مرزا علی جہلمی کے شہرہ آفاق جھوت (21)

صحابہؓ کی شان میں تنقیص کرنا

مرزا جہلمی سے ایک ویڈیو میں اس نعت (محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا) کے بارے سوال ہوا تو صحابہؓ کی ذوات پر حملہ کرتے ہوتے کہتا ھے کہ باقی لوگ تو دور کی بات اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہ جنکا مثلہ ہوا انکے اجسام محفوظ نہیں رھے۔

مرزا جہلمی کے اس دعوے میں کتنے صداقت ہے اہل نظر پر مخفی نہیں کیونکہ بہت بار لوگ اس بات کا مشاہدہ کرچکے ہیں کہ اللہ کے نیک بندوں کی قبور جب شق ہوئیں اجسام کی خرابی تو دور کی بات انکا امامہ شریف تک محفوظ تھا الحمدلله

جب امت کے ولی کی یہ شان ھے تو اس امت کی جو سب سے اعلیٰ شخصیات (اصحاب رسول) کہ پوری دنیا کے قطب غوث ابدال سب مل کر بھی انکے قدموں کی خاک جیسے نہیں ہوسکتے انکی شان کیا ہوگی ۔

الحمدلله ہمارا عقیدہ ھے کہ صرف اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اجسام ہی نہیں بلکہ اللہ کے نیک بندوں کے اجسام بھی لحد میں محفوظ رہتے ہیں ۔

اور اس پر دلائل بھی موجود ہیں۔

جابر رضی اللہ عنہ کے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ غزوۂ احد کے سب سے پہلے شہید تھے اورحضور اکرم ﷺنے ان کو عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک ہی قبر میں دفن فرمایا تھا اُس وقت مسلمانوں کی تنگدستی کا یہ عالم تھا کہ شہداء کو دفن کرنے کیلئے کفن تک میّسر نہ تھے۔اس لئے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ایک چادر میں کفن دیا گیاجس میں چہرہ تو چھپ گیا لیکن پاؤں کھلے رہے جن پر گھاس ڈالی گئی تھی ۔یہ قبر نشیب میں واقع تھی ۔اتفاق سے چالیس سال بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہاں سیلاب آگیا اور وہاں سے ایک نہر نکالنی پڑی۔اُس موقع پر قبر کو حضرت جابررضی اللہ عنہ کی موجودگی میں کھولا گیا تو دونوں بزرگوں کے اجسام بالکل صحیح و سالم اور تر و تازہ تھے۔بلکہ ایک روایت یہ ہے کہ اُن کہ چہرے پر جو زخم تھا اُن کا ہاتھ اُ س زخم پر رکھا ہوا تھا۔لوگوں نے ہاتھ وہاں سے ہٹایا توتازہ خون بہنے لگاپھر ہاتھ دوبارہ وہاں رکھاتو خون بند ہو گیا

(طبقات ابن سعد جلد 3 ص 262،263)

احمدرضارضوی

MuhammadKeGhulamoKaKafanMaylaNahyHota