أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رَبِّ قَدۡ اٰتَيۡتَنِىۡ مِنَ الۡمُلۡكِ وَ عَلَّمۡتَنِىۡ مِنۡ تَاۡوِيۡلِ الۡاَحَادِيۡثِ‌ ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اَنۡتَ وَلِىّٖ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ‌ ۚ تَوَفَّنِىۡ مُسۡلِمًا وَّاَلۡحِقۡنِىۡ بِالصّٰلِحِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اے میرے رب ! تو نے مجھے (مصر کی) حکومت عطا کی اور مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم عطا کیا، اے آسمانوں اور زمینوں کو ابتدا پیدا کرنے والے، تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے، مجھے (دنیا سے) مسلمان اٹھانا، اور مجھے نیک بندوں کے ساتھ ملا دینا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (حضرت یوسف نے کہا) اے میرے رب ! تو نے مجھے (مصر کی) حکومت عطا کی اور مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم عطا کیا، اے آسمانوں اور زمینوں کو ابتدا پیدا کرنے والے، تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے، مجھے (دنیا سے) مسلمان اٹھانا، اور مجھے نیک بندوں کے ساتھ ملا دینا۔ (یوسف : ١٠١)

دعا میں سوال سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنا :

حضرت یعقوب حضرت یوسف کے پاس چوبیس سال رہے، پھر ان کی وفات ہوگئی، انہوں نے یہ وصیت کی تھی کہ ان کو شام میں ان کے والد کے پہلو میں دفن کردیا جائے۔ حضرت یوسف ان کی میت کو لے کر خود شام گئے، پھر مصر لوٹ آئے اور اس کے بعد تئیس سال تک زندہ رہے، پھر جب انہوں نے جان لیا کہ انہوں نے ہمیشہ نہیں رہنا اور بہرحال اللہ تعالیٰ کے پاس جانا ہے تو انہوں نے یہ دعا کی۔ (غرائب القرآن و رغائب الفرقان ج ٤ ص ١٢٦، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٦ ھ)

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے سے پہلے اس کی حمد و ثنا کرنی چاہیے اور اس کی نعمتوں کا بیان کرنا چاہیے اس کے بعد اپنا سوال کرنا چاہیے۔ حضرت یوسف کے جد کریم سیدنا ابراہیم نے بھی اسی طرح دعا کی تھی :

الذی خلقنی فھو یھدین۔ والذی ھو یطعمنی ویسقین۔ واذا مرضت فھو یشفین۔ والذی یمیتنی ثم یحھین۔ والذی اطمع ان یغفرلی خطیئتی یوم الدین۔ رب ھب لی حکما والحقنی بالصالحین۔ واجعل لی لسان صدق فی الاخرین۔ واجعلنی من ورثۃ جنۃ النعیم۔ واغفرلابی انہ کا من الضالین۔ ولا تخزنی یوم یبعثون۔ یوم لاینفع مال و لا بنون۔ (الشعراء : ٨٨۔ ٧٨) جس نے مجھے پیدا کیا سو وہی مجھے ہدایت دیتا ہے۔ اور جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے۔ اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔ اور جو مجھے وفات دے گا پھر مجھے زندہ فرمائے گا۔ اور جس سے مجھے یہ امید ہے کہ وہ قیامت کے دن میری (ظاہری) خطائیں معاف فرما دے گا۔ اے میرے رب ! مجھے حکم عطا اور مجھے صالحین کے ساتھ واصل کردے۔ اور میرے بعد آنے والی نسلوں میں میرا ذکر جمیل جار رکھ۔ اور مجھے نعمت والی جنت کے وارثوں میں شامل کردے۔ اور میرے (عرفی) باپ کی مغفرت فرما بیشک وہ گمراہوں میں سے تھا۔ اور مجھے حشر کے دن شرمندہ نہ کرنا۔ جس دن نہ مال نفع دے گا اور نہ بیٹے۔

اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اسی طرح دعائیں کی ہیں، پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی ہے پھر آپ نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا ہے، میں یہاں صرف ایک مثال پیش کر رہا ہوں :

