أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِرۡجِعُوۡۤا اِلٰٓى اَبِيۡكُمۡ فَقُوۡلُوۡا يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابۡنَكَ سَرَقَ‌ۚ وَمَا شَهِدۡنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمۡنَا وَمَا كُنَّا لِلۡغَيۡبِ حٰفِظِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اپنے باپ کی طرف واپس جائو اور کہو اے ہمارے باپ ! بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے، اور ہم صرف اسی بات کی گواہی دے سکتے ہیں جو ہمارے علم میں ہو اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اس نے کہا) اپنے باپ کی طرف واپس جائو اور کہو اے ہمارے باپ ! بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے، اور ہم صرف اسی بات کی گواہی دے سکتے ہیں جو ہمارے علم میں ہو اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے اور آپ اس بستی (والوں) سے پوچھ لیجئے جس میں ہم تھے اور اس قافلہ سے پوچھ لیجئے جس کے ساتھ ہم آئے ہیں اور بیشک ہم ضرور سچے ہیں (یوسف : ٨٢۔ ٨١)

بھائیوں کا حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس واپس جانے کا فیصلہ :

جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے اس معاملہ میں غور و فکر کیا تو انہوں نے یہ طے کیا کہ وہ واپس جائیں اور جس طرح واقعہ پیش آیا ہے بلاکم وکاست اسی طرح اپنے باپ کے سامنے بیان کردیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے بغیر خود دیکھے یا بغیر کسی گواہی کے کیسے یہ شہادت دی کہ بن یامین نے چوری کی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے یہ دیکھا کہ پیالہ اسی جگہ بوری میں رکھا تھا جس جگہ ان کے سوا اور کوئی داخل نہیں ہوسکتا تھا۔ ہرچند کہ یہ عینی شہادت تو نہیں تھی لیکن یہ واقعاتی شہادت ہے اور واقعاتی شہادت پر حسب ذیل دلائل ہیں :

واقعاتی شہادت کے حجت ہونے پر قرآن و سنت اور عقل صریح سے دلائل :

وشھد شاہدٌ من اھلھآ ان کان قمیضہٌ قد من قبلٍ فصدقت وھو من الکاذبین وان کان قمیصلہ قد من دبرٍ فکذبت وھو من الصادقین فلما رآ قمیصہ قد من دبرٍ قال انہ من کید کن ۔ ان کید کن عظیمٌ۔ (یوسف : ٢٨۔ ٢٦ ) ۔ اور اس عورت کے رشتہ داروں میں سے ایک شخص نے گواہی دی، اگر اس کی قمیص آگے سے پھٹی ہوئی ہے تو عورت سچی ہے اور وہ جھوٹوں میں سے ہے اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے تو عورت جھوٹی ہے اور وہ سچوں میں سے ہے پھر جب اس نے اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی دیکھی تو اس نے کہا بیشک یہ تم عورتوں کی سازش ہے اور بیشک تمہاری سازش بہت سنگین ہوتی ہے۔ اس واقعہ میں جس شہادت کا ذکر ہے، یہ بھی عینی شہادت نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس شہادت کا انکار نہیں کیا اور نہ اس شہادت کی مذمت کی بلکہ اس شہادت کی حکایت کرکے اس کو مقرر اور ثابت رکھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ واقعاتی شہادت بھی حجت ہوتی ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو عورتوں کے پاس اپنے اپنے بیٹے تھے۔ اچانک ایک بھیڑیا آیا اور ان میں سے ایک کے بیٹے کو کھا گیا۔ ایک عورت نے دوسری عورت سے کہا کہ تیرے بیٹے کو بھیڑیے نے کھایا ہے اور دوسری نے کہا تیرے بیٹے کو کھایا ہے۔ ان دونوں نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے پاس مقدمہ پیش کیا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے بڑی عورت کے حق میں فیصلہ کردیا۔ پھر وہ دونوں حضرت سلیمان بن دائود (علیہما السلام) کے پاس گئیں اور ان کو واقعہ سنایا۔ انہوں نے کہا چھری لائو میں اس بچے کے دو ٹکڑے کرکے دونوں کو ایک ایک ٹکڑا دیتا ہوں۔ تو چھوٹی عورت کہنے لگی نہ نہ۔ اللہ آپ پر رحم کرے، یہ اسی کا بیٹا ہے۔ تب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے چھوٹی کے حق میں فیصلہ کردیا۔ (صحیح مسلم کتاب الاقضیتہ رقم الحدیث : ٢٠، رقم بلا تکرار : ١٧٢٠، الرقم المسلس : ٤٤١٥) ۔ بڑی عورت نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے کہہ دیا تھا : ٹھیک ہے آپ اس کے دو ٹکڑے کردیں۔ لیکن چھوڑی نے فوراً کہا : نہ نہ آپ اسی کو دے دیں۔ اس واقعاتی شہادت سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جان لیا کہ بچہ اس کا ہے۔ تب ہی یہ اس کے دو ٹکڑے کرنے پر راضی نہیں ہوئی اور بڑی کا بچہ نہیں ہے۔ کیونکہ وہ تو اس کے دو ٹکڑے کرنے پر راضی تھی۔ اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ واقعاتی شہادت حجت ہے۔

