أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَجَآءَ اِخۡوَةُ يُوۡسُفَ فَدَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَعَرَفَهُمۡ وَهُمۡ لَهٗ مُنۡكِرُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور یوسف کے بھائی (غلہ خریدنے مصر) آئے تو ان کے پاس گئے، پس یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ اس کو نہ پہچان سکے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یوسف کے بھائی (غلہ خریدنے مصر) آئے تو ان کے پاس گئے، پس یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ اس کو نہ پہچان سکے اور جب یوسف نے ان کا سامان تیار کردیا تو کہا تم اپنے باپ شریک بھائیکو میرے پاس لے کر آنا کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں پورا پورا ناپ کردیتا ہوں اور میں بہترین مہمان نواز ہوں پس اگر تم اس کو میرے پاس نہیں لائے تو میرے پاس تمہارے لیے بالکل غلہ نہیں ہوگا اور نہ ہی تم میرے قریب آ سکو گے، انہوں نے کہا ہم اس کے متعلق اس کے باپ کو راضی کریں گے اور ہم یہ ضرور کرنے والے ہیں (یوسف : ٦١۔ ٥٨ )

مشکل الفاظ کے معانی :

وہم لہ منکرون : انکار معرفت کی ضد ہے۔ حضرت یوسف کے بھائیوں نے حضرت یوسف کو نہیں پہچانا کیونکہ انہوں نے حضرت یوسف کو بچن میں دیکھا تھا اور اب بہت لمبا عرصہ گزر چکا تھا۔ انہوں نے خیال کیا کہ ان کی وفات ہوچکی ہوگی۔

ولما جھزھم بجھازھم ہر باب میں جس چیز کی ضرورت اور احتیاج ہو اس کو جہاز کہتے ہی۔ جھاز المیت کا معنی ہے مردہ کی تکفین وغیرہ کا سامان کرنا۔ جھاز العروس کا معنی ہے دلہن کی ضرورت کی اشیاء اور جھاز السفر کا معنی ہے سفر کی ضرورت کی چیزیں۔ یہاں مراد ہے ان کی ضروریات کی گندم ماپ کر ان کی بوریوں میں بھر کر ان کے اونٹوں پر لاد دیں۔ المنزلین مہمان نوازی کرنے والے۔ حضرت یوسف نے بہت اچھی طرح ان کی مہمان نوازی کی تھی۔

سنراود : مراودۃ کا معنی ہے کسی چیز پر مائل اور راغب ہونا۔ یعنی ہم کسی طرح کی کوشش کرکے اس کے باپ کو اس کے بھیجنے پر آمادہ کریں گے۔ (غرائب القرآن ورغائب الفرقان ج ٤، ص ١٠٣۔ ١٠٢، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٦ ھ)

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا غلہ لینے مصر پہنچنا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا انہیں پہچان لینا :

جب تمام شہروں میں قحط پھیل گیا اور جس شہر میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) رہتے تھے اس میں بھی قحط پہنچ گیا اور ان کے لیے روح اور بدن کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہوگیا۔ اور ہر طرف یہ بات مشہور ہوچکی تھی کہ مصر کا بادشاہ غلہ فروخت کر رہا ہے۔ تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ مصر میں ایک نیک بادشاہ ہے جو لوگوں کو گندم فروخت کر رہا ہے۔ تم اپنی رقم لے کر جائو اور ان سے غلہ خریدو۔ سو حضرت یعقوب کے دس بیٹے سوا بن یامین کے، حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور یہ واقعہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی اپنے بھائیوں کے ساتھ ملاقات کا سبب بنا اور اللہ تعالیٰ نے کنوئیں میں جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف وحی کی تھی اس کی تصدیق کا سبب بنا، وہ وحی یہ تھی : لتنھئنھم بامرھم ہٰذا وھم لا یشعرون۔ (یوسف : ١٥) (ایک وقت ایسا آئے گا) کہ تم ضرور ان کو ان کی اس کاروائی سے آگاہ کرو گے اور اس وقت ان کو (تمہاری شان کا) پتا بھی نہ ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ حضرت یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو بالکل نہ پہچان سکے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو اس لیے پہچان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی تھی کہ تم ضرور ان کو ان کی اس کاروائی سے آگاہ کرو گے۔ نیز حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو خواب دیکھا تھا اس میں بھی یہ دلیل تھی کہ ان کے بھائی ان تک پہنچیں گے۔ اس وجہ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) اس واقعہ کے منتظر تھے اور جو لوگ بھی دو دراز سے غلہ لینے کے لیے مصر آتے تھے، حضرت یوسف (علیہ السلام) ان کے متعلق تفتیش کرتے تھے اور معلومات حاصل کرتے تھے کہ آیا یہ ان کے بھائی ہیں یا نہیں۔ رہا یہ کہ ان کے بھائیوں نے ان کو کیوں نہیں پہچانا تو اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