حضرت عبادہ بن الصامت بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص رات کو اٹھے تو یہ کہے : اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے وہ وحدہ لاشریک ہے، اسی کا ملک ہے اور اسی کی حمد ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ الحمدللہ، سبحان اللہ، ولاا لہ الا الاللہ واللہ اکبر۔ اور گناہوں سے باز آنا اور عبادت کی طاقت اللہ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہے، اس کے بعد یہ کہے : اے اللہ ! مجھے بخش دے یا جو بھی دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہوگی، پھر اگر اس نے وضو کیا تو اس کی نماز قبول ہوگی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١١٥٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٨٧٨، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٣٠٤٩، دار ارقم)

موت کی دعا کرنے کے متعلق امام رازی کا نظریہ :

امام فخر الدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے اس آیت کی تفسیر میں یہ کہا ہے کہ حضرت یوسف نے موت کی دعا کی اور انہوں نے قتادہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ حضرت یوسف نے اپنے رب سے ملنے کی دعا کی اور ان سے پہلے کسی نبی نے موت کی دعا نہیں کی، اور اکثر مفسرین کا یہی مختار ہے، پھر انہوں نے لکھا ہے کہ ہر صاحب عقل زندگی کے مقابلہ میں موت کو ترجیح دے گا، کیونکہ دنیا کی نعمتیں زائل ہونے والی ہیں اور آخرت کی نعمتیں باقی ہیں، دنیا کی بڑٰ لذتیں کھانے، جماع کرنے اور حکومت اور اقتدار میں ہیں، کھانے کی لذت بہت عارضی ہے بس جتنی دیر انسان لقمہ چباتا ہے، حلق سے لقمہ نگلنے کے بعد کوئی لذت باقی نہیں رہتی، اور لذت جماع بھی بہت عارضی ہے اور اس کے نتجہ میں بال بچوں کی ذمہ داریاں پوری کرنے میں انسان تاحیات مشقت میں مبتلا رہتا ہے، اور حکومت اور اقتدار کی لذت کے ساتھ ان گنت مسائل، پریشانیاں اور خطرات ہیں اور جب صاحب عقل ان معانی پر غور کر گا تو وہ یہی تمنا کرے گا کہ حیات جسمانیہ زائل ہوجائے۔ امام رازی فرماتے ہیں : میرا بھی یہی حال ہے، میں جسمانی لذات کے معائب سے واقف ہوں اور میں چاہوں تو ان کے عیوب بیان کرنے میں بڑی ضخیم کتابیں لکھ سکتا ہوں اور اب اکثر اوقات میں، میں حضرت یوسف کی کی ہوئی دعا کرتا رہتا ہوں کہ مجھے دنیا سے مسلمان اٹھانا اور مجھے نیک بندوں کے ساتھ ملا دینا۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٥١٧۔ ٥١٤، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت ١٤١٥ ھ)

موت کی دعا کرنے کے متعلق مصنف کی تحقیق :

میں امام رازی کے علوم و معارف اور ان کی نکتہ آٖفرینیوں کی گرد راہ کو بھی نہیں پہنچتا، میں ان کی تحقیقات اور تدقیقات سے استفادہ کرتا ہوں ان کے دسترخوان علم کا ایک ادنی ریزہ خوار ہوں اور ان کا روحانی شاگرد ہونا اپنے لیے باعث فخر گردانتا ہوں، اس کے باجود بصد ادب مجھے امام رازی کی اس تحقیق سے اختلاف ہے، میرے نزدیک موت کی تمنا کرنا جائز نہیں ہے، اور حضرت یوسف نے موت کی تمنا نہیں کی تھی اور نہ اس کی دعا کی تھی بکہ ان کی یہ دعا تھی کہ اے اللہ ! جب تو میری روح کو قبض فرمائے تو حالت اسلام پر میری روح کو قبض فرمانا، اس میں مرنے کی دعا نہیں ہے بلکہ تاحیا اسلام پر جینے کی دعا ہے۔

