أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَبَدَاَ بِاَوۡعِيَتِهِمۡ قَبۡلَ وِعَآءِ اَخِيۡهِ ثُمَّ اسۡتَخۡرَجَهَا مِنۡ وِّعَآءِ اَخِيۡهِ‌ؕ كَذٰلِكَ كِدۡنَا لِيُوۡسُفَ‌ؕ مَا كَانَ لِيَاۡخُذَ اَخَاهُ فِىۡ دِيۡنِ الۡمَلِكِ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ‌ؕ نَرۡفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنۡ نَّشَآءُ‌ؕ وَفَوۡقَ كُلِّ ذِىۡ عِلۡمٍ عَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

تو یوسف نے اپنے بھائی کی بوری سے پہلے ان کی بوریوں کی تلاشی لینی شروع کردی پھر اس پیالے کو اپنے بھائی کی بوری سے برآمد کرلیا، ہم نے اسی طرح یوسف کو خفیہ تدبیر بتائی تھی، وہ بادشاہ کے قانون کے مطابق اپنے بھائی کو نہیں رکھ سکتے تھے مگر یہ کہ اللہ چاہے، ہم جس کو چاہتے ہیں درجات کی بلندی عطا کرتے ہیں اور ہر (متناہی) علم والے سے بڑھ کر ایک عظیم علم والا ہے

تفسیر:

حیلہ کے جواز میں معترضین کے منشاء غلطی کا ازالہ :

شمس الائمہ سرخسی کی ان تصریحات سے واضح ہوگیا کہ فقہاء احناف کے نزدیک وہ حیلہ مستحسن ہے جو نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں کے حصول کے لیے ہو۔ جس میں کسی حرام کام سے بچنا اور کسی حلال چیز کو حاصل کرنا مقصود ہو اور جس حیلہ سے کسی حق کو باطل کیا جائے یا کسی حرام چیز کو حاصل کیا جائے، جس میں ظلم اور گناہ پر معاونت ہو وہ حیلہ ناجائز اور حرام ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص زکوٰۃ یا کسی اور فرض یا اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق میں کسی حق کو ساقط کرنے کا حیلہ کرتا ہے، تو وہ ناجائز اور حرام ہے۔ لہٰذا ایسی مثالوں سے امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ پر طعن کرنا علم اور دیانت سے بہت دور کی بات ہے۔ اگر کوئی شخص سال پورا ہونے سے مثلاً ایک ماہ پہلے اپنا بقدر نصاب مال زکوٰۃ سے بچنے کے لیے کسی کو ہبہ کردیتا ہے، تو سال کے بعد بقدر نصاب مال نہ ہونے کی وجہ سے اس پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوگی۔ لیکن اللہ کے فرض کو ساقط کرنے کے لیے جو اس نے حیلہ کیا ہے، اس کی وجہ سے عذاب کا مستحق ہوگا۔ اور دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کا حق کھا کر وہ فیض یاب نہیں ہوگا اور جلد یا بدیر اسے کسی بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ مکافات عمل ہے اور اس سے بہت کم کوئی بچ سکا ہے۔ جن حضرات نے امام ابوحنیفہ پر متعصبانہ اعتراضات کیے ہیں۔ کاش وہ جلد بازی نہ کرتے اور ان تمام امور پر غور کرلیتے۔

وفوق کل ذی علم علیم کے ترجمہ میں مصنف کی تحقیق :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وفوق کل ذی علم علیم۔ (یوسف : ٧٦) ۔ ہم نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے۔ ” اور ہر (متناہی) علم والے سے بڑھ کر ایک عظیم علم والا ہے “۔ اور متناہی کی قید اس لئے لگائی ہے تاکہ کوئی شخص یہ اعتراض نہ کرے کہ اگر ہر علم والے سے بڑھ کر کوئی علم والا ہے تو پھر اللہ سے بڑھ کر بھی کوئی علم والا ہونا چاہیے !۔ تحقیق مقام کے لیے ہم اس آیت کے چند مزید تراجم پیش کر رہے ہیں :

شیخ محمود حسن دیوبندی متوفی ١٣٣٩ ھ اس آیت کے ترجمہ میں لکھتے ہیں : ” اور ہر جاننے والے سے اوپر ہے ایک جاننے والا “۔

شیخ امین احسن اصلاحی اس کے ترجمہ میں لکھتے ہیں : ” اور ہر علم والے سے بالاتر ایک علم والا ہے “۔ (تدبر قرآن ج ٤، ص ٢٣٣) ۔

شیخ اشرف علی تھانوی متوفی ١٣٦٤ ھ لکھتے ہیں : ” اور تمام علم والوں سے بڑھ کر ایک بڑا علم والا ہے “۔ (بیان القرآن ج ١، ص ٤٩٠) ۔

