دیندار کی چاہت

دیندار دین پر رہنا چاہتی ہے اس لئے ایسا کام نہیں کرتی جس سے دین چھوٹ جائے اور ایسے کام کا مطالبہ نہیں کر سکتی جسکی وجہ سے اس کے شوہر کو دین چھوڑنا پڑے،بلکہ اسکا شوہر دین کی مخالفت کا کوئی کام کرتا ہو اور اسے پتہ چل جائے تو وہ اسے اس سے روک دے گی ،میں نے ایک شخص کو دیکھا جو کبھی کبھار مسجد میں آجاتا،اتنا فیشنی کہ کوئی نیٔ فیشن دیکھنا ہو اس کے کپڑے اور بال دیکھ لئے جائیں، اسے شوق ہوا کہ میںانڈیا جا کر شادی کرون گا،یہاں کی دینا میں نے دیکھ لی ہے،اس کے نصیب میں بھلائی لکھی تھی اسے نیک اور دیندار عورت ملی ایک سال میں تو اس میں اتنی تبدیلی آئی کہ کرتہ پاجامہ میںآگیا،نمازی بن گیا،اور دوسرے کو دین کی باتیں کرنے لگا،کسی نے اس سے پوچھا کہ تم میں اچانک اتنی تبدیلی کیسے آگئی؟ تم تو مولوی کی صحبتوں میں جاتے بھی نہیں تھے،میں نے کہا بھائی صرف مولوی کی صحبت ہی سے تبدیلی نہیں آتی ہے،بیوی کی تعلیم شوہر پر ہماری نصیحت سے زیادہ اثر انداز ہو سکتی ہے کہ وہاں محبت ہوتی ہے اور نصیحت کی بات محبوب کی ہوتی ہے،اس کی زندگی میں انقلاب لانے والی اس کی بیوی ہے

دنیادار کا جادو

ایک صاحب نے مجھے اپنے تجربہ کی بات بتائی کہ جب میں برطانیہ میں آیا تو میں جس مسجد میں نماز پڑھتا تھا اس کے امام صاحب ہی کی بات ہے کہ شادی کرنے کے بعد انکی بیوی جب اس ملک میں آئی کم تنخواہ کی وجہ سے اس نے اپنے شوہر کو کیا کچھ کہا کہ امام صاحب نے استعفاء دے دیا،اور دنیا کی لائن اپنا لی اور ٹیکسی کرتے ہو گئے،پہلے لوگوں کو مسجد میں لاتے تھے اب وہی دکھائی نہیں دیتے ہیں

ایک جگہ دنیادار دیندار بن گیا،اور دوسری جگہ دیندار دنیادار بن گیا،دونوںکا سبب ایک ہی ہے،بیوی ! دیندار نے دیندار بنا دیا ، دنیادار نے دنیادار بنا دیا،اس لئے ہماری آقا ﷺ نے کرم کرتے ہوئے ہمیںبیوی کے درست انتخاب سے آگاہ کیا کہ اس کی صحبت کو معمولی نہ سمجھا جائے وہ سب سے زیادہ موٗثر صحبت ہے،ہمارے آقا و مالا ﷺ نے ہمیں عام دوستوں کی صحبت کے بارے میں صحبت میں آنے سے پہلے غور و فکر کے بارے میں فرمایا،اور اس راہ میں بھی ہیں جاہل نہ رہنے دیا،بلکہ کہ یہی ہمارے آقا ﷺ کی رحمت ہے کہ ہماری زندگی کے ہر پہلو کو مد نظر رکھ کر ہماری رہنمائی فرماتے ہیں،آپنے ارشاد فرمایا المرء علیٰ دین خلیلہ فلینظر عمن یخالل آدمی اپنے دوست کے دین پر ہے اسے غور کر لینا چاہیئے کہ کسے دوست بنانے جارہا ہے،اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ ایک دوست کی دوستی ہمارے دین میں اثر انداز ہوتی ہے اچھا ہمیں اچھا بنا دیتا ہے اور خراب ہمیں خراب بنا دیتا ہے تو پھر بیوی کے بارے میں آپکا کیا کہنا ہے؟ وہ صرف دوست ہی نہیں زندگی کا ساتھی ہے،وہ صرف صدیق ہی نہیں رفیقٗ حیات ہے،اسکی رفاقت وقتی طور پر نہیں وہ ہمہ وقت کی مددگار ہے،اسکا احسان معمولی نہیں اسنے اپنے وجود کا قبضہ شوہر کو دے دیا ہے،جب عامی دوست دین میں موٗثر ہو تو رفیقہٗ حیات کیوں نہ ہو ؟اس لئے ہمارے آقا نے ہمیں انتخاب کا طریقہ دیا،اور اس میں خاص طور پر تاکید فرمائی کہ حسن مال و عزت پر نہ جاوٗ دینداری پر جاوٗ کامیابی و راحت،سکون و چین اسی میں ہے کہ دیندار کو رفیقہٗ حیات ہونے کا شرف دیا جائے