور بھائی پر چوری کا الزام آیا۔ اور یہ اس کے لیے ذلت اور رسوائی کا باعث ہوا۔ اور ان کے دوسرے بھائیوں کو اس پر طعن پر موقع ملا اور انہوں نے کہا : اگر اس نے چوری کی ہے تو کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے پہلے اس کا بھائی بھی چوری کرچکا ہے۔ تو ایک نبی کی شان کے یہ کس طرح لائق ہے کہ وہ محض اپنی محبت کی تسکین کی خاطر اپنے بےقصور بھائی پر چوری کا الزام لگوانے کا سامان مہیا کریں۔ جس کے نتیجہ میں وہ بھی رسوا ہوا اور اس کے فراق میں اس کا باپ بھی زیادہ غم زدہ ہوا۔ اس سوال کے متعدد جوابات ہیں :

(١) حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ اقدام اللہ تعالیٰ کی وحی کی اتباع میں تھا۔ اور اللہ تعالیٰ مالک ہے، وہ اپنی مخلوق میں جیسا چاہے تصرف کرے۔ اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : لایسئل عما یفعل وھم یسئلون۔ (الانبیاء : ٢٣ ) ۔ اللہ جو کام کرتا ہے، اس کے متعلق اس سے سوال نہیں کیا جاسکتا اور ان سب (بندوں) سے سوال کیا جائے گا۔ البتہ اللہ تعالیٰ کے کاموں کی حکمتیں ہوتی ہیں۔ وہ انشاء اللہ عنقریب واضح ہوجائیں گی۔

(٢) رہا یہ سوال کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے دل کی تسکین کے لیے بےقصور بھائی پر چوری کا الزام لگوا دیا اور باپ کو غمزدہ کیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی اپنی یہ خواہش نہیں تھی کہ بن یامین ان کے پاس رہے، بلکہ خود بن یامین حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس رہنا چاہتے تھے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مسلسل منع کرنے کے باوجود نہیں مانے۔ اس کے ثبوت میں یہ روایت ہے :

امام ابو محمد حسین بن مسعود بغوی متوفی ٥١٦ ھ روایت کرتے ہیں : کعب نے بیان کیا ہے کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بن یامین سے کہا : میں تمہارا بھائی ہوں تو بن یامین نے کہا : میں اب آپ سے جدا نہیں ہوں گا۔ حضرت یوسف نے فرمایا : تم کو معلوم ہے کہ والد میری وجہ سے پہلے ہی کتنے غمگین ہیں۔ اگر اب تم بھی یہاں رہ گئے تو ان کا غم اور زیادہ ہوگا اور تمارا یہاں رہنا اس وقت تک ممکن نہیں ہوگا جب تک کہ میں تم کو ایک برے کام سے منسوب نہ کروں۔ اور تمہاری طرف ایسی چیز منسوب نہ کروں جو لائق شرم ہے۔ بن یامین نے کہا : مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ آپ جو مناسب جانیں وہ کریں۔ میں آپ سے بالکل جدا نہیں ہوں گا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا : میں اپنا پیمانہ تمہارے سامان میں چھپا دوں گا۔ پھر میں تمہارے خلاف چوری کا اعلان کروں گا تاکہ تمہاری روانگی کے بعد میرے لیے تم کو واپس لانا ممکن ہو۔ بن یامین نے کہا : آپ جس طرح کرنا چاہتے ہیں کریں۔ (معالم التنزیل ج ٢، ص ٣٦٨، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٤ ھ) ۔امام ابوالحسن الواحدی المتوفی ٤٦٨ ھ، علامہ محمود بن عمر الزمحشری متوفی ٥٣٨ ھ، امام فخر الدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ، علامہ ابو عبداللہ قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ، علامہ عبداللہ بن عمر بیضاوی متوفی ٦٨٥ ھ، علامہ نظام الدین نیشاپوری متوفی ٧٢٨ ھ اور علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ نے بھی اس روایت کا ذکر کیا ہے۔ (الوسیط ج ٢، ص ٢٦٣، الکشاف ج ٢، ص ٤٦١، تفسیر کبیر ج ٦، ص ٤٨٦، الجامع لاحکام القرآن جز ٩، ص ٢٠٠، انوارالتنزیل مع عنایت القاضی ج ٥، ص ٣٣٥، غرائب القرآن ورغائب الفرقان ج ٤، ص ١٠٩، روح المعانی جز ١٣، ص ٣٤) ۔