شیخ تھانوی نے لفظ کل کو کل مجموعی پر محمول کیا ہے اور اس پر بھی یہ اعتراض ہوگا کہ تمام علم والوں میں اللہ تعالیٰ بھی شامل ہے۔ سو اس ترجمہ کے لحاظ سے اس سے بھی بڑا کوئی علم والا ہونا چاہیے۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ اس کے ترجمہ میں لکھتے ہیں : ” اور ایک علم رکھنے والا ایسا ہے جو ہر صاحب علم سے بالاتر ہے “۔ اس پر بھی یہ اعتراض ہوگا کہ ہر صاحب علم میں اللہ تعالیٰ بھی داخل ہے اور مودودی صاحب نے ایسی کوئی قید نہیں لگائی جس سے اللہ تعالیٰ ہر صاحب علم کے عموم سے خارج ہو سکے۔ اور اس بناء پر یہ لازم آئے گا کہ اللہ عزوجل سے بھی کوئی بالاتر علم والا ہو۔ (العیاذ باللہ) ۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی ١٣٤٠ ھ اس آیت کے ترجمہ میں لکھتے ہیں : ” اور ہر علم والے سے اوپر ایک علم والا ہے “۔ (کنزالایمان ص ٣٩١) ۔

حضرت علامہ سید احمد سعید کا ظمی متوفی ١٤٠٦ ھ اس آیت کے ترجمہ میں لکھتے ہیں : ” اور ہر صاحب علم سے برتر دوسرا صاحب علم ہوتا ہے “۔ (جمال القرآن ص ٤٠١) ۔

یہ اس دور کے مشہور تراجم ہیں۔ لیکن تمام تراجم میں ذی علم کو مطلق رکھا ہے اور ایسی کوئی قید نہیں لگائی جس سے کل ذی علم کے عموم سے اللہ تعالیٰ خارج ہوجاتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بھی ذی علم ہے۔ اگر یوں ترجمہ کیا جاتا کہ ہر (متناہی) علم والے کے اوپر ایک عظیم علم والا ہے۔ یا ہر (حادث) علم والے کے اوپر، یا ہر (فانی) علم والے اوپر یا ہر (ممکن) علم والے کے اوپر ایک عظیم علم والا ہے، تو یہ اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ یہ تمام مترجمین اہل علم تھے لیکن اس اعتراض کو دور کرنے کی طرف ان کی توجہ منعطف نہیں ہوئی۔ مفسرین نے اس اعتراض کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔

امام فخر الدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ اور علامہ حسن بن محمود نیشاپوری متوفی ٧٢٨ ھ نے لکھا ہے : ہر ذی علم کے اوپر ایک علم ہے اور اللہ تعالیٰ بھی ذی علم ہے۔ پس لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کے اوپر بھی ایک عالم ہو۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس قاعدہ کے عموم سے اللہ تعالیٰ خارج ہے اور یہ عام مخصوص عنہ البعض ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٦، ص ٤٨٩، غرائب القرآن ورغائب الفرقان ج ٤، ص ١١١) ۔

قاضی عبداللہ بن عمر البضاوی المتوفی ٦٨٥ ھ نے اس جواب کے علاوہ دوسرا جواب یہ دیا ہے کہ ذی علم سے مراد مخلوق ہے۔ یعنی مخلوق میں ہر ذی علم کے اوپر ایک عالم ہے۔ اور اب ہر ذی علم کے عموم میں اللہ تعالیٰ داخل نہیں ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ خالق ہے۔ مخلوق نہیں ہے۔ علامہ کا زونی متوفی ٨٦٠ ھ علامہ محمد بن مصلح الدین القوجوی الحنفی المتوفی ٩٥١ ھ، علامہ شہاب الدین خفاجی حنفی متوفی ١٠٦٩ ھ نے ان دونوں جوابوں کو برقرار رکھا ہے اور ان کی مزید وضاحت کی ہے۔ (انوار التنزیل مع الکازرونی ج ٣، ص ٣٠٢۔ ٣٠١، حاشیتہ الکازرونی ج ٣، ص ٣٠٢، حاشیتہ الخفاجی ج ٥، ص ٣٤١، حاشیتہ محی الدین شیخ زادہ ج ٥، ص ٦٢ ) ۔

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : ہر ذی علم کے اوپر ایک عالم ہے۔ اس سے لازم آئے گا کہ اللہ عزوجل کے اوپر بھی ایک عالم ہو۔ اور یہ ظاہر البطلان ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مخلوقات میں سے ہر ذی علم کے اوپر ایک عالم ہے۔ کیونکہ یہاں گفتگو مخلوق میں ہو رہی ہے۔ اور دوسرا قرینہ یہ ہے کہ علیم مبالغہ کا صیغہ ہے اور اس کا معنی ہے جو ہر ذی علم سے زیادہ جاننے والا ہے۔ پس متعین ہوگیا کہ علیم سے مراد اللہ تعالیٰ ہے۔ تو اب اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں جو ذی علم ذکر کیا گیا ہے وہ ذی علم لازماً مخلوقات میں سے ہوگا۔ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ عام مخصوص البعض ہے۔ (روح المعانی جز ١٣، ص ٤٥۔ ٤٤، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٧ ھ) ۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 76