حضرت عبداللہ بن الزبیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت زبیر سے ایک انصاری نے جھگڑا کیا۔ پتھریلی زمین سے پانی کی نالی حضرت زبیر کے باغوں میں آرہی تھی۔ انصاری نے کہا : اس پانی کو میرے لیے چھوڑ دو ۔ حضرت زبیر نے انکار کیا۔ پھر وہ دونوں یہ مقدمہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے گئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زبیر (رض) سے فرمایا : اے زبیر پہلے تم پانی سے اپنے باغ کو سیراب کرو پھر یہ پانی اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو ۔ انصاری نے فیصلہ سے غضب ناک ہوا اور اس نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پھوپھی زاد ہے ! یہ سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ متغیر ہوگیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے زبیر ! تم پانی دینے کے بعد پانی روک لو، حتیٰ کہ دیواروں کی طرف لوٹ جائے۔ حضرت زبیر نے کہا : میرا گمان ہے کہ یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی ہے : فلا وربک لایومنون حتیٰ یحکموک فیما شجر بینھم۔ (النساء : ٦٥) ۔ آپ کے ربّ کی قسم ! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوں گے جب تک کہ اپنے آپس کے جھگڑوں میں آپ کو حاکم تسلیم نہ کرلیں۔ (الترمذی رقم الحدیث : ٣٠٢٧، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٦٧١، مسند البزار رقم الحدیث : ٥٩٨، المستدرک ج ٢، ص ٣٠٧) ۔

چونکہ اس پتھریلی زمین میں پانی کی نالی سے پہلے حضرت زبیر (رض) کے باغ میں اپنی آتا تھا، اس لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فیصلہ کیا کہ پہلے اس باغ کو حضرت زبیر پانی دیں گے اور پھر وہ انصاری پانی دے گا۔ اور یہ واقعاتی شہادت کی بناء پر فیصلہ ہے۔ اس طرح قسامت کا فیصلہ بھی واقعاتی شہادت پر مبنی ہے۔ سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں قسامت کا رواج تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس رواج کو برقرار رکھا۔ انصار کا ایک شخص یہود کے قلعہ میں مقتول پایا گیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہود سے ابتداء کی اور ان پر پچاس قسمیں لازم کیں۔ یہود نے کہا ہم ہرگز قسم نہیں کھائیں گے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار سے کہا : کیا تم قسم کھائو گے، انہوں نے قسم کھانے سے انکار کیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہود پر دیت لازم کردی۔ کیونکہ مقتول بہرحال ان کے علاقہ میں پایا گیا تھا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ٩، ص ٢٧٦، سنن ابودائود ج ٢، ص ٢٦٦ ) ۔

شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی متوفی ٤٨٣ ھ لکھتے ہیں : جب کوئی شخص کسی محلہ میں مقتول پایا جائے تو اس محلہ والوں پر لازم ہے کہ ان کے پچاس آدمی یہ قسم کھائیں کہ خدا کی قسم نہ ہم نے اس شخص کو قتل کیا ہے نہ ہم اس کے قاتل کو جانتے ہیں۔ اس قسم کے بعد وہ دیت ادا کریں گے۔ (المبسوط ج ٢٦، ص ١٠٦، مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت، ١٣٩٨ ھ) ۔

