أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ قَالُوۡا يٰۤاَيُّهَا الۡعَزِيۡزُ مَسَّنَا وَاَهۡلَنَا الضُّرُّ وَجِئۡنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزۡجٰٮةٍ فَاَوۡفِ لَنَا الۡكَيۡلَ وَتَصَدَّقۡ عَلَيۡنَاؕ اِنَّ اللّٰهَ يَجۡزِى الۡمُتَصَدِّقِيۡنَ ۞

ترجمہ:

سو جب وہ یوسف کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا اے عزیز ! ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو تکلیف پہنچی ہے اور ہم آپ کے پاس حقیر پونجی لے آئے ہیں، آپ ہمیں پورا غلہ ماپ کر دے دیں، اور ہم پر صدقہ کریں بیشک اللہ ! صدقہ کرنے والوں کو جزا دیتا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو جب وہ یوسف کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا : اے عزیز ! ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو تکلیف پہنچی ہے، اور ہم آپ کے پاس حقیر پونجی لے کر آئے ہیں، آپ ہمیں پورا غلہ ماپ کر دے دیں اور ہم پر صدقہ کریں، بیشک اللہ صدقہ کرنے والوں کو جزا دیتا ہے یوسف نے کہا کیا تم کو یاد ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا اور جب تم جہالت میں تھے انہوں نے کہا کیا واقعی آپ ہی یوسف ہیں ؟ یوسف نے کہا میں ہی یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے، بیشک اللہ نے ہم پر احسان فرمایا، بیشک جو اللہ سے ڈرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں فرماتا۔ (یوسف : ٩٠۔ ٨٨)

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے حضرت یوسف کو ڈھونڈنے کے بجائے غلہ کا سوال کیوں کیا ؟

جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ وہ جا کر حضرت یوسف (علیہ السلام) اور بن یامین کو ڈھونڈیں تو انہوں نے اپنے باپ کی بات مان لی اور مصر پہنچ گئے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہا : اے عزیز ! ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو تکلیف پہنچی ہے، اور ہم آپ کے پاس حقیر پونجی لے کر آئے ہیں، الخ۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ ان کے باپ نے تو ان سے کہا تھا کہ جا کر یوسف اور بن یامین کو تلاش کرو اور انہوں نے مصر پہنچ کر غل مانگنا شروع کردیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ کسی کی تلاش میں نکلتے ہیں وہ اپنے مطلوب اور حصول کے لیے تمام ذرائع اور وسائل اور تمام حیلوں اور بہانوں کو کام میں لاتے ہیں۔ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے اپنی تنگ دستی اور بدحالی کا ذکر کیا اور یہ بتایا کہ ان کے پاس غلہ کی قیمت ادا کرنے کے لیے رقم نہیں ہے اور ان کو غلہ کی شدید حاجت ہے۔ وہ تجربہ کر رہے تھے کہ اگر بادشاہ کا دل ان کے لیے نرم ہوگیا تو ہم اس سے یوسف اور اس کے بھائی کے متعلق معلوم کریں گے اور اگر اس کا دل نرم نہیں ہوا تو خاموش رہیں گے۔

مزجاۃ کا معنی ایسی قیمت جس کو مسترد کردیا جائے۔

الازجاء کا معنی ہے کم کم یا آہستہ آہستہ چلانا۔ ان کے پاس جو پیسے تھے، وہ مقدار میں بھی کم تھے اور ان کی کیفیت بھی بہت معمولی تھی۔ گویا وہ بہت حقیر رقم تھی۔ اس لیے انہوں نے کہا ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو بھوک اور ہلاکت کا سامنا ہے۔ ہمیں غلہ کی سخت ضرورت ہے اور ہمارے پاس بہت حقیر رقم ہے۔ آپ ہمیں پورا غلہ ماپ کر دے دیں اور ہم پر صدقہ کریں۔

سوال کرنے کی شرائط اور احکام :

