أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِىۡۤ اِلَيۡهِمۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى‌ؕ اَفَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِى الۡاَرۡضِ فَيَنۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡؕ وَلَدَارُ الۡاٰخِرَةِ خَيۡرٌ لِّـلَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا ‌ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے آپ سے پہلے صرف مردوں کو رسول بنایا ہے، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے وہ بستیوں کے رہنے والے تھے، کیا ان لوگوں نے زمین میں سفر نہیں کیا تو یہ دیکھ لیتے کہ ان سے پہلے لوگوں کا کیسا انجام ہوا، بیشک اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے آخرت میں اچھا ٹھکانا ہے تو کیا تم نہیں سمجھتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے آپ سے پہلے صرف مردوں کو رسول بنایا ہے، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے وہ بستیوں کے رہنے والے تھے، کیا ان لوگوں نے زمین میں سفر نہیں کیا تو یہ دیکھ لیتے کہ ان سے پہلے لوگوں کا کیسا انجام ہوا، بیشک اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے آخرت میں اچھا ٹھکانا ہے تو کیا تم نہیں سمجھتے۔ (یوسف : ١٠٩)

نبوت کے متعلق مشرکین کے شبہ کا ازالہ :

منکرین نبوت یہ کہتے تھے کہ اللہ نے اگر کوئی رسول بھیجا تھا تو کوئی فرشتہ بھیج دیتا، اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق یہ کہتے تھے کہ یہ تو ہماری طرح بشر ہیں، یہ کیسے نبی ہوسکتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا : کہ ہم نے آپ سے پہلے بھی صرف مردوں کو رسول بنایا ہے، کسی جن یا فرشتہ کو یا عورت کو رسول نہیں بنایا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ بستیوں کے رہنے والے تھے، اس سے مراد ہے کہ وہ شہروں کے رہنے والے تھے، کیونکہ جنگلوں اور دیہاتوں کے رہنے والے عموما سخت دل ور غیر مہذہب ہوتے ہیں اور عقل و فہم سے عاری ہوتے ہیں اور شہروں کے رہنے والے عموما عقل مند، بردبار اور مہذب ہوتے ہیں۔ حسن بصری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جنگلوں اور دیہاتیوں میں سے کوئی نبی بھیجا اور نہ عورتوں میں سے اور نہ جنوں میں سے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا ان لوگوں نے زمین میں سفر نہیں کیا، کیونکہ زمین میں قوم عاد، قوم ثمود، قوم مدین اور قوم لوط پر عذاب کے آثار موجود ہیں، اگر یہ ان علاقوں میں سفر کرتے تو دیکھ لیتے کہ اللہ اور اس کے رسول کی تکزیب کرنے والوں کا کیسا انجام ہوتا ہے۔

اس آیت میں یہ فرمایا ہے : ہم نے آپ سے پہلے مردوں کو رسول بنایا ہے اس میں یہ دلیل ہے کہ یہ عقیدہ غلط ہے کہ نبی کا مدہ خلقت نور ہوتا ہے، کیونکہ نور مرد یا عورت نہیں ہوتا، تمام انبیاء (علیہم السلام) نوع انسان سے مبعوث کیے گئے ہیں اور وہ سب مرد تھے اور وہ سب نور ہدایت ہیں البتہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نور حسی سے بھی وافر حصہ ملا تھا، جب آپ مسکراتے تو آپ کے دانتوں کی جھریوں سے نور کی شعاعیں سی دکھائی دیتی تھیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 109