(٣) اس میں حکمت یہ تھی کہ یہ بیان کیا جائے کہ جو کام فی نفسہ حرام یا ممنوع نہ ہو۔ مگر اس کا حصول کسی خفیہ تدبیر پر موقوف ہو تو اس خفیہ تدبیر سے اس کو حاصل کرنا جائز ہے۔ جیسے ایک بھائی کا دوسرے بھائی کے پاس رہنا حرام یا ممنوع نہیں ہے۔ مگر یہ رہائش اس خفیہ تدبیر کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی تھی۔ اس لیے اس کا ارتکاب کیا گیا۔ اس میں دوسری حکمت یہ تھی کہ اس وجہ سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو دو بیٹوں کی جدائی کا غم اٹھانا پڑا اور اس پر انہوں نے صبر کیا تو وہ زیادہ اجر کے امیدوار ہوئے۔ تیسری حکمت یہ تھی کہ بعد میں ان کو زیادہ خوشی حاصل ہوئی۔ کیونکہ دو بیٹوں سے بیک وقت ملنا نصیب ہوا۔

چوتھی حکمت یہ تھی کہ یہ بتایا جائے کہ بعض اوقات انسان کو اپنا مطلوب حاصل کرنے کے لیے کچھ قربانی بھی دینی پڑتی ہے۔ بن یامین حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس رہنا چاہتے تھے تو ان کو عارضی طور پر اپنی طرف چور کی نسبت کی بدنامی برداشت کرنا پڑی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہم نے اسی طرح یوسف کو خفیہ تدبیر بتائی تھی، وہ بادشاہ کے قانون کے مطابق اپنے بھائی کو نہیں رکھ سکتے تھے۔ اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ اپنے بھائی کو رکھنے کے سلسلے میں حضرت یوسف نے جو اقدام کیا تھا، وہ اللہ تعالیٰ کے بتانے اور اس کی وحی سے کیا تھا۔ اس میں حضرت یوسف کی اپنی رائے اور اجتہاد کا کوئی دخل نہیں تھا اور بعض مفسرین کو اس معاملہ میں شدید لغزش ہوئی ہے۔

بھائی کی طرف چوری کی نسبت کو علامہ ماوردی کا گناہ قراردینا :

علامہ ابوالحسن علی بن محمد الماوردی المتوفی ٤٥٠ ھ لکھتے ہیں : اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے یہ کیسے جائز تھا کہ وہ اپنے بھائی کے سامان میں پیالہ رکھیں۔ پھر ان کو چور قرار دیں۔ حالانکہ وہ بےقصور تھے اور یہ گناہ ہے۔ پھر علامہ ماوردی نے اس اعتراض کے چار جواب دیئے ہیں اور چوتھا جواب یہ ہے : حضرت یوسف کا یہ اقدام گناہ تھا۔ اس کی اللہ نے ان کو یہ سزا دی کہ قوم نے یہ کہا : اگر اس نے چوری کی ہے تو کون سی نئی بات ہے، اس کا بھائی بھی پہلے چوری کرچکا ہے۔ بھائی سے ان کی مراد حضرت یوسف (علیہ السلام) تھے۔ (النکت والعیون ج ٣، ص ٦٢۔ ٦١، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) ۔ علامہ ماوردی انبیاء (علیہم السلام) سے گناہوں کے صدور کے قائل ہیں۔ ہم اس سے پہلے بھی اس سورت میں ان کی عبارت ذکر کرکے ان کا رد کرچکے ہیں۔

حیلہ کے جواز کی تحقیق :

خلاصہ یہ ہے کہ بھائی کو اپنے پاس رکھنے کے لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے جو خفیہ تدبیر بتائی تھی، وہ بہت خوبصورت تدبیر تھی۔ جو اللہ تعالیٰ کو بہت پسندیدہ تھی۔ کیونکہ اس میں بہت حکمتیں تھیں اور مطلوبہ مصلحت تھی۔ اور اس میں یہ دلیل ہے کہ صحیح اور جائز غرض کو پورا کرنے کے لیے کسی خفیہ تدبیر پر عمل کرنا جائز ہے۔ جب کہ اس سے کسی شرعی حکم کی مخالفت نہ ہوتی ہو۔ یہ وہ حیلہ ہے جو جائز اور مشروع ہے کیونکہ اس پر خیر اور مصلحت مرتب ہوتی ہے اور اس میں کسی فریق کو نقصان نہیں پہنچا۔ کیونکہ بن یامین کو اطمینان تھا کہ وہ بےقصور ہیں اور جو کچھ باتیں ہوئی ہیں، وہ عارضی ہیں اور ان کی یہی مرضی تھی۔

