أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَمَّا فَصَلَتِ الۡعِيۡرُ قَالَ اَبُوۡهُمۡ اِنِّىۡ لَاَجِدُ رِيۡحَ يُوۡسُفَ‌ لَوۡلَاۤ اَنۡ تُفَـنِّدُوۡنِ‏ ۞

ترجمہ:

اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے باپ نے کہا اگر تم یہ نہ کہو کہ بوڑھا سٹھیا گیا ہے تو مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے باپ نے کہا اگر تم یہ نہ کہو کہ بوڑھا سٹھیا گیا ہے تو مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔ بیٹوں نے کہا اللہ کی قسم آپ اپنی اسی پرانی محبت میں مبتلا ہیں۔ پھر جب خوشخبری سنانے والا آیا اور اس نے وہ قمیص اس کے چہرے پر ڈال دی تو وہ فورا بینا ہوگئے، یعقوب نے کہا کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ بیشک مجھ کو اللہ کی طرف سے ان چیزوں کا علم ہے جن کا تم کو علم نہیں ہے۔ بیٹوں نے کہا اے ہمارے باپ ! ہمارے گناہوں کی بخشش طلب کیجیے، بیشک ہم گنہگار ہیں۔ یعقوب نے کہا میں عنقریب اپنے رب سے تمہاری بخشش طلب کروں گا، بیشک وہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ (یوسف : ٩٨۔ ٩٤)

بہت فاصلہ سے حضرت یعقوب تک حضرت یوسف کی خوشبو پہنچنے کی توجیہ :

ابن ابی الہذیل نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا کہ ابھی حضرت یوسف کا قافلہ حضرت یعقوب سے آٹھ راتوں کی مسافت کے فاصلہ پر تھا کہ حضرت یعقوب کو حضرت یوسف کی خوشبو آگئی۔ ابن ابی الہذیل نے دل میں کہا یہ اتنا فاصلہ ہے جتنا بصرہ سے کوفہ تک کا فاصلہ ہے۔ (جامع البیان، رقم الحدیث : ١٥١١٠، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١١٩٦١ )

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب حضرت یوسف، حضرت یعقوب کے گھر کے قریب کنوئیں میں تھے تو آپ کو حضرت یوسف کی خوشبو نہیں آئی تو پھر اتنے فاصلے سے آپ کو حضرت یوسف کی خوشبو کیسے آگئی ؟ اس کے حسب ذیل جوابات ہیں :

١۔ اللہ تعالیٰ نے ابتدا میں حضرت یوسف کا معاملہ حضرت یعقوب سے مخفی رکھا تھا، تاکہ حضرت یوسف مکمل مصیبت میں گرفتار ہوں اور اس پر صبر کرنے سے حضرت یوسف کو اس مصیبت کا اور حضرت یعقوب کو ان کی جدائی کا پورا پورا اجر ملے اور جب مصیبت اور جدائی کے ایام ختم ہوگئے اور کشادگی اور فرحت کا دور آگیا تو اللہ تعالیٰ نے فاصلہ کے زیادہ ہونے کے باوجود ان کو حضرت یوسف کی خوشبو پہنچا دی۔

٢۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا تھا وہ قمیص ایک چاندی کی نلکی میں تھی اور وہ نلکی حضرت یوسف کے گلے میں تھی، جب اس قمیص کو اس نلکی سے نکالا تو جنت کی خوشبوئیں فضا میں پھیل گئیں اور جب وہ مانوس خوشبوئیں ہواؤں کے دوش پر سوار ہو کر حضرت یعقوب تک پہنچیں تو انہوں نے پہچان لیا کہ یہ حضرت یوسف کی قمیص کی خوشبو ہے اور جب حضرت یوسف کنوئیں میں تھے تو وہ قمیص نلکی میں بند تھی اور اس کی ہوائیں حضرت یعقوب تک نہیں پہنچیں تھیں۔

٣۔ صبا (مشرق سے مغرب کی طرف چلنے والی ہوا) نے اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کی تھی کہ خوشخبری دینے والے سے پہلے وہ حضرت یوسف کی خوشبو حضرت یعقوب تک پہنچا دے، تو اللہ عزوجل نے اس کو اجازت دے دی، یہی وجہ ہے کہ ہر غم زدہ تک جب باد صبا کے جھونکے پہنچے ہیں تو اس کی روح کو تازگی محسوس ہوتی ہے۔ (زاد المسیر ج ٤، ص ٢٨٤)

تفندون کے معانی :