انہوں نے جو حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہا تھا کہ آپ ہم پر صدقہ کریں اس سے حقیقتاً صدقہ مراد نہیں تھا۔ کیونکہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کی اولاد تھے اور انبیاء (علیہم السلام) کی اولاد پر صدقہ حلال نہیں ہے۔ اس کا معنی تھا آپ ہم پر کرم اور فضل فرمائیں۔ یعنی ہماری رقم کے اعتبار سے جتنے غلے کا ہمارا حق بنتا ہے، ہمیں اس سے زیادہ اپنے فضل سے عنایت فرمائیں۔ اور ابوسلیمان الدمشقی اور ابوالحسن الماوردی اور ابویعلیٰ نے یہ کہا کہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے جو انبیاء (علیہم السلام) تھے، ان پر صدقہ حلال تھا۔ اس آیت سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ جب انسان فقر اور فاقہ میں مبتلا ہو تو اس کے لیے اپنی تنگ دستی اور بدحالی کو بیان کرنا جائز ہے۔ بشرطیکہ اس کا مقصد اللہ کی شکایت کرنا نہ ہو۔ اور اسی شرط کے ساتھ بیمار کے لیے ڈاکٹر کے سامنے اپنی بیماری کی کیفیت بیان کرنا جائز ہے اور یہ صبر جمیل کے خلاف نہیں ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت سوال کرنا جائز ہے۔

حضرت قیصہ بن مخارق (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے قیصہ ! سوال کرنا صرف تین شخصوں میں سے کسی ایک کے لیے جائز ہے : ایک وہ شخص جو مقروض ہو (اور اس کے پاس قرض کی ادائیگی کے لیے پیسے نہ ہوں) ۔ دوسرا وہ جس کا تمام مال کسی آفت کی وجہ سے ضائع ہوگیا ہو اور تیسرا وہ شخص جو فاقہ سے ہو اور اس کی قوم میں سے تین آدمی یہ گواہی دیں کہ یہ فاقہ سے ہے۔ اے قیصہ ! ان کے علاوہ جو شخص سوال کرکے کھائے گا وہ حرام کھائے گا۔ (تین گواہوں کا ہونا استحباب پر محمول ہے ورنہ جو شخص فاقہ سے ہو اور کھانا خریدنے کے لیے اس کے پاس کوئی چیز نہ ہو اور کوشش کے باوجود اسے کوئی ملازمت یا مزدوری نہ ملی ہو یا وہ بہت کمزور اور بیمار ہو اور فاقہ زدہ ہو، ایسی صورت میں گواہوں کے بغیر بھی اس کے لیے بقدر ضرورت سوال کرنا جائز ہے) ۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٤٤، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٦٤٠، سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٥٧٩) ۔

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے کہا : اللہ صدقہ کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔ یوں نہیں کہا : اللہ آپ کو جز ادے۔ کیونکہ اس کے خیال میں بادشاہ کافر تھا اور کافر کو آخرت میں اجر نہیں ملتا۔ اس لیے انہوں نے جھوٹ سے بچنے کے لیے توریہ کیا اور کہا اللہ صدقہ کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔ حدیث میں ہے : توریہ کے ساتھ کلام کرنے میں جھوٹ سے بچنے کی گنجائش ہے۔ (سنن کبریٰ للبیہقی ج ١٠، ص ١٩٩) ۔ اس آیت میں یہ بھی معلوم ہوا کہ سوال کرنے والے کو چاہیے کہ وہ خیراب دینے والے کے لیے دعائیہ کلمات کہے۔

بھائیوں سے ان کے مظالم پوچھنے کی وجوہ :

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے کہا : کیا تم کو یاد ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جب تم جہالت میں تھے ؟ حضرت یوسف کے اس قول کی متعدد وجوہ بیان کی گئی ہیں :

(١) امام ابن اسحٰق نے کہا ہے کہ جب انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہا : اے امیر ہم اور ہمارے گھر والے فقر اور فاقہ میں گرفتار ہیں۔ آپ ہم پر صدقہ کیجئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دل نرم ہوگیا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٩٩٣٧) ۔

(٢) کلبی نے بیان کیا ہے کہ حضرت یوسف نے ان سے کہا : مالک بن ذعر نے بتایا ہے کہ میں نے کنوئیں میں ایک ایسا لڑکا دیکھا تھا اور میں نے اس کو اتنے درہموں کے بدلے خرید لیا۔ تو انہوں نے کہا اے بادشاہ ! وہ غلام ہم نے بیچا تھا۔ تب حضرت یوسف جلال میں آگئے اور ان کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ ان کو قتل کرنے کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ یہوذا پلٹ آیا اور اس نے کہا : حضرت یعقوب (علیہ السلام) ت تو ایک بیٹے کی گمشدگی پر اب تک غمزدہ ہیں۔ اور رو رو کر نابینا ہوگئے۔ جب ان کو اپنے تمام بیٹوں کے قتل کی خبر پہنچے گی تو ان کا کیا حال ہوگا۔ پھر کہا : اگر آپ ہمیں قتل ہی کر رہے ہیں تو فلاں فلاں مقام پر فلاں نام کا ہمارا باپ رہتا ہے اس کے پاس ہمارا سامان بھجوا دیں۔ تب یوسف (علیہ السلام) رو پڑے اور اس پر کہا : کیا تم کو یاد ہے……۔