حیلہ کو جائز کہنے کہ وجہ سے علامہ قرطبی کے امام ابوحنیفہ پر اعتراضات :

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں : اس آیت میں حیلوں کے ساتھ اغراض کو پورا کرنے کی دلیل ہے۔ جب کہ وہ حیلے شریعت کے مخالف نہ ہوں۔ اور نہ کسی شرعی قاعدہ کو منہدم کرتے ہوں۔ اس میں امام ابوحنیفہ کا اختلاف ہے۔ وہ حیلوں کو جائز قرار دیتے ہیں۔ خواہ حیلے اصول شرعیہ کے مخالف ہوں اور حرام کو حلال کرتے ہوں۔ علماء کا اس پر اجماع ہے کہ کسی شخص کے لیے جائز ہے کہ وہ سال پورا ہونے سے پہلے اپنے مال کو فروخت کر دے یا کسی کو ہبہ کر دے۔ جب کہ اس کی یہ نیت نہ ہو کہ وہ ایسا کرکے زکوٰۃ کی ادائیگی سے بچ جائے گا اور اس پر بھی علماء کا اجماع ہے کہ جب سال پورا جائے اور اس کے پاس زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے عامل آجائے تو اس کے لیے بقدر نصاب مال میں تصرف کرنا یا کمی کرنا جائز نہیں ہے اور نہ اس کے لیے یہ جائز ہے کہ اگر اس کی ملک میں مثلاً بکریاں ہبہ جمع ہوں تو ان کو متفرق کر دے (مثلاً اس کے پاس چالیس بکریاں ہوں اور اس نے ایک بکری زکوٰۃ میں دینی ہو تو وہ اپنی بکریوں کو متفرق کر دے اور کہے کہ یہ بیس بکریاں میری ہیں اور بیس بکریاں فلاں کی ہیں اور فلاں کو وہ بکریاں ہبہ کر دے تاکہ زکوٰۃ سے بچ جائے) ۔ اسی طرح متفرق کو جمع کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ (کیونکہ ٤٠ سے ١١٩ تک ایک بکری زکوٰۃ میں دینی ہے اور ١٢٠ پر دو بکریاں ہیں۔ اب فرض کریں کہ دو بھائیوں کی چالیس چالیس بکریاں ہیں اور ہر ایک پر ایک بکری زکوٰۃ دینا واجب ہے اور جب عامل آئے تو ان میں سے کوئی ایک بھائی دوسرے کو اپنی بکریاں ہبہ کر دے اور وہ دوسرا بھائی کہے، یہ میری اسی بکریاں ہیں اس طرح ایک بکری زکوٰۃ میں دی جائے گی اور ایک بکری بچ جائے گی۔ اور بعد میں پھر دونوں بھائی حسب سابق معاملہ کرلیں) ۔ امام مالک نے یہ کہا ہے کہ جب کوئی شخص زکوٰۃ سے بچنے کے لیے مثلاً ایک ماہ پہلے اپنے نصاب میں کمی کرے گا۔ تب بھی سال پورا ہونے کے بعد اس کو زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔ کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : زکوٰۃ کے ڈر سے مجتمع کو متفرق نہ کیا جائے اور متفرق کو مجتمع نہ کیا جائے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٩٥٥)

