أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَـكُمۡ اَنۡفُسُكُمۡ اَمۡرًا‌ؕ فَصَبۡرٌ جَمِيۡلٌ‌ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّاۡتِيَنِىۡ بِهِمۡ جَمِيۡعًا‌ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ ۞

ترجمہ:

یعقوب نے کہا بلکہ تمہارے دلوں نے ایک بات گھڑلی ہے تو اب صبر جمیل ہی مناسب ہے، عنقریب اللہ ان سب کو میرے پاس لے آئے گا، بیشک وہ خوب جاننے والا، بہت حکمت والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یعقوب نے کہا بلکہ تمہارے دلوں نے ایک بات گھڑ لی ہے، تو اب صبر جمیل ہی مناسب ہے، عنقریب اللہ ان سب کو میرے پاس لے آئے گا، بیشک وہ خوب جاننے والا بہت حکمت والا ہے اور ان سے پشت پھیرلی اور کہا ہائے افسوس یوسف (کی جدائی) پر اور غم سے ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں اور وہ غم برداشت کرنے والے تھے بیٹوں نے کہا آپ یوسف کو (ہی) یاد کرتے رہیں گے، حتیٰ کہ آپ سخت بیمارپڑ جائیں گے یا ہلاک ہونے والوں میں سے ہوں جائیں گے یعقوب نے کہا میں اپنی پریشانی اور غم کی شکایت صرف اللہ سے کرتا ہوں، اور مجھے اللہ کی طرف سے ان باتوں کا علم ہے جن کا تم کو علم نہیں ہے (یوسف : ٨٦۔ ٨٣)

بن یامین کے متعلق بات گھڑنے کی توجیہ :

حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جب اپنے بیٹوں کی بات سنی تو جس طرح انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے متعلق ان کو دی ہوئی خبر پر یقین نہیں کیا تھا، انہوں نے اس خبر پر بھی یقین نہیں کیا۔ اور فرمایا : بلکہ تم نے اپنے دل سے ایک بات بنا لی ہے۔ اس سے ان کی مراد یہ نہیں تھی کہ تم نے جھوٹ کہا ہے بلکہ ان کی مراد یہ تھی کہ بن یامین کو میرے پاس سے نکالنے اور اس کو مصر لے جانے اور اس سے منفعت حاصل کرنے کے لیے تم نے ایک بات بنا لی تھی۔ جس کے نتیجہ میں یہ مصیبت آئی۔ تم نے اس کو اپنے ساتھ لے جانے کے لیے بہت ضد کی۔ اور اس کو اپنے ساتھ واپس لانے کے لیے عہد و پیمان کیے اور قسمیں کھائیں۔ لیکن تم نے جو کچھ سوچا تھا، تقدیر میں اس کے بالکل خلاف تھا۔ 

صبر جمیل کی تعریف :

حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا : تو اب صبر جمیل ہی مناسب ہے۔

صبر جمیل کی تعریف میں امام محمد بن محمد غزالی متوفی ٥٠٥ ھ لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ سے شکوہ اور شکایت کرنا حرام ہے اور جب آدمی اپنے مرض یا مصیبت کا کسی کے سامنے اظہار کرتا ہے اور وہ اس مرض اور مصیبت کو ناپسند کرتا ہے اور اس سے ناراض ہوتا ہے تو یہ اللہ کے فعل کی شکایت ہے۔ اس لیے یہ حرام ہے۔ ہاں اگر اس پر قرائن ہوں کہ وہ اللہ کے فعل کو ناپسند نہیں کر رہا اور نہ اس پر ناراض ہے اور وہ اللہ سے شکوہ اور شکایت نہیں کر رہا۔ بلکہ اپنے درد اور مصیبت کا اظہار کر رہا ہے تو پھر اپنی تکلیف اور مصیبت کا اظہار کرنا حرام نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی خلافِ اولیٰ ہے۔ اور اولیٰ یہ ہے کہ وہ مصیبت کا اظہار بالکل نہ کرے کیونکہ اس سے شکایت کا وہم ہوتا ہے۔ بعض علماء نے کہا جس نے اپنی مصیبت کا اظہار کیا اس نے صبر نہیں کیا اور صبر جمیل کا معنی یہ ہے کہ اس میں بالکل شکایت نہ ہو۔ (احیاء علوم الدین ج ٤، ص ٢٥٥، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٩ ھ) ۔

