أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ يٰبَنِىَّ لَا تَدۡخُلُوۡا مِنۡۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادۡخُلُوۡا مِنۡ اَبۡوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ‌ؕ وَمَاۤ اُغۡنِىۡ عَنۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍؕ‌ اِنِ الۡحُكۡمُ اِلَّا لِلّٰهِ‌ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ‌ۚ وَعَلَيۡهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُتَوَكِّلُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور اس نے کہا اے میرے بیٹو ! (شہر میں) تم سب ایک دروازہ سے نہ داخل ہونا، اور الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا، اور میں تم کو اللہ کی تقدیر سے بالکل بچا نہیں سکتا حکم تو صرف اللہ کا چلتا ہے، میں نے اسی پر توکل کیا ہے، اور توکل کرنے والوں کو اسی پر توکل کرنا چاہیے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس نے کہا اے میرے بیٹو ! (شہر میں) تم سب ایک دروازہ سے نہ داخل ہونا، اور الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا، اور میں تم کو اللہ کی تقدیر سے بالکل بچا نہیں سکتا حکم تو صرف اللہ کا چلتا ہے، میں نے اسی پر توکل کیا ہے، اور توکل کرنے والوں کو اسی پر توکل کرنا چاہیے اور جب وہ وہاں سے داخل ہوئے جہاں سے داخل ہونے کا ان کے باپ نے حکم دیا تھا اور وہ اللہ کی تقدیر سے بالکل بچا نہیں سکتا تھا، مگر وہ یعقوب کے دل کی ایک خواہش تھی، جو اس نے پوری کرلی، بیشک وہ صاحب علم تھے، کیونکہ ہم نے ان کو علم عطا کیا تھا، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (یوسف : ٦٨۔ ٦٧ )

نظر لگنے کے متعلق احادیث :

حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے یہ دس بیٹے بہت خوب صورت اور بہت باکمال تھے۔ مصر کے چار دروازے تھے۔ جب دس بیٹے مصر روانہ ہونے لگے تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یہ خدشہ ہوا کہ اگر دس کے دس ایک دروازے سے داخل ہوئے تو ان پر دیکھنے والوں کی نظر لگ جائے گی۔ اس لیے انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹو ! تم سب ایک دروازے سے مت داخل ہونا بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا۔

نظر لگنے کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نظر برحق ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھورنے سے منع فرمایا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٤٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٨٧، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٨٧٩، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٦١، مسند احمد رقم الحدیث : ٧٨٧٠، مسند البزار رقم الحدیث : ٣٠٤٧، مسند ابویعلیٰ رقم الحدیث : ١٥٨٤، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٣٥٦١ ) ۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے نظر بد کے دم کرانے کا حکم دیا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٣٨، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٩٥، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٧٥٣٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٥١٢، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٨، ص ٣٧، ٣٦، مسند احمدج ٦، ص ١٣٨، ٦٣، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦١٠٣، المستدرک ج ٤، ص ٤١٢، سنن کبریٰ للبیہقی ج ٩، ص ٣٤٧، شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٢٤٢ ) ۔

حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے گھر میں ایک بچی کو دیکھا جس کے چہرہ کا رنگ متغیر ہو رہا تھا (اس کا رنگ سرخی مائل سیاہ تھا یا زرد تھا، بہرحال اس کے چہرے کا رنگ اصل رنگ کے خلاف تھا) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس پر دم کرائو کیونکہ اس پر نظر لگی ہوئی ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٣٩ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٩٧) ۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حسن اور حسین (رض) کو دم کرتے ہوئے فرماتے تھے، تمہارے باپ حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق (علیہم السلام) بھی دم کرتے ہوئے فرماتے تھے : میں (تم کو) شیطان، ہر زہریلے کیڑے اور نظر لگانے والی آنکھ سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣٧١، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٦٠، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٧، ص ٤٩، ٤٨، ج ١٠، ص ٣١٥، مسند احمد ج ١، ص ٢٧٠، ٢٣٦، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٣٧، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٥٢٥ ) ۔

