أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَـقَدۡ كَانَ فِىۡ قَصَصِهِمۡ عِبۡرَةٌ لِّاُولِى الۡاَلۡبَابِ‌ؕ مَا كَانَ حَدِيۡثًا يُّفۡتَـرٰى وَلٰـكِنۡ تَصۡدِيۡقَ الَّذِىۡ بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَتَفۡصِيۡلَ كُلِّ شَىۡءٍ وَّهُدًى وَّرَحۡمَةً لِّـقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ۞

ترجمہ:

بیشک ان کے قصوں میں عقل والوں کے لیے نصیحت ہے، یہ (قرآن) کوئی من گھڑت بات نہیں ہے بلکہ یہ ان کی کتابوں کا مصدق ہے جو اس سے پہلے نازل ہوئیں اور اس میں ہر چیز کی تفصیل ہے اور یہ مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک ان کے قصوں میں عقل والوں کے لیے نصیحت ہے، یہ (قرآن) کوئی من گھڑت بات نہیں ہے بلکہ یہ ان کی کتابوں کا مصدق ہے جو اس سے پہلے نازل ہوئیں اور اس میں ہر چیز کی تفصیل ہے اور یہ مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ (یوسف : ١١١)

حضرت یوسف کے قصہ کا احسن القصص ہونا :

ان کے قصوں سے مراد حضرت یوسف، ان کے بھائیوں اور ان کے والد کے قصے ہیں اور کسی قصہ کا حسن یہ ہوتا ہے کہ اس میں نصیحت ہو اور حکمت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس میں عقل والوں کے لیے نصیحت ہے، یعنی جو ان واقعات میں غور وفکر کریں کہ جو شخص کسی کے ظلم و ستم پر صبر کرے اور جب اسے کوئی حسین، جوان اور مقتدر عورت گناہ کی دعوت دے اور وہ اس سے اپنا دامن بچائے خواہ اس کے نتیجہ میں اس کو قید و بند کے مصائب اٹھانے پڑیں تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت عمدہ جزا دیتا ہے، اور وہ بھائی جو اپنی طاقت کے بل پر حضرت یوسف پر ظلم کر رہے تھے، ایک وقت آیا کہ وہ حضرت یوسف کے پاس غلہ کی خیرات لینے آئے اور وہ سب ان کے سامنے سجدہ ریز ہوئے، اس سے معلوم ہوا کہ ظالم بالآخر ناکام ہوتا ہے اور مظلوم انجام کار کامیاب ہوتا ہے۔

فرمایا : یہ قرآن کوئی من گھڑت بتا نہیں یعنی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت یوسف کا قصہ بیان کیا ہے یہ کوئی جھوٹ نہیں ہے بلکہ سابقہ آسمانی کتابوں کے موافق ہے، اور ان کا مصدق ہے۔

قرآن مجید میں ہر شے کی تفصیل محمل :

اور فرمایا : اس میں ہر چیز کی تفصیل ہے، اس کے دو معنی ہیں : ایک یہ کہ اس میں حضرت یوسف کے قصہ کی پوری تفصیل ہے، اور اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اس قرآن میں بندوں کی دنیا اور آخرت کی فلاح سے متعلق تمام احکام شرعیہ کی تفصیل ہے اور ان کی رشد و ہدایت اور اصلاح و عقائد اور مبداء اور معاد کی تمام تفصیل اس میں موجود ہے۔ اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ اس میں ابتدائے آفرینش سے لے کر قیامت تک رونما ہونے والے تمام واقعات کی تفصیل ہے اور آسمانوں اور زمینوں کے تمام حقائق اور ان کے تمام اسرار و رموز اور ان کے تمام منافع اور مضار کی تفصیلات اس قرآن میں ہیں کیونکہ قرآن مجید تاریخ، جغرافیہ اور سائنس کی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ رشد و ہدایت کی کتاب ہے اور اس میں رشد و ہدایت سے متعلق تمام تفصیلات ہیں۔

نیز فرمایا : یہ ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے، قرآن مجید ہدایت تو تمام انسانوں کے لیے ہے، لیکن اس کی ہدایت سے صرف ایمان والے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس لیے فرمایا : یہ قرآن ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 111