نیز امام غزالی لکھتے ہیں : حضرت دائود (علیہ السلام) نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے کہا : مومن کے تقویٰ پر تین چیزوں سے استدلال کیا جاتا ہے : اس کو جو نعمت نہیں ملی اس کے حصول کا اللہ پر بھروسہ رکھے اور جو نعمت مل گئی ہو اس پر اللہ سے راضی رہے اور جو نعمت اس سے جاتی رہی ہو اس پر اچھی طرح صبر کرے اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی تعظیم اور اس کی معرفت کی نشانی یہ ہے کہ تم اپنی تکلیف کی شکایت نہ کرو اور اپنی مصیبت کا ذکر نہ کرو۔ (ابن ابی الدنیا فی المرض والکفارات) (احیاء علوم الدین ج ٤، ص ٦٢، مطبوعہ بیروت، ١٤١٩ ھ)

صبر جمیل کے اجر کے متعلق احادیث :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : جب میں اپنے مومن بندہ کو کسی مصیبت (یا مرض) میں مبتلا کرتا ہوں، اور وہ اپنے عیادت کرنے والوں سے میری شکایت نہ کرے تو میں اس کو قید سے آزاد کردیتا ہوں اور اس کا گوشت پہلے گوشت سے بہتر بنا دیتا ہوں اور اس کا خون پہلے خون سے بہتر بنا دیتا ہوں اور ازسرنو اس کے عمل شروع کردیتا ہوں۔ (سنن کبریٰ للبیہقی ج ٣، ص ٣٧٥، المستدرک ج ١، ص ٣٤٨ ) ۔

حسن بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کو دو قطرے زیادہ محبوب ہیں۔ ایک وہ (خون کا) قطرہ جو اس کے راستہ میں گرا ہو۔ اور ایک وہ آنسو کا قطرہ جو اس شخص کی آنکھ سے گرا ہو جو آدھی رات کو اللہ کے خوف سے کھڑا عبادت کر رہا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کو دو گھونٹ زیادہ محبوب ہیں : ایک صبر کا وہ گھونٹ جب کوئی شخص سخت درد کو برداشت کر کے صبر کا گھونٹ بھر لے اور دوسرا وہ گھونٹ جب کوئی شخص غصہ کو برداشت کرکے صبر کا گھونٹ پی لے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ج ٧، رقم الحدیث : ٣٤٣٩٨، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٦ ھ) ۔

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ اجر والا وہ گھونٹ ہے کہ بندہ اللہ کی رضا کے لیے غصہ کو ضبط کرکے صبر کا گھونٹ بھر لے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٨٩، مسند احمد ج ٢، ص ١٢٨ ) ۔

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صدقہ کو مخفی رکھنا اور مصائب اور بیماریوں کو چھپانا نیکی کے خزانوں میں سے ہے اور جس نے اپنی پریشانی کا اظہار کیا، اس نے صبر نہیں کیا۔ (شعب الایمان رقم الحدیث : ١٠٠٥٠، کامل ابن عدی ج ٣، ص ١٠٨٨، قدیم)

حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے ہائے افسوس کہنے کی توجیہ :

حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا : ہائے میرا افسوس یوسف کی جدائی پر !

