أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلٰى يُوۡسُفَ اٰوٰٓى اِلَيۡهِ اَخَاهُ‌ قَالَ اِنِّىۡۤ اَنَا اَخُوۡكَ فَلَا تَبۡتَئِسۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

جب وہ یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس ٹھیرایا، اور بتایا کہ میں تمہارا بھائی ہوں، سو تم اس بدسلوکی پر غمگین نہ ہونا جو یہ کرتے رہے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب وہ یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس ٹھیرایا، اور بتایا کہ میں تمہارا بھائی ہوں، سو تم اس بدسلوکی پر غمگین نہ ہونا جو یہ کرتے رہے تھے پھر جب یوسف نے ان کا سامان تیار کیا تو اس نے (شاہی) پیالہ اپنے بھائی کی بوری میں رکھ دیا، پھر منادی نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو ! بیشک تم ضرور چور ہو انہوں نے ان کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا تمہاری کیا چیز گم ہوگئی ہے ؟ کارندوں نے کہا بادشاہ کا پیالہ گم ہوگیا ہے اور جو اس کو لے کر آئے گا اس کو غلہ سے لدا ہوا ایک اونٹ ملے گا اور میں اس کا ضامن ہوں (یوسف : ٧٢۔ ٦٩ )

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بن یامین کو یہ بتانا کہ میں تمہارا بھائی ہوں :

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : امام ابن اسحاق نے کہا جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے، حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا یہ ہمارا وہ بھائی ہے جس کے متعلق آپ سے کہا تھا کہ اس کو لے کر آنا۔ اب ہم اس کو لے کر آئے ہیں۔ حضرت یوسف نے فرمایا : تم نے اچھا کیا اور درست کیا۔ اور تم کو عنقریب اس پر انعام ملے گا۔ پھر فرمایا : میں تمہاری ضیافت اور تکریم کرنا چاہتا ہوں۔ پھر آپ نے دو ، دو کو کھانے پر بٹھایا، اور ان کو عمدہ کھانے پیش کیے۔ پھر بن یامین کے متعلق فرمایا : یہ اکیلا وہ گیا ! اس کو میں اپنے ساتھ بٹھا لیتا ہوں اور دو ، دو کو ایک ایک کمرہ میں ٹھہرایا اور فرمایا : بن یامین کو میں اپنے کمرہ میں ٹھہرا لیتا ہوں۔ پھر تنہائی میں بن یامین کو بتایا کہ میں تمہار سگا بھائی یوسف ہوں۔ تمہارے یہ بھائی جو کچھ بدسلوکی کرتے رہے ہیں، تم اس پر غم نہ کرنا۔ (جامع البیان جز ١٣، ص ٢١۔ ٢٠، تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٧، ص ٢١٧٠) ۔

امام عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی متوفی ٢٥٥ ھ روایت کرتے ہیں : وہب بن منبہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت یوسف نے دو ، دو کو ایک ساتھ دستر خوان پر بٹھایا اور بن یامین کو اکیلا بٹھایا۔ وہ رونے لگے اور کہنے لگے اگر میرا بھی بھائی ہوتا تو آپ مجھے اس کے ساتھ بٹھاتے۔ حضرت یوسف نے کہا : میں اس کو اکیلا دیکھ رہا ہوں۔ سو میں اس کو اپنے ساتھ بٹھا لیتا ہوں۔ پھر جب رات ہوئی تو دو ، دو کو ایک کمرا دیا۔ بن یامین اکیلے رہ گئے تو کہا اس کو میں اپنے ساتھ کمرے میں رکھ لیتا ہوں۔ تنہائی میں حضرت یوسف نے کہا : کیا تمہارا کوئی ماں شریک بھائی ہے۔ اس نے کہا : ہاں میرا ایک ماں شریک بھائی تھا۔ وہ ہلاک ہوگیا۔ حضرت یوسف نے کہا : کیا تم یہ پسند کرو گے کہ تمہارے اس ہلاک شدہ بھائی کے قائم مقام میں تمہارا بھائی ہو جائوں ؟ بن یامین نے کہا : اے بادشاہ ! آپ جیسا بھائی کس خوش نصیب کا ہوگا ؟ لیکن آپ یعقوب (علیہ السلام) سے پیدا نہ ہوئے نہ راحیل سے ؟ پھر حضرت یوسف رونے لگے اور اس کو گلے لگا لیا اور فرمایا : میں تمہارا بھائی یوسف ہوں اور تم اب غم نہ کرنا یعنی وہ جو ہم پر حسد کرتے رہے تھے اور ہمارے باپ کی توجہ اپنی طرف پھیرنے کی جو کوشش کرتے رہے تھے، اس پر اب تم غم نہ کرنا۔ (زادالمسیر ج ٤، ص ٢٥٦۔ ٢٥٥، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

