أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ لِفِتۡيٰنِهِ اجۡعَلُوۡا بِضَاعَتَهُمۡ فِىۡ رِحَالِهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَعۡرِفُوۡنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوۡۤا اِلٰٓى اَهۡلِهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ۞

ترجمہ:

یوسف نے اپنے کارندوں سے کہا ان کے پیسوں کی تھیلی ان کے سامان میں رکھ دو تاکہ جب یہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹیں تو اس کو پہچان لیں شاید وہ (پھر) واپس آجائیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یوسف نے اپنے کارندوں سے کہا ان کے پیسوں کی تھیلی ان کے سامان میں رکھ دو تاکہ جب یہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹیں تو اس کو پہچان لیں شاید وہ (پھر) واپس آجائیں پس جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹے تو انہوں نے کہا، اے ہمارے باپ ! ہمیں (آئندہ) غلہ لینے سے منع کردیا گیا ہے، آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیجئے تاکہ ہم غلہ لاسکیں، اور ہم یقینا اس کی حفاظت کریں گے (ان کے باپ نے) کہا کیا اس کے متعلق میں تم پر اس طرح اعتبار کروں جس طرح میں اس سے پہلے اس کے بھائی کے متعلق تم پر اعتبار کرچکا ہوں ؟ پس اللہ ہی سب سے بہتر حفاظت کرنے والا ہے اور وہی سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے (یوسف : ٦٤۔ ٦٢ )

مشکل الفاظ کے معنی :

وقال لفتیانہ : فتیان جمع قلت ہے یہ فتی کی جمع ہے۔ فتی کے معنی نوکر اور خادم ہیں۔ اس سے مراد غلہ کو ماپ کر بوریوں میں بھرنے والے ہیں۔ جمع کثرت کی وجہ یہ ہے کہ غلہ خریدنے کے لیے بکثرت لوگ آتے تھے۔ اس لیے اس کی پیمائش کرنے والے بھی زیادہ ہونے چاہئیں تھے۔

بضاعتھم : اس سے مراد غلہ کی قیمت ہے۔ یہ چاندی کے درہم تھے۔ رحال سے مراد ان کے غلہ کی بوریاں ہیں۔ منع مناالکیل : کیل کے معنی پیمائش ہے اور یہاں اس سے مراد مکیل ہے یعنی ہم کو غلہ لینے سے منع کردیا گیا ہے۔

نکتل : یعنی جب مانع اٹھ جائے گا اور ہم بھائی کو لے جائیں گے تو ہم اپنی ضرورت کے مطابق غلہ لے آئیں گے۔ (غرائب القرآن ورغائب الفرقان ج ٤، ص ١٠٤۔ ١٠٣، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٦ ھ)

بھائیوں کی بوریوں میں رقم کی تھیلی رکھنے کی وجوہ :

امام ابن اسحٰق نے کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے کارندوں سے کہا کہ انہوں نے غلہ کی جو قیمت دی ہے وہ ان کی بوریوں میں رکھ دو اور اس طرح رکھو کہ ان کو بالکل پتا نہیں چلے۔ تاکہ جب یہ گھر لوٹیں تو اس رقم کو دیکھ کر دوبارہ آجائیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کس حکمت کی وجہ سے وہ تھیلی ان کی بوریوں میں رکھوائی تھی۔ اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) جب وہ گھر جا کر بوریاں کھولیں گے اور ان کو اپنی قیمت واپس مل جائے گی تو وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کرم اور آپ کی سخاوت سے متاثر ہوں گے اور دوبارہ جانے کے لیے راغب ہوں گے جب کہ انہیں غلہ کی طلب بھی تھی۔

(٢) حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یہ خطرہ تھا کہ شاید ان کے باپ کے پاس مزید غلہ خریدنے کے لیے رقم نہ ہو اس لیے انہوں نے وہ قیمت بوریوں میں رکھ دی۔

(٣) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ ارادہ کیا کہ وہ قحط کا زمانہ ہے۔ ہوسکتا ہے ان کے باپ کا ہاتھ تنگ ہو تو وہ اس طرح باپ کی کچھ خدمت کردیں۔

(٤) ایام قحط میں جب ان کے بھائیوں اور باپ کو غلہ کی سخت ضرورت تھی تو ایسے حالات میں انہوں نے ان کو قیمتاً غلہ دیناصلہ رحم کے خلاف اور برا جانا۔ اس لیے چپک کے سے وہ رقم واپس کردی۔

(٥) حضرت یوسف (علیہ السلام) کا گمان تھا کہ جب ان کے بھائی سامان میں رقم کی تھیلی دیکھیں گے تو یہ خیال کریں گے کہ شاید سہو اور نسیان سے ان کی یہ رقم ہماری بوریوں میں آگئی ہے اور وہ انبیاء کی اولاد ہیں۔ وہ ضرور اس رقم کو واپس کرنے آئیں گے یا یہ معلوم کرنے آئیں گے کہ آخر کس سبب سے ہماری بوریوں میں یہ رقم کی تھیلی آگئی۔

