وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍۘ-اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ(۷۱)

اور انہیں نوح کی خبر پڑھ کر سناؤ جب اس نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم اگر تم پر شاق(ناگوار) گزرا ہے میرا کھڑا ہونا (ف۱۵۹) اور اللہ کی نشانیاں یاد دلانا (ف۱۶۰) تو میں نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا (ف۱۶۱) تو مل کر کام کرو اور اپنے جھوٹے معبودوں سمیت اپنا کام پکا کرلو تمہارے کام میں تم پر کچھ گنجلک(اُلجھن وپوشیدگی) نہ رہے پھر جو ہو سکے میرا کرلو اور مجھے مہلت نہ دو (ف۱۶۲)

(ف159)

اور مدّتِ دراز تک تم میں ٹھہرنا ۔

(ف160)

اور اس پر تم نے میرے قتل کرنے اور نکال دینے کا ارادہ کیا ہے ۔

(ف161)

اور اپنا معاملہ اس واحدِ لاشریک لہ کی سپرد کیا ۔

(ف162)

مجھے کچھ پرواہ نہیں ہے ۔ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ کلام بطریقِ تعجیز ہے ۔ مدّعا یہ ہے کہ مجھے اپنے قوی و قادر پروردگار پر کامل بھروسہ ہے تم اور تمہارے بے اختیار معبود مجھے کچھ بھی ضرر نہیں پہنچا سکتے ۔

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍؕ-اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِۙ-وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(۷۲)

پھر اگر تم منہ پھیرو (ف۱۶۳) تو میں تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا (ف۱۶۴) میرا اجر تو نہیں مگر اللہ پر (ف۱۶۵) اور مجھے حکم ہے کہ میں مسلمانوں سے ہوں

(ف163)

میری نصیحت سے ۔

(ف164)

جس کے فوت ہونے کا مجھے افسوس ہے ۔

(ف165)

وہی مجھے جزا دے گا ۔ مدّعا یہ ہے کہ میرا وعظ و نصیحت خاص اللہ کے لئے ہے کسی دنیوی غرض سے نہیں ۔

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓىٕفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۚ-فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ(۷۳)

تو انہوں نے اسے (ف۱۶۶) جھٹلایا تو ہم نے اسے اور جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے ان کو نجات دی اور انہیں ہم نے نائب کیا (ف۱۶۷) اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں ان کو ہم نے ڈبو دیا تو دیکھو ڈرائے ہوؤں کا انجام کیسا ہوا

(ف166)

یعنی حضرت نوح علیہ السلام کو ۔

(ف167)

اورہلاک ہونے والوں کے بعد زمین میں ساکن کیا ۔

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُؕ-كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ(۷۴)

پھر اس کے بعد اور رسول (ف۱۶۸) ہم نے ان کی قوموں کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس روشن دلیلیں لائے تو وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے اس پر جسے پہلے جھٹلا چکے تھے ہم یونہی مُہر لگادیتے ہیں سرکشوں کے دلوں پر

(ف168)

ہود ، صالح ، ابراہیم ، لوط، شعیب وغیرہم علیہم السلام ۔

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىٕهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ(۷۵)

پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف اپنی نشانیاں دے کر بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ(۷۶)

تو جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا (ف۱۶۹) بولے یہ تو ضرور کھلا جادو ہے

(ف169)

حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے واسطہ سے اور فرعونیوں نے پہچان لیا کہ یہ حق ہے اللہ کی طرف سے ہے تو براہِ نفسانیت ۔

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْؕ-اَسِحْرٌ هٰذَاؕ-وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ(۷۷)

موسیٰ نے کہا کیا حق کی نسبت ایسا کہتے ہو جب وہ تمہارے پاس آیا کیا یہ جادو ہے (ف۱۷۰) اور جادوگر مراد کو نہیں پہنچتے

(ف170)

ہر گز نہیں ۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِؕ-وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ(۷۸)

بولے (ف۱۷۱) کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اس (ف۱۷۲) سے پھیردو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا اور زمین میں تمہیں دونوں کی بڑائی رہے اور ہم تم پر ایمان لانے کے نہیں

(ف171)

فرعونی حضرت موسٰی علیہ السلام سے ۔

(ف172)

دین و ملّت اور بُت پرستی و فرعون پرستی ۔

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ(۷۹)

اور فرعون (ف۱۷۳) بولا ہر جادوگر علم والے کو میرے پاس لے آؤ

(ف173)

سرکش و متکبِّر نے چاہا کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے معجِزہ کا مقابلہ باطل سے کرے اور دنیا کو اس مغالطہ میں ڈالے کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے معجزات (معاذ اللہ ) جادو کی قسم سے ہیں اس لئے وہ ۔

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ(۸۰)

پھر جب جادوگر آئے ان سے موسیٰ نے کہا ڈالو جو تمہیں ڈالنا ہے(ف۱۷۴)

(ف174)

رسّے ، شہتیر وغیرہ اورجو تمہیں جادو کرنا ہے کرو یہ آپ نے اس لئے فرمایا کہ حق و باطل ظاہر ہو جائے اور جادو کے کرشمے جو وہ کرنے والے ہیں ان کا فساد واضح ہو ۔

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِۙ-السِّحْرُؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ(۸۱)

پھر جب انہوں نے ڈالا موسیٰ نے کہا یہ جو تم لائے یہ جادو ہے (ف۱۷۵) اب اللہ اسے باطل کردے گا اللہ مفسدوں کا کام نہیں بناتا

(ف175)

نہ کہ وہ آیاتِ الٰہیہ جن کو فرعون نے اپنی بے ایمانی سے جادو بتایا ۔

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠(۸۲)

اور اللہ اپنی باتوں سے (ف۱۷۶) حق کو حق کر دکھاتا ہے پڑے برا مانیں مجرم

(ف176)

یعنی اپنے حکم ، اپنی قضاء و قدر اور اپنے اس وعدے سے کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو جادو گروں پر غالب کرے گا۔