أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلٰى يُوۡسُفَ اٰوٰٓى اِلَيۡهِ اَبَوَيۡهِ وَقَالَ ادۡخُلُوۡا مِصۡرَ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيۡنَؕ ۞

ترجمہ:

پھر جب وہ (سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا انشاء اللہ آپ سب امن کے ساتھ مصر میں رہیں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر جب وہ (سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا انشاء اللہ آپ سب امن کے ساتھ مصر میں رہیں گے۔ (یوسف : ٩٩)

حضرت یعقوب کا مصر روانہ ہونا اور حضرت یوسف کا استقبال کرنا :

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

فرقد السبخی بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت یعقوب کے چہرے پر قمیص ڈالی گئی تو ان کی آنکھیں روشن ہوگئیں اور انہیں بتایا کہ حضرت یوسف نے ان سب کو بلایا ہے، پھر حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کے بھائی مصر کی طرف روانہ ہوئے، جب حضرت یوسف کو یہ خبر پہنچی کہ وہ مصر کے قریب پہنچ گئے ہیں تو وہ ان کے استقبال کے لیے شہر سے باہر آئے اور ان کے ساتھ مصر کے تمام سردار معزز لوگ تھے۔ جب یعقوب اور حضرت یوسف ایک دوسرے کے قریب پہنچے، اس وقت حضرت یعقوب اپنے بیٹے یہوذا کے سہارے چل رہے تھے، جب حضرت یعقوب نے حضور یوسف کے ساتھ گھوڑوں پر سوار سرداروں اور معززین کو دیکھا تو یہوذا سے پوچھا : کیا یہ مصر کا بادشاہ ہے ؟ اس نے کہا : نہیں یہ آپ کا بیٹا ہے ! جب دونوں ملنے کے قریب ہوئے تو حضرت یوسف نے سلام میں پہل کرنا چاہی تو ان کو منع کیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ یعقوب سلام کی ابتدا کرنے کے مستحق ہیں، تب حضرت یعقوب نے کہا : تم پر سلام ہو، اے مجھ سے رنج و غم کو دور کرنے والے۔ (الجامع لاحکام القرآن، رقم الحدیث : ١٥١٥١، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

ربیع بن انس نے کہا : جب حضرت یعقوب مصر گئے تھے تو ان کے بیٹوں پوتوں اور پر پوتوں کی تعداد بہتر تھی پھر جب ان کی اولاد حضرت موسیٰ کے ساتھ مصر سے نکلی تو اس وقت کی تعداد چھ لاکھ تھی۔ (تفسیر امام بن ابی حاتم ج ٧، رقم الحدیث : ١١٩٨٨)

حضرت یوسف کی ماں کی وفات کے باوجود ان کے والدین کو تخت پر بٹھانے کی توجیہ :

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب وہ (سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی، اس جگہ یہ سوال ہوتا ہے کہ حضرت یوسف کی والدہ راحیل تو بنیامین کی ولادت کے وقت فوت ہوگئی تھیں، اس سوال کے حسب ذیل جواب ہیں :

١۔ امام ابن جریر نے کہا : اس سے مراد ان کی والد اور ان کی خالہ ہیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٥١٥٤ )

امام ابن ابی حاتم نے بھی لکھا ہے کہ حضرت یوسف کی والدہ بنیامین کی ولادت کے وقت فوت ہوگئی تھیں اس لیے اس آیت میں ماں باپ سے مراد حضرت یوسف کے والد اور ان کی خالہ ہیں۔ (قتادہ نے کہا حضرت یعقوب حضرت یوسف کی خالہ سے نکاح کرچکے تھے) (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٧، ص ٢٢٠١)

علامہ ابو عبداللہ قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ نے لکھا ہے کہ ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ماں کو زندہ کردیا تھا، تاکہ وہ حضرت یوسف کو سجدہ کریں اور حضرت یوسف کے خواب کی تعبیر تحقیقی طور پر واقع ہو۔

قرآن مجید کی ظاہر آیت کے زیادہ موافق یہ ہے کہ حضرت یوسف کی ماں اور ان کے باپ دونوں نے سجدہ کیا۔ 

ہم اس سے پہلے سورة بقرہ کی تفسیر میں لکھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے والدین کو بھی زندہ کردیا تھا اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے تھے۔ (الجامع لاحکام القرآن، جز ٩، ص ٢٣٠، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے والدین کو زندہ کرنے اور ان کے ایمان لانے پر علامہ قرطبی کے دلائل :

