تاریخی ڈرامے

تحریر : نثار مصباحی

آج کل ترکی کے تاریخی ڈرامے (دِیرِیلِس اَرطُغرُل اور کُورُولُس عثمان وغیرہ) سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہیں. اِن ڈراموں کے جائز اور ناجائز ہونے کی بحث زوروں پر ہے.

ہم اس بحث سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ایک دوسرے پہلو پر متوجہ کرنا چاہتے ہیں.

بہت سے لوگوں کو ہم نے سوشل میڈیا پر یہ تبصرہ کرتے دیکھا ہے کہ اِن ڈراموں میں جو کچھ دِکھایا جا رہا ہے وہ “سچی تاریخ” ہے. حتی کہ ایک لڑکے نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ یہ سب کچھ 100 فیصد سچ ہے. !!!

اس لیے چند باتیں عرض ہیں:

1- ڈرامے عموما “فِکشَن”(افسانہ/فرضی کہانی) ہوتے ہیں. اگرچہ وہ تاریخی کرداروں ہی پر کیوں نہ بنائے گئے ہوں. ان کی حیثیت بالکل “تاریخی ناولوں” جیسی ہوتی یے. جن میں 90 سے 95 فیصد بلکہ کبھی کبھی اس سے زیادہ “فِکشَن” ہوتا ہے.

2- ڈراموں میں ڈرامہ نگار اور فلم ساز اپنی سہولت کے اعتبار سے تاریخی حقائق بھی بدل دیا کرتے ہیں. یہ بالکل عام بات ہے. ترکی کے ڈراموں میں بھی یہ چیز پائی جاتی ہے.

3- غازی ارطُغرُل بن سلیمان شاہ اور ان کے بیٹے غازی عثمان اول کے زمانے کی تفصیلات و جزئیات تاریخ میں زیادہ محفوظ بھی نہیں کی جا سکیں.

ان ڈراموں کو دیکھنے والا کوئی شخص اگر ان تینوں چیزوں کے تناظر میں اس ڈرامے کے تمام جزئیات و تفصیلات کا تجزیہ کرے گا تو یہ 90 بلکہ 95 فیصد سے زیادہ فِکشن(فرضی واقعات/افسانہ) ثابت ہوں گے.

اس لیے گزارش ہے کہ انھیں صرف “ڈرامہ” سمجھیں. کوئی صاحب انھیں “تاریخ” سمجھنے کی غلطی نہ کریں. “سچی تاریخ” تو بہت دور کی بات ہے.

اسی طرح یہ صرف ڈرامے ہیں. اِن کو کوئی “مقدس کارنامہ” نہ سمجھیں. یہ بس ڈرامے ہیں, جن میں آج کل کے ایکٹرس نے ایکٹنگ کی ہے جیسے وہ دوسرے ڈراموں میں کرتے ہیں. اور ان کے اثرات لگ بھگ وہی ہوں گے جو “تاریخی ناولوں” کے ہوئے. یعنی صرف ذہنی لطف اندوزی, حظِ نفس اور جذبات میں وقتی اُبال. ہاں یہ سچ ہے کہ مغرب اور مغربی فکر کے لوگوں نے ڈراموں اور فلموں کے ذریعے ترک سلاطین اور ان کی تاریخ پر جو ظلم کیا ہے یہ ڈرامے اس کا ترکی بہ ترکی جواب ہیں. بلکہ یہ بھی کہنا ممکن ہے کہ یہ ڈرامے مغرب کی مسلط کردہ فکری و نفسیاتی جنگ میں مشرق کی طرف سے پلٹ وار ہیں. مگر یہ بھی سچ ہے کہ فرد یا معاشرے میں انقلاب ڈراموں سے نہیں آتا. ہاں, انسانی نفس پر اِن کے وقتی اور جزوی اثرات ضرور ہوتے ہیں, جو وقت گزرنے کے ساتھ زائل ہوجاتے ہیں.

نثارمصباحی

رکن-روشن مستقبل, دہلی

4رمضان1441ھ/28اپریل2020ء