حدیث نمبر174

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عورتیں جب فرائض سے سلام پھیرتیں تو کھڑی ہوجاتیں ۱؎ اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے مرد جب تک رب چاہتا بیٹھے رہتے ۲؎ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے تو مرد بھی کھڑے ہو جاتے(بخاری)اور ہم جابر ابن سمرہ کی حدیث ہنسی کے باب میں ذکر کریں گے ۳؎ ان شاءاﷲ تعالیٰ۔

شرح

۱؎ اور فورًا گھر لوٹ آتیں تاکہ عورتیں اور مرد مخلوط نہ ہوجائیں،سنتیں اور نوافل گھر آکر پڑھتیں غالب یہ ہے کہ دعاسے پہلے اٹھ جاتیں۔

۲؎ دعا سنتوں اور نوافل کے لیے اور نماز فجر میں اشراق تک۔اس سے معلوم ہوا کہ بہتر یہ ہے کہ مقتدی امام سے پہلے مسجد سے نہ جائیں۔

۳؎ یعنی مصابیح میں وہ حدیث یہاں تھی جس میں ذکر ہے کہ ہم سب فجر کے بعد سورج نکلنے تک بیٹھتے تھے اور زمانہ جاہلیت کی باتیں یاد کرکے ہنسا کرتے تھے مگر ہم یہ حدیث باب الضحك میں لائیں گے۔