علامہ قرطبی نے سورة البقرہ کی تفسیر میں جو لکھا ہے وہ یہ ہے :

ہم نے اپنی کتاب التزکرہ میں یہ لکھا ہے : اللہ تعالیٰ نے آپ کے ماں باپ کو زندہ کردیا تھا اور وہ آپ پر ایمان لائے تھے ہم نے اس کو اپنی کتاب التذکرہ میں تفصیل سے لکھا ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن ج ٢ ص ٨٩، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ قرطبی نے التذکرہ میں جو لکھا ہے وہ یہ ہے :

امام ابوبکر احمد بن علی الخطیب نے اپنی کتاب السابق واللاحق میں اور امام ابو حفص عمر بن شاہین متوفی ٣٨٥ ھ نے الناسخ والمنسوخ میں دونوں نے اپنی اپنی سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے، حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع میں حج کیا، آپ مجھ کو ساتھ لیکر عقبۃ الجحون کے پاس سے گزرے، اس وقت آپ غمزدہ تھے اور رو رہے تھے، آپ کو روتا ہوا دیکھ کر میں بھی رونے لگی۔ میں نے عرض کیا : آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : اے حمیرا ٹھہرا جاؤ۔ میں نے اونٹ کو پہلو سے ٹیک لگالی، آپ کافی دیر تک کھڑے رہے، پھر آپ میری طرف آئے اور آپ خوشی سے مسکرا رہے تھے، میں نے آپ سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، آپ میرے پاس آئے اس وقت آپ غمگین تھے اور رو رہے تھے، یا رسول اللہ، میں بھی آپ کو روتا دیکھ کر رونے لگی، پھر آپ میرے پاس آئے اس وقت آپ خوشی سے مسکرا رہے تھے، یا رسول اللہ۔ اس کا کیا سبب ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں اپنی ماں حضرت آمنہ کی قبر کے پاس سے گزرا، میں نے اپنے رب اللہ سے سوال کیا کہ اس کو زندہ کردے تو اللہ تعالیٰ نے اس کو زندہ کردیا پھر وہ مجھ پر ایمان لے آئی یا فرمایا پھر وہ ایمان لے آئی پھر اللہ نے اس کو اسی طرح لوٹا دیا۔ (الناسخ والمنسوخ ص ٢٨٤، رقم الحدیث : ٦٣٠، مطبوعہ دار الباز مکہ مکرمہ ١٤١٢ ھ)

یہ خطیب کی روایت کے الفاظ ہیں اور امام سہیلی نے الروض الانف میں ایسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے جس میں مجہول راوی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ماں اور باپ دونوں کو زندہ کیا اور وہ آپ پر ایمان لے آئے۔ (علامہ عبدالرحمن سہیلی متوفی ٥٨١ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں، حضرت عائشہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے رب سے یہ دعا کی کہ وہ آپ کے والدین کو زندہ کردے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے (اکرام کے) لیے ان کو زندہ کردیا، اور وہ آپ پر ایمان لائے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر موت طاری کردی، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اس کی رحمت اور قدرت کسی چیز سے عاجز نہیں ہے، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بات کے اہل ہیں کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے اپنے فضل سے آپ کو خصوصیت عطا فرمائے اور آپ کی کرامت کی وجہ سے جو چاہے آپ پر انعام فرمائے، صلوات اللہ وعلیہ وسلم۔ (الروض الانف، ج ١ ص ٢٩٩، دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٨ ھ)

علامہ قرطبی فرماتے ہیں : اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حدیث صحیح میں ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازنت مانگی تو آپ کو اجازت دی گئی اور آپ نے ان کے لیے استغفار کی اجازت مانگی تو آپ کو استغفار کی اجازت نہیں دی گئی۔ (صحیح مسلم، الجنائز رقم : ١٠٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٥٧٢، مسند حمد ج ٢ ص ٤٤١) تو اس کا جواب یہ ہے کہ الحمدللہ ان میں کوئی تعارض نہیں ہے، کیونکہ استغفار سے ممانعت پہلے کا واقعہ ہے اور والدین کریمین کو زندہ کرنے کا واقعہ بعد کا ہے۔ امام ابن شاہین نے الناسخ والمنسوخ میں اسی طرح تحقیق کی ہے۔