حضرت یعقوب نے کہا تھا : لو لا ان تفندون، اس لفظ کے پانچ معنی بیان کیے گئے ہیں :

١۔ مقاتل نے کہا : اس کا معنی ہے اگر تم مجھ کو جاہل قرار نہ دو ۔ 

٢۔ عبداللہ بن ابی ہذیل نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے : اگر تم مجھے بیوقوف نہ قرار دو ۔

٣۔ سعید بن جبیر اور ضحاک نے کہا : اگر تم مجھے جھوٹا نہ قرار دو ۔

٤۔ حسن اور مجاہد نے کہا : اگر تم مجھے بڑھاپے کی وجہ سے زائل العقل نہ قرار دو ۔

٥۔ ابن قتیبہ نے کہا : اس کا معنی ہے اگر تم مجھے ملامت نہ کرو۔ (زاد المسیر ج ٤ ص ٢٨٥)

ضلال کے معانی :

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بیٹوں نے کہا اللہ کی قسم ! آپ اپنی ضلال قدیم میں مبتلا ہیں۔

حضرت یعقوب کے بیٹے تو حضرت یوسف کے پاس گئے ہوئے تھے، یہاں بیٹوں سے مراد ان کے پوتے، نواسے اور دیگر مجلس کے حاضرین ہیں۔ ضلال کے اس جگہ تین معانی مراد ہوسکتے ہیں :

١۔ ضلال کے معنی شقاء ہیں یعنی آپ اپنی اسی پرانی بدبختی اور سختی میں گرفتار ہیں جس کی وجہ سے آپ حضرت یوسف کا غم جھیل رہے ہیں۔ مقاتل نے اس معنی پر اس آیت سے استدلال کیا ہے :

فقالوا ابشر منا واحدا نتبعہ انا اذا لفی ضلال و سعر۔ (القمر : ٢٤) (قوم ثمود نے) کہا کیا ہم اپنوں میں سے ہی ایک بشر کی پیروی کریں گے پھر تو ہم ضرور بدبختی اور عذاب میں گرفتار ہوں گے۔

٢۔ قتادہ نے کہا : آپ اپنی پرانی محبت میں گرفتار ہیں آپ یوسف کو نہیں بھولتے اور وہ آپ کے دل سے نہیں نکلتا۔ اس معنی پر اس آیت سے استدلال کیا ہے :

انا ابانا لفی ضلال مبین۔ (یوسف : ٨) بیشک ہمارا باپ ضرور محبت کی کھلی وارفتگی میں ہے۔

٣۔ جنون : قتادہ نے کہا : یہ بہت سنگین کلمہ ہے اور ان کے لیے یہ ہرگز جائز نہیں تھا کہ وہ اللہ کے نبی کی شان میں ایسا کلمہ استعمال کرتے۔ حسن بصری نے کہا : انہوں نے یہ اس لیے کہا کہ ان کے اعتقاد میں حضرت یوسف فوت ہوچکے تھے اور حضرت یعقوب ان کی محبت میں صحیح فکر سے ہٹ چکے تھے اور درحقیقت کہنے والے خود ضلال میں مبتلا تھے۔ 

حضرت یعقوب کی بینائی کا لوٹ آنا :

یہوذا جب حضرت یعقوب کے پاس پہنچا تو اس نے وہ قمیص آپ کے چہرے پر ڈال دی اور آپ اسی وقت بینا ہوئے۔ آپ بہت خوش ہوئے اور آپ کا سارا غم جاتا رہا اور آپ نے کہا : کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ مجھے اللہ کی طرف سے ان چیزوں کا علم ہے جن کا تم کو علم نہیں ہے۔ حضرت یعقوب کو معلوم تھا کہ حضرت یوسف کا خواب سچا ہے اور اس کی تعبیر ضرور پوری ہوگی۔ حضرت یعقوب نے بیٹوں سے پوچھا : یوسف کس دین پر ہے ؟ انہوں نے بتایا : وہ دین اسلام پر ہے، تب حضرت یعقوب نے کہا : اب نعمت پوری ہوگئی۔

اپنے مظالم کو دنیا میں معاف کرالینا :

حضرت یعقوب کے بیٹوں نے کہا : اے ہمارے باپ ! آپ ہمارے گناہوں کی بخشش طلب کریں، انہوں نے مغفرت کا اس لیے سوال کیا کہ انہوں نے حضرت یوسف پر بہت ظلم کیے تھے اور اپنے باپ کو ان کی جدائی کے رنج و غم میں مبتلا کیا تھا۔

