أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰلِكَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهِ اِلَيۡكَ‌ۚ وَمَا كُنۡتَ لَدَيۡهِمۡ اِذۡ اَجۡمَعُوۡۤا اَمۡرَهُمۡ وَهُمۡ يَمۡكُرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

یہ غیب کی بعض خبریں ہیں جس غیب کی ہم آپ کی طرف وحی فرماتے ہیں اور جب برادران یوسف اپنی سازش پر متفق ہورہے تھے اور اپنی سازش پر عمل کر رہے تھے تو اس وقت آپ ان کے موجود نہ تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ غیب کی بعض خبریں ہیں جس غیب کی ہم آپ کی طرف وحی فرماتے ہیں اور جب برادران یوسف اپنی سازش پر متفق ہورہے تھے اور اپنی سازش پر عمل کر رہے تھے تو اس وقت آپ ان کے موجود نہ تھے۔ (یوسف : ١٠٢)

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر دلیل :

اس آیت سے مقصود یہ بتانا ہے کہ حضرت یوسف کے اس مفصل واقعہ کی خبر دینا، غیب کی خبر ہے، اس لیے یہ آپ کی نبوت کا معجزہ ہے اور آپ کی صداقت کی دلیل ہے اور اہل مکہ کو علم تھا کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کتاب کا مطالعہ کیا ہے اور نہ کسی عالم کی شاگردی اختیار کی ہے نہ اہل علم کی مجلس میں بیٹھے ہیں اور نہ مکہ علما کا شہر تھا، اس کے باوجود آپ کا حضرت یوسف کے اس واقعہ کو بغیر کسی غلطی اور تحریف کے اور کسی سے پڑھے اور سنے بغیر بیان کردینا، آپ کا معجزہ ہے اور اس پر دلیل ہے کہ آپ پر اللہ کا کلام نازل ہوا ہے، پھر مزید تاکید کے طور پر فرمایا کہ جب حضرت یوسف کے بھائی ان کے خلاف سازشیں کر رہے تھے تو آپ ان کے ساتھ نہ تھے، پھر آپ نے ان تمام واقعات کو کیسے جان لیا ! اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بتائے بغیر آپ کو ان واقعات کا علم نہیں ہوسکتا تھا، پس ثابت ہوا کہ آپ پر اللہ کی وحی نازل ہوتی ہے اور یہی آپ کی نبوت ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 102