أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَرَفَعَ اَبَوَيۡهِ عَلَى الۡعَرۡشِ وَخَرُّوۡا لَهٗ سُجَّدًا‌ۚ وَقَالَ يٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاۡوِيۡلُ رُءۡيَاىَ مِنۡ قَبۡلُ قَدۡ جَعَلَهَا رَبِّىۡ حَقًّا‌ؕ وَقَدۡ اَحۡسَنَ بِىۡۤ اِذۡ اَخۡرَجَنِىۡ مِنَ السِّجۡنِ وَجَآءَ بِكُمۡ مِّنَ الۡبَدۡوِ مِنۡۢ بَعۡدِ اَنۡ نَّزَغَ الشَّيۡطٰنُ بَيۡنِىۡ وَبَيۡنَ اِخۡوَتِىۡ‌ؕ اِنَّ رَبِّىۡ لَطِيۡفٌ لِّمَا يَشَآءُ‌ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ ۞

ترجمہ:

اور اس نے اپنے ماں باپ کو بلند تخت پر بٹھایا اور وہ سب یوسف کے لیے سجدہ میں گرگئے، اور یوسف نے کہا اے میرے باپ ! یہ میرے اس پہلے خواب کی تعبیر ہے، بیشک میرے رب نے اس کو سچ کر دکھایا، اور بیشک اس نے مجھ پر احسان کیا جب اس نے مجھ کو قید سے رہائی دی، اور شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان جو عناد پیدا کردیا تھا، اس کے بعد آپ سب کو گاؤں سے لے آیا، بیشک میرا رب جو چاہتا ہے وہ حسن تدبیر سے کرتا ہے، بیشک وہ بےحدعلم والا بہت حکمت والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس نے اپنے ماں باپ کو بلند تخت پر بٹھایا اور وہ سب یوسف کے لیے سجدہ میں گرگئے، اور یوسف نے کہا اے میرے باپ ! یہ میرے اس پہلے خواب کی تعبیر ہے، بیشک میرے رب نے اس کو سچ کر دکھایا، اور بیشک اس نے مجھ پر احسان کیا جب اس نے مجھ کو قید سے رہائی دی، اور شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان جو عناد پیدا کردیا تھا، اس کے بعد آپ سب کو گاؤں سے لے آیا، بیشک میرا رب جو چاہتا ہے وہ حسن تدبیر سے کرتا ہے، بیشک وہ بےحدعلم والا بہت حکمت والا ہے۔ (یوسف : ١٠٠)

حضرت یوسف کے خواب کی تعبیر پوری ہونے کی مدت میں متعدد اقوال :

وہب بن منبہ نے بیان کیا کہ حضرت یوسف کو سترہ سال کی عمر میں کنوئیں میں ڈالا گیا تھا، اور وہ اپنے باپ سے اسی سال غائب رہے اور اپنے باپ سے ملاقات کے بعد تئیس سال مزید زندہ رہے اور عزیز مصر کی بیوی کے بطن سے حضرت یوسف کے دو بیٹے پیدا ہوئے۔ افراثیم اور منشا اور رحمت نام کی ایک بیٹی تھی جو حضرت ایوب کی بیوی بنی اور حضرت یوسف اور حضرت موسیٰ کے درمیان چار سو سال کی مدت تھی۔

ایک قول یہ ہے کہ حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کے درمیان تینتیس سال جدائی رہی پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ملا دیا۔ امام ابن اسحاق نے کہا : اٹھارہ سالہ جدائی رہی، ان کے علاوہ اور بھی اقوال ہیں۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٩، ص ٢٣١، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

حضرت یوسف کے خواب اور اس کی تعبیر پوری ہونے کے درمیان جو مدت گزری ہے امام ابن جوزی نے اس کے متعلق سات قول ذکر کیے ہیں۔ ٤٠ سال، ٢٢ سال، ٨٠ سالم ٣٦ سال، ٧٠ سال، ١٨ سال۔ (زاد المسیر ج ٤ ص ٢٩١، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ١٤٠٧ ھ)

