فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىٕهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْؕ-وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِۚ-وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ(۸۳)

تو موسیٰ پر ایمان نہ لائے مگر اس کی قوم کی اولاد سے کچھ لوگ (ف۱۷۷) فرعون اور اس کے درباریوں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں انہیں (ف۱۷۸) ہٹنے پر مجبور نہ کردیں اور بےشک فرعون زمین میں سر اٹھانے والا تھا اور بےشک وہ حد سے گزر گیا (ف۱۷۹)

(ف177)

اس میں نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسلی ہے کہ آپ اپنی اُمّت کے ایمان لانے کا نہایت اہتمام فرماتے تھے اور ان کے اعراض کرنے سے مغموم ہوتے تھے ، آپ کی تسکین فرمائی گئی کہ باوجودیکہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اتنا بڑا معجِزہ دکھایا پھر بھی تھوڑے لوگوں نے ایمان قبول کیا ، ایسی حالتیں انبیاء کو پیش آتی رہی ہیں ۔ آپ اپنی اُمّت کے اعراض سے رنجیدہ نہ ہوں ۔ ” مِنْ قَوْمِہٖ ” میں جو ضمیر ہے وہ یا تو حضرت موسٰی علیہ السلام کی طر ف راجع ہے اس صورت میں قوم کی ذُرِّیّت سے بنی اسرائیل مراد ہوں گے جن کی اولاد مِصر میں آپ کے ساتھ تھی اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو فرعون کے قتل سے بچ رہے تھے کیونکہ جب بنی اسرائیل کے لڑکے بحکمِ فرعون قتل کئے جاتے تھے تو بنی اسرائیل کی بعض عورتیں جو قومِ فرعون کی عورتوں کے ساتھ کچھ رسم و رواہ رکھتی تھیں وہ جب بچہ جنّتیں تو اس کی جان کے اندیشہ سے وہ بچہ فرعونی قوم کی عورتوں کو دے ڈالتیں ، ایسے بچے جو فرعونیوں کے گھروں میں پلے تھے اس روز حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام پر ایما ن لے آئے جس دن اللہ تعالٰی نے آپ کو جادوگروں پر غلبہ دیا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ یہ ضمیر فرعون کی طرف راجع ہے اور قومِ فرعون کی ذُرِّیّت مراد ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ قومِ فرعون کے تھوڑے لوگ تھے جو ایمان لاۓ ۔

(ف178)

دین سے ۔

(ف179)

کہ بندہ ہو کر خدائی کا مدّعی ہوا ۔

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ(۸۴)

اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم اگر تم اللہ پر ایمان لائے تو اسی پر بھروسہ کرو (ف۱۸۰) اگر اسلام رکھتے ہو

(ف180)

وہ اپنے فرمانبرداروں کی مدد کرتا اور دشمنوں کو ہلاک فرماتا ہے ۔

مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ پر بھروسہ کرنا کمالِ ایمان کا مقتضا ہے ۔

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَاۚ-رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ(۸۵)

بولے ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا الٰہی ہم کو ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا (ف۱۸۱)

(ف181)

یعنی انہیں ہم پر غالب نہ کرنا کہ وہ یہ گمان نہ کریں کہ وہ حق پر ہیں ۔

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ(۸۶)

اور اپنی رحمت فرماکر ہمیں کافروں سے نجات دے(ف۱۸۲)

(ف182)

اور ان کے ظلم و ستم سے بچا ۔

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَؕ-وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۷)

اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کو وحی بھیجی کہ مِصر میں اپنی قوم کے لیے مکانات بناؤ اور اپنے گھروں کو نماز کی جگہ کرو (ف۱۸۳) اور نماز قائم رکھو اور مسلمانوں کو خوشخبری سنا (ف۱۸۴)

(ف183)

کہ قبلہ رو ہو ۔ حضرت موسٰی و ہارون علیہما السلام کا قبلہ کعبہ شریف تھا اور ابتداء میں بنی اسرائیل کو یہی حکم تھا کہ وہ گھروں میں چھپ کر نماز پڑھیں تاکہ فرعونیوں کی شر و ایذا سے محفوظ رہیں ۔

(ف184)

مددِ الٰہی کی اور جنّت کی ۔

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۙ-رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَۚ-رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ(۸۸)

اور موسیٰ نے عرض کی اے رب ہمارے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو آرائش (ف۱۸۵) اور مال دنیا کی زندگی میں دئیے اے رب ہمارے اس لیے کہ تیری راہ سے بہکاویں اے رب ہمارے ان کے مال برباد کردے (ف۱۸۶) اور ان کے دل سخت کردے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں(ف۱۸۷)

(ف185)

عمدہ لباس ، نفیس فرش ، قیمتی زیور طرح طرح کے سامان ۔

(ف186)