(٦) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس طریقہ سے ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہا اور ایسے طریقہ سے کہ ان پر حضرت یوسف کا احسان ظاہر ہو اور نہ ان کو عار محسوس ہو۔

(٧) حضرت یوسف (علیہ السلام) یہ چاہتے تھے کہ وہ یہ جان لیں کہ میں جو ان کے بھائی کو بلوا رہا ہوں تو اس پر ظلم کرنے کے لیے نہیں بلا رہا اور نہ غلہ کے دام چڑھانے کے لیے بلا رہا ہوں۔

(٨) حضرت یوسف (علیہ السلام) یہ چاہتے تھے کہ ان کے والد کو یہ معلوم ہوجائے کہ حضرت یوسف ان کے بیٹوں پر کریم ہیں تاکہ وہ اپنے بیٹے کو ان کے پاس بھیجنے میں خطرہ محسوس نہ کریں۔

(٩) چونکہ یہ تنگی کا زمانہ تھا اس لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) یہ چاہتے تھے کہ ان کی مچھ مدد ہوجائے اور چونکہ چوروں اور ڈاکوئوں کا خطرہ تھا اس لیے اس رقم کو بوریوں میں چھپا کر رکھ دیا۔

(١٠) حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے ان کے ساتھ انتہائی ظالمانہ اور بےرحمانہ سلوک کیا تھا۔ جو اب میں حضرت یوسف یہ چاہتے تھے کہ ان کے ساتھ انتہائی کریمانہ اور فیاضانہ سلوک کریں۔

حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے سب سے افضل عمل بتائیے ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عقبہ ! جو شخص تم سے تعلق توڑے تم اس سے تعلق جوڑو، جو تم کو محروم کرے، اس کو عطا کرو اور جو تم پر ظلم کرے اس سے درگزر کرو۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٤٠٦، مسند احمد رقم الحدیث : ١٧٤٦٧، عالم الکتب، اتحاف السادۃ المتقین ج ٩، ص ٢٥ ) ۔

امام ابن النجار نے حضرت علی (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص تم سے تعلق توڑے تو اس سے تعلق جوڑو اور جو تم سے برا سلوک کرے، تم اس سے اچھا سلوک کرو اور حق بات کہو۔ خواہ وہ تمہارے خلاف ہو۔ (کنزالعمال رقم الحدیث : ٦٩٢٩ )

بدی را بدی سہل باشد جزا 

اگر مروی احسن الی من اسا 

(سعدی شیرازی)

(برائی کا جواب برائی سے دینا بہت آسان ہے۔ مردانگی تو یہ ہے کہ برا سلوک کرنے والے سے اچھا سلوک کرو)

برائی کا جواب اچھائی سے دینے میں ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نمونہ :

بیشک حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کی بدسلوکی کے جواب میں نیک سلوک کیا۔ لیکن ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت میں ایسی بکثرت مثالیں ہیں جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کی بدسلوکی کے مقابلہ میں ان کے ساتھ حسن سلوک کیا۔

امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طبعاً بدزبانی کرتے تھے نہ تکلفاً ۔ نہ بازار میں شور کرتے تھے اور نہ برائی کا جواب برائی سے دیتے تھے۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معاف کردیتے تھے اور درگزر فرماتے تھے۔ (شمائل ترمذی رقم الحدیث : ٣٤٨، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠١٦، مسند احمد ج ٦، ص ١٧٤، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٨، ص ٣٣٠، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٢٤٠٩، موارد انطمان رقم الحدیث : ٢١٣١، سنن کبریٰ للبیہقی ج ٧ ص ٤٥ )

۔ حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی کسی شخص سے اس کی زیادتی کا بدلہ نہیں لیتے تھے۔ جب تک اللہ تعالیٰ کی حدود کو نہ توڑا جائے۔ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی حدود کو توڑتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ غضب ناک ہوتے تھے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبھی دو چیزوں میں سے کسی چیز کا اختیار نہیں دیا گیا مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس چیز کو اختیار فرماتے جو زیادہ آسان ہوتی بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو۔ (شمائل ترمذی رقم الحدیث : ٣٥٠، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٢٧، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٨٥، مسند احمد ج ٦ ص ٨٥، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٧٩٤٢، مسند ابویعلیٰ رقم الحدیث : ٤٣٧٥، مسند حمیدی رقم الحدیث : ٢٥٨، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٤١٠) ۔

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عظیم حلم یہ ہے کہ جنگ احد میں کافر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف جنگ کرنے آئے تھے۔ انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نچلا سامنے کا دانت شہید کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نچلا ہونٹ زخمی کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ خون سے رنگین ہوگیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٠٧٥)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ گویا میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انبیاء سابقین میں سے کسی نبی کا ذکر فرما رہے تھے۔ ان کا چہرہ ان کی قوم نے خون سے رنگین کردیا۔ وہ اپنے چہرے سے خون پونچھ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ اے اللہ ! میری قوم کو بخش دے کیونکہ وہ مجھے نہیں جانتے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤٧٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٩٢، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٥٧٦)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکین کے خلاف دعاء ضرور کیجئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا۔ مجھے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٩٩) ۔