یہ تمام اقوال ظنی ہیں اور کسی قول کی بنیاد کوئی قطعی اور یقینی دلیل نہیں ہے۔

حضرت یوسف کے لیے حضرت یعقوب کے سجدہ کی توجیہات :

اس آیت میں مذکور ہے کہ حضرت یوسف کے ماں باپ حضرت یوسف کے لیے سجدہ میں گرگئے، اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب کا حضرت یوسف کو سجدہ کرنا متعدد وجوہ سے موجوب اشکال ہے :

١۔ حضرت یعقوب اکابر انبیاء سے ہیں اور حضرت یوسف ہرچند کہ نبی تھے لیکن حضرت یعقوب بلند مرتبہ کے تھے۔

٢۔ حضرت یعقوب باپ تھے اور یوسف بیٹے تھے اور اولاد کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ ماں باپ کے سامنے جھکی رہی :

وخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ۔ (بنی اسرائیل : ٢٤) اور نرم دلی کے ساتھ ان کے لیے عاجزی سے جھکے رہنا۔ (بنی اسرائیل : ٢٤ )

دریں صورت ماں باپ کا بیٹے کو سجدہ کرنا عجیب و غریب ہے۔

٣۔ حضرت یعقوب حضرت یوسف کی بہ نسبت بہت عبادت گزار تھے اور ان سے بہت افضل تھے اور افضل کا منضول کو سجدہ کرنا ہت عجیب ہے۔

اس اعتراض کے متعدد جوابات ہیں :

١۔ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ان سب نے یوسف کی وجہ سے اللہ کو سجدہ کیا، اس پر یہ اعتراض ہوگا کہ پھر خواب کیسے سچا ہوا، اس کا جواب یہ ہے کہ خواب بھی یہی تھا کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند نے میری وجہ سے اللہ کو سجدہ کیا۔

٢۔ حضرت یوسف بمنزلہ کعبہ تھے اور سجدہ اللہ کو تھا۔

٣۔ ہرچند کہ حضرت یعقوب ہر لحاظ سے حضرت یوسف سے افضل تھے، لیکن انہوں نے اس لیے حضرت یوسف کو سجدہ کیا تاکہ ان کے بھائیوں کو حضرت یوسف کے سامنے سجدہ کرنے میں عار محسوس نہ ہو جیسے ادارہ کا سربراہ کسی شخص کی تعظیم کرے تو ادارہ کے باقی ارکان بھی اس کی تعظیم بجا لانے میں عار محسوس ہیں کرتے۔

٤۔ ہرچند کہ قیاس اور عقل کا یہی تقاضا ہے ہے کہ حضرت یعقوب حضرت یوسف کو سجدہ نہ کرتے لیکن بعض احکام تعبدی ہوتے ہیں، ان میں عقل کا دخل ہیں ہوتا جیسے تیمم وضو کا قائم مقام ہے جبکہ وضو سے منہ صاف ہوتا ہے اور تیمم میں خاک آلود ہاتھ منہ پر ملے جاتے ہیں، نیز اس میں یہ دکھانا ہے کہ نبی میں نفسانیت بالکل نہیں ہوتی، اللہ باپ کو حکم دیتا ہے کہ بیٹے کو سجدہ کرے اور باپ طمانیت قلب کے ساتھ بیٹے کے لیے سجدہ کرتا ہے اور اس کے دل میں بیٹے کے خلاف کوئی میل نہیں آتا، سو ایسے عظیم بندے کی بدنگی پر سلام ہو۔ سلام ہو حضرت یعقوب پر۔

ہماری شریعت میں سجدہ تعظیم کا حرام ہونا :

