أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الٓـمّٓرٰ ۚ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ‌ؕ وَالَّذِىۡۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ الۡحَـقُّ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

الف لام میم را، یہ اس کتاب (قرآن) کی آیایتیں ہیں اور جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کی گیا ہے وہ برحق ہے، لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الف لام میم را یہ اس کتاب (قرآن) کی آیتیں، ہیں اور جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کی گیا ہے وہ برحق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے (الرعد : 1) 

اجتہاد اور قیاس پر ایک اعتراض کا جواب :

الف، لام، میم۔ را حروف مقطعات میں سے ہیں، ان کی پوری تشریح سورت البقرہ میں گزرچکی ہے۔ مشرکین یہ کہتے تھے کہ یہ قران (سید نا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے پاس سے گھڑلیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کا رد فرمایا کی آپ پر آپ کی رب کی طرف سے جو نا زل کی گیا ہے وہ برحق ہے، لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ 

بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ استدلال کی ہی کہ حق وہی ہے جو اللہ کی طرف سے نازل کی گیا ہو، اور مجہتدین کا قیاس چونکہ اللہ کی طرف سے نازل نہیں کی گیا اس لیے وہ حق نہیں ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ قیاس کرنے کا بھی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، اس لیے قیاس بھی حکما اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہے اور وہ بھی برحق ہے، اور اگر مجہتد کو قیاس میں خطا لا حق ہوئی پھر بھی اس کے اجہتاد پر عمل کرنا برحق ہے، اس کو اس اجہتاد پر اجروثواب ملے گا اور اس کے اجہتاد پر عمل کرنے والو کو بھی اجروثواب ملے گا لیکن یہ اجر وثواب اس مجہتد کے اجرو ثواب سے درجہ کم ہوگا جس کا اجتہاد صحیح ہو۔ 

اجہتاد کا لغوی اور اصلاحی معنی اور دلیل :

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی لکھتے ہیں : 

ذہن کا طاقت کو خرچ کرنا اور مشقت کو برداشت کرنا اجہتاد ہے۔ کہا جاتا ہے کہ میں نے اپنی راے سے اجہتاد کیا، یعنی اپنی فکر کو تھکایا۔ (المفردات ج ا ص 1، 3، 1 مطبو عہ مکتبہ نزاد مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ 1418 ھ) 

علا مہ ابو السعادات المبارک بن محمد ابن الا ثیر جزری متو فی 606 ھ لکھتے ہیں :

کسی چیز کا حکم معلوم کرنے کے لیے اپنی ذہنی صلا حتیوں کو صرف کرنا اجہتاد ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ کسی نامعلوم حکم کو کتاب و سنت کے کسی حکم پر قیاس کیا جاے، اس سے یہ مراد نہیں کہ محض اپنی عقل سے کسی چیز پر کوئی حکم لگا یا جاے۔ (العتایہ ج 1 ص 308، مطبو عہ دارلکتب العلمیہ بیروت، 1418 ھ) 

حضرت معاذ کے دوست بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ کو یمن کی طرف بھیجا، آپ نے پو چھا تم کس طرح فیصلے کرو گے ؟ انہوں نے کہا میں کتاب اللہ میں دیکھ کر فیصلہ کروں گا، آپ نے پو چھا اگر وہ (حکم) کتاب اللہ میں نہ ہو ؟ انہوں نے کہا پھر میں رسول اللہ صلی علیہ وسلم) سنت سے فیصلہ کروں گا، آپ نے پو چھا اگر وہ (حکم) رسول اللہ (صلی علیہ وسلم) کی سنت میں نہ ہو ؟ انہوں نے کہا پھر میں اپنی راے سے اجہتاد کرو گا۔ آپ نے فرمایا اللہ کے لیے حمد ہے جس نے رسول اللہ کے نما ئندے کو تو فیق عطا کی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 1327، سنن ابو داود رقم الحد یث :3592، مسند احمد ج 5 ص 536، سنن کبری للبہقی ج 10 ص 114 کتاب الضعفاء للعقیلی ج 1 ص 215) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب ح کم اجتہاد سے کوئی حکم لگاے اور اس کا حکم صحیح ہو تو اس کے لیے دو اجزا ہیں اور جب اس کو حکم میں خطا لا حق ہو تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔ (سنن التر مذی رقم الحدیث :1326، سنن النسائی رقم الحد یث :5396 ۔ صحیح البخاری رقم الحدیث 7352، صحیح مسلم رقم الحدیث :1716، سنن سنن ابو داود رقم الحد یث : 1، 3574 السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث 5918، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 2314، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :5060، مسند ابو یعلی رقم الحدیث :1، 5903 السنن الکبری للبہقی ج 10 ص 1، 119 السنن للد ارقطنیج 4 ص 1، 204 المتقی لابن الجارود رقم الحدیث :996)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 1