قسامت میں اہل محلہ پر جو قسم اور اس کے بعد جو دیت لازم کی جاتی ہے، یہ بھی واقعاتی شہادت پر مبنی ہے۔ واقعاتی شہادت پر عقلی دلیل یہ ہے کہ ایک شخص کا تازہ تازہ گلا کٹا ہوا ہے اور اس کے پاس ہی ایک شخص خون سے بھرا ہوا چھرا لیے کھڑا ہے اور اس کے کپڑوں پر خون کے چھینٹے ہیں تو یہ اس کا ثبوت ہے کہ یہی شخص قاتل ہے اور اگر بعد میں لیبارٹری ٹیسٹ سے ثابت ہوجائے کہ چھرے پر لگا ہواں خون اور مقتول کا خون ایک ہی ہے تو پھر اس کے قاتل ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہے گا۔ اور یہ واقعاتی شہادت ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ایک شخص گولی لگنے سے مرگیا اور اس کے پاس ایک شخص پکڑا گیا، جس کے ہاتھ میں پستول تھا۔ اور بعد میں پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے ثابت ہوگیا کہ مقتول کے جسم سے جو گولی برآمد ہوئی ہے وہ اسی نمبر کی ہے، جس نمبر کی گولیاں اس کے پستول میں تھیں۔ اب اس شخص کے قاتل ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے اور یہ واقعاتی شہادت ہے۔ اسی طرح ایک شخص ٹوپی پہنے اور ایک ہاتھ میں قراقلی ٹوپی لیے ہوئے بھاگ رہا ہے اور دوسرا شخص اس کے پیچھے ننگے سر بھاگ رہا ہے تو یہ اس بات کی واقعاتی شہادت ہے کہ وہ شخص اس کے سر سے ٹوپی اتار کر بھاگا ہے۔ دو آدمی ایک بیل یا اونٹ کے دعویٰ دار ہیں اور دونوں کے گھر ایک گائوں میں ہیں۔ اس گائوں میں جا کر اس بیل یا اونٹ کو چھوڑ دیا تو جس آدمی کے گھر یا باڑہ میں وہ بیل یا اونٹ چلا جائے تو یہ اس بات کی واقعاتی شہادت ہے کہ وہ بیل یا اونٹ اسی شخص کا ہے۔ الغرض قرآن مجید، احادیث اور عقلی قرائن سے یہ ثابت ہے کہ واقعاتی شہادتیں بھی شرعی حجت اور عقلی دلیل ہیں۔ 

غیب کے نگہبان نہ ہونے کے محامل :

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے کہا : اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے۔ اس قول کے حسب ذیل محامل ہیں :

(١) ہم نے یہ دیکھا کہ شاہی کارندوں نے شاہی پیالہ بن یامین کی بوری سے برآمد کرلیا اور حقیقت حال ہمیں معلوم نہیں ہے۔

(٢) مجاہد، حسن اور قتادہ نے کہا : ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ آپ کا بیٹا چوری کرتا ہے۔ اگر ہمیں یہ پہلے معلوم ہوتا تو ہم اس کو بادشاہ کے پاس نہ لے جاتے اور نہ اس کو واپس لانے کے متعلق آپ کے سامنے پکی قسمیں کھاتے۔

(٣) منقول ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا : چلو مان لیا کہ اس نے چوری کی ہے۔ لیکن بادشاہ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ بنو اسرائیل کی شریعت میں یہ مقرر ہے کہ جس پر چوری ثابت ہوجائے اس کو غلام بنا کر رکھ لیا جائے۔ ضرور تم نے اپنے کسی مطلب کی وجہ سے بادشاہ کو یہ بتایا ہوگا۔ تب انہوں نے کہا کہ چوری کا واقعہ رونما ہونے سے پہلے ہم نے بادشاہ سے یہ ذکر کیا تھا۔ اور اس وقت ہم کو معلوم نہیں تھا کہ یہ واقعہ ہوجائے گا۔ کیونکہ ہم غیب پر نگہبان نہیں ہیں۔