اور امام ابوحنیفہ نے یہ کہا ہے کہ اگر کسی شخص نے سال پورا ہونے سے پہلے مجتمع کو متفرق کیا ہے یا متفرق کو مجتمع کیا ہے تاکہ وہ زکوٰۃ ادا کرنے سے بچ جائے تو اس کو کوئی ضرر نہیں ہوگا اور زکوٰۃ سال پورا ہونے کے بعد لازم ہوتی ہے اور حدیث میں جو فرمایا ہے کہ زکوٰۃ کے ڈر سے ایسا نہ کرے، اس کا مصدق تو وہ شخص اسی صورت میں بنتا ہے۔ (یہ امام ابوحنیفہ پر اعتراض ہے) ۔ قاضی ابوبکر ابن العربی نے کہا ہے کہ میں نے ابوبکر محمد بن الولید الفہری وغیرہ سے سنا ہے کہ ہمارے شیخ ابوعبداللہ بن عبداللہ الدامغانی کے پاس ہزاروں دینار مال تھا۔ جب سال پورا ہونے کو آتا تو وہ اپنے بیٹوں کو بلا کر کہتے۔ اب میں بہت بوڑھا ہوگیا ہوں اور میرے قویٰ بہت ضعیف ہوگئے ہیں۔ اور اب مجھے اس مال کی ضرورت نہیں ہے۔ اب یہ مال تمہارا ہے۔ پھر وہ اس مال کو گھر سے نکال دیتے اور لوگ اپنے کندھوں پر مال اٹھا کر ان کے بیٹوں کے گھروں میں پہنچا دیتے۔ پھر جب دوسرا سال پورا ہونے کو آتا تو وہ بیٹوں کو کسی کام سے بلاتے اور بیٹے ان سے کہتے۔ اے ابا جان ! ہمیں ابھی آپ کی زندگی کی بہت توقع ہے اور جب تک آپ زندہ ہیں، ہمیں اس مال کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اور آپ کا مال ہمارے ہی لیے تو ہے۔ سو آپ یہ مال لے لیجئے۔ پھر وہ لوگ سال مال اپنے کندھوں پر اٹھا کر شیخ کے گھر لوٹا دیتے اور ملک کی تبدیلی سے شیخ یہ ارادہ کرتا تھا کہ اس سے زکوٰۃ ساقط ہوگئی۔ اور یہ اقدام امام ابوحنیفہ کی رائے کے موافق ہے۔ کیونکہ متفرق کو مجتمع کرنے اور مجتمع کو متفرق کرنے میں ان کے نزدیک زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی اور یہ بہت عظیم مبحث ہے۔ امام بخاری نے اپنی الجامع الصحیح میں اس پر ایک مبسوط کتاب لکھی ہے۔ اس کا نام کتاب الحیل رکھا ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٩، ص ٢٠٦۔ ٢٠٥، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

حیلہ کو جائز کہنے کی وجہ سے امام بخاری کے امام ابوحنیفہ پر اعتراضات :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ نے بھی امام ابوحنیفہ پر اسی طرح کے اعتراض کیے ہیں۔ ہم اس کی دو تین مثالیں پیش کر رہے ہیں : حضرت طلحہ بن عبیداللہ (رض) بیان کرتے ہیں : ایک منتشر بالوں والا اعرابی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے یہ بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانچ نمازیں۔ ان کے سوا تم جو نفل پڑھو۔ اس نے پوچھا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ بتائیے کہ مجھ پر کتنے روزے فرض ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رمضان کے روزے، ماسوا نفلی روزوں کے۔ اس نے پوچھا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھ پر کتنی زکوٰۃ فرض ہے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اسلام کے شرعی احکام بیان فرمائے۔ اس نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکرم بنایا ہے۔ مجھ پر اللہ نے جو فرض کیا ہے، میں اس میں کوئی چیز زیادہ کروں گا نہ کم کروں گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر اس نے سچ کہا تو یہ کامیاب ہوگیا۔ یا فرمایا اگر اس نے سچ کہا تو یہ جنت میں داخل ہوگیا اور بعض لوگوں (امام بخاری کی مراد ہے امام ابوحنیفہ) نے یہ کہا ہے کہ ایک سو بیس اونٹوں کی زکوٰۃ میں دو حقہ (تین سال کی دو اونٹنیاں) دی جاتی ہیں۔ اگر اس نے ان اونٹوں کو جان بوجھ کر ہلاک کردیا یا کسی کو ہبہ کر دیا یا زکوٰۃ سے بھاگنے کا کوئی حیلہ کیا تو اس پر کوئی تاوان نہیں ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٩٥٦، مطبوعہ دار ارقم بیروت) ۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ انصاری (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : میری ماں نے نذر مانی تھی اور وہ نذر پوری کرنے سے پہلے فوت ہوگئی ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس کی نذرپوری کردو اور بعض لوگ (یعنی امام ابوحنیفہ) یہ کہتے ہیں کہ جب کسی شخص کے پاس بیس اونٹ ہوں تو اس کے اوپر چار بکریاں زکوٰۃ ہے۔ پس اگر وہ سال پورا ہونے سے پہلے کسی کو بکریاں بخش دے یا زکوٰۃ سے بچنے کے لیے ان کو فروخت کر دے یا زکوٰۃ ساقط کرنے کے لیے کوئی حٰلہ کرے تو اس پر کوئی تاوان نہیں ہے۔ اسی طرح اگر اس نے ان بکریوں کو ضائع کردیا اور پھر وہ مرگیا تو اس کے مال سے کوئی تاوان نہیں لیا جائے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٩٥٩، مطبوعہ دار ارقم بیروت) ۔

