أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا تَاللّٰهِ لَقَدۡ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيۡنَا وَاِنۡ كُنَّا لَخٰـطِـئِيۡنَ ۞

ترجمہ:

انہوں نے کہا بیشک اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی اور بلاشبہ ہم خطا کار تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہوں نے کہا بیشک اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی اور بلاشبہ ہم خطاکار تھے یوسف نے کہا آج کے دن تم پر کوئی ملامت نہیں ہے، اللہ تمہاری مغفرت فرمائے اور وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے میری اس قمیص کو لے کر جائو اور اس کو میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو تو ان کی آنکھیں دیکھنے لگیں گی اور اپنے سب گھر والوں کو میرے پاس لے آئو۔ (یوسف : ٩٣۔ ٩١)

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بھائیوں کا اعتراف خطا کرنا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا انہیں معاف فرمانا :

جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا ہے اور جو شخص اللہ سے ڈر کر گناہوں سے بچتا ہے اور لوگوں کی زیادتیوں پر صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے ان کی تصدیق کی اور ان کی فضیلت کا اعتراف کیا اور کہا : بیشک اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی اور بلاشبہ ہم خطاکار تھے۔

مفسرین کرام نے خاطی اور مخطی میں فرق بیان کیا ہے۔

خاطی وہ ہے جو قصدا خطا کرے اور مخطی وہ ہے جس سے خطا سرزد ہوجائے۔ حضرت یوسف کے بھائیوں نے اپنے آپ کو خاطی کہا تھا، کیونکہ انہوں نے حضرت یوسف پر جو مظالم کیے وہ عمدا کیے تھے، حضرت یوسف نے کہا : آج کے دن پر کوئی ملامت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے اور وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔

علامہ عبد الرحمن بن علی بن محمد جوزی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں : تثریب کا معنی ہے کسی شخص کو اس کا برا کام یاد دلا کر اس کو ملامت کرنا اور عار دلانا۔

حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس کا معنی یہ ہے کہ میں آج کے بعد تم کو تمہاری زیادتیوں پر کبھی ملامت نہیں کروں۔ ابن الانباری نے کہا : آ نے اس طرف اشارہ کیا کہ آج کے دن معاف کرنے والا پہلا وقت ہے اور آپ جیسے شخص کا منصب یہ ہے کہ وہ دوبارہ انہیں ان کا قصور یاد نہ دلائے۔

امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے حضرت زبیر بن العوام، حضرت ابو عبیدہ بن الجراح اور حضرت خالد بن ولید کو گھوڑوں پر سوار کرا کر روانہ کیا، (الی قولہ) پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان فرمایا : جو شخص اپنے گھر میں بیٹھ گیا اس کو امان ہے، اور جس نے ہتھیار ڈال دیے اس کو امان ہے، قریش کے سردار کعبہ میں داخل ہوئے اور ان سے جگہ تنگ ہوگئی، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کعبہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دروازہ کے دونوں چوکھٹ پکڑ کر کھڑے ہوگئے، اور لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر بیعت اسلام کرنے لگے، اور اسی سند کے ساتھ یہ روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ پر آئے اور دروازہ کی چوکھٹ کے دونوں بازو پکڑ کر کھڑے ہوئے اور آپ نے (مشرکین مکہ سے) فرمایا : تم کیا کہتے ہو اور کیا گمان کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : آپ ہمارے برادر زاد اور عم زاد ہیں اور انہوں نے یہ تین مرتبہ کہا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اس طرح کہتا ہوں جس طرح حضرت یوسف نے کہا تھا :

لاتثریب علیکم الیوم یغفر اللہ لکم وھو ارحم الراحمین۔ آج تمہیں کوئی ملامت نہیں ہے، اللہ تمہاری مغفرت فرمائے اور وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔

پھر مشرکین مکہ تیزی سے اسلام میں داخل ہونے لگے جیسے ان کے پیروں کی بیڑیاں کھول دی گئی ہوں۔ (السنن الکبری للبیہقی ج ٩، ص ١١٨، مطبوعہ ملتان سبل الہدی والرشاد، ج ٥ ص ٢٤٢، مطبوعہ بیروت)

حضرت یوسف کی قمیص سے حضرت یعقوب کی آنکھوں کا روشن ہونا :

جب حضرت یوسف کے بھائیوں نے حضرت یوسف کو پہچان لیا تو حضرت یوسف نے ان سے اپنے باپ کا حال پوچھا، بھائیوں نے بتایا کہ ان کی بینائی جاتی رہی ہے، تب حضرت یوسف نے ان کو اپنی قمیص دی اور کہا : یہ قمیص میرے باپ کے چہرے پر ڈال دینا ان کی آنکھیں روشن ہوجائیں گی۔ 

امام عبدالرحمن بن محمد رازی المعروف بابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ روایت کرتے ہیں :

مطلب بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو جنت کی قمیصوں میں سے ایک قمیص پہنائی تھی، حضرت ابراہیم نے یہ قمیص حضرت اسحاق کو پہنائی اور حضرت اسحاق نے وہ قمیص حضرت یعقوب کو پہنائی اور حضرت یعقوب نے وہ قمیص حضرت یوسف کو پہنائی، پھر انہوں نے اس قمیص کو لپیٹ کر ایک چاندی کی نلکی میں رکھا اور اس کو حضرت یوسف کے گلے میں ڈال دیا، جس وقت حضرت یوسف کو کنوئیں میں ڈالا گیا اور جب ان کو قید میں رکھا گیا اور جس وقت ان کے پاس ان کے بھائی آئے، ان تمام اوقات میں وہ نلکی ان کے گلے میں تھی اور اس وقت حضرت یوسف نے اس نلکی سے یہ قمیص نکال کر بھائیوں کے حوالے کی اور کہا : میری اس قمیص کو میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو ، ان کی آنکھیں روشن ہوجائیں گی، ابھی وہ قمیص فلسطین کے علاقہ کنعان میں تھی کہ حضرت یعقوب نے فرمایا : مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔

یہوذا نے کہا : پہلے حضرت یعقوب کے پاس میں خون آلود قمیص لے کر گیا تھا اور میں نے کہا تھا کہ یوسف کو بھیڑییے نے کھالیا، اب اس قمیص کو بھی میں لے کر آؤں گا اور یہ بتاؤں گا کہ یوسف زندہ ہیں، جس طرح پہلے میں نے ان کو رنجیدہ کیا تھا اسی طرح اب میں جاکر ان کو خوشخبری دوں گا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٧ ص ٢١٩٦، مطبوعہ مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)

ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کپڑوں اور آپ کے بالوں سے بیماروں کا شفا یاب ہونا اور دیگر برکتیں :

حضرت اسماء کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت اسماء کو بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر مطلقا ریشم کو حرام کہتے ہیں تو انہوں نے کہا : یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جبہ ہے، انہوں نے ایک طیالیسہ کسروانیہ جبکہ نکالا جس میں ریشم کے پیوند لگے ہوئے تھے اور اس کے سامنے اور پیچھے کے چاک پر یا آستینوں پر ریشم کے بیل بوٹے بنے ہوتئے تھے۔ حضرت اسماء نے کہا : یہ جبہ حضرت عائشہ کے پاس تھا، جب وہ فوت ہوگئیں تو میں نے اس پر قبضہ کرلیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو پہنا کرتے تھے، ہم بیماروں کے لیے اس کو دھوتے اور اس (کے غسالہ، دھو ون) سے ان کے لیے شفا طلب کی جاتی ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٦٩، مسند احمد ج ٦ ص ٣٤٧، ٣٤٨، طبع قدیم، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٧٤٨١، طبع عالم الکتب بیروت)