بستی سے پوچھنے کے معانی :

حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے کہا : اور آپ اس بستی (والوں) سے پوچھ لیجئے جس میں ہم تھے۔ اکثر مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ اس بستی سے مراد مصر ہے اور بعض نے کہا : اس سے وہ بستی مراد ہے جو مصر کے دروازہ پر تھی۔ پھر متن قرآن میں یہ عبارت ہے : آپ اس بستی سے پوچھ لیجئے، اس میں عربی کے اسلوب عبارت کے مطابق مضاف مخذوف ہے۔ اور دوسرا معنی علامہ ابوبکر الانباری نے بیان کیا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ اس بستی سے پوچھئے، وہاں کے درودیوار اور بازاروں سے پوچھئے تو وہ آپ کو بتائیں گے۔ کیونکہ آپ انبیاء (علیہم السلام) میں سے ہیں۔ بلکہ اکابر انبیاء میں سے ہیں۔ جب آپ سوال کریں گے تو کوئی بعید نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ ان جمادات کو گویا کر دے اور آپ کو صحیح واقعہ کی خبر دے دے اور یہ آپ کا معجزہ ہوجائے۔ اور اس کا تیسرا معنی یہ ہے کہ جب کوئی چیز بہت سچی ہو اور اس کا صدق بہت واضح ہو تو کہا جاتا ہے کہ تم اس بات کو آسمان اور زمین سے پوچھ لو ! اسی نہج پر انہوں نے کہا : آپ بستی سے پوچھ لیجئے۔

بدگمانی دور کرنے کے لیے وضاحت کرنے کا استحباب :

اس آیت سے یہ فقہی مسئلہ نکلتا ہے کہ جو آدمی حق اور صدق پر ہو اور اس کو یہ گمان ہو کہ لوگ اس کے متعلق غلط فہمی اور بدگمانی میں مبتلا ہوں گے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس بدگمانی اور غلط فہمی کو دور کرے۔ امام غزالی نے احیاء العلوم میں یہ حدیث ذکر کی ہے کہ تہمت کی جگہوں سے بچو۔ (کشف الخفاء ج ١، ص ٤٤، مطبوعہ الغزالی دمشق) ۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت صفیہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رمضان کے آخری عشرے میں مسجد میں اعتکاف میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کے لیے گئی اور کچھ دیر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے باتیں کرتی رہی۔ جب میں جانے لگی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد کے دروازے تک مجھے چھوڑنے آئے۔ جب میں حضرت ام سلمہ کے دروازے تک پہنچی تو دو انصاری گزرے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شیطان انسان کے خون کی گزرگاہوں میں پہنچ جاتا ہے، اور مجھے یہ خطرہ ہوا کہ وہ تمہارے دلوں میں کوئی بدگمانی نہ ڈال دے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٠٣٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٧٥، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧١٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٧٧٩، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٣٣٥٧ ) ۔

امام ابوبکر محمد بن جعفر الخرائطی متوفی ٣٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : بدیل بن ورقاء بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے فرمایا : جس شخص نے اپنے آپ کو تہمت کی جگہ پر کھڑا کیا اور اس کے متعلق کسی نے بدگمانی کی تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔ (مکارم الاخلاق ج ١، رقم الحدیث : ٥٣٩، مطبوعہ مطبعہ المدنی ١٤١١ ھ، کنزالعمال رقم الحدیث : ٨٨١٥) ۔

موسیٰ بن خلف بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) رات کو گشت کر رہے تھے۔ آپ نے دیکھا کہ ایک آدمی راستہ میں ایک عورت سے باتیں کر رہا ہے۔ حضرت عمر نے اس کو مارنے کے لیے درہ بلند کیا تو اس نے کہا : یا امیرالمومنین ! یہ میری بیوی ہے۔ آپ نے فرمایا : تم ایسی جگہ باتیں کرتے کہ لوگ تم کو نہ دیکھتے۔ (مکارم الاخلاق رقم الحدیث : ٥٤١ ) ۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 81