حدیث نمبر183

روایت ہے حضرت سمرہ سے فرماتے ہیں کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم امام کا جواب سلام دیں ۱؎ اور آپس میں محبت کریں ۲؎ اور بعض بعض کو سلام کرے ۳؎(ابوداؤد)

شرح

۱؎ یعنی نماز کے سلام میں امام فرشتوں اور مقتدیوں کو سلام کرنے کی نیت کرے اور مقتدی اپنے سلام میں امام کے جواب کی۔

۲؎ اس طرح کہ جماعت کی پابندی کریں جس سے آپس میں محبت پیدا ہو کیونکہ نماز باجماعت محبت مسلمین کا بہترین ذریعہ ہے۔

۳؎ اس طرح کہ نماز کے سلام میں ایک دوسرے کو سلام کرنے کی نیت کریں کہ امام پہلے سلام میں داہنی جانب کے مقتدیوں کی اور دوسرے سلام میں بائیں جانب والوں کو سلام کی نیت کرے اور مقتدی داہنے والے پہلے سلام میں اپنے داہنے والوں کی نیت کریں اور دوسرے سلام میں بائیں والوں اور امام کی اور بائیں والے اس کے برعکس۔خیال رہے کہ اسلام میں سلام یا اجازت لینے کے لیے ہوتا ہے یا ملاقات یا رخصت کے وقت،یہ سلام ملاقات کا سلام ہے کہ سارے نمازی حکمًا ایک دوسرے سے غائب ہوگئے تھے اس عالم سے نکل کر دوسرے عالم کی سیر کررہے تھے اسی لیے یہاں کے احکام کھانا،پینا،چلنا،پھرنا،کلام سلام سب ختم ہوچکے تھے نماز سے فراغت پاکر وہاں سے لوٹ کر آرہے ہیں ایک دوسرے سے مل رہے ہیں اس لیے سلام کرتے ہیں، لہذا اگر ہر نماز یا نماز فجر کے بعد نمازی آپس میں مصافحہ کریں تو جائز ہے کہ یہ ملاقات کا وقت ہے۔اس کی تحقیق ہماری کتاب”جاءالحق”حصہ اول میں دیکھو۔