اور جو شخص کسی مسلمان کو ایذا پہنچائے خواہ اس کی جان میں یا اس کے مال میں وہ ظالم ہے اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے مظالم کی تلافی کرے، اس کا جو مال چھینا ہے وہ اس کو واپس کرے اور جو اس کو رنج پہنچایا ہے اس کا ازالہ کرے اور دنیا میں اس سے اپنا قصور معاف کرالے۔

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے کسی کی عزت یا اس کی کسی اور چیز پر ظلم کیا ہو اس کو چاہیے کہ وہ اس ظلم کی اس دن آنے سے پہلے تلافی کرے جس دن اس کے پاس کوئی دینار ہوگا نہ درہم ہوگا، اگر اس کے پاس کوئی نیک عمل ہوا تو اس کے ظلم کے برابر وہ نیک عمل لے لیا جائے گا اور اس اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں تو مظلوم کے گناہ اس کے اوپر لاد دیئے جائیں گے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٤٤٩، مسند احمد رقم الحدیث : ١٠٥٨٠)

بیٹوں کے استغفار کو موخر کرنے کی وجوہ :

یعقوب نے کہا : میں عنقریب اپنے رب سے تمہاری بخشش طلب کروں گا۔ اس جگہ یہ سوال ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب نے اسی وقت اپنے بیٹوں کے لیے دعا کیوں نہیں کی اور اس کو موخر کس وجہ سے کیا ؟ اس کے حسب ذیل جوابات ہیں :

ا۔ امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

عطا اور عکرمہ حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے بھائی یعقوب نے کہا تھا کہ میں عنقریب اپنے رب سے تمہارے لیے بخشش طلب کروں گا، ان کا مطلب یہ تھا کہ حتی کہ جمعہ کی رات آجائے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٥١٤٩، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت علی بن ابی طالب آئے اور انہوں نے کہا : آپ پر میرے ماں اور باپ فدا ہوں، میرے سینہ سے قرآن نکل جاتا ہے اور میں اس کو یاد رکھنے پر قادر نہیں ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو الحسن ! کیا میں تم کو ایسے کلمات نہ سکھاؤں جو تم کو نفع پہنچائیں اور جن کو تم وہ کلمات سکھاؤ ان کو بھی وہ کلمات نفع پہنچائیں، اور جو کچھ بھی تم یاد کرو وہ تمہارے سینہ میں محفوظ رہے۔ میں نے کہا ہاں ! یا رسول اللہ، آپ سکھایئے۔ آپ نے فرمایا : جب جمعہ کی شب ہو اگر تم سے ہوسکے تو رات کے آخری تہائی حصہ میں قیام کرو، کیونکہ اس وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور اس وقت دعا قبول ہوتی ہے اور میرے بھائی یعقوب نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا میں عنقریب اپنے رب سے تمہارے لیے بخشش طلب کروں گا۔ (یوسف : ٩٨) ان کی مراد یہ تھی کہ حتی کہ جمعہ کی رات آجائے، اگر تم سے ہوسکے تو اس رات کے وسط میں قیام کرو اور اگر تم سے یہ نہ ہوسکے تو اس رات کے اول میں قیام کرو، اور چار رکعات نماز پڑھو، پہلی رکعت میں سورة فاتحہ اور سورة یسین پڑھو اور دوسری رکعت میں سورة فاتحہ اور سورة حم الدخان پڑھو اور تیسری رکعت میں سورة فاتحہ اور سورة الم السجدہ پڑھو اور چوتھی رکعات میں سورة فاتحہ اور سورة تباک الذی پڑھو، اور جب ان رکعات سے فارغ ہوجاؤ تو اللہ تعالیٰ کی حمد اور ثنا کرو اور مجھ پر اور باقی انبیاء پر اچھی طرح درود شریف پڑھو، اور تمام مومنین اور مومنات کے لیے استغفار کرو اور اپنے فوت شدہ مسلمان بھائیوں کے لیے دعا کرو پھر آخر میں یہ دعا کرو : اے اللہ ! جب تک تو مجھے زندہ رکھے مجھے ہمیشہ گناہوں سے بچا کر مجھ پر رحم فرما اور فضول کاموں کی مشقت سے بچا کر مجھ پر رحم فرما، تو میرے جن کاموں سے راضی ہو مجھے ان میں حسن نظر عطا فرما۔ اے اللہ ! آسمانوں اور زمینوں کو ابتدا پیدا کرنے والے، اے جلال، اکرام اور غیر متصور غلبہ کے مالک، اے اللہ ! اے رحمن ! میں تیرے جلال اور تیری ذات کے نور کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں کہ تو اپنی کتاب کے حفظ کرنے پر میرے دل کو لازم کردے جیسا کہ تو نے مجھے اس کتاب کی تعلیم دی ہے اور مجھے اس طرح اس کی تلاوت کی توفیق دے جس طرح تو راضی ہو، اے اللہ ! آسمانوں اور زمینوں کو ابدا پیدا کرنے والے۔ اے جلال، اکرام اور غیر متصور غلبہ کے مالک ! اے اللہ ! اے رحمن ! میں تیرے جلال اور تیری ذات کے نور سے سوال کرتا ہوں کہ تو اپنی کتاب کے پڑھنے کے ساتھ میری آنکھوں کو منور کردے اور اس کی تلاوت سے میری زبان کو رواں کردے اور اس سے میرے دل میں کشادگی کردے اور اس سے میرے سینے کو کھول دے اور اس سے میرے بدن کو صاف کردے، کیونکہ تیرے سوا میری حق پر کوئی مدد نہیں کرسکتا، اور نہ تیرے سوا کوئی حق کو لاسکتا ہے اور گناہوں سے پھرنا اور نیکیوں کو کرنا اللہ بلندو برتر کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہے، اے ابو الحسن ! تم تین یا پانچ یا سات جمعہ تک یہ عمل کرنا، اللہ کے اذن سے تمہاری دعا قبول ہوگی، اس ذات جس کی قسم ! جس نے مجھے حق دے کر بھیجا ہے یہ دعا کسی مومن سے تجاوز نہیں کرے گی۔ حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! پانچ یا سات جمعہ گزرے تھے کہ حضرت علی ایسی ہی ایک مجلس میں آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! پہلے میں چار یا پانچ آیتیں بہ مشکل یاد کرتا تھا، جب میں ان کو یاد کرتا تو وہ میرے سینے سے نکل جاتی تھیں اور اب میں چالیس یا اس سے زیادہ آیتیں حفظ کرلیتا ہوں اور جب میں ان کو زبانی پڑھتا ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے میرے سامنے کتاب اللہ موجود ہے، اور پہلے میں حدیث سنتا تھا تو میرے سینہ سے نکل جاتی تھی اور اب میں احادیث سنتا ہوں اور پھر ان کو بیان کرتا ہوں تو ان سے ایک لفظ بھی کم نہیں ہوتا۔ آپ نے فرمایا : رب کعبہ کی قسم ! اے ابو الحسن ! میں اس پر یقین کرتا ہوں۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٥٧٠، مطبوعہ دار الجیل بیروت، ١٩٩٨ ء)

