باب الدعاء فی التشھد

التحیات میں دعا کاباب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ یعنی ا لتحیات کے بعد آخر نماز میں دعا کیا مانگے اور نماز سے فارغ کیونکر ہو یہ دعا سنت ہے لیکن ایسی مانگی جائے جو لوگوں کے کلام کے مشابہ نہ ہو۔بہتر یہ ہے کہ دعا ماثورہ مانگے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ سے منقول ہو جامع الدعاء بہت بہتر ہے۔

حدیث نمبر165

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دعا مانگتے تھے کہتے تھے الٰہی میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے ۱؎ اور تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے۲؎ اور تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی ا ور موت کے فتنوں سے ۳؎ الہی میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہ اور قرض سے ۴؎ کسی نے عرض کیا ۵؎ حضور قرض سے اتنی زیادہ پناہ مانگتے ہیں تو فرمایا کہ آدمی جب مقروض ہوتا ہے بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو خلاف کرتا ہے۶؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ عذاب قبر کی تحقیق پہلے کی جاچکی ہے معتزلی فرقہ اس کا منکر ہے یہ حدیث ان کی پوری تردید ہے عذاب قبر میں وہاں کی وحشت،دہشت،تنگی گرمی سبھی داخل ہیں اﷲ سب سے بچائے۔

۲؎ دجال دَجْلٌ سے بنا،بمعنی فریب،دجال فریبی اور مکار،مسیح یا مَسْحٌ سے ہے یا مساحۃٌ،سے مَسْحٌچھونا،مساحۃٌ ناپنا یا سیرکرنا،چونکہ دجال کی ایک آنکھ ممسوح یعنی پونچھی ہوئی ہے یا چونکہ وہ سوائے حرمین شریفین کے باقی ساری دنیا کی سیرکرے گا لہذا اسے مسیح کہا جاتا ہے۔خیال رہے کہ عیسی علیہ السلام کو مسیح اس لیے کہتے ہیں کہ آپ مردے کو چھو کر زندہ کرتے اور بیمار کو چھو کر تندرست یا اس لیے کہ آپ نے کہیں گھر نہ بنایا ہمیشہ سفر میں رہے۔مسیح دجال کی پوری تحقیق ان شاء اﷲ دجال کے باب میں کی جائے گی۔

۳؎ سبحان اﷲ! کیسا جامع کلمہ ہے،کفر،گمراہی،گناہ وہ آفتیں جو رب سے غافل کردیں وہ مال،اولاد، سلطنت جو سرکش کردے سب زندگی کے فتنہ ہیں،موت کے وقت شیطانی وسوسے،منکر و نکیر کے سوالات میں ناکامی یہ سب موت کے فتنے ہیں۔

۴؎ گناہ سے مراد چھوٹے بڑے سارے گناہ اور گناہوں کے اسباب ہیں۔قرض سے مراد وہ قرض ہے جو گناہ کے لیے لیاجائے یا وہ جو مقروض پر بوجھ بنے اور اس کے ادا ہونے کی کوئی صورت نظر نہ آئے۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادتوں کے لیے قرض لیا اور صدیق اکبر نے آپ کی وفات کے بعد سارا چھوڑا ہوا قرض ادا کردیا لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب حضور علیہ السلام یہ دعا مانگتے تھے تو آپ پر قرض کیوں ہوتا تھا۔

۵؎ یہ عرض کرنے والی خود حضرت عائشہ صدیقہ تھیں جیسا کہ نسائی شریف میں ہے۔(مرقاۃ)

۶؎ یعنی قرض بہت سے گناہوں کا ذریعہ ہے عمومًا مقروض قرض خواہ کے تقاضے کے وقت جھوٹ بھی بولتے ہیں کہ گھر میں چھپ کر کہلوادیتا ہے کہ وہ گھر پر نہیں اور اگر پکڑے گئے تو کہہ دیا ہمارا مال آنے والاہے جلدی دیں گے،وعدہ خلافی بھی کرتے ہیں کہ کل لے جانا مگر دیتے نہیں۔