نیک عورت کا مقام

اللہ نے بے شمار چیزیں ہمارے فائدہ کے لئے پیدا فرمائیں،اور انہیں ہمارے حق میں نعمت فرمایا،فرماتا ہے ان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوہا،اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہ کر سکو،مگر ان نعمتوں میں سب سے بہتر کون اسے بھی جاننا چاہیئے تاکہ ہمیں یہ علم ہو سکے کہ ان بے شمار نعمتوں میں ہمیں کسے اپنانا چاہیئے جس سے دنیا کے ساتھ ہماری آخرت بھی سنور جائے

حضرت ابو امامہ سے روایت ہے اللہ کے پیارے رسول ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا اے معاذ قلبا شاکرا ولسانا ذاکرا و زوجۃ صالحۃ تعینک علیٰ امر دنیاک و دینک خیر ما اکتسبہ الناس ۔شکر گزار دل،ذکر کرنے والی زبان اور نیک عورت جو تمہاری مدد کرے تمہارے دین اور دنیا کے معاملے میں،بہتر ہے اس سے جسے لوگ حاصل کریں (طبرانی ج ۴ ص ۲۷۶)

اس حدیث پاک میں شکر کرنے والے دل کو دنیا کی بہتر نعمت فرمایا گیا اس لئے کہ دل کی حکومت ہمارے بدن کے تمامی اعضاء پر ہے،وہ شکر گزار ہو تو ہمارے بدن کے تمامی اعضاء سے اللہ کی اطاعت کے کام وجود میں آئیں گے اور نافرمانی سے ہماری حفاظت ہو جائے گی،اور دل شکر گزار ہوگا تو ہماری زبان بھی اللہ کی یاد میں لگی رہے گی ،کبھی قرآن کی تلاوت کا مزہ لے رہی ہوگی تو کبھی اللہ کے صفات کا ورد کر رہی ہوگی،کبھی درود پاک سے لطف انداز ہوگی تو کبھی نعت نبی کے ترانے پڑھ رہی ہوگی،سوچ دیکھو تو اللہ کی ذکر دیکھو تو اللہ کا،ہمہ وقت نیکیوں کا کام ہو رہا ہے،اللہ کی رضا کا کام ہو رہا ہے،نبی کی خوشنودی کا کام ہو رہا ہے،اور اس پر طرفہ یہ کہ اللہ کے فضل سے بیوی بھی ایسی دیندار اور پرہیزگار کہ خود تو عمل کرتی ہے اور اپنے شوہر کو پیار اور محبت سے اللہ کی راہ بتاتی ہے، اس سے بہتر اور کیا چاہیئے کہ اپنی مذھبی کمی بیوی کی طرف سے دور ہو رہی ہے،اس لئے ہمارے آقا ﷺ نے فرمایا یہ تین چیزیں دنیا کی نعمتوں میں بہتر ہے