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نکاح شغار سے منع فرمایا : عبیداللہ کہتے ہیں۔ میں نے نافع سے پوچھا : شغار کسے کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : ایک شخص کسی کی بیٹی سے نکاح کرے اور وہ شخص اس کی بیٹی سے نکاح کرے اور ہر ایک اپنے رشتہ کے عوض دوسرے کو رشتہ دے اور مہر نہ رکھیں۔ اور بعض لوگوں نے یہ کہا اگر وہ حیلہ کرکے نکاح شغار کریں تو یہ جائز ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٩٦٠، مطبوعہ دار ارقم بیروت) ۔

حضرت علی (رض) سے یہ کہا گیا کہ حضرت ابن عباس (رض) عورتوں سے متعہ کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ حضرت علی نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے سے اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا۔ اور بعض لوگوں نے یہ کہا کہ اگر کوئی شخص حیلہ کرکے متعہ کرے تو وہ نکاح فاسد ہے۔ اور بعض نے کہا نکاح جائز ہے اور شرط باطل ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٩٦١، مطبوعہ دار ارقم بیروت)

حیلہ کے جواز پر علامہ قرطبی کے اعتراضات کے جوابات :

فقہاء احناف کے نزدیک حیلہ کی کیا تعریف ہے اور قرآن اور سنت سے اس پر کیا دلائل ہیں اس پر ہم بعد میں گفتگو کریں گے۔ پہلے ہم علامہ قرطبی اور امام بخاری کے اعتراضات کے جوابات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ علامہ قرطبی کے اعتراضات کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک شخص بقدر نصاب مال کا مالک ہے اور سال پورا ہونے سے ایک ماہ پہلے اس نے اپنا مال کسی کو فروخت کردیا یا کسی کو ہبہ کردیا اور یہ اس نے زکوٰۃ سے بچنے کے لیے حیلہ کیا تو اس پر امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ نیت کا حال تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ اگر واقعی اس نے یہ عمل زکوٰۃ سے بچنے کے لیے کیا تو وہ یقینا سخت گناہ گار ہوگا۔ لیکن اگر اس نے کسی صحیح نیت سے کسی جائز ضرورت کی بناء پر مال فروخت کیا یا ہبہ کیا تو وہ گناہ گار نہیں ہوگا۔ تاہم شرعی احکام کا نفاذ تو ظاہر ہوتا ہے۔ اور جب اس کے پاس بقدر نصاب مال ایک سال تک نہیں رہا، بلکہ گیارہ مہینے رہا ہے تو اس کے اس مال پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔ اور امام مالک اور دوسرے جن ائمہ نے گیارہ ماہ گزرنے کے بعد اس کے مال پر زکوٰۃ واجب کردی ہے، انہوں نے احکام شرعیہ میں ترمیم کی ہے اور یہ فرض کرکے کہ اس نے زکوٰۃ سے بچنے کے لیے ایسا کیا ہے، اس کی نیت پر اور غیب پر حکم لگایا ہے اور مسلمان کے متعلق بدگمانی کی ہے اور ہم ان تمام امور سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔

حیلہ کے جواز پر امام بخاری کے اعتراضات کے جوابات :