امام عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ حضرت یوسف کی مراد یہ تھی کہ اے اللہ ! مجھ سے اسلام کو سلب نہ کرنا حتی کہ تو مجھے موت عطا کرے، اور ابن عقیل کہتے تھے کہ حضڑت یوسف نے موت کی تمنا نہیں کی تھی، انہوں نے یہ سوال کیا تھا کہ ان کی موت صفت اسلام پر آئے اور اس دعا کا معنی یہ ہے کہ جب تو مجھے موت عطا فرمائے تو حالت اسلام پر موت عطا فرمانا۔ (زاد المسیر ج ٤ ص ٢٩٢، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص کسی مصیبت کی وجہ سے ہرگز موت کی تمنا نہ کرے اور اگر اس نے ضرور دعا کرنی ہو تو وہ یوں دعا کرے : اے اللہ ! جب تک میرے لیے زندگی بہتر ہو تو مجھے زندہ رکھ اور جب میرے لیے موت بہتر ہو تو مجھے موت عطا کر۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٦٧١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٨٠، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٣١٠٨، سنن الترمذی رقم لحدیث : ٩٧١، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٨١٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢٦٥، مسند احمد ج ٣ ص ١٠١، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٩٦٨ )

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے اور نہ موت آنے سے پہلے اس کی دعا کرے، جب تم میں سے کوئی شخص مرجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے اور زندگی مومن میں صرف نیکیوں کو زیادہ کرتی ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٨٢)

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص ہرگز موت کی تمنا نہ کرے، اگر وہ نیک شخص ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ زیادہ نیکیاں کرے اور اگر بدکار ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ توبہ کرلے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٢٣٥، سنن النسائی رقم الحدیث : ١٨١٨)

حضرت یوسف نے فرمایا : مجھے صالحین کے ساتھ ملا دے، اس پر یہ اعتراض ہے کہ حضرت یوسف تو خود اکابر انبیاء میں سے ہیں اور صالحین کا اطلاق تو انبیاء (علیہ السلام) کے علاوہ ان سے کم مرتبہ کے لوگوں پر بھی ہوتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ صالحین سے حضرت یوسف کی مراد ہے ان کے آباء کرام، حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، اور حضرت یعقوب علیہم السلام۔ 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تدفین :

امام عبدالرحمن محمد بن علی بن محمد جوزی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں :

جب حضرت یوسف کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے یہوذا کو وصیت کی اور فوت ہوگئے، ان کی تدفین میں لوگوں نے نزاع کیا، حضرت یوسف کی برکت کے حصول کے لیے ہر شخص یہ چاہتا تھا کہ اس کے محلہ میں حضرت یوسف کو دفن کیا جائے، پھر انہوں نے اس پر اتفاق کرلیا کہ حضرت یوسف کو دریائے نیل میں دفن کردیا جائے تاکہ ان پر سے پانی گزر کر سب تک پہنچ جائے، پھر انہوں نے لکڑی کے ایک صندوق میں حضرت یوسف کو دفن کردیا، پھر حضرت یوسف کا صندوق وہیں رہا حتی کہ حضرت موسیٰ جب مصر سے روانہ ہوئے تو وہ اپنے ساتھ اس صندوق کو لے گئے اور اس صندوق کو کنعان کی سرزمین میں دفن کردیا۔ حسن بصری نے کہا : حضرت یوسف جب فوت ہوئے تو ان کی عمر ایک سو بیس سال تھی۔ (زاد المسیر ج ٤ ص ٢٩٢، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ١٤٠٧ ھ)

امام الحسین بن مسعود بغوی متوفی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں :

حسن بصری نے کہا ہے کہ جب حضرت یوسف کو کنوئیں میں ڈالا گیا تو ان کی عمر ١٧ سال تھی اور وہ ٨٠ سال اپنے باپ سے غائب رہے اور حضرت یعقوب سے ملاقات کے بعد ٢٣ سال زندہ رہے اور ١٢٠ سال کی عمر میں وفات پائی، ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی، اس کے بعد امام بغوی نے امام ابن جوزی کی طرح تدفین کا واقعہ بیان کیا ہے۔ (معالم التنزیل ج ٢ ص ٣٧٩، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٤ ھ)

حضرت موسیٰ کا ایک بڑھیا کی رہنمائی سے حضرت یوسف کا تابوت نکالنا :