(٣) ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ بھائیوں نے مالک بن ذعر کو جو تحریر دی تھی۔ حضرت یوسف نے وہ تحریر نکال کر ان کو دکھائی تو انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ انہوں نے وہ غلام فروخت کیا تھا۔ پھر حضرت یوسف نے ان کے قتل کا حکم دیا اور پھر مذکور الصدر واقعہ ہے۔ لیکن یہ دونوں روایتیں موضوع ہیں۔ حضرت یوسف کی جو سیرت قرآن مجید نے بیان کی ہے، اس کے خلاف ہے۔

(٤) حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بادشاہ کے نام ایک رقعہ لکھ دیا تھا جس کو پڑھ کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دل نرم ہوگیا۔ (معالم التنزیل ج ٢، ص ٣٧٥، زادالمسیر ج ٤، ص ٢٩٧) ۔

امام رازی متوفی ٦٠٦ ھ اور علامہ قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ نے اس رقعہ کے مندرجات اس طرح ذکر کیے ہیں : یعقوب اسرائیل اللہ بن اسحٰق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ کی جانب سے عزیز مصر کے نام ! حمد الٰہی کے بعد ہم وہ لوگ ہیں جو نسل در نسل مصائب میں مبتلا ہیں۔ میرے دادا کے ہاتھ پائوں باندھ کر انہیں آگ میں ڈال دیا گیا تھا تاکہ وہ جل جائیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نجات دے دی، اور آگ کو ان پر ٹھنڈا اور سلامتی والا بنادیا۔ اور میرے باپ کے گلے پر چھری رکھی گئی تاکہ اس کو ذبح کردیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے ان کا فدیہ دے دیا۔ اور رہا میں تو میرا جو سب سے محبوب بیٹا تھا، اسے اس کے بھائی جنگل میں لے گئے پھر میرے پاس خون آلودہ قمیص لائے اور کہا اس کو بھیڑیے نے کھالیا۔ میں جب سے اس کے فراق میں رو رہا ہوں۔ اس کا ایک بھائی تھا جس سے مجھے تسلی رہتی تھی۔ اس کے یہ بھائی اسے اپنے ساتھ لے گئے اور مجھے آ کر یہ بتایا کہ اس نے آپ کے ہاں چوری کی ہے اور آپ نے اس کی سزا میں اس کو رکھ لیا ہے۔ ہم لوگ نہ خود چور ہیں اور نہ ہماری اولاد چور ہے۔ اگر آپ نے میرے اس بیٹے کو واپس کردیا تو میں آپ کو دعا دوں گا۔ اور اگر آپ نے اس کو واپس نہیں کیا تو میں آپ کے خلاف دعاء کروں گا۔ جس کا اثر ساتویں پشت تک آپ کی اولاد کو پہنچے گا۔ والسلام۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ مکتوب پڑھا تو بےاختیار آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور بھائیوں نے پہچان لیا کہ یہ بادشاہ ہی دراصل یوسف ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٥، ص ٥٠٤۔ ٥٠٣، الجامع لاحکام القرآن جز ٩، ص ٢٢٤۔ ٢٢٣ ) ۔