اسی طرح امام بخاری نے کہا ہے کہ ایک سو بیس اونٹوں پر زکوٰۃ میں دو حقہ ہیں یا بیس اونٹوں پر چار بکریاں ہیں۔ جس نے زکوٰۃ سے بچنے کے لیے ان میں سے سال پورا ہونے سے پہلے کمی کردی تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ اس کا بھی یہی جواب ہے کہ اس کی نیت کا حال تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ اگر اس نے واقعی زکوٰۃ سے بچنے کے لیے ایسا کیا ہے تو وہ سخت گناہ گار ہوگا۔ لیکن شرعی احکام تو ظاہر حال کے اعتبار سے نافذ ہوتے ہیں۔ اور اگر سال پورا ہونے سے ایک ماہ پندرہ دن پہلے اس کے پاس بقدر نصاب مال موجود نہیں ہے تو زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی اور اگر امام مالک کی طرح امام بخاری بھی یہ کہتے ہیں کہ جس کے پاس گیارہ ماہ بھی بقدر نصاب مال رہا۔ اس پر بھی زکوٰۃ واجب ہوگی تو اس کا مطلب ہوگا کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیان کی ہوئی مدت میں ترمیم کردی اور دوسری بھی وہ تمام خرابیاں لازم آئیں گی جن کو ہم نے امام مالک کے قول پر لازم کیا ہے۔ امام بخاری نے جو یہ کہا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر حیلہ سے نکاح شغار کی اجائے تو نکاح جائز ہے اور شرط باطل ہے۔ یہ انہوں نے صحیح نہیں کیا۔ امام ابوحنیفہ یا کسی بھی حنفی فقیہ نے یہ نہیں کہا کہ حیلہ کے ساتھ نکاح شغار کیا جائے۔ اگر لوگ آپس میں مہر مقرر کیے بغیر نکاح کریں گے اور اس رشتہ کے تبادلہ کو مہر قرار دیں گے تو ان کا اس رشتہ کے تبادلہ کو مہر قرار دینا باطل ہے۔ ان کا نکاح ہوجائے گا اور فریقین کو مہر مثل ادا کرنا لازم ہوگا۔ بہرحال نکاح شغار میں حیلہ کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اسی طرح امام بخاری نے جو یہ کہا ہے کہ بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ جس نے متعہ کیا تو وہ نکاح فاسد ہے۔ اور بعض نے کہا نکاح جائز ہے اور شرط باطل ہے۔ اس کا بھی حیلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ (عمدۃ القاری جز ٢٤، ص ١١٣۔ ١١٢) ۔ ہم نے امام بخاری، امام مالک اور علامہ قرطبی کی زکوٰۃ سے متعلق عبارات پر جو کلام کیا ہے جس شخص کے پاس بظاہر سال پورا ہونے کے بعد بقدر نصاب مال موجود نہیں ہے۔ اس پر ظاہر حال کے اعبتار سے زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔ ہم صرف ظاہر کے مکلف ہیں۔ اور اس کے باطن کا معاملہ اللہ کے سپر د ہے۔ ہم اس پر التوبہ : ٧٣ میں دلائل ذکر کرچکے ہیں اور اختصاراً یہاں بھی دلائل پیش کر رہے ہیں :

دنیاوی احکام ظاہر پر مبنی ہیں اور باطنی معاملات اللہ کے سپرد ہیں :

علامہ محمد بن طولون الصالحی المتوفی ٩٥٣ ھ لکھتے ہیں : حدیث میں ہے : مجھے ظاہر کے مطابق حکم دینے کا امر کیا گیا ہے اور باطنی امور اللہ کے سپرد ہیں۔ صحیح مسلم میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ میں لوگوں کے دلوں کی تفتیش کروں اور نہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے پیٹ چاک کروں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٦٤، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٣٥١، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٦٤ ) ۔

علامہ نووی لکھتے ہیں کہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ مجھے ظاہر کے مطابق حکم دینے کا امر کیا گیا ہے اور باطنی امور اللہ کے سپرد ہیں۔ جیسا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے، ان الفاظ کے ساتھ یہ حدیث ثابت نہیں ہے لیکن اس کے معنی کی تائید میں احادیث ہیں :

حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے حجرہ کے دروازے پر کچھ لوگوں کے جھگڑے کی آواز سنی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر تشریف لے گئے اور فرمایا : میں محض ایک بشر ہوں۔ اور میرے پاس جھگڑے والے آتے ہیں۔ اور ہوسکتا ہے کہ ان میں سے بعض دوسروں سے زیادہ چرب زبان ہوں اور میں اس کو سچا گمان کرکے اس کے حق میں فیصلہ کردوں۔ پس (بالفرض) میں اگر کسی کو دوسرے مسلمان کا حق دے دوں تو وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے خواہ وہ اس کو لے یا اس کو ترک کر دے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٤٥٨، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧١١، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٥٨٣، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٣٣٩) ۔

حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہم تمہارا مواخذہ ان اعمال پر کریں گے جو ہم پر ظاہر ہوں گے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٦٤١ ) ۔ امام نسائی نے اپنی سنن میں یہ باب قائم کیا ہے۔ حکم میں ظاہر کا اعتبار ہے۔ اور امام شافعی نے کتاب الام میں یہ لکھا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ خبر دی ہے کہ وہ ظاہر کے اعتبار سے فیصلہ کرتے ہیں اور باطنی امور اللہ کے سپرد ہیں اور اس کے بعد امام شافعی نے کتاب الام میں لکھا ہے۔ روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ باطنی معاملات کا اللہ والی ہے اور اس نے شہادت کی بناء پر تم سے سزا کو ساقط کردیا۔ امام عبدالبر نے تمہید میں لکھا ہے کہ اس پر اجماع ہے کہ دنیا کے احکام ظاہر پر مبنی ہیں اور باطنی معاملات اللہ کے سپرد ہیں۔ (الشذرۃ فی الاحادیث المشتہرۃ ج ١، ص ١١٠۔ ١٠٩، رقم : ١٧٨، کشف الخفاء ومزیل الالباس ج ١، ص ١٩٤۔ ١٩٣، رقم : ٥٨٥) ۔ اب ہم حیلہ کے جواز پر فقہاء احناف کے دلائل پیش کر رہے ہیں۔