امام عبدالرحمن بن محمد ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

سعید بن عبدالعزیز بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت یوسف پر وفات کا وقت آیا تو انہوں نے اپنے بھائیوں کو بلا کر کہا : اے میرے بھائیو ! میں نے دنیا میں کسی سے بھی اپنے اوپر کیے جانے والے ظلم کا بدلہ نہیں لیا اور مجھے یہ پسند تھا کہ میں لوگوں کی نیکیاں ظاہر کروں اور ان کی برائیاں چھپاؤں اور دنیا سے میرا یہی آخرت کے لیے زاد راہ ہے، اے میرے بھائیو ! میں نے اپنے باپ دادا جیسے عمل کیے ہیں تو تم مجھے ان کی قبروں کے ساتھ ملا دینا، اور ان سے اس بات پکا وعدہ لیا، لیکن انہوں نے اپنے وعدہ کو پورا نہیں کیا، حتی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو مبعوث کیا، انہوں نے حضرت یوسف کے متعلق معلوم کیا کہ ان کا صندوق کہاں دفن ہے تو صرف ایک بڑھیا عورت کو اس کا پتا تھا، اس کا نام شارح بنت شیر بن یعقوب تھا، اس نے حضرت موسیٰ سے کہا میں ایک شرط پر تم کو اس کا پتا بتادوں گی، اس نے کہا ایک شرط تو یہ ہے کہ میں بوڑھی ہوں میں جوان ہوجاؤں۔ حضڑت موسیٰ نے فرمایا : منظور ہے۔ اس نے کہا دوسری شرط یہ ہے کہ میں جنت میں آپ کے درجہ میں آپ کے ساتھ رہوں۔ حضرت موسیٰ اس سے گریز کر رہے تھے کہ آپ پر وحی ہوئی کہ اس شرط کو بھی مان لو تو آپ نے مان لیا۔ پھر اس بڑھیا نے اس صندوق کی رہنمائی کی تو حضرت موسیٰ نے اس صندوق کو نکال لیا۔ وہ عورت جب ٥٢ سال کی عمر کو پہنچتی تو اس کی جسامت ٣٢ سال کی وہجاتی، اس نے ١٦٠٠ یا ١٤٠٠ سال کی عمر پائی اور حضرت سلیمان بن داؤد نے اس سے شادی کی۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٧، ص ٢٢٠٥، رقم الحدیث : ١٢٠١٩، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ١٤١٧ ھ)

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١، نے بھی اس حدیث کو امام ابن اسحاق اور امام ابن ابی حاتم کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔ (الدر المنثور ج ٤ ص ٥٩١، ٥٩٢، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٤ ھ)

حضرت موسیٰ اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنت عطا کرنے کا اختیار تھا :

امام حافظ بن علی تمیمی متوفی ٣٠٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک اعرابی آیا، آپ نے اس کی عزت افزائی کی اور فرمایا : ہمارے پاس آؤ، وہ آیا آپ نے اس سے فرمایا : تم اپنی حاجت بیان کرو، اس نے کہا : مجھے سواری کے لیے ایک اونٹنی چاہیے اور بکریاں چاہیں جن کا ہم دودھ دو ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم بنو اسرائیل کی بڑھیا کی طرح ہونے سے بھی عاجز ہو ؟ آپ نے فرمایا : جب حضرت موسیٰ بنو اسرائیل کو لے کر مصر سے روانہ ہوئے تو وہ راستہ بھول گئے، حضرت موسیٰ نے پوچھا : اس کی کیا وجہ ہے ؟ ان کے علماء نے کہا کہ جب حضرت یوسف کی وفات قریب ہوئی تو انہوں نے ہم سے (یعنی ہمارے آبا و اجداد سے) یہ پختہ عہد لیا تھا اور اس پر قسم لی تھی کہ ہم مصر سے اس وقت تک روانہ نہیں ہوں گے جب تک ان کی نعش کو ساتھ نہیں لے جائیں گے۔ حضرت موسیٰ نے پوچھا : ان کی قبر کی جگہ کس کو معلوم ہے ؟ انہوں نے کہا : بنو اسرائیل کی ایک بڑھیا ہے۔ حضرت موسیٰ نے اس کو بلوایا پس وہ آئی، حضرت موسیٰ نے فرمایا : مجھے حضرت یوسف کی قبر بتاؤ، اس نے کہا اس وقت تک اس کا پتا نہیں بتاؤں گی حتی کہ آپ میری ایک درخواست منظور نہ کریں، آپ نے پوچھا : تمہاری کیا درخواست ہےَ ؟ اس نے کہا : میں جنت میں آپ کے ساتھ رہوں، حضرت موسیٰ کو یہ ماننا ناگوار ہوا، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کی کہ آپ اس کی درخواست منظور کرلیں، تو وہ آپ کو دریائے نیل کی اس جگہ پر لے گئی جہاں کا پانی متغیر ہوچکا تھا، اس نے کہا : یہاں سے پانی نکالو، انہوں نے وہاں سے پانی نکالا، اس نے کہا : یہاں کھدائی کرو، کھدائی کے بعد وہاں سے حضرت یوسف کی نعش برآمد کی، جب انہوں نے حضرت یوسف کی نعش اوپر اٹھائی تو ان کو گمشدہ راستہ روز روشن کی طرح مل گیا۔ (مسند ابو یعلی ج ١٣، ص ٢٣٦، ٢٣٧، رقم الحدیث : ٧٢٥٤، مطبوعہ دار الثقافت العربیہ، ١٤١٣ ھ)