حضرت اسماء بنت عمیس (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جعفر کی اولاد پر نظر بہت جلد لگتی ہے۔ کیا میں اس پر دم کرایا کروں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت کرسکتی ہے تو نظر تقدیر پر سبقت کرسکتی ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٥٩، مسند الحمیدی رقم الحدیث : ٣٣٠، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٨، ص ٥٦، مسند احمد ج ٦، ص ٤٣٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٥١٠، شرح السنہ رقم الحدیث : ٤٢٤٣ ) ۔

ابو امامہ بن سہل بن حنیف بینا کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ سہل بن حنیف نے خرار (مدینہ کی ایک وادی) میں غسل کیا۔ اور انہوں نے اپنا جبہ اتار اور عامر بن ربیعہ ان کو دیکھ رہے تھے۔ اور سہل گورے رنگ کے بہت خوبصورت شخص تھے۔ عامر بن ربیعہ نے انہیں دیکھ کر کہا : اتنے گورے رنگ کا اتنا خوبصورت شخص میں نے اس سے پہلے نہیں دیکھا۔ سہل کو اسی وقت بخار چڑھ گیا۔ پھر ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر بتایا کہ سہل کو بہت تیز بخار چڑھ گیا ہے اور وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جا نہیں سکتا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سہل کے پاس تشریف لے گئے اور سہل نے بتایا کہ اس طرح مجھے عامر نے نظربھر کر دیکھا تھا۔ پھر مجھے بخار چڑھ گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عامر سے فرمایا : تم کیوں اپنے بھائی کو قتل کرتے ہو اور تم نے یہ کیوں نہیں کیا : تبارک اللہ احسن الخالقین اللھم بارک فیہ۔ (جب دیکھنے والا کسی اچھی چیز کو دیکھ کر دیہ کہے گا تو اس کی نظر نہیں لگے گی) بیشک نظر کا لگنا برحق ہے۔ تم اس کے لیے وضو کرو۔ عامر نے ان کے لیے وضو کیا۔ پھر وہ بالکل تندرست ہو کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چلے گئے۔ سنن ابن ماجہ میں ہے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو حکم دیا کہ اپنے چہرے کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوئے اور گھٹنوں کو اور ازار کے اندر جسم کا حصہ دھوئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ اس کے غسالہ کو سہل کے اوپر بہایا جائے۔ (موطا امام مالک رقم الحدیث : ١٧٤٧، ١٧٤٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٥٠٩، سنن کبریٰ للبیہقی ج ٩، ص ٣٥١، مسند احمد ج ٣، ص ٤٨٦، عمل الیوم واللیلہ للنسائی رقم الحدیث : ٢٠٩)

نظر بد میں مذاہب اور اس سے متعلق شرعی احکام :

ان احادیث میں یہ تصریح ہے کہ نظر کا لگنا برحق ہے اور نظر کبھی انسان کو قتل بھی کردیتی ہے۔ جیسا کہ موطا کی اس حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : تم اپنے بھائی کو کیوں قتل کرتے ہو ؟ اس پر تمام امت کے علماء کا اجماع ہے اور یہی اہل سنت کا مذہب ہے۔ بعض بدعتی فرقوں نے نظر لگنے کا انکار کیا ہے۔ لیکن احادیث صحیحہ، امت کا اجماع اور مشاہدہ ان کے انکار کو رد کرتا ہے۔ کتنے لوگ ایسے ہیں جو نظر لگنے کی وجہ سے اپنی جان کھو بیٹھے۔ تاہم نظر کا لگنا یا نہ لگنا اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے اذن پر موقوف ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وماھم بضآرین بہٖ من احد الا باذن اللہ۔ (البقرہ : ١٠٢)۔ اور وہ اللہ کے اذن کے بغیر اس جادو سے کسی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتے تھے۔