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ جنگ خندق کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ مشرکین کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے۔ انہوں نے ہمیں عصر کی نماز پڑھنے سے (اپنے خلاف لڑائی میں) مشغول رکھا حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٩٣١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٢٧، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٠٩، سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٧٢) ۔

اس حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کے خلاف دعاء ضرر فرمائی ہے اور حدیث سابق میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعاء ضرر سے منع فرمایا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کو جو اذیت پہنچائی جاتی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو معاف فرما دیتے اور دعاء ضرر نہیں فرماتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی عبادات میں جو خلل ڈالا جاتا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو معاف نہ کرتے اور خلل ڈالنے والوں کے خلاف دعاء ضرر فرماتے تھے۔ برائی کا جواب بھلائی سے دینے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلق کریم پر یہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے۔

حضرت زید بن سعنہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ یہودی علماء میں سے ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اپنے قرض کا تقاضا کرنے کے لیے آیا۔ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دائیں کندھے سے چادر پکڑ کر کھینچی اور کہا : اے عبدالمطلب کی اولاد ! تم لوگ بہت دیر سے قرض کی ادائیگی کرتے ہو اور میں تم لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے اس کو ڈانٹا۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے اور اس شخص کو کسی اور چیز کی تلقین کی ضرورت ہے۔ تم مجھے اچھی طرح سے ادائیگی کی تلقین کرتے اور اس شخص کو احسن طریقہ سے تقاضا کرنے کی تلقین کرتے۔ اے عمر ! جائو، اس کا قرض ادا کرو۔ ابھی اس کی مدت ختم ہونے میں تین دن باقی تھے۔ تم اس کو تیس صاع (تقریباً تین من) غلہ زیادہ دینا۔ کیونکہ تم نے اس پر سختی کی تھی۔ امام حاکم نے کہا : اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اس کو روایت نہیں کیا۔ (المستدرک ج ٢، ص ٣٢، سنن کبریٰ للبیہقی ج ٦، ص ٥٦، کنزالعمال رقم الحدیث : ١٥٠٥٠ ) ۔

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جا رہا تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک نجرانی سخت چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ ایک دیہاتی نے اس چادر کو پکڑ کر زور سے کھینچا حتیٰ کہ میں نے دیکھا کہ اس کے زور سے کھینچنے کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کندھے کے اوپر نشان پڑگئے تھے۔ پھر اس نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو اللہ نے مال دیا ہے اس میں سے میرے لیے حکم کیجئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف مڑ کر دیکھا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنسے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو دینے کا حکم دیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣١٤٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٥٧، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٥٥٣ ) ۔

اس حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عظیم عفو اور درگزر کا بیان ہے اور یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان پر جو اذیت ہوتی تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو برداشت کرتے تھے اور سخت طبیعت دیہاتیوں کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حسن تدبر سے درگزر فرماتے تھے۔ حالانکہ وہ وحشی جانوروں کی طرح غیرمانوس اور بہت جلد متنفر ہونے والے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خلق عظیم کے حامل تھے اور اس آیت کے مصداق اتم تھے : فبما رحمۃ من اللہ لنت لھم ولو کنت جظا غلیظ القلب لانفضوا من حولک۔ (الاٰیۃ۔ (آل عمران : ١٥٩) پس آپ اللہ کی رحمت سے ان کے لیے نرم دل ہوئے اور اگر آپ بدمزاج اور سخت دل ہوتے تو وہ ضرور آپ کے پاس سے بھاگ جاتے۔

حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بن یامین کو بھیجنے کی وجوہ :

ایک سوال یہ ہے کہ جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) یہ تجربہ کرچکے تھے کہ انہوں نے بھائیوں کے کہنے پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے ساتھ بھیج دیا تھا اور پھر وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر نہیں آئے اور کہہ دیا کہ ان کو بھیڑیا کھا گیا اور بالآخر ان کا جھوٹ ثابت ہوگیا تو دوبارہ ان کے کہنے کی وجہ سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) بن یامین کو بھیجنے پر کیسے تیار ہوگئے ؟ اس کے حسب ذیل جوابات ہیں :

(١) وہ بھائی اب کافی بڑے ہوچکے تھے اور نیکی اور تقویٰ کی طرف مائل ہوچکے تھے اور اب ان سے سابقہ کاروائی کی توقع نہیں تھی۔

(٢) حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ مشاہدہ کرلیا تھا یہ لوگ بن یامین سے اس طرح حسد اور بغض نہیں رکھتے، جس طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) سے حسد اور بغض رکھتے تھے۔

(٣) ہرچند کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں پر پہلے اعتماد کرنے کا تجربہ تلخ تھا لیکن قحط کی وجہ سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہوگئے۔

(٤) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی طرف وحی کی ہو اور اس وجہ سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) تیار ہوگئے ہوں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 62