حافظ نور الدین الہیثمی متوفی ٨٠٧ ھ نے لکھا ہے کہ مسند ابو یعلی کی حدیث کے راوی صحیح ہیں او اسی وجہ سے میں نے اس حدیث کو درج کیا ہے۔ (مجمع الزوائد ج ١٠، ص ١٧٠١٧١، مطبوعہ دار الکتب العربی بیروت ١٤٠٢ ھ مارد انطمآن ج ٢، رقم الحدیث : ٢٤٣٥، مطبوعہ موسۃ الرسالہ بیروت، ١٤١٤ ھ)

امام ابو عبداللہ حاکم نیشا پوری نے اس حدیث کو اپنی سند کے ساتھ روایت کر کے لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح الاسانید ہے۔ (المستدرک ج ٢ ص ٥٧١، ٥٧٢، علامہ ذہبی نے حاکم کی موافقت کی ہے، حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ نے اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔ المطالب العالیہ ج ٣ رقم الحدیث : ٣٤٦٢ )

امام ابو حاتم محمد بن حبان متوفی ٣٥٤ ھ نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ (صحیح ابن حبان ج ٢ ص ٥٠٠، ٥٠١، رقم الحدیث : ٧٢٣ )

خاتم الحفاظ حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ نے اس حدیث کو متعدد ائمہ حدیث کے حوالوں کے ساتھ زکر کیا ہے۔ (الدر المنثور ج ٦ ص ٣٠٢، ٣٠٣، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٤ ھ)