اصمعی نے کہا : میں نے ایک شخص کو دیکھا۔ اس کی نظر بہت لگتی تھی۔ اس نے سنا کہ ایک گائے بہت زیادہ دودھ دیتی ہے۔ اس کو یہ بہت اچھا لگا۔ اس نے پوچھا : وہ کون سی گائے ہے ؟ لوگوں نے کوئی اور گائے بتائی اور اس کو مخفی رکھا۔ لیکن وہ دونوں گائیں مرگئیں۔ اصمعی نے کہا : میں نے اس شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب مجھے کوئی چیز اچھی لگتی ہے اور میں اس کو دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں سے ایک قسم کی حرارت خارج ہوتی ہے۔ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ جب اس کو کوئی چیز اچھی لگے تو وہ یہ کہے : تبارک اللہ احسن الخالقین اللھم بارک فیہ۔ اللہ برکت والا ہے جو سب سے حسین پیدا کرنے والا ہے، اے اللہ ! اس چیز میں برکت دے۔ جب کوئی شخص کسی اچھی چیز کو دیکھ کر یہ کہے گا تو پھر اس کی نظر نہیں لگے گی جیسا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عامر بن ربیعہ کو ارشاد فرمایا تھا۔ جس شخص نے یہ کلمات نہیں کہے اور اس کی نظر لگ گئی تو اس کو غسل کرنے کا حکم دیا جائے اور اگر وہ غسل نہ کرے تو اس کو غسل کرنے پر مجبور کیا جائے۔ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا امروجوب کے لیے ہے۔ خصوصاً اس صورت میں کہ جب اس شخص کی ہلاکت کا خطرہ ہو جس پر اس کی نظر لگی ہے۔ اور کسی شخص کے لیے اپنے بھائی کو نفع سے روکنا اور اس کو ضرر پہنچانا جائز نہیں ہے اور غسل کے بعد اس شخص کا غسالہ اس پر بہایا جائے جس پر نظر لگی ہے۔ جس شخص کی نظر کا لگنا مشہور ہو، اس کو لوگوں کے پاس جانے سے روک دیا جائے تاکہ لوگوں کا ضرر نہ ہو۔ بعض علماء نے کہا کہ قاضی یا حاکم کو چاہیے کہ اسے اس کے گھر میں بند کر دے اور اگر وہ تنگ دست ہو تو اس کو سرکاری طور پر رزق بھی مہیا کرے اور لوگوں کو اس کی اذیت سے بچائے اور ایک قول یہ ہے کہ اس کو شہر بدر کردیا جائے۔ لیکن موطا امام مالک کے حوالے سے جو حدیث ہم نے ذکر کی ہے وہ ان اقوال کو مسترد کرتی ہے۔ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عامر بن ربیعہ کو گھر میں بند کیا تھا نہ شہر بدر کیا تھا۔ بلکہ کبھی کسی نیک آدمی کی بھی نظر لگ جاتی ہے۔ اور یہ کوئی عیب کی بات نہیں اور نہ ہی اس کی وجہ سے کسی کو فاسق کہا جاسکتا ہے۔ بعض احادیث میں نظر لگ جانے کے بعد دم کرانے کا ارشاد ہے اور بعض احادیث میں جس کی نظر لگی ہے، اس کو غسل کرا کر اس کے غسالہ کو اس پر ڈالنے کا حکم ہے جس پر نظر لگی ہے۔ ان میں تطبیق اس طرح ہے کہ اگر یہ معلوم نہ ہو کہ کس کی نظر لگی ہے تو دم کرایا جائے (دم کے کلمات حدیث میں مذکور ہیں) اور اگر یہ معلوم ہو کہ فلاں شخص کی نظر لگی ہے تو اس کو غسل کرنے کا حکم دیا جائے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٩، ص ١٩٩۔ ١٩٧)

نظر بد کی تاثیرات کی تحقیق :

بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کسی شخص کے دیکھنے سے دوسرے شخص کو ضرر کیوں کر پہنچ جاتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ لوگوں کی طبائع اور ان کے بدنوں کی کیفیات مختلف ہوتی ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دیکھنے والے کی آنکھ سے زہر نکل کر دوسرے کے بدن میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کی نظیر یہ ہے کہ جس شخص کو آشوب چشم ہو اور تندرست آدمی اس کو دیکھے تو اس کو بھی بیماری لگ جاتی ہے۔ اس طرح بعض بیماریوں میں تندرست آدمی بیماروں کے پاس بیٹھے تو اس کو وہ بیماری لگ جاتی ہے۔ اگر کسی آدمی کو جماہیاں آرہی ہوں تو اس کے پاس بیٹھے ہوئے شخص کو بھی جماہیاں آنے لگی ہیں۔ اسی طرح افعیٰ (سانپ) کے ساتھ نظر ملانے سے بھی اس کا زہر سرایت کرجاتا ہے۔ لیکن اہلسنت کا مذہب یہ ہے کہ کسی شخص کی نظر سے ضرر کا پہنچنا اس وجہ سے ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی عادت جاریہ ہے اور اس کے اذن اور اس کی مشیت پر موقوف ہے۔ حدیث میں ہے :

حضرت ابن عمر (رض) عنمہا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منبر پر دوران خطبہ فرمایا : سفید دھاری دار سانپ اور دم بریدہ سانپ کو قتل کردو کیونکہ یہ دونوں بصارت کو زائل کردیتے ہیں اور حمل کو ساقط کردیتے ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٢٩٧، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٩٦١٦، مسند حمیدی رقم الحدیث : ٦٢، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٥٢٥٢، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٤٨٣، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٥٣٥) ۔

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ سفید دھاریوں والے سانپ کے دیکھنے سے بصارت چلی جاتی ہے اور حمل ساقط ہوجاتا ہے۔ اس طرح بعض افاعی (سانپ) ایسے ہیں کہ ان کی نظر سے انسان ہلاک ہوجاتا ہے۔ اور یہ عام مشاہدہ ہے کہ اسی طرح انسان کا بعض لوگوں سے اس نوع کا تعلق ہوتا ہے کہ ان کے دیکھنے سے انسان کا چہرہ شرمندگی سے سرخ ہوجاتا ہے۔ اور بعض لوگوں سے انسان اس قدر خوف زدہ ہوجاتا ہے کہ ان کے دیکھنے سے اس کا چہرہ زرد پڑجاتا ہے اور یہ سب نظر کی تاثیرات ہیں۔ اسی طرح بعض لوگوں کے دیکھنے سے انسان بیمار پڑجاتا ہے اور بعض کو دیکھنے سے انسان ہلاک ہوجاتا ہے اور یہ روح کی تاثیرات ہیں اور ارواح مختلف ہوتی ہیں۔ بعض روحوں کی طبائع، کیفیات، قوتیں اور خواص بہت جلد تاثیر کرتی ہیں کیونکہ وہ روح بہت خبیث ہوتی ہے اور محض کسی شخص کو دیکھتے ہی اس میں تاثیر کرتی ہے اور بعض روحیں دوسرے شخص کے دن کے ساتھ اتصال کے بعد تاثیر کرتی ہیں۔ اور اس کی آنکھوں سے ایک معنوی تیر نکل کر دوسرے کے جسم میں پیوست ہوجاتا ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کے اذن اور اس کی مشیت کے بغیر یہ تاثیر نہیں ہوتی اور اس کا علاج یہ ہے کہ اگر معلوم ہوجائے کہ فلاں شخص کی نظر لگی ہے تو اس کو غسل کرا کر اس کا غسالہ نظر لگنے والے شخص پر ڈالا جائے ورنہ یہ دعا کرکے اس پر دم کیا جائے : اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من کل شیطان وھامۃ ومن کل عین لامۃ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣٧١) ۔ میں ہر شیطان اور ہر زہریلے کیڑے اور ہر نظر بد سے اللہ کے کلمات تامہ کی پناہ طلب کرتا ہوں۔ (فتح الباری ج ٣، ص ٢٠١۔ ٢٠٠، ملخصاً مطبوعہ لاہور، ١٤٠١ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 67