اس اعتراض کا جواب کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بن یامین کو روک کر باپ کی مزید در آزاری کی :

جب بن یامین نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو پہچان لیا تو حضرت یوسف نے کہا : مجھے ان کی طرف نہ لوٹائیں۔ حضرت یوسف نے کہا : تمہیں معلوم ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو پہلے ہی میری وجہ سے کتنا غم اٹھانا پڑا تھا۔ پھر ان کا غم اور زیادہ ہوجائے گا۔ بن یامین نے واپس جانے سے انکار کیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا : تمہیں روکنا صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ تم پر چوری کا الزام لگا دیا جائے۔ بن یامین نے کہا کوئی پرواہ نہیں۔ پھر حضرت یوسف نے چپکے سے شاہی پیالہ بن یامین کی بوری میں رکھ دیا۔ انہوں نے خود وہ پیالہ اس طرح رکھا تھا کہ کسی کو پتا نہیں چل سکا، یا اپنے بعض خاص خدام کا اس کو حکم دیا تھا۔ قرآن مجید میں اس پیالے کے لیے دو لفظ ہیں السقایہ اور صواع، السقایہ کا معنی پانی پینے کا پیالہ ہے اور صواع کا معنی پیمانہ ہے۔ یہ سونے اور چاندی کا ایک برتن تھا۔ اس سے پانی بھی پیا جاتا تھا اور اس سے ماپ کر غلہ بھی دیا جاتا تھا۔ حسن بصری، مجاہد اور قتادہ سے روایت ہے کہ یہ پانی پینے کا برتن تھا۔ (جامع البیان جز ١٣، ص ٢٢، الجامع لاحکام القرآن، جز ٩، ص ٢٠٠) ۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت یوسف کو یہ علم تھا کہ بن یامین کے واپس نہ پہنچنے سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو مزید غم ہوگا تو پھر انہوں نے بن یامین کی بات کیوں مان لی اور ایسا کام کیوں کیا جس کے نتیجے میں ان کے باپ کو صدمہ پہنچتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے وحی کے ذریعہ جان لیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی یہی مشیت ہے۔ اور ان کے اقدام کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ بن یامین کے نہ پہنچنے کے بعد بھی حضرت یعقوب (علیہ السلام) ، حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یاد کرتے رہے تھے اور وہ کہتے تھے یاسفی علی یوسف۔

بے قصور قافلہ والوں کو چور کہنے کی توجیہ :

پھر منادی نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو ! تم ضرور چور ہو ! اس جگہ یہ اعتراض ہوتا ہے کہ منادی نے یہ اعلان اگر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حکم سے کیا تھا تو ایک رسول برحق کے لیے یہ کیسے جائز تھا کہ وہ بےقصور لوگوں پر بہتان باندھیں اور ان پر چوری کی جھوٹی تہمت لگائیں۔ اور اگر انہوں نے یہ حکم نہیں دیا تھا تو انہوں نے بعد میں منادی کا رد کیوں نہیں کیا کہ تم ان کو چور کہہ رہے ہو۔ یہ تو بےقصور ہیں ! اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں :

(١) حضرت یوسف (علیہ السلام) بن یامین سے پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ تمہیں روکنے کا صرف یہی طریقہ ہے تو گویا ان کی رضامندی سے ان کو چور کہا جا رہا تھا۔

(٢) حضرت یوسف (علیہ السلام) کی مراد یہ تھی کہ تم نے یوسف کو اس کے باپ سے چرایا تھا اور چرا کر پہلے کنوئیں میں ڈالا پھر قافلہ والوں کے ہاتھ غلام بنا کر بیچ دیا۔ تو یہ کلام بطور توریہ تھا۔ اس کلام سے حضرت یوسف کی مراد یہ تھی کہ تم یوسف کو چرانے والے ہو اور اس کلام کا ظاہر یہ تھا کہ تم شاہی پیمانہ چرانے والے ہو۔

(٣) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ منادی کا یہ کلام بطور استفہام ہو۔ یعنی اس نے پوچھا ہو کہ آیا تم چور ہو ؟

