أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمَّا اسۡتَايۡـئَسُوۡا مِنۡهُ خَلَصُوۡا نَجِيًّا‌ ؕ قَالَ كَبِيۡرُهُمۡ اَلَمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اَبَاكُمۡ قَدۡ اَخَذَ عَلَيۡكُمۡ مَّوۡثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَمِنۡ قَبۡلُ مَا فَرَّطْتُّمۡ فِىۡ يُوۡسُفَ‌ ۚ فَلَنۡ اَبۡرَحَ الۡاَرۡضَ حَتّٰى يَاۡذَنَ لِىۡۤ اَبِىۡۤ اَوۡ يَحۡكُمَ اللّٰهُ لِىۡ‌ ۚ وَهُوَ خَيۡرُ الۡحٰكِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

جب یوسف کے بھائی اس سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے تنہائی میں سرگوشی کی ان کے بڑے بھائی نے کہا کیا تم کو علم نہیں ہے کہ تمہارے باپ نے اللہ کی قسم لے کر تم سے پکا عہد لیا تھا، اور اس سے پہلے تم یوسف کے معاملہ میں تقصیر کرچکے ہو، میں اس ملک سے ہرگز نہیں جائوں گا حتیٰ کہ میرا باپ مجھے اجازت دے یا اللہ میرے لیے کوئی فیصلہ فرمائے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب یوسف کے بھائی اس سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے تنہائی میں سرگوشی کی ان کے بڑے بھائی نے کہا کیا تم کو علم نہیں ہے کہ تمہارے باپ نے اللہ کی قسم لے کر تم سے پکا عہد لیا تھا، اور اس سے پہلے تم یوسف کے معاملہ میں تقصیر کرچکے ہو، میں اس ملک سے ہرگز نہیں جائوں گا حتیٰ کہ میرا باپ مجھے اجازت دے یا اللہ میرے لیے کوئی فیصلہ فرمائے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے (یوسف : ٨٠)

بڑے بھائی کا واپس جانے سے انکار کرنا :

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی منت سماجت کی کہ وہ بن یامین کو چھوڑ دیں اور ان کی جگہ ان میں سے کسی کو رکھ لیں۔ لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) نے منظور نہیں کیا۔ جب وہ ناامید ہوگئے تو آپس میں بیٹھ کر مشورہ کرنے لگے، کہ اب اس مشکل صورت حال کا کس طرح سامنا کیا جائے اور اس پیچیدہ الجھن کا کیا حل تلاش کیا جائے۔ کیونکہ ان کے باپ نے بن یامین کو ان کے حوالے کرنے سے پہلے ان سے پکی قسمیں لی تھیں کہ وہ بن یامین کی حفاظت کریں گے۔ سوا اس کے کہ وہ سب کسی مصیبت میں گھر جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان کے بڑے نے کہا، اس میں اختلاف ہے کہ بڑے سے مراد عقل اور دانش مندی میں بڑا مراد ہے یا عمر میں بڑا مراد ہے۔ متعدد اسانید کے ساتھ مجاہد سے مروی ہے کہ زیادہ عقل مند شمعون تھا اور عمر میں بڑا روبیل تھا۔ قتادہ نے کہا یہاں روبیل ہی مراد ہے جو عمر میں بڑا تھا اور جب بھائی حضرت یوسف کو قتل کرنے لگے تھے تو اسی نے ان کو قتل کرنے سے منع کیا تھا۔ (جامع البیان جز ١٣، ص ٤٦۔ ٤٥، تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٧، ص ٢١٨١، زادالمسیر ج ٤، ص ٢٦٦ ) ۔

روبیل نے کہا : اگر ہم بن یامین کے بغیر اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو یہ بڑے شرم کی بات ہے۔ ہم لوگ پہلے بھی یوسف کے معاملہ میں خیانت کرچکے ہیں اور ہمارے اس اقدام سے ہمارا باپ بہت رنج اور غم میں مبتلا ہوگا۔ اور جب ہم بن یامین کے بغیر باپ کے پاس جائیں گے تو وہ یہی سمجھے گا کہ جس طرح ہم نے پہلے یوسف کے معاملہ میں خیانت کی تھی اسی طرح اب بن یامین کے معاملہ میں بھی خیانت کی ہے۔ نیز وہ یہ بھی سمجھے گا کہ ہم نے جو پکی قسمیں کھا کر باپ سے ان کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا۔ ہم نے ان قسموں اور ان وعدوں کو پورا نہیں کیا۔ اندریں حالات میں اس وقت تک اس ملک سے نہیں جائوں گا جب تک میرا باپ مجھے واپس نہ بلائے یا اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے کوئی ایسا سبب بن جائے کہ ہمارا بھائی ہمیں واپس مل جائے اور میں اس کو لے کر باپ کے پاس جائوں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 80