امام ابوبکر محمد بن جعفر الخرائطی المتوفی ٣٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جب کسی کام کے متعلق سوال کیا جاتا، اگر آپ کا ارادہ اسے کرنے کا ہوتا تو فرماتے ہاں۔ اور اگر آپ کا ارادہ نہ کرنے کا ہوتا تو آپ خاموش رہتے، اور آپ کسی کام کے متعلق نہ نہیں فرماتے تھے۔ آپ کے پاس ایک اعرابی آیا اور اس نے کچھ سوال کیا، آپ خاموش رہے، اس نے پھر سوال کیا آپ خاموش رہے، پھر اس نے تیسری بار سوال کیا تو آپ نے اسے گویا جھڑکنے کے انداز میں فرمایا : اے اعرابی مانگ کیا چاہتا ہے ؟ ہمیں اس پر رشک آیا ہے اور ہم نے گمان کیا کہ اب وہ جنت کا سوال کرے گا۔ اس نے کہا میں آپ سے ایک سواری کا سوال کرتا ہوں، آپ نے فرمایا : یہ تمہیں مل جائے گا، پھر فرمایا : سوال کرو، اس نے کہا : میں آپ سے سفر خرچ کا سوال کرتا ہوں، آپ نے فرمایا : یہ تمہیں مل جائے گا۔ حضڑت علی نے کہا : ہمیں اس پر بہت تعجب ہوا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس اعرابی نے جن چیزوں کا سوال کیا وہ اس کو دے دو ، پھر اس کو وہ چیزیں دے دی گئیں، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس اعرابی کے سوال میں اور بنی اسرائیل کی بڑھیا کے سوال میں کتنا فرق ہے۔ پھر آپ نے فرمایا : جب حضرت موسیٰ کو سمندر پار جانے کا حکم ہوا تو آپ کے پاس سواری کے لیے جانور لائے گئے، وہ جانور سمندر کے کنارے تک پہنچے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے منہ پھیر دیے، اور خودبخود پلٹ آئے، حضرت موسیٰ نے کہا : اے رب ! یہ کیا ماجرا ہے ؟ حکم ہوا کہ تم یوسف کی قبر کے پاس ہو، اس کی نعش کو اپنے ساتھ لے جاؤ وہ قبر ہموار ہوچکی تھی اور حضرت موسیٰ کو پتا نہیں تھا کہ وہ قبر کہاں ہے ؟ پھر حضرت موسیٰ نے لوگوں سے سوال کیا کہ تم میں سے کسی کو پتا ہے، وہ قبر کہاں ہے ؟ لوگوں نے کہا : اگر کوئی جاننے والا ہے تو وہ بنی اسرائیل کی ایک بڑھیا ہے، اس کو معلوم ہے کہ وہ قبرکہاں ہے، حضرت موسیٰ نے اس بڑھیا کو بلوایا، جب وہ پہنچ گئی تو حضرت موسیٰ نے کہا : کیا تم کو حضرت یوسف کی قبر کا علم ہے ؟ اس نے کہا : ہاں۔ حضرت موسیٰ نے کہا ہمیں بتاؤ۔ اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم ! جب تک تم میرا سوال پورا نہیں کروگے، حضرت موسیٰ نے کہا بتاؤ تمہارا کیا سوال ہے ؟ اس بڑھیا نے کہا : میں یہ سوال کرتی ہوں کہ جنت کے جس درجہ میں تم رہو گے اسی درجہ میں میں رہوں۔ حضرت موسیٰ نے کہا : صرف جنت کا سوال کرو، اس نے کہا : نہیں، اللہ کی قسم ! میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک کہ میں تمہارے ساتھ جنت میں تمہارے درجہ میں نہ رہوں۔ حضرت موسیٰ اس کو ٹالتے رہے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی : اس کو وہ درجہ دے دو ، اس سے تم کو کوئی کمی نہیں ہوگی۔ حضرت موسیٰ نے اس کو جنت کا وہ درجہ دے دیا، اس نے قبر بتائی اور وہ حضرت یوسف کی نعش لے کر سمندر کے پار گئے۔ (مکارم الاخلاق ج ٢ ٦٢٦، رقم الحدیث : ٦٦٩، مطبوعہ مطبع المدنی مصر، ١٤١١ ھ)

امام سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ نے بھی اس حدیث کو اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (المعجم الاوسط ج ٨ ص ٣٧٦، ٣٧٧، رقم الحدیث : ٧٧٦٣، مطبوعہ مکتبہ المعارف ریاض، ١٤١٥ ھ)

حافظ الہیثمی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ (مجمع الزوائد ج ١٠، ص ١٧١، ) امام علی متقی ہندی متوفی ٩٧٥ ھ نے بھی اس حدیث کا زکر کیا ہے۔ (کنز العمال ج ١١، ص ٥١٦، رقم الحدیث : ٣٢٤١٢، مطبوعہ موسۃ الرسالہ بیروت)

ان حدیثنوں کے اہم اور نمایاں فوائد میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ اختیار دیا ہے کہ جس شخص کو جو چاہیں عطا کردیں، کیونکہ آپ نے فرمایا : مانگ اے اعرابی جو چاہتا ہے، اور یہ کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنت کا سوال کرنے کی ترغیب دی، کیونکہ آپ نے فرمایا کہ تم میں اور بنی اسرائیل کی بڑھیا میں کتنا فرق ہے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کی اس پیرزن کو جنت میں اپنا درجہ عطا فرمادیں، اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی طرف جنت عطا کرنے کی نسبت فرمائی اور یہ کہ صحابہ کرام کا یہ اعتقاد تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنت تک عطا کرنے کا اختیار تھا، اسی طرح بنی اسرائیل کی اس پیرزن کا یہ اعتقاد تھا کہ حضرت موسیٰ نہ صرف جنت بلکہ جنت میں اپنا درجہ بھی عطا فرماسکتے ہیں، اور یہ کہ دنیا اور آخرت کی نعمتیں خواہ جنت ہو ان کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرنا شرک نہیں ہے، ان حدیثوں میں قبر سے نعش نکال کر دوسری جگہ دفن کرنے کا بھی ذکر ہے، سو اب ہم اس مسئلہ کی تحقیق کرتے ہیں۔

دفن سے پہلے اور دفن کے بعد میت کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی تحقیق :