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! میرا باپ کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا : دوزخ میں۔ جب وہ واپس جانے لگا تو آپ نے اس کو بلا کر فرمایا : میرا باپ ور تمہارا باپ دوزخ میں ہیں۔ 

اس حدیث میں باپ سے مراد آپ کے چچا ابو طالب ہیں۔ (صحیح مسلم الایمان : ٣٤٧، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٤٦٩٢، مسند احمد ج ٣ ص ١١٩)

ایک اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے والدین کریمین کو زندہ کرنے کے متعلق جو حدیث ہے وہ موضوع ہے اور وہ قرآن مجید اور اجماع کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

ولیست التوبۃ للذین یعملون السیات حتی اذا حضر احدھم الموت قال انی تبت الان والا الذین یموتون وھم کفار اولئک اعتدنا لھم عذاب الیما۔ (النساء : ١٨) اور ان لوگوں کی توبہ (مقبول) نہیں ہے جو مسلسل گناہ کرتے رہتے ہیں، حتی کہ جب ان میں سے کسی شخص کو موت آئے اور وہ کہے کہ میں نے اب توبہ کی اور نہ ان کی (توبہ مقبول) ہے جو کفر کی حالت میں مرجاتے ہیں۔

پس جو شخص کفر کی حالت میں مرگیا اس کو حشر میں ایمان نفع نہیں دے گا بلکہ عذاب کے مشاہدہ کے وقت بھی اس کو ایمان نفع نہیں دیتا تو دوبارہ زندہ کرنے پر ایمان کیسے نفع دے گاْ

حافظ ابو الخطاب عمر بن وحیہ نے کہا ہے کہ اس پر یہ اعتراض ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فضائل تسلسل اور تواتر سے آپ کی وفات تک ثابت ہوتے رہے ہیں تو آپ کے والدین کو زندہ کرنا اور ان کا آپ پر ایمان لانا بھی آپ کے اکرام اور آپ کے فضائل کے قبیل سے ہے اور آپ کے والدین کریمین کا زندہ کرنا عقلا اور شرعا محال نہیں ہے، کیونکہ قرآن مجید میں ہے کہ بنو اسرائیل کا مقتول زندہ کیا گیا اور اس نے اپنے قاتل کی خبر دی اور حضرت عیسیٰ مردوں کو زندہ کرتے تھے، اسی طرح ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے مردوں کو زندہ کیا اور جب ان کا زندہ ہونا محال نہیں ہے تو زندہ ہو کر آپ پر ایمان لانے میں کیا چیز مانع ہے ؟ اور سورة نساء کی آیت ١٨ سے جو استدلال کیا گیا ہے کہ جو کفر پر مرے اس کو ایمان نفع نہیں دیتا اس کا جواب یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے سورج کا غروب ہونے کے بعد طلوع ہونا ثابت ہے، اس کو امام ابو جعفر طحاوی نے ذکر کیا ہے، تو اگر سورج کا غروب ہونے کے بعد طلوع ہونا نافع نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ سورج کو نہ لوٹاتا۔ اسی طرح اگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے والدین کریمین کو زندہ کرنا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے اور آپ کی تصدیق کرنے کے لیے نفع بخش نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان کو زندہ نہ فرماتا۔ حضرت یونس کی قوم نے عذاب کے آثار دیکھ لیے تھے اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کو قبول کرلیا، اور ظاہر قرآن میں بھی اسی طرح ہے، اور جس طرح قرآن مجید میں ہے :

لا یخفف عنھم العذاب۔ (البقرہ : ١٦٢) کفار کے عذاب میں تحفیف کی جائے گی۔

اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ ابو لہب اور ابو طالب کے عذاب میں تخفیف کی جائے گی تو اس آیت کے عموم میں تخصیص کی گئی ہے، اسی طرح مذکور الصدر دلائل کی بنا پر النساء : ١٨ میں بھی تخصیص کی جائے گی اور اس کا یہ جواب بھی دیا گیا ہے کہ والدین کریمین کا زندہ کیا جانا اور ان کا ایمان لانا پہلے کا واقعہ ہے اور یہ آیت بعد میں نازل ہوئی ہے۔ (التذکرہ ج ١ ص ٣٧۔ ٣٥، ملخصا، مطبوعہ دار البخاری المدینہ المنورہ، ١٤١٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 99