أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَاَيِّنۡ مِّنۡ اٰيَةٍ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ يَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهَا وَهُمۡ عَنۡهَا مُعۡرِضُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

آسمانوں اور زمینوں میں کتنی ہی ایسی نشانیاں ہیں جن سے لوگ منہ پھیرتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آسمانوں اور زمینوں میں کتنی ہی ایسی نشانیاں ہیں جن سے لوگ منہ پھیرتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ (یوسف : ١٠٥)

آسمانوں اور زمینوں میں اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدت کی نشانیاں :

آسمانوں اور زمینوں میں اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت پر بہت نشانیاں ہیں جن پر لوگ غور نہیں کرتے۔ اس کائنات میں ہمیں جو سب سے عظیم چیز نظر آتی ہے وہ سورج ہے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ایک مقرر نظام کے تحت طلوع ہوتا ہے اور غروب ہوتا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی عظیم قادر وقیوم کے نظام کے تابع اور مسخر ہے، اور جس عظیم قادر اور قیوم نے اس کائنات کی سب سے عظیم چیز کو اپنے نظام کے مسخر اور اپنے احکام کے تابع کیا ہوا ہے، وہی اس کائنات کا پیدا کرنے والا ہے، اور اس کو چلانے والا ہے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ زمین میں زرعی پیداوار، حیوانوں اور انسانوں کی تولید اور نشوو نما کا نظام واحد ہے اور اس نظام کی وحدت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اس نظام کا بنانے والا اور اس نظام کو چلانے والا بھی واحد ہے، غرض آسمانوں اور زمینوں میں اللہ کے وجود اور اس کی وحدت پر بہت نشانیاں ہیں لیکن لوگ اس پر غور نہیں کرتے اور ان سے منہ پھیرتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 105