ہماری شریعت میں سجدہ تعظیم حرام ہے، حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ دوسرے لیے سجدہ کرے تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١١٥٩، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٢١٤٠، کشف الاستار رقم الحدیث : ١٤٦٦، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤١٦٢، المستدرک ج ٤، ص ١٧١، ١٧٢، السنن الکبری للبیہقی ج ٧ ص ٢٩١، مسند احمد ج ٤، ص ٣٨١، کامل ابن عدی ج ٤، ص ١٣٩٣، مشکوۃ رقم الحدیث : ٣٢٥٥، مجمع الزوائد ج ٤ ص ٣١٠، ٣١١، کنز العمال رقم الحدیث : ٤٤٧٧٣)

قیام تعظیم کی ممانعت کے متعلق احادیث :

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کو رسول اللہ سے زیادہ کوئی شخص محبوب نہیں تھا، وہ جب رسول اللہ کو دیکھتے تو کھڑے نہیں ہوتے کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ آپ اس کو ناپسند کرتے ہیں۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٧٥٤، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٨ ص ٥٨٦، مسند احمد ج ٣ ص ١٣٢، مسند ابو عیلی رقم الحدیث : ٣٧٨٤)

متکبرین اور جبابرہ کی مخالفت اور اپنے رب کے سامنے تواضع و انکساری کرنے کے لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی تعظیم کے لیے کھڑے ہونے کو ناپسند کرتے اور سادگی کے ساتھ بےتکلف ماحول میں رہتے تھے۔ 

ابو مجاز بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ باہر نکلے تو حضرت عبداللہ بن الزبیر اور ابن الصفوان ان کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے۔ حضرت معاویہ نے کہا تم دونوں بیٹھ جاؤ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جو شخص اس سے خوش ہوتا ہو کہ لوگ اس کے سامنے اس کی تعظیم کے لیے کھڑے رہیں وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٧٥٥، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٥٢٢٩، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٨ ص ٥٨٦، مسند احمد ج ٤، ص ٩١، المعجم الکبیر ج ١٩، رقم الحدیث : ٨١٩، شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٣٣٠)

حضرت ابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصا سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے تھے، تو ہم آپ کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوگئے۔ آپ نے فرمایا : عجمیوں کی طرح نہ کھڑے ہو، وہ بعض، بعض کی تعظیم کرتے ہیں۔ (سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٥٢٣٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٨٣٦، مسند احمد ج ٥ ص ٢٥٣ )

قیام تعظیم میں مذاہب فقہاء :

علامہ ابو سلیمان خطابی شافعی متوفی ٣٨٨ ھ لکھتے ہیں :

مسلمانوں کا رئیس فاضل کے لیے اور حاکم عادل کے لیے کھڑے ہونا اور شاگرد کا استاذ کے لیے کھڑے ہونا مستحب ہے، مکروہ نہیں ہے، اور جس شخص کی صفات ان کے خلاف ہوں ان کی تعظیم کے لیے کھڑے ہونا مکروہ ہے، اور جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے لیے کھڑے ہونے کا حکم دے اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہونا مکروہ ہے، اور بعض علماء نے ذکر کیا ہے کہ عالم کے لیے کھڑے ہونا اور نیک لوگوں کی تعظیم کے لیے کھڑے ہونا منع نہیں ہے، اور جس حدیث میں آپ نے فرمایا : جو شخص اس سے خوش ہوتا ہے کہ لوگ اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوں وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا ہے، اس کا محمل یہ ہے کہ وہ بیٹھا رہے اور لوگ اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوں۔ (معالم السنن مع مختصر سنن ابو داؤد ج ٨ ص ٨٥، مطبوعہ دار المعرفہ بیروت)

علامہ یحی بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں :

آنے والے کی تعظیم و تکریم کے متعلق ہمارا مختار یہ ہے کہ اس شخص کے لیے کھڑا ہونا مستحب ہے جس میں علم، نیکی، شرف، اقتدار اور حکومت کی کوئی فضیلت ہو یا وہ رشتہ دار ہو یا عمر میں بڑا ہو، اور اس کے لیے کھڑا ہونا نیکی اور احترام اور اکرام کی وجہ سے ہو نہ کہ ریاکاری یا اس کے تکبر کی وجہ سے ہو، اور ہم نے جس نظریہ کو اختیار کیا ہے یہی سلف اور خلف کا معمول ہے۔ (الاذکار ج ١ ص ٣٠٩، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)

علامہ ابو عبداللہ قرطبی مالکی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

مصر اور عجم میں عادت ہے کہ لوگ ایک دوسرے کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوتے ہیں حتی کہ اگر کوئی شخص دوسرے کی تعظیم کے لیے نہ کھڑا ہو تو وہ اپنے دل میں تنگی محسوس کرتا ہے اور یہ گمان کرتا ہے کہ اس کے نزدیک اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور اس کے نزدیک اس کی کوئی قدرومنزلت ہیں ہے، اسی طرح جب وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو ایک دوسرے کے لیے خم ہوتے ہیں اور جھکتے ہیں اور یہ عادت مستمرہ ہے بلکہ ان کے آباواجداد سے یہ رسم چلی آرہی ہے، خصوصا جب وہ حکام اور مال داروں سے ملتے ہیں تو خم ہو کر ملتے ہیں۔ (اسی طرح علما اور مشائخ سے) اور انہوں نے اس معاملہ میں احادیث اور سنن سے بالکل اعراض کرلیا ہے، حدیث میں ہے :

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! ہم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی یا دوست سے ملاقات کرتا ہے کیا وہ اس کے لیے جھک جایا کرے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں۔ اس نے کہا : کیا وہ اس سے معانقہ کرے اور اس کو بوسے دے ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ اس نے کہا : کیا وہ اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٧٢٨، مسند احمد ج ٣ ص ١٩٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٧٠٢، مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٤٢٨٧، السنن الکبری للبیہقی ج ٧ ص ١٠٠)

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حدیث میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سعد بن معاذ کے لیے فرمایا :

قوموا الی سیدکم و خیرکم۔ (اپنے سردار اور نیک آدمی کی طرف کھڑے ہو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٢٦٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٦٨ )

ہم کہتے ہیں یہ حدیث صرف حضرت سعد بن معاذ کے ساتھ مخصوص ہے، او دوسرا جواب یہ ہے حضرت سعد بن معاذ بیمار تھے اور دراز گوش پر سوار ہو کر آرہے تھے اور آپ نے لوگوں سے کہا ان کو دراز گوش سے اتارنے کے لیے کھڑے ہوں اور کسی بڑے آدمی کی تعظیم کے لیے اس وقت کھڑے ہونا جائز ہے جب وہ اپنی تعظیم سے خوش نہ ہو، اگر وہ اپنی تعظیم سے خوش ہو تو پھر اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہونا جائز نہیں ہے ایسے شخص کے لیے حدیث میں دوزخ کے عذاب کی وعید ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٩، ص ٢٣١، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں :

آنے والے کی تعظیم کے لیے کھڑے ہونا جائز ہے بلکہ مستحب ہے، بشرطیکہ وہ تعظیم کا مستحق ہو، قنیہ میں مزکور ہے کہ اگر کوئی شخص مسجد میں بیٹھا ہو یا قرآن مجید کی تلاوت کر رہا ہو اور کوئی شخص آجائے تو اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہونا مکروہ نہیں ہے بشرطیکہ وہ تعظیم کا مستحق ہو۔ مشکل الآثار میں مذکور ہے دوسرے کے لیے کھڑے ہونا بعینہ مکروہ نہیں ہے، جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ اس کے لیے لوگ کھڑے ہوں اس کے لیے کھڑے ہونا مکروہ ہے، اور جس کے لیے قیام نہیں کیا جاتا اگر اس کے لیے قیام کیا جائے تو یہ مکروہ نہیں ہے۔ ابن وہبان نے کہا ہمارے زمانہ میں مناسب یہ ہے کہ یہ فتوی دیا جائے کہ جس شخص کے متعلق یہ علم ہو کہ اگر اس کے لیے قیام نہ کیا جائے تو وہ کینہ، بغض اور عداوت رکھے گا خصوصا جس جگہ کسی شخص کے لیے کھڑے ہونے کا معمول ہو اس شخص کے لیے کھڑے ہونا مستحب ہے، اور جن احادیث میں قیام پر عذاب کی وعید ہے وہ ویسے قیام کے متعلق ہے جیسا ترکوں اور عجمیوں میں رواج تھا (یعنی ایک سردار بیٹھا ہو اور دوسرے اس کی تعظیم کے لیے صف بہ صف کھڑے ہوں) میں کہتا ہوں کہ اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ عنایہ وغیرہ میں مذکور ہے کہ شیخ حکیم ابو القاسم کے پاس کوئی دولت مند آتا تو وہ اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوجاتے اور فقراء اور طلبہ کے لیے نہیں کھڑے ہوتے تھے، ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا دولت مند مجھ سے تعظیم کی توقع رکھتا ہے اگر میں اس کے لیے نہیں کھڑا ہوں گا تو وہ مجھ سے بغض رکھے گا اور فقراء ور طلبہ صرف سلام کے جواب کی توقع رکھتے ہیں اور اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ میں ان سے علمی باتیں کروں۔ (رد امختار ج ٥ ص ٢٤٢، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

آنے والے کے استقبال کے لیے کھڑے ہونے کے متعلق احادیث :

حضرت عائشہ ام المومنین بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ کسی شخص کو عادات، خصائل اور شمائل میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مشابہ نہیں دیکھا، جب وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتیں تو آپ ان کے لیے کھڑے ہوجاتے ان کو بوسہ دیتے اور ان کو اپنی مجلس میں بٹھاتے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٨٧٢، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٥٢١٧، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٩٥٣، المعجم الکبیر ج ٢٢ رقم لاحدیث : ١٠٣٨، السنن الکبری للبیقہ ج ٧ ص ١٠١)

حضرت ام الومنین عائشہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت زید بن حارثہ مدینہ میں آئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت میرے حجرے میں تھے، انہوں نے آکر زور سے دروازہ کھٹکھٹایا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) برہنہ پشت تہبند گھسیٹتے ہوئے اس کے (استقبال کے) لیے کھڑے ہوئے اور میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد کبھی آپ کو برہنہ پشت نہیں دیکھا (حضرت ام المومنین کا مطلب ہے کہ انہوں نے کسی اور کے لیے آپ کو برہنہ پشت استقبال کرتے ہوئے نہیں دیکھا) پھر آپ نے حضرت زید بن حارثہ کو گلے لگایا اور انکو بوسہ دیا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٧٣٢، کتاب الضعفاء للعقیلی ج ٤ ص ٤٢٨ )

حضرت عکرمہ بن ای جہل بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن وہ مکہ سے بھاگ گئے تھے حتی کہ ان کی بیوی ام حکیم بنت الحارث نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کے لیے اجازت طلب کی، آپ نے ان کو مامون قرار دے دیا، وہ یمن جاکر ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لے آئیں، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو دیکھا تو ان کے اکرام کے لیے کھڑے ہوگئے اور ان کو گلے لگایا اور فرمایا : ہجرت کرنے والے کو خوش آمدید ہو۔ (المعجم الکبیر ج ١٧، ص ٣٧٣، رقم الحدیث : ١٠٢١، حافظ الہیثمی نے کہا اس کی سند منقطع ہے، مجمع الزوائد ج ٩ ص ٣٨٥، اسد الغابہ ج ٤ ص ٦٨، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 100