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن میری پھوپھی میرے والد کی نعش لے کر آئیں تاکہ وہ ان کو ہمارے قبرستان میں دفن کردیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک منادی نے ندا کی کہ شہدا کو ان کی قتل گاہوں میں ہی لوٹا دو ۔ (سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٣١٦٥، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٧١٧، سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٠١٠، سنن الدارمی رقم الحدیث : ٤٥، مسند احمد ج ٣ ص ٢٩٧، مشکوۃ رقم الحدیث : ١٧٠٤)

ملا علی بن سلطان محمد القاری المتوفی ١٠١٤ ھ لکھتے ہیں :

اس حدیث کا معنی ہے شہدا کو ان کے مقتل سے منتقل نہ کرو، بلکہ ان کو وہیں دفن کردو جہاں ان کو قتل کیا گیا تھا، اسی طرح جو آدمی کسی جگہ طبعی موت مرجائے اس کو دوسرے شہر نہ منقتل کیا جائے، الازھار میں مزکور ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ امر وجوب کے لیے ہے، کیونکہ جب میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا تو غالب یہ ہے کہ اس کا جسم متغیر ہوچکا ہوگا، البتہ اگر کوئی ضروری ہو تو پھر میت کو منتقل کرنا جائز ہے، جیسا کہ اس حدیث میں ہے : امام مالک روایت کرتے ہیں : حضرت عمرو بن الجموح انصاری اور حضرت عبداللہ بن عمرو انصاری کی قبروں کو سیلاب نے اکھاڑ دیا تھا، ان کی قبریں سیلاب کے قریب تھیں، یہ دونوں ایک قبر میں مدفون تھے، یہ دونوں جنگ احد میں شہید ہوئے تھے، ان کی قبر کھودی گئی تاکہ ان کی قبر کی جگہ تبدیل کی جاسکے، جب ان کے جسموں کو قبر سے نکالا گیا تو ان کے جسموں میں کوئی تغیر نہیں ہوا تھا، یوں لگتا تھا جیسے وہ کل فوت ہوئے ہوں، ان میں سے ایک زخی تھا اور اس کا ہاتھ اس کے زخم پر تھا، اس کو اسی طرح دفن کیا گیا تھا، اس کے ہاتھ کو اس کے زخم سے ہٹا کر جب چھوڑا گیا تو وہ پھر اپنے زخم پر آگیا۔ جنگ احد اور قبر کھودنے کے درمیان چالیس سال کا عرسہ تھا۔ (موطا امام مالک رقم الحدیث : ١٠٢٣، الجہاد : ٥٠، سنن کبری للبیہقی ج ٤ ص ٥٧٥٨، مطبوعہ ملتان)