بھائیوں کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو نہ پہچاننا اور اس کی وجوہ :

(١) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے دربانوں کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ غلہ خریدنے کے لیے باہر سے آنے والوں کو ان سے فاصلہ پر رکھیں اور حضرت یوسف (علیہ السلام) ان سے بالواسطہ گفتگو کرتے تھے۔ اس طرح وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو نہیں پہچان سکے۔ خصوصاً اس لیے کہ ان پر بادشاہ کا رعب طاری تھا اور جو ضرورت مند ہو وہ کچھ زیادہ ہی مرعوب اور خوف زدہ ہوتا ہے۔

(٢) جب انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈالا تھا اس وقت وہ کم سن اور بچے تھے، اور اب انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا تو ان کو داڑھی آچکی تھی، اور ان کی شکل و صورت میں کافی تغیر ہوچکا تھا۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ ریشم کا لباس پہنے ہوئے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے گلے میں سونے کا طوق تھا۔ اور ان کے سر پر سونے کا تاج تھا۔ اور اتنا عرصہ گزرنے کی وجہ سے وہ لوگ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ کو بھول چکے تھے۔ جس وقت انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈالا تھا اس وقت سے لے کر اب تک چالیس سال گزر چکے تھے۔ ان اسباب میں سے ہر سبب ایسا ہے جس کی وجہ سے اتنے عرصہ پہلے کے شخص کو انسان بھول سکتا ہے اور جب یہ تمام اسباب مجتمع ہوں تو اس کو نہ پہچاننا اور بھول جانا زیادہ متوقع ہے۔

(٣) کسی چیز کو پہچان لینا اور یاد رکھنا۔ اللہ تعالیٰ کے پیدا کرنے سے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں یہ معرفت پیدا نہ کی ہو تاکہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول محقق ہو ! آپ ضرور ان کو ان کی اس کاروائی سے آگاہ کریں گے اور ان کو پتا بھی نہ ہوگا۔ (یوسف : ١٥)

بن یامین کو بلوانے کی وجوہ :

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو اپنے بھائیوں سے کہا تھا کہ وہ آئندہ اپنے دوسرے بھائی کو لے کر آئیں اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) غلہ فروخت کرنے میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ اصول تھا کہ وہ ہر شخص کو ایک بار شتر دیتے تھے۔ یعنی صرف ایک اونٹ پر غلہ لاد کردیتے تھے۔ اس سے زیادہ دیتے تھے نہ کم۔ اور حضرت یوسف کے پاس ان کے دس بھائی آئے تھے۔ تو آپ نے ان کو دس بار شتر دیئے۔ انہوں نے کہا : ہمارا ایک بوڑھا باپ بھی ہے اور ایک اور بھائی بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا باپ اپنے بڑھاپے اور شدت غم کی بناء پر نہیں آسکا۔ اور ان کا ایک اور بھائی جو ہے وہ اپنے باپ کی خدمت میں رہنے کی وجہ سے نہیں آسکا اور ان دونوں کو بھی زندہ رہنے کے لیے طعام کی ضرورت ہوگی۔ اس لیے براہ کرم دو بار شتر غلہ اور مرحمت فرمائیں۔ حضرت یوسف نے فرمایا : باپ تو خیر بوڑھا اور معذور ہے لیکن اس بھائی کو تمہیں اگلی بار لانا ہوگا ورنہ تم کو غلہ بالکل نہیں ملے گا۔

(٢) جب وہ لوگ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس آئے تو حضرت یوسف نے ان سے پوچھا : تم لوگ کون ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم لوگ شام کے رہنے والے ہیں اور بکریاں چراتے ہیں۔ ہم پر قحط آپڑا تو ہم غلہ خریدنے آئے ہیں۔ آپ نے پوچھا : تم لوگ جاسوسی کرنے تو نہیں آئے ؟ انہوں نے کہا : معاذ اللہ ! ہمارا باپ سچا نبی ہے اور ہم اس کے بیٹے ہیں۔ ان کا نام یعقوب ہے۔ حضرت یوسف نے پوچھا : تم کتنے بھائی ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم بارہ بھائی ہیں۔ ہم میں سے ایک فوت ہوگیا اور ایک باپ کے پاس ہے۔ اس کو دیکھ کر اسے فوت شدہ بھائی کے غم سے تسکین ہوتی ہے اور ہم دس بھائی ہیں جو آپ کے پاس ہیں۔ حضرت یوسف نے کہا : تم ایک کو یہاں بطور ضمانت چھوڑ کر جائو اور اگلی بار اس بھائی کو لے کر آنا۔ پھر انہوں نے قرعہ اندازی کرکے شمعون کو بطور رہن حضرت یوسف کے پاس چھوڑ دیا۔

