أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡۤا اِنۡ يَّسۡرِقۡ فَقَدۡ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنۡ قَبۡلُ‌ ۚ فَاَسَرَّهَا يُوۡسُفُ فِىۡ نَفۡسِهٖ وَلَمۡ يُبۡدِهَا لَهُمۡ‌ ۚ قَالَ اَنۡـتُمۡ شَرٌّ مَّكَانًا ‌ۚ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا تَصِفُوۡنَ ۞

ترجمہ:

انہوں نے کہا اگر اس نے چوری کی ہے تو (کوئی نئی بات نہیں) اس سے پہلے اس کا بھائی بھی چوری کرچکا ہے، سو یوسف نے اس بات کو دل میں چھپایا اور ان پر ظاہر نہیں کیا، اس نے (دل میں) کہا تم خود بدتر خصلت کے ہو اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اسے اللہ خوب جانتا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہوں نے کہا اگر اس نے چوری کی ہے تو (کوئی نئی بات نہیں) اس سے پہلے اس کا بھائی بھی چوری کرچکا ہے۔ سو یوسف نے اس بات کو دل میں چھپایا اور ان پر ظاہر نہیں کیا۔ اس نے (دل میں) کہا تم خود بدتر خصلت کے ہو، اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو، اسے اللہ خوب جانتا ہے (یوسف : ٧٧)

حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف منسوب کی گئی چوری کے متعلق روایات :

جب تلاشی کے بعد شاہی پیالہ بن یامین کی بوری سے نکل آیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے تمام بھائیوں کے سر جھک گئے اور انہوں نے آپس میں کہا یہ عجیب بات ہے کہ راحیل نے دو بیٹوں کو جنم دیا اور دونوں چور نکلے۔ پھر انہوں نے بن یامین سے کہا : اے راحیل کے بیٹے ! تمہاری وجہ سے ہم پر کتنے مصائب ٹوٹ پڑے ہیں۔ بن یامین نے کہا : تمہاری وجہ سے ہم پر کتنے مصائب آ چکے ہیں ! تم میرے بھائی کو لے گئے اور تم نے اس کو جنگل میں ضائع کردیا۔ اس کے باوجود تم مجھ سے ایسی باتیں کرتے ہو۔ انہوں نے کہا : شاہی پیالہ تمہاری بوری سے کیسے نکل آیا ؟ بن یامین نے کہا : جس نے تمہاری رقم کی تھیلی تمہاری بوریوں میں رکھی تھی، اسی نے میری بوری میں شاہی پیالہ کر رکھا ہے۔ بظاہر اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ انہوں نے بادشاہ سے کہا بن یامین کا چوری کرنا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ اس کا بھائی جو ہلاک ہوچکا ہے وہ بھی پہلے چوری کرچکا ہے۔ اور اس کلام سے ان کی غرض یہ تھی کہ چوری کرنا ہمارا شیوہ نہیں ہے۔ یہ اور اس کا بھائی ہی اس برائی میں ملوث تھے۔ بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف جو چوری منسوب کی تھی اس سلسلہ میں حسب ذیل اقوال ہیں :

(١) سعید بن جبیر نے کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) کا نانا کافر تھا۔ اور وہ بتوں کی عبادت کرتا تھا۔ بچپن میں حضرت یوسف سے ان کی ماں نے کہا کہ وہ ان بتوں کو چرا کر توڑ دیں۔ اسی چوری کی طرف ان کے بھائیوں نے نسبت کی تھی۔ وہب بن منبہ اور قتادہ نے بھی اس کو بیان کیا ہے۔

(٢) بچپن میں ان کے گھر کوئی سائل آیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے گھر سے کوئی چیز اٹھا کر سائل کو دی تھی۔ مجاہد نے کہا وہ انڈا تھا۔ کعب نے کہا، وہ بکری تھی۔ سفیان بن عیینہ نے کہا وہ مرغی تھی۔

(٣) عطاء نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ بھوک کے ایام میں حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے بچپن میں باپ کے دستر خوان سے کچھ چیزیں اٹھا کر مانگنے والوں کو دے دیتے تھے۔

(٤) ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پھوپھی حضرت اسحٰق کی اولاد میں سب سے بڑی تھیں۔ حضرت یوسف نے ان کی گود میں پرورش پائی اور وہ آپ سے محبت کرتی تھیں۔ جب وہ بڑے ہوگئے تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کو اپنی بہن سے طلب کیا۔ انہوں نے کہا میں اس کی جدائی برداشت نہیں کرسکتی۔ حضرت یعقوب نے کہا : بخدا میں اس کو اب نہیں چھوڑ سکتا۔ پھر ان کی پھوپھی نے حضرت اسحٰق (علیہ السلام) کا متبرک پٹکا (کمر پر باندھنے کی پیٹی) حضرت یوسف کے کپڑوں کے نیچے باندھ دیا۔ پھر کہا حضرت اسحٰق کا منطقہ گم ہوگیا۔ تلاش کرو اس کو کس نے لیا ہے۔ پھر وہ پٹکا حضرت یوسف کے پاس سے برآمد ہوا۔ پھر انہوں نے حضرت یعقوب کو اس واقعہ کی خبر دی اور کہا اللہ کی قسم ! اب یوسف میری ملکیت ہے۔ اب میں جو چاہوں اس کے ساتھ کروں ! حضرت یعقوب نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر جب تک حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پھوپھی زندہ رہیں حضرت یعقوب (علیہ السلام) ، حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنے پاس رکھنے پر قادر نہ ہو سکے۔ سو یہ ہے وہ چیز جس کی وجہ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ان کی طرف چوری کی نسبت کرتے تھے۔ (جامع البیان جز ١٣، ص ٣٩۔ ٣٨، تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٧، ص ٢١٧٨۔ ٢١٧٧، معالم التنزیل ج ٢، ص ٣٧٠، زادالمسیر ج ٤، ص ٢٦٣، تفسیر کبیر ج ٥، ص ٤٩٠، الجامع لاحکام القرآن جز ٩، ص ٢٠٨) ۔

واضح رہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف ان کے بھائیوں نے چوری کی جو نسبت کی تھی، اس کے متعلق جتنی بھی روایات ذکر کی گئی ہیں ان میں سے کسی پر بھی چوری کی تعریف صادق نہیں آتی۔ یہ سب ان کے بھائیوں کا ان کی طرف کذب اور بہتان تھا۔ ان کے زعم میں حضرت یوسف وفات پاچکے تھے اور وہ فوت شدہ شخص کا بھی برائی کے ساتھ ذکر کرنے سے باز نہیں آئے۔ اور یہ اس پر واضح دلیل ہے کہ حضرت یوسف کے بھائی نبی نہ تھے۔ کیونکہ نبی اعلان نبوت سے پہلے اور بعد صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے معصوم ہوتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 77