أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا يٰۤاَيُّهَا الۡعَزِيۡزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَيۡخًا كَبِيۡرًا فَخُذۡ اَحَدَنَا مَكَانَهٗۚ اِنَّا نَرٰٮكَ مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

انہوں نے کہا اے عزیز ! اس کا باپ بہت بوڑھا ہے، آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیں، ہماری رائے میں آپ بہت نیک لوگوں میں سے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہوں نے کہا : اے عزیز ! اس کا باپ بہت بوڑھا ہے، آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیں، ہماری رائے میں آپ بہت نیک لوگوں میں سے ہیں یوسف نے کہا اللہ کی پناہ ! ہم نے جس کی بوری میں اپنا سامان پایا ہے، اس کے علاوہ ہم کسی اور کو رکھ لیں، پھر تو ہم ظالم قرار پائیں گے (یوسف : ٧٩۔ ٧٨)

بھائیوں کا حضرت یوسف (علیہ السلام) سے فدیہ لینے کی درخواست کرنا :

پہلے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف چوری کی نسبت کرکے اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔ پھر اس کے بعد نرمی اور عاجزی کا طریقہ اختیار کیا۔ وہ یہ اعتراف کرچکے تھے کہ جس شخص کے پاس چوری کا مال برآمد ہو اس کو غلام بنا کر رکھ لیا جاتا ہے۔ اب انہوں نے یہ کہا کہ ہرچند کہ چور کی سزا یہی ہے لیکن اس کو معاف کرنا بھی جائز ہے یا پھر فدیہ دے کر اس کو چھڑا لینا بھی جائز ہے۔ آپ اس کے بدلہ میں ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے۔ انہوں نے کہا : ہمارا باپ شیخ کبیر ہے ،۔ شیخ کبیر کا معنی یا تو بہت بوڑھا ہے یا اس کا معنی ہے وہ بہت قدر و منزلت والا اور بہت دین دار ہے۔ انہوں نے کہا : ہماری رائے میں آپ بہت نیک لوگوں میں سے ہیں۔ انہوں نے جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے متعلق کہا تھا کہ آپ بہت نیک لوگوں میں سے ہیں۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں :

(١) اگر آپ نے ہماری درخواست منظور کرلی تو پھر آپ بہت نیکی کمائیں گے۔

(٢) آپ نے چونکہ ہمارا بہت اعزازو اکرام کیا ہے اور ہمارے لیے بہت مال خرچ کیا ہے۔ ہمیں بہت وافر مقدار میں گندم دیا ہے اور ہماری دی ہوئی قیمت بھی ہمیں واپس کردی۔ یہ اس کی دلیل ہے کہ آپ بہت نیک لوگوں میں سے ہیں۔

(٣) منقول ہے کہ جب مصر اور اس کے مضافات میں بہت بڑا قحط پڑا اور لوگوں نے غلہ خریدنے کے لیے آخرکار اپنے آپ کو بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ہاتھ فروخت کردیا تو پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سب کو آزاد کردیا اور ان کی املاک بھی ان کو لوٹا دیں۔ یہ واقعہ بہت مشہور ہوچکا تھا اس لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے کہا : آپ بہت نیک لوگوں میں سے ہیں۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ آپ نے بہت لوگوں کے ساتھ نیکی کی ہے۔ تو ہم پر بھی احسان فرمائیں اور بن یامین کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : معاذ اللہ ! اگر ہم نے کسی شخص کو بغیر جرم کے اپنے پاس رکھ لیا تو ہم ظالم قرار پائیں گے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ پورا واقعہ، خلاف واقع امور پر مبنی ہے۔ بن یامین پر چوری کا الزام لگنا، اور اس کے فراق کی وجہ سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو مزید رنج اور غم میں مبتلا کرنا، حضرت یوسف (علیہ السلام) کے منصب نبوت کے کیسے لائق ہے۔ تو اس کا جواب ہم تفصیل سے یوسف : ٧٢ کی تفسیر میں ذکر کرچکے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 78