حضرت ابن عباس (رض) نے کہا اس کا معنی ہے : ہائے یوسف کے اوپر میرا طویل رنج و غم۔

ابن قتیبہ نے کہا : الاسف کا معنی ہے بہت زیادہ حسرت۔

سعید بن جبیر نے کہا : اس امت کو مصیبت کے وقت کہنے کے لیے جو کلمات دیئے گئے ہیں وہ ہیں انا للہ وانا الیہ راجعون (البقرہ : ١٥٦)

اگر انبیاء سابقین کو یہ کلمات دیئے گئے ہوتے تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو بھی یہ کلمات دیئے گئے ہوتے اور وہ یا اسفی علی یوسف کی بجائے انا للہ وانا الیہ راجعون کہتے۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا : ہائے میرا افسوس، یوسف کی جدائی پر اور یہ تو شکایت کے الفاظ ہیں۔ پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا صبر جمیل کدھر گیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی شکایت نہیں کی۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف شکایت کی ہے۔ صبر جمیل کے منافی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی شکایت کرتے۔ انہوں نے تو خود کہا تھا : انمآ اشکو بثی وحزنیٓ الی اللہ۔ (یوسف : ٨٦) ۔ میں اپنی پریشانی اور غم کی شکایت صرف اللہ سے کرتا ہوں۔

ابن الانباری نے کہا : یہ دعائیہ کلمات ہیں اور ان کی مراد یہ تھی۔ اے میرے رب ! یوسف کا جو مجھے رنج اور افسوس ہے، اس پر رحم فرما۔ اولاد سے محبت فطرت اور طبیعت کا تقاضا ہے اور اس کی جدائی پر رنج اور غم ہونا یہ بھی فطرت اور طبیعت کا تقاضا ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ممنوع یہ ہے کہ انسان غم سے چیخ و پکار کرے اور ایسے کام کرے جن سے بےقراری اور بےچینی کا اظہار ہو۔ دل میں رنج ہو۔ آنکھوں میں آنسو ہوں اور اپنے رنج و غم کا اللہ سے اظہار ہو اور اس میں اللہ کی شکایت نہ ہو بلکہ اللہ کی طرف شکایت ہو تو یہ تمام امور جائز ہیں اور ان میں کسی کو ملامت نہیں کی جائے گی۔

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ابوسیف لوہار کے پاس گئے۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاحبزادے حضرت ابراہیم (رض) کے رضاعی باپ تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابراہیم کو لیا۔ ان کو بوسہ دیا اور ان کو سونگھا۔ پھر ہم اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اس وقت حضرت ابراہیم اپنی جان کی سخاوت کر رہے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ تب حضرت عبدالرحمن بن عوف نے کہا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ؟ (رو رہے ہیں) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابن عوف ! یہ آنسو رحمت ہیں ! پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھوں میں اور آنسو آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آنکھ سے آنسو بہتے ہیں اور دل غمگین ہے اور ہم زبان سے صرف وہی بات کہتے ہیں جس سے ہمارا رب راضی ہو۔ اور اے ابراہیم ! ہم آپ کی جدائی پر غم زدہ ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٣٠٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣١٥، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣١٢٦ ) ۔

امام عبدالرحمن بن محمد رازی ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ روایت کرتے ہیں : لیث بن ابی سلیم روایت کرتے ہیں کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) قید خانہ میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس گئے۔ حضرت یوسف نے ان کو پہچان لیا تو ان سے کہا اے مکرم فرشتے ! کیا آپ کو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا علم ہے ؟ کہا ہاں۔ پوچھا کیا حال ہے ؟ کہا آپ کے غم میں ان کی بینائی جاتی رہی۔ پھر پوچھا انہیں کتنا غم ہے ؟ کہا ستر درجہ زیادہ غم ہے۔ پوچھا ان کو اجر بھی ملے گا ؟ کہا ہاں ! ان کو سو شہیدوں کا اجر ملے گا ! (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٧، رقم الحدیث : ١١٨٨٤، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ البار مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ) ۔

حسن بصری نے کہا : حضرت یعقوب (علیہ السلام) مسلسل اسی (٨٠) سال تک روتے رہے اور ان کی آنکھیں خشک نہیں ہوئیں اور جب سے ان کی بصارت گئی تھی، اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان سے زیادہ عزت والا کوئی نہیں تھا۔ (زادالمسیر ج ٤، ص ٢٧١) ۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 83