أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَمَّا فَتَحُوۡا مَتَاعَهُمۡ وَجَدُوۡا بِضَاعَتَهُمۡ رُدَّتۡ اِلَيۡهِمۡؕ قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا مَا نَـبۡغِىۡؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتۡ اِلَيۡنَا‌ ۚ وَنَمِيۡرُ اَهۡلَنَا وَنَحۡفَظُ اَخَانَا وَنَزۡدَادُ كَيۡلَ بَعِيۡرٍ‌ؕ ذٰ لِكَ كَيۡلٌ يَّسِيۡرٌ ۞

ترجمہ:

اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو اس میں انہوں نے اپنے پیسوں کی تھیلی دیکھی جو ان کی طرف لوٹا دی گئی تھی، انہوں نے کہا اے ہمارے باپ ! ہمیں اور کیا چاہیے ! یہ ہماری رقم کی تھیلی ہمیں لوٹا دی گئی ہے، ہم اپنے گھر والوں کے لیے غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ پر لدا ہوا غلہ زیادہ لائیں گے اور (بادشاہ کے لیے) یہ تو معمولی مقدار ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو اس میں انہوں نے اپنے پیسوں کی تھیلی دیکھی جو ان کی طرف لوٹا دی گئی تھی، انہوں نے کہا : اے ہمارے باپ ہمیں اور کیا چاہیے ! یہ ہماری رقم کی تھیلی ہمیں لوٹا دی گئی ہے، ہم اپنے گھر والوں کے لیے غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ پر لدا ہوا غلہ زیادہ لائیں گے، اور (بادشاہ کے لیے) یہ تو معمولی رقم ہے (ان کے باپ نے) کہا میں اس کو تمہارے ساتھ ہرگز نہیں بھیجوں گا حتیٰ کہ تم اللہ کو گواہ کر کے مجھ سے یہ عہد نہ کرو کہ تم اس کو ضرور میرے پاس لے کر آئو گے، ماسوا اس کے کہ تم کسی مصیبت میں گھِر جائو، جب انہوں نے اپنے باپ سے یہ عہد کرلیا تو اس نے کہا ہم جو عہد کر رہے ہیں، اس پر اللہ گواہ ہے (یوسف : ٦٦۔ ٦٥ )

بن یامین کو ساتھ بھیجنے کے لیے باپ کو تیار کرنا :

اس آیت میں مانبغی کے دو محمل ہیں : یہ مانفی کے لیے بھی ہوسکتا ہے اور استفہام کے لیے بھی ہوسکتا ہے۔ اگر یہ ما نفی کے لیے ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے بادشاہ یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے متعلق جو بتایا تھا کہ وہ بہت فیاض اور جواد ہے تو ہم اس تعریف اور توصیف سے جھوٹ بولنا نہیں چاہتے تھے۔ دیکھئے اس بادشاہ نے ہمیں رقم کی تھیلی بھی واپس کردی ہے، اور اس صورت میں دوسرا معنی یہ ہے کہ ہم آپ سے دوبارہ جانے کے لیے مزید رقم نہیں چاہتے کیونکہ بادشاہ نے ہماری پہلی رقم ہمیں واپس کردی ہے۔ اگر یہ ما استفہام کے لیے ہو تو اس صورت میں معنی یہ ہے کہ ہمیں اور کیا چاہیے، ہماری رقم بھی ہمیں واپس کردی گئی ہے۔

میرہ کا معنی ہے : طعام : اور نمیراھلنا کا معنی ہے : ہم اپنے گھر والوں کے لیے طعام لے کر آئیں گے۔ اپنے بھائی کی حفاظ کریں گے اور ایک اونٹ پر لدا ہوا غلہ زیادہ لائیں گے۔ کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ اپنے بھائی کو ساتھ لے کر آئے تو ان کو غلہ سے لدا ہوا ایک اونٹ زیادہ دیا جائے گا۔ اس کے بعد انہوں نے کہا : یہ تو معمولی مقدار ہے، اس کے حسب ذیل محمل ہیں :

(١) مقاتل نے کہا : اتنے فیاض اور جواد کے لیے ایک بار شتر دینا تو بہت معمولی بات ہے، زجاج کا بھی یہی مختار ہے۔

(٢) جتنی طویل مدت ہم نے ایام قحط میں گزاری ہے، اس کے مقابلہ میں یہ بہت کم مقدار ہے۔

(٣) ہمارے بھائی کے بغیر جو ہمیں غلہ دیا گیا ہے۔ یہ بہت کم ہے۔ آپ بھائی کو ہمارے ساتھ بھیجیں۔ تاکہ ہم کو زیادہ غلہ مل سکے۔ 

مصیبت میں گھر جانے کا معنی : حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا تھا : تم یہ پختہ عہد کرو۔ اس کے دو معنی ہیں : ایک یہ کہ تم سب ہلاک ہو جائو اور دوسرا یہ کہ تم سب مقہور اور مغلوب ہو جائو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 65