حیلہ کے جواز پر قرآن اور سنت کے دلائل :

فبدء باوعیتھم قبل وعآء اخیہ ثم استخرجھا من وعآء اخیہ ط کذلک کدنا لیوسف ۔ ماکان لیاخذ اخاہ فی دین الملک۔ الایہ۔ (یوسف : ٧٦) ۔ تو یوسف نے اپنے بھائی کی بوری سے پہلے ان کی بوریوں کی تلاشی لینی شروع کردی، پھر اس پیالے کو اپنے بھائی کی بوری سے برآمد کرلیا، ہم نے اسی طرح یوسف کو خفیہ تدبیر بتائی تھی، وہ بادشاہ کے قانون کے مطابق اپنے بھائی کو نہیں رکھ سکتے تھے۔ اس کی مکمل تفسیر سابقہ صفحات میں گزر چکی ہے۔ وخذبیدک ضغثاً فاضرب بہ ولا تحنث۔ (ص : ٤٤ ) ۔ اور (اے ایوب ! ) آپ اپنے ہاتھ میں تنکوں کی ایک جھاڑو لے کر اسے ماریں اور اپنی قسم نہ توڑیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو اپنی قسم سے نکلنے کا حیلہ تعلیم فرمایا ہے۔ کیونکہ جب شیطان نے ان کی بیوی سے کہا کہ وہ شیطان کے نام پر ایک بکری کا بچہ ذبح کردیں تو حضرت ایوب (علیہ السلام) نے قسم کھائی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو سو کوڑے ماریں گے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قسم سے نکلنے کا یہ حیلہ تعلیم فرمایا کہ وہ اپنی بیوی کو سو تنکوں کی ایک جھاڑو مار دیں۔ فنظر نظرۃً فی النجوم فقال انی سقیمٌ فتولوا عنہ مدبرین (الصّٰفّٰت : ٩٠۔ ٨٨) ۔ پھر ابراہیم نے ایک نظر ستاروں کو دیکھا تو کہا میں بیشک بیمار ہونے والا ہوں تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر چلے گئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بادشاہ نے پیغام بھیجا کہ کل ہماری عید ہے۔ آپ اس موقع پر حاضر ہوں۔ آپ ان کے پاس نہیں جانا چاہتے تھے۔ اس لیے آپ نے حیلہ کیا اور فرمایا : میں بیمار ہوں۔ حالانکہ آپ بیمار نہ تھے۔ آپ کا یہ کلام بطور توریہ تھا۔ آپ کی مراد یہ تھی کہ تمہاری بت پرستی کی وجہ سے میری روح بیمار ہے اور انہوں نے یہ سمجھا کہ آپ کا جسم بیمار ہے۔ قالوآ ءانت فعلت ھٰذا باٰلھتنا یٰٓابراھیم قال بل فعلہ کبیرھم ہٰذا فسئلوھم ان کانوا ینطقون۔ (الانبیاء : ٦٣۔ ٦٢ ) ۔ انہوں نے کہا : اے ابراہیم ! کیا آپ نے ہمارے بتوں کے ساتھ یہ کاروائی کی ہے ابراہیم نے کہا : بلکہ اسی نے کیا ہے، ان کا بڑا یہ ہے، سو ان سے پوچھ لو ! اگر یہ بولتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سارہ کو لے کر اردن کے علاقہ میں گئے۔ وہاں صادوق یا ضحاک نام کا ایک ظالم بادشاہ حکمران تھا۔ اس کا یہ معمول تھا کہ جو شخص اپنی بیوی کو لے کر اس کے علاقہ میں حاضر ہوتا وہ شوہر کو قتل کردیتا اور اس کی بیوی کو چھین لیتا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس سے جان بچانے کا یہ حیلہ کیا کہ حضرت سارہ سے کہا کہ تم کہنا کہ تم میری بہن ہو کیونکہ تم میری ایمانی بہن ہو۔ (فتح الباری جلد ٦، ص ٣٩٣، طبع لاہور، عمدۃ القاری جز ١٢، ص ٣١، مطبوعہ مصر) ۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سارہ کے ساتھ ہجرت کی اور ان کے ساتھ ایک شہر میں داخل ہوئے۔ جس میں ایک ظالم بادشاہ حکمران تھا۔ اس کو بتایا گیا کہ (حضرت) ابراہیم (علیہ السلام) ایک عورت کے ساتھ شہر میں داخل ہوئے اور وہ عورت دنیا کی سب سے حسین عورت ہے۔ اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے معلوم کرایا کہ اے ابراہیم ! تمہارے ساتھ جو عورت ہے وہ تمہاری کون ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : وہ میری بہن ہے۔ پھر سارہ سے کہا : میری بات کو جھٹلانا مت۔ میں نے ان کو یہ بتایا ہے کہ تم میری بہن ہو۔ اور اللہ کی قسم ! اس وقت روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے۔ (یعنی تم میری ایمانی بہن ہو) ۔ قرآن مجید میں ہے : انما المومنون اخوۃٌ۔ (الحجرات : ١٠) ۔ تمام مومن بھائی ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٢١٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٧١، سنن النسائی رقم الحدیث : ٣١٦٦، مسند احمد رقم الحدیث : ٩٢٣٠، عالم الکتب) ۔