٢۔ ان سے جلدی دعا کرنے کا وعدہ کر کے ان کو اٹھا دیا، عطا خراسانی نے کہا : بوڑھوں کی بہ نسبت جوانوں سے حاجت جلد پوری ہوجاتی ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ حضرت یوسف نے کہا : آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہے اور حضرت یعقوب نے کہا : میں عنقریب اپنے رب سے تمہارے لیے بخشش طلب کروں گا۔

٣۔ شعبی نے کہا : حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں کے لیے دعا کو اس لیے موخر کردیا تھا تاکہ وہ حضرت یوسف سے پوچھ لیں، اگر انہوں نے اپنے بھائیوں کو معاف کردیا تو وہ ان کے لیے استغفار کریں گے اور حضرت انس بن مالک نے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا : اے ہمارے باپ ! اگر اللہ نے ہمیں معاف کردیا تو فبھا ورنہ اس دنیا میں ہمارے لیے کوئی خوشی نہیں ہے۔ پھر حضرت یعقوب نے دعا کی اور حضرت یوسف نے آمہی کہی، پھر بیس سال تک ان کی دعا قبول نہیں ہوئی، پھر حضرت جبرئیل آئے اور کہا : اللہ تعالیٰ نے آپ کی اولاد کے متعلق آپ کی دعا قبول کرلی ہے۔ اور ان کی خطاؤں کو معاف کردیا ہے، اور اس کے بعد ان سے نبوت کا عہد لیا گیا۔ (صحیح یہ ہے کہ حضرت یوسف کے بھائی نبی نہیں تھے، کیونکہ اعلان نبوت سے پہلے اور بعد تمام صغائر اور کبائر سے عمدا اور سہوا معصوم ہوتا ہے۔ سعیدی غفرلہ) (زاد المسیر ج ٤ ص ٢٧٧، ٢٧٨، مطبوعہ المتکب الاسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 94