یہ مکتوب بھی جعلی اور وضعی ہے اور اسرائیلی روایات میں سے ہے کیونکہ اس میں حضرت اسحٰق کو ذبیح اللہ بتایا گیا ہے اور تحقیق یہ ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ذبیح اللہ ہیں۔ قرآن مجید نے اس سلسلہ میں جو فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا : کیا تم کو یاد ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا، جب تم جاہل تھے اس آیت کا معنی یہ ہے کہ حضرت یوسف نے ان کو یاد دلایا کہ تم نے یوسف کے ساتھ کس قدر ظلم کیا تھا اور کتنا بڑا جرم کیا تھا جیسے کسی بڑے مجرم سے کہا جاتا ہے : کیا تم کو علم ہے تم نے کس کی مخالفت کی تھی اور کیا جرم کیا تھا ! حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو جو ان کے مظالم یاد دلائے ہیں، ان میں اس آیت کی تصدیق ہے : واوحینآ الیہ لتنبئنھم بامرھم ھٰذا وھم لایشعرون۔ (یوسف : ١٥) ۔ اور ہم نے یوسف کی طرف (کنوئیں میں) یہ وحی کی کہ (ایک وقت آئے گا) تم ان کو ان کی اس کاروائی سے ضرور آگاہ کرو گے اور اس وقت ان کو شعور نہیں ہوگا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : اس وقت تم جاہل تھے۔ گویا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کا عذر بیان کیا۔ یعنی جس وقت تم نے یہ ظالمانہ کام کیے تھے اس وقت تم تکبر کی جہالت میں تھے اور اب تم ایسے نہیں ہو۔ یا اس کا معنی یہ ہے کہ اس وقت مت باپ کی نافرمانی کے عذاب اور صلہ رحم کے تقاضوں سے جاہل تھے اور اپنی خواہش کی پیروی میں ڈوبے ہوئے تھے یا اس کا معنی یہ ہے کہ اس وقت تم اس بات سے جاہل تھے کہ مستقبل میں تمہارے ان مظالم کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ اور تم کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ جس کو تم غلامبنا کر چند سکوں کے عوض بیچ رہے ہو، وہ کل بادشاہ بن جائے گا اور تم اس کے دربار میں خوراک کے حصول کے لیے رحم کی فریاد لے کر حاضر ہوگئے !

بھائیوں کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو پہچان لینا :

ان کے بھائیوں نے کہا : کیا آپ ہی یوسف ہیں ؟ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جو پہنچا لیا۔ اس کی تین وجوہات بیان کی گئی ہیں :

(١) حضرت ابن عباس نے فرمایا : جب حضرت یوسف (علیہ السلام) مسکرائے تو انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے سامنے کے دانتوں سے پہچان لیا۔

(٢) حضرت ابن عباس (رض) کا دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت یوسف کے ماتھے پر تل کی طرح ایک نشانی تھی اور حضرت یعقوب، حضرت اسحٰق اور حضرت سارہ کے ماتھے پر بھی اسی طرح کی نشانی تھی۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے سر سے تاج اتارا تو بھائیوں نے اس تل کو دیکھ کر انہیں پہچان لیا۔

(٣) امام ابن اسحٰق نے کہا : پہلے حضرت یوسف نے اپنے اور ان کے درمیان حجاب رکھا ہوا تھا اور اس وقت وہ حجاب اٹھا دیا تھا اس لیے ان کے بھائیوں نے ان کو پہچان لیا۔ (زادالمسیر ج ٤، ص ٢٨١، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بھائیوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر کرنا :

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ نہیں فرمایا کہ میں وہی ہوں۔ بلکہ فرمایا : میں یوسف ہوں اور یہ میر ابھائی ہے تاکہ ان کے بھائی اس نام سے یہ جان لیں کہ میں وہی ہوں جس پر انوں نے ظلم توڑے تھے اور اب اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت اور سرفرازی عطا فرمائی تھی۔ میں وہ ہوں جس کو عاجز سمجھ کر تم نے ہلاک کرنے کے لیے کنوئیں میں ڈال دیا تھا۔ اس کو آج اللہ نے ایسی حکومت اور ایسا اقتدار عطا فرمایا ہے کہ تم اپنی رمق حیات برقرار رکھنے کے لیے اس کے پاس غلہ کی خیرات مانگنے آئے ہو ! حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا یعنی ہمیں دنیا اور آخرت میں ہر قسم کی کامیابی اور کامرانی عطا فرمائی ہے۔ نیز فرمایا : بیشک جو اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں فرماتا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ بیشک جو شخص اللہ کی نافرمانی کرنے سے ڈرتا ہے اور لوگوں کے مظالم پر صبر کرتا ہے تو اللہ ان کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ اس آیت کریمہ میں حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے متعلق فرمایا کہ وہ متقی ہیں اور جیسا کہ بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) زلیخا کے ساتھ زنا کے تمام مقدمات میں ملوث ہوگئے تھے۔ اگر یہ بات صحیح ہوتی تو آپ کا خود کو متقی فرمانا صحیح نہ ہوتا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 88