أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ هٰذِهٖ سَبِيۡلِىۡۤ اَدۡعُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ ۚ ‌عَلٰى بَصِيۡرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِىۡ‌ؕ وَسُبۡحٰنَ اللّٰهِ وَمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے کہ یہ میرا راستہ ہے، میں پوری بصیرت کے ساتھ (لوگوں کو) اس کی طرف بلاتا ہوں، اور میرے پیروکار بھی (اس کی طرف بلاتے ہیں) اور اللہ پاک ہے، اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ یہ میرا راستہ ہے، میں پوری بصیرت کے ساتھ (لوگوں کو) اس کی طرف بلاتا ہوں، اور میرے پیروکار بھی (اس کی طرف بلاتے ہیں) اور اللہ پاک ہے، اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔ (یوسف : ١٠٨)

یعنی اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان مشرکین سے کہئیے کہ میں جس دین کی دعوت دے رہا ہوں، یہی میرا طریقہ اور میری سنت ہے، اسی طریقہ پر چل کر انسان جنت اور اخروی نعمتوں کو حاصل کرسکتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کو پوری بصیرت اور یقین کے ساتھ اسلام کی دعوت دینی چاہیے اور علماء کرام جو دین کی تبلیغ کرتے ہیں وہ اللہ کے بندوں کی طرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امین اور سفیر ہیں، اس کے بعد فرمایا : اللہ پاک ہے یعنی مشرکین جو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ فلاں اللہ کا شریک ہے، فلاں اللہ کا بیٹا ہے، فلاں اللہ کا مددگار ہے اور ایسی ہی دوسری خرافات، اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے پاک ہے اور برتر اور بلند ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 108