علامہ شہاب الدین احمد خفاجی متوفی ١٠٦٩ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

ہم آپ کے جبہ کو دھو کر اس کا دھو ون بیماروں کو پلاتے تھے اور ان کے بدنوں پر ملتے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آثار سے برکت حاصل کرتے تھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی برکت سے اللہ تعالیٰ بیماروں کو شفا عطا فرماتا تھا۔ (نسیم الریاض ج ٣ ص ١٣٤، مطبوعہ دار الفکر بیروت)

قاضی عیاض بن موسیٰ متوفی ٥٤٤ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ابو القاسم بن میمون بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیالوں میں سے ایک پیالہ تھا، ہم بیماروں کے لیے اس میں پانی ڈالتے تھے اور وہ اس سے شفا حاصل کرتے تھے۔ (الشفاء ج ١ ص ٢٤٦، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ خفاجی نے لکھا ہے : بیمار اس پیالہ میں پانی ڈال کر پیتے تھے اور شفاطلب کرتے تھے اور اس کو پینے سے آپ کے آثار کی برکت سے ان کو شفا حاصل ہوتی تھی۔ ( ّنسیم الریاض ج ٣ ص ١٣٤، مطبوعہ دار الفکر بیروت)

عثمان بن عبداللہ بن موہب بیان کرتے ہیں کہ میرے گھر والوں نے ایک برتن میں پانی ڈال کر مجھے حضرت ام سلمہ کے پاس بھیجا، اسرائیل نے تین انگلیوں کو ملایا یعنی وہ چاندی سے ملمع کی ہوئی ایاک چھوٹی سی ڈبیا تھی تین انگل جتنی، اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبارک بالوں میں سے کچھ بال تھے، جب کسی انسان کو نظر لگ جاتی یا اس کو اور کوئی بیماری ہوجاتی تو وہ آپ کے پاس ایک برتن بھیج دیتا۔ میں نے گھنٹی کی شکل کی ایک ڈبیا دیکھی اس میں سرخ رنگ کے بال تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٨٩٦، مشکوۃ رقم الحدیث : ٤٥٦٨ )

حافظ شہاب الدین احمد ابن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں :

اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ جو شخص بیمار ہوجاتا وہ حضرت ام سلمہ کے پاس ایک برتن بھیجتا وہ اس برتن میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ان مبارک بالوں کو رکھتیں پھر اس برتن میں پانی ڈالتیں اور ان کا دھو ون اس بیمار کو پلاتیں، یا وہ آدمی شفا طلب کرنے کے لیے اس پانی سے غسل کرتا اور اس کو اس پانی کی برکت حاصل ہوتی۔ (فتح الباری ج ١٠، ص ٣٥٣، مطبوعہ لاہور، ١٤٠١ ھ)

امام حافط احمد بن علی بن مثنی تمیمی متوفی ٣٠٧٨ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

عبدالحمید بن جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید نے کہا کہ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک عمرہ کیا، آپ نے اپنے سر کے بال منڈوائے، لوگ آپ کے بال لینے کی طرف جھپٹے، میں نے آپ کی پیشانی کے بالوں کی طرف سبقت کی، میں نے آپ کے بال لے کر ان کو اپنی ٹوپی میں رکھ لیا اور میں نے ان بالوں کو اپنی ٹوپی کے اگلے حصہ میں رکھا، اس کے بعد میں جس جنگ میں بھی گیا مجھے فتح حاصل ہوئی۔ (مسند ابو یعلی ج ١٣، رقم الحدیث : ٧١٨٣، مطبوعہ دار الثقافۃ العربیہ دمشق، ١٤١٢ ھ)