(٣) جب انہوں نے اپنے باپ کا ذکر کیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے پوچھا : تم اپنے باپ کو اکیلا کیسے چھوڑ آئے ہو ؟ انہوں نے کہا ہم اس کو اکیلاچھوڑ کر نہیں آئے بلکہ ہمارا ایک بھائی ان کے پاس ہے۔ حضرت یوسف نے پوچھا : تمہارے باپ نے خصوصیت کے ساتھ اس کو ہی کیوں اپنے ساتھ رکھا ہے ؟ انہوں نے کہا : تمام اولاد میں وہ سب سے زیادہ اس سے محبت کرتا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا : تمہارا باپ عالم اور حکیم ہے وہ بلاوجہ اس سے اتنی محبت نہیں کرسکتا، ضرور اس میں کوئی خصوصیت ہوگی۔ اس کو میرے پاس لے کر آئو۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ اس میں کیا ایسی خاص بات ہے۔ حضرت یوسف نے بن یامین کو لانے کے لیے انہیں ترغیب بھی دی اور دھمکی بھی دی۔ ترغیب کے طور پر یہ فرمایا : کیا تم یہ نہیں دیکھتے کہ میں پورا پورا ناپ کردیتا ہوں اور میں بہترین مہمان نواز ہوں اور مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ آپ نے فرمایا : اگر تم اپنے بھائی کو لے آئے تو میں تم کو بطور انعام غلہ سے لدا ہوا ایک اونٹ دوں گا۔ اور دھمکی یہ دی کہ اگر تم اس کو میرے پاس نہیں لائے تو میرے پاس تمہارے لیے بالکل غلہ نہیں ہوگا۔ اور نہ ہی تم میرے قریب آ سکو گے۔

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بن یامین کو بلوا کر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو مزید رنج میں کیوں مبتلا کیا ؟

اس مقام پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو معلوم تھا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) بن یامین سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں اور اس کی جدائی میں ان کو بہت رنج اور قلق ہوگا تو انہوں نے بن یامین کو اپنے باپ کے پاس سے بلوانے کے لیے کیوں اقدام کیا اور اپنے باپ کو رنج اور قلق میں ڈالنے کا کیوں انتظام کیا ! اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں :

(١) ہوسکتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہو کہ وہ بن یامین کو بلوائیں اور انہوں نے اتباع وحی میں یہ اقدام کیا تاکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) مزید رنج اور غم میں مبتلا ہوں اور اس طرح ان کا ثواب اور زیادہ ہو۔

(٢) ہوسکتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ ارادہ ہو کہ اس کاروائی سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زندہ ہونے پر متنبہ ہوجائیں۔ کیونکہ خصوصیت سے بن یامین کو بلوانے والے حضرت یوسف ہی ہوسکتے تھے۔ وہ دونوں سگے بھائی تھے۔

(٣) حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ ارادہ ہو کہ جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اچانک دونوں بیٹے ملیں گے تو ان کو بہت زیادہ خوشی ہوگی۔

(٤) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بن یامین کو صرف ملاقات کے لیے بلایا تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اس کو مستقل اپنے ساتھ رکھ لیں گے اور جانے نہیں دیں گے۔ لیکن جب بن یامین کی حضرت یوسف سے ملاقات ہوئی اور دونوں نے اپنا اپنا حال سنایا تو بن یامین نے واپس جانے سے انکار کردیا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس رہنے پر اصرار کیا۔ تب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا : تم کو روکنے کی یہی صورت ہے کہ تم پر چوریکا الزام لگوا دیا جائے۔ بن یامین نے کہا : مجھے منظور ہے۔ (زادالمسیر ج ٤، ص ٢٤٩۔ ٢٤٦، تفسیر کبیر ج ٦، ص ٤٧٨۔ ٤٧٧، الجامع لاحکام القرآن، جز ٩، ص ١٩٤۔ ١٩٢) ۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 58