(٤) قرآن مجید میں یہ مذکور نہیں ہے کہ منادی نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حکم سے یہ اعلان کیا تھا یا ان کو اس اعلان کا علم تھا اور ظاہر یہ ہے کہ کارندوں نے اپنے طور پر اس پیالہ کو تلاش کیا اور اجب ان کو وہ نہیں ملا تو ان کو شبہ ہوا کہ ہوسکتا ہے کہ ان لوگوں نے اس پیالہ کو اپنی بوریوں میں رکھ لیا ہو۔ انہوں نے ان کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا : تمہاری کیا چیز گم ہوگئی ہے ؟ کارندوں نے کہا : بادشاہ کا پیالہ گم ہوگیا ہے اور جو اس کو لے کر آئے گا، اس کو غلہ سے لدا ہوا ایک اونٹ ملے گا اور میں اس کا ضامن ہوں۔

جُعل (کسی چیز کو ڈھونڈنے کی اجرت) کی تحقیق :

اس آیت میں ذکر ہے : جو شخص شاہی پیالے کو ڈھونڈ کر لائے گا اس کو میں ایک بار شتر دوں گا۔ اس میں جُعل کا ثبوت دوں گا۔ جُعل کا لغوی معنی ہے کہ کسی کام کی اجرت، مجاہدین کو جو رقم دی جاتی ہے تاکہ وہ اس سے سامان جہاد خریدں، اس کو بھی جُعل کہتے ہیں۔ اصطلاح شرع میں اس کا معنی ہے کسی معین کام پر معین عوض عطا کرنا۔ فقہاء مالکیہ کے نزدیک اس کا معنی ہے ظنی منفعت کے حصول کے لیے کسی کو اجرت دینا۔ جیسے صحت اور شفاء کے حصول کے لیے طبیت کو اجرت دینا۔ یا تعلیم میں مہارت کے حصول کے لیے معلم کو اجرت دینا یا بھاگے ہوئے غلام کو ڈھونڈنے کے لیے کسی کو اجرت دینا۔ عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں کہ جو بھاگا ہوا غلام حرم میں مل جائے، اس (کو ڈھونڈنے) کے لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دس درہم کا فیصلہ فرمایا : (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٤٩٠٧، مطبوعہ بروت) ۔

اس پر یہ اعتراض ہے کہ اونٹ پر لدا ہوا مال مجہوم ہے۔ کیونکہ اونٹ پر لدے ہوئے مال کی اجرت کم بھی ہوسکتی ہے اور زیادہ بھی۔ اور اجارت کا مجہوم ہونا جائز نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے یہ ان کی شریعت میں جائز ہو۔ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ یہ اجرت تو چور کو دی جائے گی اور وہ جائز نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے، یہ ان کی شریعت میں جائز ہو اور دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ جُعل ہے اور کسی چیز یا شخص کو ڈھونڈ کر لانے والے کو جو مال دیا جاتا ہے، اس کو جُعل کہتے ہیں۔

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں : بعض علامء نے کہا اس آیت میں دو دلیلیں ہیں : ایک دلیل یہ ہے کہ جُعل جائز ہے اور اس کو ضرورت کی بناء پر جائز قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ اس میں جتنی جہالت کو جائز کہا گیا ہے، کسی اور چیز میں نہیں کہا گیا اور جُعل میں ایک طرف معلوم ہوتی ہے اور دوسری طرف ضرورت کی بناء پر مجہوم ہوتی ہے اور اجارہ (مزدوری) میں کام اور اس کی اجرت دونوں کا معلوم اور معین ہونا ضروری ہے، ورنہ اجارہ صحیح نہیں ہوگا۔ جب کسی شخص نے کہا جو شخص میرے بھاگے ہوئے غلام کو لے آیا تو اس کو ایک دینار ملے گا۔ پس اگر وہ اس غلام کو لے کر آیا تو اس کو ایک دینار دینا ہوگا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٩، ص ٢٠٢، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

مال اور شخص کی ضمانت کے متعلق احادیث :

اس آیت میں کفالت (ضمانت) کا بھی ثبوت ہے کیونکہ منادی نے کہا : جو پیالہ لائے گا، اس کو ایک بار شتر ملے گا اور اس کا میں ضامن ہوں۔ یعنی پیالہ لانے والے کو حکومت سے میں لے کر دوں گا۔ یہ آیت ضامن ہونے کی اصل ہے اور اس کی اصل یہ حدیث بھی ہے :

حضرت ابو قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص کو لایا گیا تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی نماز جنازہ پڑھائیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس کی نماز جنازہ خود پڑھ لو۔ کیونکہ اس پر قرض ہے۔ حضرت ابو قتادہ نے کہا : وہ قرض مجھ پر ہے۔ تب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم وہ قرض ادا کرو گے ؟ انہوں نے کہا، ہاں ! میں پورا قرض ادا کروں گا۔ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کی نماز جنازہ پڑھا دی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٠٦٩، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٥٢٥٨، مسند احمد ج ٥، ص ٢٩٧، سنن دارمی رقم الحدیث : ٢٥٩٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٤٠٧، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٢٩٥) ۔