امام ابو العباس احمد بن ابوبکر بوصیری متوفی ٨٤٠ ھ نے اس حدیث کو امام ابو یعلی کے حوالے سے ذکر کر کے کہا ہے کہ امام ابو یعلی نے اس حدیث کو سند صحیح کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (مختصرا تحاف السادۃ المہرۃ بزوائد المسانید العشرۃ ج ٩، رقم الحدیث : ٧٦٦٨، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٧ ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ نے بھی امام ابو یعلی کی سند سے اس حدیث کو زکر کیا ہے۔ (المطالب العالیہ ج ٤ رقم الحدیث : ٤٠٤٤) نیز حافظ عسقلانی نے اس حدیث کو امام سعید بن منصور سے تٖفصیلا ذکر کیا ہے۔ (اس تفصیل کو ہم امام طبرانی کے حوالے سے ذکر کریں گے) اور امام ابو یعلی کے حوالے سے بھی ذکر کیا ہے۔ (الاصابہ ج ١ ص ٤١٤، مطبوعہ دار الفکر بیروت ١٣٩٨ ھ، الاصابہ ج ٢ ص ٢١٧، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٥ ھ)

امام ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

عبدالحمید بن جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جنگ یرموک کے دن حضرت خالد بن ولید کی ٹوپی گم ہوگئی، حضرت خالد نے کہا : اس ٹوپی کو ڈھونڈو، لوگوں کو وہ ٹوپی نہیں ملی۔ حضرت خالد نے پھر کہا : اس ٹوپی کو تلاش کرو، تو لوگوں کو وہ ٹوپی مل گئی، وہ ایک پرانی ٹوپی تھی، حضرت خالد نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ کیا اور اپنا سر منڈوایا، مسلمان آپ کے بالوں کی طرف جھپٹے، میں نے آپ کی پیشانی کے بالوں کی طرف سبقت کی اور ان بالوں کو میں نے اس ٹوپی میں رکھ لیا، پھر میں جس جنگ میں بھی گیا یہ ٹوپی میرے ساتھ رہی اور مجھے فتح عطا کی گئی۔ (المعجم الکبیر ج ٤، رقم الحدیث : ٣٨٠٤، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

حافظ نور الدین الہیثمی المتوفی ٨٠٧ ھ نے لکھا ہے : اس حدیث کو امام ابو یعلی اور امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور ان دونوں کے راوی صحیح ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ٩، ص ٣٤٨) امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥ ھ نے بھی اس حدیث کو اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (المستدرک ج ٣، ص ٢٩٩) امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ نے بھی اس حدیث کو اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (دلائل النبوۃ ج ٦، ص ٢٤٩) امام ابن الاثیر علی بن محمد الجزری المتوفی ٦٣٠ ھ نے بھی اس حدیث کو اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (اسد الگابہ ج ٢ ص ١٤٣، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی متوفی ٥٤٤ ھ نے اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔ (الشفا ج ١ ص ٢٤٦، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

ملا علی قاری متوفی ١٠١٤ ھ اور علامہ خفاجی متوفی ١٠٦٩ ھ نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔ (شرح الشفا علی ہامش نسیم الریاض ج ٣، ص ١٣٣) علامہ بدر الدین عینی متوفی ٨٥٥ ھ نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٣ ص ٣٧، مطبوعہ مصر ١٣٤٨ ھ) اور خاتم الحفاظ حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ نے اس حدیث کا امام سعید بن منصور، امام ابن سعد، امام ابو یعلی، امام حاکم اور امام ابو نعیم کے حوالوں سے ذکر کیا ہے۔ (الخصائص الکبری ج ١ ص ١١٧، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤٠٥ ھ)

حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قمیص سے حضرت یعقوب کی آنکھوں کی شفایابی کا تو ایک واقعہ ہے اور ہمارے نبی سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کپڑوں، آپ کے برتنوں اور آپ کے بالوں سے حصول شفا کے متعددد واقعات ہیں اور یہ آپ کے مبارک بالوں کی برکت تھی کہ حضرت خالد بن ولید کو ہر جنگ میں فتح حاصل ہوتی تھی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 91