حیلہ کی تعریف اور اس کے جواز پر علامہ سرخسی کے دلائل :

شمس الائمہ سرخسی متوفی ٤٨٣ ھ لکھتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا میں نے یہ قسم کھائی ہے کہ میں اپنے بھائی سے بات نہیں کروں گا۔ اگر میں نے اس سے بات کی تو میری بیوی کو تین طلاقیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دو ۔ اور جب اس کی عدت گزر جائے تو اپنے بھائی سے بات کرلو۔ پھر اس عورت سے نکاح کرلو۔ اور یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حیلہ کی تعلیم دی ہے۔ اور حیلہ کے جوا زمین بکثرت اور آثار ہیں۔ اور جو آدمی احکام شرع میں غور کرے گا تو وہ بہت معاملات کو اس طرح پائے گا۔ اگر کوئی شخص کسی عورت سے محبت کرتا ہو اور وہ پوچھے کہ اس سے وصال کا کیا حیلہ ہے ؟ تو کہا جائے گا تم اس سے نکاح کرلو۔ اور اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے تنگ ہو اور وہ یہ سوال کرے کہ اس سے چھٹکارے کی کیا صورت ہے تو اس سے کہا جائے گا کہ تم اس کو طلاق دے دو ۔ اور اگر طلاق دینے کے بعد وہ نادم ہو اور سوال کرے کہ اب دوبارہ اس سے وصال کا کیا حیلہ ہے تو اس سے کہا جائے گا کہ تم اس سے رجوع کرلو۔ اور اگر وہ تین طلاقیں دے چکا ہو اور پھر اس سے وصال چاہتا ہو تو اس کا حیلہ یہ ہے کہ وہ عورت عدت کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ مباشرت کے بعد اس کو طلاق دے دے۔ پھر اس کی عدت گزرنے کے بعد وہ اس سے دوبارہ نکاح کرلے۔ سو جو شخص احکام شرعیہ میں حیلہ کو مکروہ سمجھتا ہے وہ درحقیقت احکام شرعیہ کو ہی مکروہ سمجھتا ہے۔ اور حیلہ کو مکروہ سمجھنے کی وجہ صرف غور و فکر کی کمی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جس حیلہ کی وجہ سے انسان کسی حرام کام سے بچ جائے یا جس حیلہ کی وجہ سے انسان کسی حلال چیز کو حاصل کرلے وہ حیلہ مستحسن ہے۔ اور مکروہ تحریمی حیلہ یہ ہے کہ جس حیلہ کی وجہ سے انسان کسی حق کو باطل کرے۔ یا کسی باطل چیز کو حیلہ سے ملمع کرکے اس کو حق ظاہر کرے۔ سو جو حیلہ اس طرح ہوگا، وہ مکروہ (تحریمی) ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وتعاونوا علی البر والتقویٰ ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان۔ (المائدہ : ٢) ۔ اور تم نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہو اور گناہ اور ظلم میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ پس ہم نے حیلہ کی جو پہلی قسم بیان کی ہے۔ اس میں نیکی اور تقویٰ پر معاونت ہے اور جو دوسری قسم بیان کی ہے، اس میں گناہ اور ظلم پر معاونت ہے۔ (المبسوط ج ٣٠، ص ٢١٠۔ ٢٠٩، مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 73