کہ وہ تیری نعمتوں پر بجائے شکر کے جری ہو کر معصیّت کرتے ہیں ۔ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام کی یہ دعا قبول ہوئی اور فرعونیوں کے درہم و دینار وغیرہ پتھر ہو کر رہ گئے حتی کہ پھل اور کھانے کی چیزیں بھی اور یہ ان نو نشانیوں میں سے ایک ہے جو حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو دی گئی تھیں ۔

(ف187)

جب حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام ان لوگوں کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے تب آپ نے ان کے لئے یہ دعا کی اور ایسا ہی ہوا کہ وہ غرق ہونے کے وقت تک ایمان نہ لائے ۔

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کے لئے کُفر پر مرنے کی دعا کرنا کُفر نہیں ہے ۔ (مدارک)

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ(۸۹)

فرمایا تم دونوں کی دعا قبول ہوئی (ف۱۸۸) تو ثابت قدم رہو اور (ف۱۸۹) نادانوں کی راہ نہ چلو (ف۱۹۰)

(ف188)

دعا کی نسبت حضرت موسٰی و ہارون علیہما السلام دونوں کی طرف کی گئی باوجود یکہ حضرت موسٰی علیہ السلام دعا کرتے تھے اور حضرت ہارون علیہ السلام آمین کہتے تھے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آمین کہنے والا بھی دعا کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔

مسئلہ : یہ بھی ثابت ہوا کہ آمین دعا ہے لہذا اس کے لئے اِخفاء ہی مناسب ہے ۔ (مدارک) حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی دعا اور اس کی مقبولیت کے درمیان چالیس برس کا فاصلہ ہوا ۔

(ف189)

دعوت و تبلیغ پر ۔

(ف190)

جو قبولِ دعا میں دیر ہونے کی حکمت نہیں جانتے ۔

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًاؕ-حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُۙ-قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(۹۰)

اور ہم بنی اسرائیل کو دریا پار لے گئے تو فرعون اور اس کے لشکروں نے ان کا پیچھا کیا سرکشی اور ظلم سے یہاں تک کہ جب اسے ڈوبنے نے آ لیا (ف۱۹۱) بولا میں ایمان لایا کہ کوئی سچا معبود نہیں سوا اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمان ہوں (ف۱۹۲)

(ف191)

تب فرعون ۔

(ف192)

فرعون نے بہ تمنائے قبولِ ایمان کا مضمون تین مرتبہ تکرار کے ساتھ ادا کیا لیکن یہ ایمان قبول نہ ہوا کیونکہ ملائکہ اور عذاب کے دیکھنے کے بعد ایمان مقبول نہیں ، اگر حالتِ اختیار میں وہ ایک مرتبہ بھی یہ کلمہ کہتا تو اس کا ایمان قبول کر لیا جاتا لیکن اس نے وقت کھو دیا ، اس لئے اس سے یہ کہا گیا جو آیت میں آگے مذکور ہے ۔

ﰰ لْــٴٰـنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ(۹۱)

کیا اب (ف۱۹۳) اور پہلے سے نافرمان رہا اور تو فسادی تھا (ف۱۹۴)

(ف193)

حالتِ اضطرار میں جب کہ غرق میں مبتلا ہو چکا ہے اور زندگانی کی امید باقی نہیں رہی اس وقت ایمان لاتا ہے ۔

(ف194)

خود گمراہ تھا دوسروں کو گمراہ کرتا تھا ۔ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل علیہ السلام فرعون کے پاس ایک استفتاء لائے جس کا مضمون یہ تھا کہ بادشاہ کا کیا حکم ہے ایسے غلام کے حق میں جس نے ایک شخص کے مال و نعمت میں پرورش پائی پھر اس کی ناشکری کی اور اس کے حق کا منکِر ہوگیا اور اپنے آپ مولٰی ہونے کا مدّعی بن گیا ؟ اس پر فرعون نے یہ جواب لکھا کہ جو غلام اپنے آقا کی نعمتوں کا انکار کرے اور اس کے مقابل آئے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کو دریا میں ڈبو دیا جائے جب فرعون ڈوبنے لگا تو حضرت جبریل نے اس کا وہی فتوٰی اس کے سامنے کر دیا اور اس کو اس نے پہچان لیا ۔ (سبحان اللہ )

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةًؕ-وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠(۹۲)

آج ہم تیری لاش کو اُترا دیں(باقی رکھیں) گے کہ تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو (ف۱۹۵) اور بےشک لوگ ہماری آیتوں سے غافل ہیں

(ف195)

عُلَماءِ تفسیر کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالٰی نے فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا اور موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنی قوم کو ان کے ہلاکت کی خبر دی تو بعض بنی اسرائیل کو شبہ رہا اور اس کی عظمت و ہیبت جو ان کے قلوب میں تھی اس کے باعث انہیں اس کی ہلاکت کا یقین نہ آیا ۔ بامرِ الٰہی دریا نے فرعون کی لاش ساحل پر پھینک دی ، بنی اسرائیل نے اس کو دیکھ کر پہچانا ۔