امام ابن ہمام نے کہا ہے کہ قبر پر مٹی ڈالنے کے بعد قبر کو کھودا نہ جائے، خواہ مدت کم گزری ہو یا زیادہ، ماسوا عذر کے، اور التجنیس میں مرقوم ہے کہ عذر یہ ہے کہ مثلا کسی شخص کو غصب شدہ زمین میں دفن کردیا گیا ہو یا اس زمین پر کسی نے شفعہ کردیا ہو، یہی وجہ ہے کہ بکثرت صحابہ کو اور حرب (دشمن اسلام کی زمین) میں دفن کردیا گیا پھر ان کو ان کے وطنوں میں نہیں لوٹایا گیا، اسی طرح اگر کسی شخص کا قیمتی کپڑا، اس کی رقم اور کوئی قیمتی چیز قبر میں گرگئی تو اس کو نکالنے کے لیے قبر کو کھودنا جائز ہے، اور تمام مشائخ اس پر متفق ہیں کہ کسی عورت کا بیٹا اس کی غیر موجودگی میں کسی اور شہر میں دفن کردیا گیا اور وہ اس کے فراق پر صبر نہیں کرسکتی تب بھی اسکو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ اس کو اپنے شہر میں منتقل کر کے دفن کردے، اور اگر کوئی شخص بغیر غسل کے یا بغیر نماز جنازہ کے دفن کیا گیا تو اس فرض کی تلافی کے لیے بھی اس کو قبر سے نکالنا جائز نہیں ہے، ہاں دفن سے پہلے اس کو ایک یا دو میل کے فاصلہ تک منتقل کرنا جائز ہے، کیونکہ اتنا فاصلہ تو قبرستان تک بھی ہوتا ہے۔ (یہ ملا علی قاری نے اپنے زمانہ کے اعتبار سے کہا، اب ایک شہر میں کسی قبرستان میں بھی دفن کرنا جائز ہے) امام سرخسی نے کہا ہے کہ میت کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنا مکروہ ہے، اور مستحب یہ ہے کہ ہر شخص کو اسی قبر ستان میں دفن کیا جائے، حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر شام میں فوت ہوئے تھے پھر ان کی میت کو مدینہ لایا گیا تو حضرت عائشہ نے اپنے بھائی کی زیارت کرتے ہوئے فرمایا : اگر تمہارا معاملہ میرے سپرد ہوتا تو میں تم کو وہیں دفن کرتی جہاں تمہاری وفات ہوئی تھی، پھر التجنیس میں مذکور ہے کہ میت کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے کیونکہ حضرت یعقوب مصر میں فوت ہوئے تھے اور ان کی میت شام منتقل کی گئی اور حضرت موسیٰ نے حضرت یوسف کا تابوت بہت عرصہ کے بعد مصر سے شام منتقل کیا تاکہ ان کی قبر ان کے آبا کرام کے ساتھ ہو، التجنیس کی عبارت ختم ہوئی۔ ملا علی قاری اس پر تبصرہ کرتے ہیں کہ یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ یہ ہم سے پہلے کی شریعت اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد کے خلاف ہم پر حجت نہیں ہے، اور شریعت سابقہ اس وقت حجت ہوتی ہے جب اس کے خلاف قرآن اور حدیث میں کوئی دلیل نہ ہو اور یہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد موجود ہے کہ شہدا کو وہیں دفن کرو جہاں وہ قتل ہوئے تھے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کو کسی عذر کی وجہ سے شام منتقل کیا گیا ہو، اور صاحب التجنیس نے گناہ کی نفی کی ہے کراہت کی نفی نہیں کی اور اس مسئلہ میں میت کو منتقل کرنا مکروہ تنزیرہی ہے اور وہ خلاف اولی ہے اور اگر کوئی عذر ہو تو پھر خلاف اولی بھی نہیں۔ (صحیح یہ ہے کہ بلا عذر میت کو قبر سے نکال کر دوسری جگہ دفن کرنا مکروہ تحریمی ہے) صاحب ہدایہ نے کہا ہے کہ دفن سے پہلے اگر میت کو ایک شہر سے دوسرے شہر کسی فائدہ کی وجہ سے منتقل کردیا جائے تو یہ مکروہ نہیں ہے۔ مثلا حرم شریف کے قریب کی وجہ سے منتقل کیا جائے، یا کسی نبی یا ولی کے قرب کی وجہ سے منتقل کیا جائے، یا اس لیے کہ اس ا کے رشتہ داروں کو اس قبر کی زیارت میں سہولت ہو۔ (مرقات ج ٤ ص ٧٢، ٧٣، مطبوعہ متکبہ امدایہ ملتان، ١٣٩٠ ھ)

خلاصہ یہ ہے کہ دفن سے پہلے میت کو ایک شہر سے کسی دوسرے شہر میں کسی فائدہ اور مصلحت کی بنا پر منتقل کرنا بلا کراہت جائز ہے اور بےفائدہ اور بغیر کسی مصلحت کے میت کو منتقل کرنا مکروہ تنزیہی ہے اور دفن کے بعد کسی عذر کی بنا پر دوسری جگہ میت کو منتقل کرنا بھی جائز ہے اور بغیر کسی ضرورت یا عذر کے دفن کے بعد میت کو قبر سے نکال کر دوسری جگہ دفن کرنا مکروہ تحریمی ہے۔

قاضی خاں متوفی ٢٩٥ ھ نے لکھا ہے کہ بغیر عذر کے قبر کھود کر میت کو منتقل کرنا جائز نہیں ہے۔ (فتاوی قاضی خان علی ہامش الہندیہ ج ١ ص ١٩٥، مطبوعہ مصر، ١٣١٠ ھ)

شرح صحیح مسلم ج ٢ ص ٨١٠، ٨٠٨ میں بھی ہم نے اس مسئلہ کا ذکر کیا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 101