اس حدیث سے تو صرف مال کا ضامن ہونا ثابت ہوتا ہے اور درج ذیل حدیث سے مال اور نفس (شخص) دونوں کا ضامن ہونا ثابت ہوتا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : الزعیم غارم یعنی کفیل ضامن ہوتا ہے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٥٦٥، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٢٦٥، سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : ٢٣٩٨، مسند احمد ج ٥، ص ٢٦٧، سنن کبریٰ للبیہقی، ج ٦، ص ٨٨، شرح السنہ رقم الحدیث : ٢١٦٢ ) ۔

یہ حدیث اپنے اطلاق کی وجہ سے مال اور نفس دونوں کی ضمانت کے جواز پر دلیل ہے اور بالخصوص نفس کی ضمانت پر یہ احادیث ہیں : امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک تہمت زدہ شخص سے کفیل کو طلب کیا۔ حارثہ بن مضرب بیان کرتے ہیں کہ ابن النواحہ اور اس کے اصحاب نے مسیلمہ کذاب کی رسالت کی شہادت دی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے ابن النواحہ کے قتل کا حکم دیا۔ پھر اس کے اصحاب کے متعلق مسلمانوں سے مشورہ طلب کیا۔ حضرت جریر اور حضرت اشعث نے کھڑے ہو کر کہا کہ ہم ان سے توبہ طلب کریں گے اور ان کے خاندان والوں کو ان کا کفیل (ضامن) بنایا۔ انہوں نے ان سے توبہ طلب کی۔ انہوں نے توبہ کرلی۔ اور ان کے خاندان والوں نے ان کی ضمانت دی۔ امام بخاری نے اس حدیث کو تعلیقاً ذکر کیا ہے۔ امام بخاری نے اپنی سند کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ایک شخص کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ ایک شخص نے اس کی بیوی کی باندی کے ساتھ زنا کیا۔ حمزہ نے اس شخص کے کفیل (ضامن) لیے حتیٰ کہ حضرت عمر کے پاس آئے اور حضرت عمر نے اس شخص کو سو کوڑے مارے اور اس کو جہالت کی وجہ سے معذور قرار دیا۔ کیونکہ حد میں کسی کو کفیل نہیں بنایا جاتا۔ حماد نے کہا اگر کوئی آدمی کسی شخص کی ضمانت دے اور وہ مرجائے تو اس پر کوئی تاوان نہیں ہے اور حکم نے کہا وہ ضامن ہوگا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٢٩٠) ۔ (سنن کبریٰ للبیہقی ج ٦، ص ٧٧، مطبوعہ ملتان)

ضمانت کی تعریف اور اس کے شرعی احکام :

علامہ مرغینانی حنفی متوفی ٥٩٣ ھ لکھتے ہیں : کفالت (ضمانت) کی دو قسمیں ہیں : کسی شخص کا ضامن ہونا اور مال کی ضمانت دینا۔ کسی شخص کا ضامن ہونا جائز ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ جس شخص کی اس نے ضمانت دی اس کو حاضر کرنا اس پر لازم ہے۔ اور مال کے ضامن ہونے کا یہ معنی ہے کہ ایک شخص قرض خواہ سے کہے، اگر اس مقروض نے قرض ادا نہیں کیا تو میں تمہارا قرض ادا کروں گا۔ وہ میرے ذمہ ہے یا میں اس کا ضامن ہوں۔ جب ضامن یہ کہے کہ میں فلاں تاریخ پر اس شخص کو حاضر کر دوں گا تو اگر اس سے صاحب حق مطالبہ کرے تو اسے اس تاریخ پر اس شخص کو حاضر کرنا ہوگا۔ اگر ضامن اس کو حاضر کر دے تو فبہا ورنہ حاکم اس کو قید کر دے۔ کیونکہ وہ اپنے حق کو ادا نہیں کرسکا۔ اگر وہ شخص کہیں غائب ہوجائے تو حاکم ضامن کو آنے جانے اور لانے کی مدت کی مہلت دے۔ اگر مدت گزرنے کے بعد بھی وہ اس شخص کو نہ لاسکے تو حاکم اس کو قید کرے اور اگر وہ شخص مرگیا تو پھر ضامن بری ہوجائے گا کیونکہ اب وہ اس کو حاضر کرنے سے عاجز ہوچکا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 69